اہم خبریں
17 April, 2026
--:--:--
براہ راست نشریات

ایران میں طیارہ گرنے کا واقعہ: امریکی پائلٹ کی 23 سال پرانی کہانی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکی پائلٹ رونالڈ ینگ جونیئر اور شریک پائلٹ ڈیوڈ ولیمز کی اپریل 2003 میں رہائی کے بعد کی تصویر (فوٹو: الجزیرہ)

ایران میں جمعہ کے روز ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا، جس کے بعد امریکی فوج نے فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کیا ہے اور ایک پائلٹ کو بچا لیا، تاہم دوسرے کی تلاش جاری ہے۔

مزید پڑھیں

یہ 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اس تناظر میں سابق پائلٹ رونالڈ ینگ جونیئر کا انٹرویو شائع کیا ہے۔

انہوں نے 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے دوران اپنا اپاچی ہیلی کاپٹر گرنے اور اس کے بعد کے واقعات کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ 

ینگ اس وقت 26 برس کے تھے اور ہیلی کاپٹر تباہ ہونے کے بعد انہوں نے جان بچانے کے لیے چھلانگ لگائی تھی۔

جونیئر نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر گرنے کے بعد وہ اور ان کے ساتھی پائلٹ ڈیوڈ ولیمز ڈیڑھ گھنٹے تک گھاس میں چھپے رہے اور پھر ایک پانی کے نالے میں پناہ لی۔ 

us pilot story 2
امریکی پائلٹ رونالڈ ینگ جونیئر 2003 میں عراق میں پکڑے جانے کے بعد الجزیرہ پر دکھائی دے رہے ہیں (فوٹو: الجزیرہ)

شدید سردی کے باوجود وہ وہاں چھپے رہے لیکن بالآخر مسلح افراد نے انہیں پکڑ لیا اور وہ 23 دن تک قید رہے۔

سابق پائلٹ کے مطابق انہیں پہلے کربلا کے ایک تاریک کمرے میں منتقل کیا گیا جہاں ان پر تشدد کیا گیا اور پوچھ گچھ کی گئی۔ 

بعد ازاں انہیں بغداد منتقل کیا گیا جہاں وہ عسکری حکام کی تحویل میں رہے۔ سقوط بغداد کے بعد انہیں سامرا کی جیلوں میں منتقل کیا گیا تھا۔

ینگ نے بتایا کہ بالآخر امریکی حکومت اور انہیں قید کرنے والوں کے درمیان معاہدے کے بعد 2003 میں وہ اور ان کے ساتھی ولیمز رہائی پانے میں کامیاب ہوئے۔ 

یہ تجربہ ان کے لیے ایک ہولناک صدمہ تھا جس میں ہر لمحہ بقا کی جنگ لڑنا پڑتی تھی۔

us pilot story 3
25 مارچ 2003 کو امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر پائلٹ رونالڈ ڈی جونگ جونیئر اور ڈیوڈ ولیمز کی تصاویر (فوٹو: الجزیرہ)

یاد رہے کہ امریکی پائلٹوں کو دورانِ تربیت بقا، فرار اور مزاحمت کے اصول سکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ دشمن کے علاقے میں خود کو محفوظ رکھ سکیں۔

تاہم ینگ کا کہنا ہے کہ حقیقت میں یہ عمل انسانی جبلت اور شعور کے درمیان ایک شدید کشمکش ہوتا ہے جہاں ردعمل خودکار ہو جاتے ہیں۔

فی الحال ایران میں گرنے والے امریکی طیارے کے دوسرے رکن کی تلاش کے لیے امریکی فوج اپنی کوششیں کر رہی ہے۔ 

دوسری جانب ایرانی حکام نے بھی اپنے طور پر لاپتا امریکی پائلٹ کو تلاش کرنے اور اسے پکڑنے کے لیے خصوصی آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔