عالمی مالیاتی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ، مہنگی توانائی اور بڑھتے قرضے عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔
عالمی بینک 30 سے 40 ممالک سے ممکنہ ہنگامی امداد پر بات کر رہا ہے، جبکہ عالمی قرضوں کا بوجھ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔
عالمی بینک کے صدر کے مطابق ادارہ 30 سے 40 ممالک کے ساتھ ممکنہ ہنگامی مدد کے سلسلے میں بات چیت کر رہا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان سب نے امدادی قرض حاصل کر لیا ہے یا تمام ممالک دیوالیہ ہونے والے ہیں۔
بینک نے ابتدا میں 25 ارب ڈالر کے ہنگامی وسائل دستیاب کئے تھے، اور پہلے سے منظور شدہ منصوبوں کے وسائل کو نئی ترجیحات پر منتقل کرنے کے ذریعے مزید مدد بھی ممکن ہے۔
حالات زیادہ بگڑنے پر امدادی گنجائش 100 ارب ڈالر تک لے جانے کی بات کی گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی 11 اکتوبر کی رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ مہنگی توانائی، بڑھتے قرض اور ممکنہ شدید ال نینو موسمی رجحان کا امتزاج نئی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ادارے کے مطابق قیمتوں کے مکمل اثرات صارفین تک منتقل ہونے کی صورت میں مزید 13 کروڑ افراد روزانہ 6.85 ڈالر کی آمدن والی غربت کی حد سے نیچے جا سکتے ہیں۔
یہ ایک ممکنہ خطرے کا تخمینہ ہے، اب تک غربت میں اضافے کی مصدقہ تعداد نہیں۔