سعودی عرب کے بینکاری شعبے نے 2025 کے اختتام تک نمایاں ترقی کا مظاہرہ کیا جہاں اس کے کل اثاثہ جات 4.96 کھرب ریال تک پہنچ گئے، جو مملکت میں مالیاتی شعبے کی تیز رفتار توسیع کو ظاہر کرتا ہے۔
اخبار 24 میں شائع رپورٹ کے مطابق جو الراجحی بینک نے جاری کی ہے، مجموعی بینکاری کریڈٹ 3.30 کھرب ریال تک پہنچ گئی، جس کی وجہ بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں سے جڑے کاروباری قرضوں کی مضبوط طلب اور وژن 2030 کے منصوبے ہیں۔
مزید پڑھیں
رپورٹ میں کہا گیا کہ جمع شدہ رقم اور بینک کی لیکویڈیٹی کی سطح محفوظ رہی، جبکہ سرمایہ کے ذخائر ضابطہ کاری کے معیار سے بہت زیادہ تھے۔
کریڈٹ کی نمو جمع شدہ رقم سے زیادہ رہی، جس نے رہائشی ترقی، تجارت، صنعت اور سہولیات کی متنوع اقتصادی سرگرمیوں کی مالی اعانت میں اہم کردار ادا کیا۔
سعودی سینٹرل بینک ’ساما‘ نے مالی استحکام کے تحفظ میں اپنا مرکزی کردار برقرار رکھا ہوا ہے اور مالی شعبے کی ترقیاتی پروگرام نے نظامِ بینکاری کی مسابقت، لچک اور پائیداری کو مزید مضبوط کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ سعودی عرب میں فِن ٹیک شعبے نے 2025 کے دوران تیز رفتار ترقی دیکھی، جہاں بینکوں اور فِن ٹیک کمپنیوں کے درمیان تعاون میں اضافہ ہوا اور یہ سب ایک معاون ضابطہ جاتی ماحول میں ہوا۔
اس شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کی تعداد سال کے آخر تک 280 سے تجاوز کر گئی، جس میں ساما اور فنانشل مارکیٹ اتھارٹی کی نگرانی اور حمایت شامل تھی۔
بینکوں نے اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے تعاون سے جدید خدمات تیار کیں، جن میں ڈیجیٹل ادائیگیاں، مربوط مالیاتی حل، ’اب خریدیں اور بعد میں ادا کریں‘ کی سہولیات، ہم مرتبہ قرضہ (Peer-to-Peer) اور API پر مبنی پلیٹ فارمز شامل ہیں، جس سے اختراعات کو فروغ ملا اور مالی شمولیت و تنوع میں مدد ملی۔
مزید یہ کہ سعودی سینٹرل بینک کے ’ایکسپیریمنٹل اینوائرمنٹ‘ اور فنانشل مارکیٹ اتھارٹی کے فِن ٹیک لیب کے تعاون سے فِن ٹیک کے 68 تجرباتی لائسنس جاری کیے گئے، جن میں سے 36 لائسنس نے سال کے آخر تک عملی کام شروع کر دیا۔
اس دوران غیر نقدی لین دین کی مقدار بھی زیادہ رہی، جو ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف مسلسل منتقلی کو ظاہر کرتی ہے۔