اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

ہم دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہوں گے: پاکستان

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ثالثی جاری رکھنے کے لیے سعودی صبر کو سراہا گیا (فوٹو: العربیہ)

پاکستانی سکیورٹی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو پاکستان دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہوگا۔

پاک فوج نے ایران کی جانب سے سعودی عرب پر جاری حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ موجود ہے، جس کا مقصد باہمی سلامتی کو مضبوط بنانا اور خطے و دنیا میں امن کو فروغ دینا ہے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت باہمی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرنے کے اشارے کے طور پر پاکستان نے کہا کہ ایران کے حملے بلا جواز اشتعال انگیزی ہیں جو امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ 

اسلام آباد اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی قیادت کر رہا ہے۔

 

دریں اثنا سعودی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ گزشتہ چند گھنٹوں میں 11 ایرانی بیلسٹک میزائل اور 22 ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ کچھ میزائلوں کا ملبہ توانائی کی تنصیبات کے قریب گرا ہے اور نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اسی پیشرفت کے پیش نظر پاکستان نے زور دیا کہ ایران کے سعودی عرب کے خلاف حملے بحران کے کسی بھی ’سفارتی حل‘ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ 

اس نے واضح کیا کہ ایرانی اشتعال انگیزی کے باوجود سعودی عرب کا صبر و تحمل ہی وہ عنصر ہے جس نے ثالثی کے دروازے کو کھلا رکھا ہے۔

پاکستان اب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

WhatsApp Image 2026 04 06 at 11.25.49 AM

اسی تناظر میں اسلام آباد نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر ایران نے سعودی عرب کے خلاف اپنے جارحانہ حملے جاری رکھے تو جاری ثالثی عمل متاثر ہو کر بند ہو سکتا ہے۔

یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں میں بھی شدت آ رہی ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی مہلت کے اختتام کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں، جس کے بعد انہوں نے ’جہنم کے دروازے کھولنے‘ کی دھمکی دی تھی۔

سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تقریباً 8 دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت داری قائم ہے، جسے دفاعی معاہدے نے مزید مضبوط کیا ہے۔ 

اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک دفاعی تعاون کو فروغ دینے، مشترکہ دفاع کو مضبوط بنانے اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مل کر ردعمل دینے کے پابند ہیں۔ 

اس میں یہ شق بھی شامل ہے کہ ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

سعودی عرب نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ایران کی جانب سے حملے بلا جواز اور خطرناک اشتعال انگیزی ہیں، جن کے خطے کے استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اور یہ اقدامات ہمسائیگی کے اصولوں اور امن کے مفادات کے منافی ہیں۔

654646 1
(فوٹو: الجزیرہ)

ریاض نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مملکت کو اپنی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا مکمل حق حاصل ہے اور اس ضمن میں سعودی فضائی دفاعی نظام کی صلاحیتوں کو سراہا، جنہوں نے دشمن کے میزائلوں اور ڈرونز کو بروقت تباہ کر کے اہم تنصیبات کو محفوظ بنایا۔