ایران میں جمعہ کے روز ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا، جس کے بعد امریکی فوج نے فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کیا ہے اور ایک پائلٹ کو بچا لیا، تاہم دوسرے کی تلاش جاری ہے۔
مزید پڑھیں
یہ 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اس تناظر میں سابق پائلٹ رونالڈ ینگ جونیئر کا انٹرویو شائع کیا ہے۔
انہوں نے 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے دوران اپنا اپاچی ہیلی کاپٹر گرنے اور اس کے بعد کے واقعات کی تفصیلات بیان کی ہیں۔
ینگ اس وقت 26 برس کے تھے اور ہیلی کاپٹر تباہ ہونے کے بعد انہوں نے جان بچانے کے لیے چھلانگ لگائی تھی۔
جونیئر نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر گرنے کے بعد وہ اور ان کے ساتھی پائلٹ ڈیوڈ ولیمز ڈیڑھ گھنٹے تک گھاس میں چھپے رہے اور پھر ایک پانی کے نالے میں پناہ لی۔
شدید سردی کے باوجود وہ وہاں چھپے رہے لیکن بالآخر مسلح افراد نے انہیں پکڑ لیا اور وہ 23 دن تک قید رہے۔
سابق پائلٹ کے مطابق انہیں پہلے کربلا کے ایک تاریک کمرے میں منتقل کیا گیا جہاں ان پر تشدد کیا گیا اور پوچھ گچھ کی گئی۔
بعد ازاں انہیں بغداد منتقل کیا گیا جہاں وہ عسکری حکام کی تحویل میں رہے۔ سقوط بغداد کے بعد انہیں سامرا کی جیلوں میں منتقل کیا گیا تھا۔
ینگ نے بتایا کہ بالآخر امریکی حکومت اور انہیں قید کرنے والوں کے درمیان معاہدے کے بعد 2003 میں وہ اور ان کے ساتھی ولیمز رہائی پانے میں کامیاب ہوئے۔
یہ تجربہ ان کے لیے ایک ہولناک صدمہ تھا جس میں ہر لمحہ بقا کی جنگ لڑنا پڑتی تھی۔
یاد رہے کہ امریکی پائلٹوں کو دورانِ تربیت بقا، فرار اور مزاحمت کے اصول سکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ دشمن کے علاقے میں خود کو محفوظ رکھ سکیں۔
تاہم ینگ کا کہنا ہے کہ حقیقت میں یہ عمل انسانی جبلت اور شعور کے درمیان ایک شدید کشمکش ہوتا ہے جہاں ردعمل خودکار ہو جاتے ہیں۔
فی الحال ایران میں گرنے والے امریکی طیارے کے دوسرے رکن کی تلاش کے لیے امریکی فوج اپنی کوششیں کر رہی ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے بھی اپنے طور پر لاپتا امریکی پائلٹ کو تلاش کرنے اور اسے پکڑنے کے لیے خصوصی آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔