سعودی وزارتِ خارجہ نے ایک بار پھر ایران کی جانب سے سعودی عرب، خلیجی تعاون کونسل کے ممالک اور متعدد عرب و اسلامی ممالک کے خلاف کھلی جارحیت کی شدید مذمت کی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ایران کی جانب سے سعودی عرب، اس کی خودمختاری، شہری تنصیبات، شہریوں، اقتصادی مفادات اور سفارتی مقامات کو مسلسل نشانہ بنانا تمام متعلقہ بین الاقوامی معاہدوں، حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں، ریاستوں کی خودمختاری کے احترام، معاہدۂ بیجنگ اور 2023 کے سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2817 کی صریح خلاف ورزی ہے۔
مزید پڑھیں
یہ اقدامات اسلامی اخوت اور دینی اقدار کے بھی منافی ہیں، جن کا ایران بار بار دعویٰ کرتا ہے مگر اس کے اعمال اس کے برعکس ہیں۔
وزارت نے اپنے 9 مارچ 2026 کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی مسلسل جارحیت مزید کشیدگی کا سبب بنے گی، جس کے موجودہ اور مستقبل کے تعلقات پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
اسی تناظر میں سعودی عرب نے ایران کے سفارت خانے کے عسکری
اتاشی، اس کے معاون اور مشن کے مزید تین ارکان کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دیتے ہوئے 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔
سعودی عرب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی خودمختاری، سلامتی، سرحدوں، فضائی حدود، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ کے لیے اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت تمام ضروری اقدامات اٹھانے سے گریز نہیں کرے گا۔