پاکستان اور ایران کے درمیان ایک ہفتے کی بندش کے بعد سرحدی تجارت بحال ہوگئی ہے، تاہم پاکستان میں ایل پی جی کی قیمتیں بدستور بلند ہیں۔
بعض شہروں میں 12 کلوگرام گیس سلنڈر کی قیمت 8 ہزار روپے سے تجاوز کرگئی۔
سرحد کھلنے سے سپلائی بہتر ہونے کی امید ہے، لیکن سردیوں میں بڑھتی طلب، سکیورٹی خدشات اور درآمدی رکاوٹوں کے باعث گیس کی قلت اور مہنگائی کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں۔
پاکستان اور ایران کے درمیان ایک ہفتے کی بندش کے بعد گبد، ریمدان سرحدی گزرگاہ سے تجارتی آمدورفت بحال ہوگئی ہے، لیکن پاکستان میں ایل پی جی کی قیمتیں بلند ہیں۔
سرحد کھلنے سے تاجروں اور صارفین کو سپلائی بہتر ہونے کی امید ملی ہے، تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ گیس کی قلت اور مہنگائی کا بحران ختم ہوگیا ہے۔
سردیوں کی آمد کے ساتھ سوال ہے کہ آیا درآمدات معمول پر آسکیں گی یا گھریلو صارفین کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
🗓️ ٹائم لائن — سات دن میں کیا ہوا؟
17 اکتوبر: پاکستان نے گبد۔ریمدان اور تفتان کی گزرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں معطل کیں۔
18 تا 23 اکتوبر: مال بردار گاڑیاں پھنسیں، ایل پی جی کی کمی اور قیمتوں میں اضافے کی شکایات سامنے آئیں۔
22 اکتوبر کے قریب: بند سرحد کے نزدیک کھڑے مال بردار ٹرکوں پر حملہ رپورٹ ہوا۔
24 اکتوبر: گبد۔ریمدان پر تجارت بحال ہوئی؛ ابتدائی طور پر 16 اکتوبر یا اس سے پہلے کی دستاویزات والی کھیپوں کی کلیئرنس کی اطلاع دی گئی۔
تفتان کی مکمل بحالی کو گبد۔ریمدان کے کھلنے کے برابر نہ سمجھا جائے۔
سرحد کیوں بند ہوئی؟
پاکستان نے 17 اکتوبر کو ایران سے متصل گبد، ریمدان اور تفتان کے راستوں پر تجارتی سرگرمیاں معطل کردی تھیں۔
مزید پڑھیں
اس فیصلے کے نتیجے میں ایل پی جی، اشیائے خورونوش اور دیگر سامان سے لدے ٹرک سرحد کے دونوں جانب پھنس گئے۔
پاکستانی حکام نے سلامتی اور اسمگلنگ سے متعلق خدشات ظاہر کئے، جبکہ ایرانی جانب سے تکنیکی مسائل کا ذکر کیا گیا۔
بندش کی وجوہ کے بارے میں مختلف مؤقف موجود ہونے کے باعث تمام معاملات کو ایک وجہ سے جوڑنا درست نہیں۔
اس رکاوٹ کا فوری اثر ایل پی جی کی فراہمی پر محسوس ہوا۔
پاکستان کے کئی علاقوں، خصوصاً بلوچستان میں، گھریلو ایندھن کے لیے سلنڈروں پر انحصار ہے۔
📊 قیمتیں — 12 کلوگرام سلنڈر کہاں کتنا؟
4,500 روپے: بندش سے قبل تاجروں کی بتائی گئی تقابلی قیمت۔
7,000 روپے: بلوچستان میں رپورٹ کردہ قیمت۔
7,500 روپے: لاہور میں رپورٹ کردہ قیمت۔
8,200 روپے: اسکردو میں رپورٹ کردہ قیمت۔
احتیاط: یہ 23 اکتوبر 2026 کی مارکیٹ میں رپورٹ کردہ قیمتیں ہیں، اوگرا کے سرکاری نرخ یا تمام دکانوں کی یکساں قیمتیں نہیں۔
جب سرحد سے گیس کی ترسیل رکی تو مارکیٹ میں دستیاب مقدار کم ہوئی اور تاجروں کے مطابق نرخ تیزی سے اوپر گئے۔
سلنڈر کتنے مہنگے ہوئے؟
23 اکتوبر کو سامنے آنے والی تجارتی اطلاعات کے مطابق بارہ کلوگرام کے سلنڈر کی قیمت بلوچستان میں تقریباً 7 ہزار روپے، لاہور میں ساڑھے 7 ہزار اور اسکردو میں 8 ہزار دو سو روپے تک بتائی گئی۔
پاکستان — 23 اکتوبر 2026 | پاکستانی روپے
یہ تاجروں کی رپورٹ کردہ مارکیٹ قیمتیں تھیں، پورے ملک کے لیے یکساں سرکاری نرخ نہیں۔ مختلف شہروں، دکانوں اور تاریخوں کے درمیان قیمتوں کا فرق ممکن ہے۔
ایل پی جی کی مہنگائی کا بوجھ ایسے خاندانوں پر زیادہ پڑتا ہے جنہیں پائپ لائن سے قدرتی گیس دستیاب نہیں۔
دور دراز پہاڑی علاقوں میں، جہاں سردیوں کے دوران کھانا پکانے کے ساتھ گھروں کو گرم رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے، سلنڈر کی قیمت میں اضافہ گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کرسکتا ہے۔
تجارت بحال ہونے کا کیا مطلب ہے؟
24 اکتوبر کو گبد، ریمدان سرحدی گزرگاہ کھول دی گئی اور پھنسے ہوئے تجارتی ٹرکوں کی نقل وحرکت دوبارہ شروع ہوئی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق بعض کھیپوں کی کلیئرنس ان دستاویزات سے مشروط تھی جو بندش سے پہلے تیار کی گئی تھیں۔
لہٰذا پہلے سے رکے ہوئے ٹرکوں کو اجازت ملنا اور نئی درآمدات کا پوری رفتار سے بحال ہونا دو الگ باتیں ہیں۔
🚛 گبد۔ریمدان کھلنے سے کیا بدلے گا؟
یہ راستہ ایران سے پاکستان آنے والی ایل پی جی اور دیگر اشیا کی ترسیل کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس کے کھلنے سے پہلے سے پھنسے ٹرکوں کی نقل و حرکت ممکن ہوئی۔
گوادر چیمبر آف کامرس کے صدر نے 24 اکتوبر کو تجارتی آمدورفت بحال ہونے کی تصدیق کی۔
لیکن: پہلے سے رکی کھیپوں کی کلیئرنس اور نئی درآمدات کی مکمل معمول پر واپسی الگ معاملات ہیں؛ بازار میں قیمتیں کم ہونے کے لیے مسلسل رسد ضروری ہے۔
تفتان سمیت دیگر راستوں کی صورتحال اور ایل پی جی کے نئے آرڈرز کی ترسیل بھی اہم ہوگی۔ اگر راستے مسلسل کھلے رہے اور ٹینکروں کی کلیئرنس میں رکاوٹ نہ آئی تو سپلائی بہتر ہونے کے ساتھ قیمتوں پر دباؤ کم ہوسکتا ہے۔
تاہم صارفین تک اس کا فائدہ پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے۔
سرحد کھلنے کے فوراً بعد سلنڈروں کے سستا ہونے کا دعویٰ ابھی ثابت نہیں۔
تجارت کو سکیورٹی کا خطرہ
سرحدی بندش کے دوران گبد، ریمدان کے قریب مال بردار گاڑیوں پر حملے اور بعض ٹرکوں کو جلائے جانے کی خبریں بھی سامنے آئیں۔
ایسے واقعات سے تاجروں کے لیے نقل و حمل کے اخراجات، حفاظتی انتظامات اور انتظار کا وقت بڑھ سکتا ہے۔
اگر تجارتی راستوں پر عدم تحفظ برقرار رہے تو سپلائی کے معمول پر آنے کے باوجود قیمتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔
⚠️ ایل پی جی کی قلت اور مہنگائی کیوں بڑھی؟
رسد میں رکاوٹ: سرحدی بندش کے باعث ایران سے آنے والی ایل پی جی کی سپلائی متاثر ہوئی۔
پھنسا ہوا سامان: سیکڑوں مال بردار گاڑیاں انتظار کرتی رہیں، جس سے سپلائی چین پر دباؤ بڑھا۔
سلامتی کی صورت حال: ٹرکوں پر حملوں کے واقعات نے نقل و حمل کے لیے اضافی خدشات پیدا کئے۔
سردیوں کی طلب: طلب بڑھنے کی صورت میں قلت کا اثر اور زیادہ محسوس ہوسکتا ہے۔
پاکستان اور ایران کے لیے سرحدی تجارت صرف ایل پی جی کا معاملہ نہیں۔
اس سے بلوچستان کے تاجروں، ٹرانسپورٹرز، سرحدی آبادیوں اور ضروری اشیا کی مقامی منڈیوں کا روزگار بھی جڑا ہوا ہے۔
طویل یا بار بار ہونے والی بندش اس پورے معاشی سلسلے میں بے یقینی پیدا کرتی ہے۔
سرحدی راستہ
کھلنے کے باوجود
ایل پی جی کی
قیمتیں بلند
قدرتی گیس کا مسئلہ بھی حل ہوگا؟
اس بحران میں ایل پی جی اور پائپ لائن کے ذریعے ملنے والی قدرتی گیس کا فرق سمجھنا ضروری ہے۔
موجودہ سرحدی تجارت سے آنے والی ایل پی جی سلنڈروں میں استعمال ہوتی ہے۔
ایران، پاکستان مجوزہ گیس پائپ لائن ایک الگ منصوبہ ہے۔
اس لیے ایل پی جی ٹرکوں کی آمدورفت بحال ہونے سے گھروں یا صنعتوں کو فراہم کی جانے والی قدرتی گیس کی تمام قلت خودبخود ختم نہیں ہوگی۔
موسم سرد ہونے کے ساتھ کئی علاقوں میں ایل پی جی کی طلب بڑھ سکتی ہے۔
اس صورت میں حکومت کے لیے درآمدی راستوں کی حفاظت، ذخیرہ اندوزی پر نگرانی، سرکاری اور مارکیٹ نرخوں میں فرق کی جانچ اور متبادل سپلائی کا انتظام اہم ہوگا۔
🏠 عام صارفین اور سرد علاقوں پر اثر
گیس پائپ لائن سے محروم گھرانے کھانا پکانے اور دیگر ضروریات کے لیے ایل پی جی سلنڈر استعمال کرتے ہیں۔ سلنڈر مہنگا ہونے سے ماہانہ گھریلو بجٹ براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔
بلوچستان اور گلگت بلتستان جیسے سرد علاقوں میں موسم سرما کے دوران ایندھن کی ضرورت زیادہ ہوسکتی ہے، اس لیے رسد میں تعطل زیادہ مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔
صارفین کے لیے: اپنے شہر کا موجودہ سرکاری نرخ اور دکان پر وصول کی جانے والی قیمت الگ الگ جانچیں؛ پرانی رپورٹ کردہ قیمت کو آج کی لازمی قیمت نہ سمجھیں۔
تاجر یہ جاننا چاہتے ہیں کہ سرحدی کلیئرنس مستقل اور قابل پیش گوئی ہوگی یا نہیں، جبکہ صارفین کی ضرورت مناسب قیمت پر مسلسل گیس ملنا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
اگر سرحدی تجارت بلا تعطل جاری رہی تو آنے والے دنوں میں سپلائی بحال ہونے اور نرخوں میں بتدریج کمی کا امکان موجود ہے۔
لیکن اگر نئی بندش، سکیورٹی مسئلہ یا ترسیل میں تاخیر سامنے آئی تو مشکلات برقرار رہ سکتی ہیں۔
اس لیے آنے والے ہفتوں میں اصل پیمانہ سرحد کھلنے کا اعلان نہیں بلکہ مارکیٹ میں گیس کی حقیقی دستیابی اور صارفین کو ملنے والی قیمت ہوگی۔
🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ
Dawn — 25 October 2026
گبد۔ریمدان سے تجارتی آمدورفت کی بحالی اور کلیئرنس کی شرائط
اصل رپورٹ کھولیں
Reuters — 23 October 2026
سرحدی بندش، ایل پی جی کی قلت، تاجروں کے بیانات اور قیمتوں کا تقابلی جائزہ
اصل رپورٹ کھولیں
Business Recorder — 24 October 2026
ایل پی جی سپلائی متاثر ہونے کی تازہ تفصیلات
اصل رپورٹ کھولیں
OGRA — LPG Notified Prices
موجودہ اور سابقہ سرکاری ایل پی جی قیمتوں کی جانچ
اصل رپورٹ کھولیں