📊
فیکٹ باکس: 142 ہزار ٹن لیتھیم، اعداد کیا بتاتے ہیں؟
+
تخمینہ شدہ مقدار
جامعہ قابس کی تحقیق کے مطابق تیونس کے شط الجرید کے نمکین محلول میں تقریباً ایک لاکھ 42 ہزار 500 ٹن لیتھیم ہونے کا ابتدائی تخمینہ لگایا گیا ہے۔
حجم اور ارتکاز
یہ حساب لگاتے وقت نمکین محلول کا حجم تقریباً 5 ارب مکعب میٹر اور اوسط ارتکاز 28.5 حصے فی ملین فرض کیا گیا ہے، جبکہ ایک میٹر گہرائی لی گئی۔
حقیقت اور حتمی حیثیت
یہ اعداد و شمار اور مخصوص مفروضے کان کنی کے لیے تیار شدہ ثابت شدہ ذخائر نہیں ہیں، بلکہ یہ صرف سائنسی جریدے میں پیش کردہ ایک ابتدائی سائنسی تخمینہ ہیں۔
آئندہ کے تقاضے
اصل کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ اس لیتھیم کو ماحول، محدود آبی وسائل اور معیشت کو نقصان پہنچائے بغیر قابلِ عمل لاگت پر نکالنے کا طریقہ کار سامنے آئے۔
خشک نمکین میدان کے نیچے ایسی دھات چھپی ہوسکتی ہے جو موبائل فونز، برقی گاڑیوں اور مستقبل کی توانائی کی صنعت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
مزید پڑھیں
تیونس کے شط الجرید میں ہونے والی ایک نئی تحقیق نے لیتھیم کی ممکنہ موجودگی کا ایسا تخمینہ پیش کیا ہے جس نے اس علاقے کی معدنی اہمیت بڑھا دی ہے۔
نمکین میدان میں کیا چھپا ہے؟
تیونس کے جنوب مغرب میں واقع شط الجرید ایک وسیع نمکین نشیبی علاقہ ہے، جہاں پانی اور نمکیات کے قدرتی ذخائر پائے جاتے ہیں۔
جامعہ قابس کے محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ یہاں موجود نمکین محلول میں تقریباً ایک لاکھ 42 ہزار 500 ٹن لیتھیم ہوسکتا ہے۔
یہ تحقیق جریدے جرنل آف افریقن ارتھ سائنسز میں شائع ہوئی ہے، تاہم یہ مقدار ابھی کان کنی کے لیے تیار ثابت شدہ ذخائر نہیں، بلکہ دستیاب اعداد و شمار اور مخصوص مفروضوں کی بنیاد پر لگایا گیا ابتدائی تخمینہ ہے۔
بیٹریوں کا سونا: تیونس کے نمکین صحرا میں لیتھیم کا خزانہ
شط الجرید کے نمکین میدان میں نئی تحقیق کے دوران لیتھیم کے ممکنہ ذخائر کا انکشاف۔
تیونس کے نمکین حوض میں تقریباً ایک لاکھ 42 ہزار ٹن لیتھیم کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو مستقبل کی توانائی کی صنعت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
⛏️ لیتھیم کا تخمینہ
جامعہ قابس کی تحقیق کے مطابق شط الجرید کے نمکین محلول میں تقریباً ایک لاکھ 42 ہزار 500 ٹن لیتھیم موجود ہو سکتا ہے۔
📈 عالمی لیتھیم پیداوار
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق 2025 میں عالمی لیتھیم پیداوار 31 فیصد اضافے سے دو لاکھ 90 ہزار ٹن تک پہنچ گئی۔
💧 آبی وسائل کا چیلنج
نمکین محلول کا حجم تقریباً 5 ارب مکعب میٹر ہے، اور تبخیر کے ذریعے نکالنے سے مقامی آبی وسائل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
🔋 بیٹریوں کی صنعت
اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس اور برقی گاڑیوں کی ری چارج ہونے والی بیٹریوں میں لیتھیم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
آخر لیتھیم اتنا قیمتی کیوں ہے؟
لیتھیم کو عام طور پر ’بیٹریوں کا سونا‘ کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ ری چارج ہونے والی بیٹریوں کی تیاری میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس، برقی گاڑیوں اور بجلی ذخیرہ کرنے والے نظاموں میں اس دھات کی ضرورت پڑتی ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں لیتھیم کی پیداوار تقریباً 31 فیصد بڑھ کر 2 لاکھ 90 ہزار ٹن تک پہنچ گئی، جبکہ اس کی عالمی کھپت کا تخمینہ 2 لاکھ 63 ہزار ٹن لگایا گیا۔
اس طلب میں اضافے کی بڑی وجوہات برقی گاڑیوں اور بجلی ذخیرہ کرنے والی بیٹریوں کا بڑھتا استعمال ہیں۔
بیٹریوں کا سونا
لیتھیم اتنا قیمتی کیوں؟ موبائل سے برقی گاڑی تک اس کا کردار
▼
📱 جدید ڈیجیٹل آلات اور ریچارج ایبل بیٹریاں
لیتھیم کو ’بیٹریوں کا سونا‘ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس اور تمام ریچارج ہونے والی جدید بیٹریوں کی تیاری میں مرکزی اور ناقابلِ تردید اہمیت رکھتا ہے۔
🚗 برقی گاڑیاں اور توانائی کا مستقبل
برقی گاڑیوں (EVs) اور بڑے پیمانے پر بجلی ذخیرہ کرنے والے نظاموں کی بڑھتی ہوئی مانگ نے لیتھیم کو دنیا کی سب سے اسٹریٹجک اور قیمتی معدنیات میں شامل کر دیا ہے۔
زمین کے اندر سے نمکین پانی تک
محققین کے مطابق شط الجرید میں لیتھیم کی موجودگی کی ایک ممکنہ وجہ زیر زمین ارضیاتی سرگرمیاں ہیں۔ علاقے کی بعض آتش فشانی اور رسوبی چٹانوں میں لیتھیم موجود ہوسکتا ہے۔
اسے زمین کی گہرائی میں گردش کرنے والے گرم سیال تحلیل کرکے اپنے ساتھ لے آتے ہیں۔
A phone is more than just technology. It’s minerals, too. Minerals are essential to the devices we use, the infrastructure we depend on and industries across the country. Getting those materials from the ground to the products we use, however, involves complex global supply chains. USGS scientists track mineral production, demand and trade around the world. Where minerals come from, how concentrated their supply is and how easily supplies could be disrupted all help reveal potential risks to U.S. industries and the economy. Each year, the USGS publishes Mineral Commodity Summaries, which brings together data on more than 90 mineral commodities across 180 countries. The report covers U.S. production, imports, exports, consumption and recycling, as well as global production, reserves, prices and market trends. These data also help inform the Nation’s List of Critical Minerals, which identifies minerals essential to economic and national security that are vulnerable to supply chain disruptions. The 2025 list includes 60 mineral commodities. The next time you pick up your phone, remember that the minerals inside it are part of a global supply chain. USGS science helps decision makers understand these connections and prepare for potential disruptions. 📸 1: Bastnaesite is a source of rare-earth elements used to produce magnets in speakers, microphones, and vibration motors. 📸 2: Chalcopyrite is a source of copper, the most abundant metal in a mobile device. Copper conducts electricity and heat, making it essential to electronics. 📸 3: Sphalerite is a source of indium and germanium. Indium is used in conductive coatings on smartphone screens, while germanium is used in displays and LEDs. Credit: USGS
— USGS (@USGS) October 19, 2026
چٹانوں میں موجود دراڑیں ان سیالوں کے گزرنے کے راستے بناتی ہیں۔ وقت کے ساتھ لیتھیم نمکین حوض میں جمع ہوسکتا ہے، جبکہ پانی کے بخارات بننے سے اس کی مقدار بعض مقامات پر نسبتاً زیادہ ہوسکتی ہے۔
تحقیق میں حوض کے شمال مغربی حصے میں لیتھیم کا ارتکاز تقریباً 51 حصے فی ملین ریکارڈ کیا گیا۔ یہ دریافت مزید تلاش کے لیے اہم ہے، لیکن اس سے پورے علاقے میں لیتھیم کی یکساں موجودگی ثابت نہیں ہوتی۔
پاکستان
پاکستان کے لیے کیا سبق؟ لیتھیم کی دوڑ اور معدنی معیشت
❮
⛏️ ارضیاتی تحقیق اور معدنی صلاحیت
تیونس کی یہ سائنسی تحقیق پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بہترین مثال ہے کہ کس طرح مقامی صحرائی اور نمکین حوضوں میں چھپے نایاب معدنی وسائل کا سائنسی تخمینہ لگایا جا سکتا ہے۔
💡 مستقبل کی معاشی پالیسی اور ٹیکنالوجی
پاکستان میں بھی معدنی شعبے کو جدید سائنسی خطوط پر استوار کرنے، مقامی وسائل کی درست کھوج لگانے اور گرین انرجی کی عالمی دوڑ میں مؤثر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک لاکھ 42 ہزار ٹن، مگر حقیقت کیا ہے؟
محققین نے نمکین محلول کا حجم تقریباً 5 ارب مکعب میٹر اور لیتھیم کا اوسط ارتکاز 28.5 حصے فی ملین فرض کرکے مجموعی مقدار کا اندازہ لگایا ہے۔
اس حساب میں محلول کی گہرائی ایک میٹر فرض کی گئی، حالانکہ حقیقی گہرائی مختلف مقامات پر کم یا زیادہ ہوسکتی ہے۔
اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تیونس فوری طور پر اتنا لیتھیم نکال کر عالمی منڈی میں فروخت کرسکتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اس میں سے کتنی مقدار حاصل کی جاسکتی ہے، اس پر کتنا خرچ آئے گا اور تیار شدہ لیتھیم عالمی معیار کے مطابق ہوگا یا نہیں۔
عالمی منظرنامہ: بیٹریوں کے لیے لیتھیم کی جنگ کیوں تیز ہورہی ہے؟
❖
🚗 برقی گاڑیوں کا انقلاب
دنیا بھر میں روایتی گاڑیوں سے برقی گاڑیوں کی طرف منتقلی نے لیتھیم کی کھپت میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے، جس سے عالمی منڈی میں شدید مسابقت پیدا ہو چکی ہے۔
⚡ توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام
شمسی اور طاتی توانائی کو محفوظ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر بیٹریاں تیار کی جا رہی ہیں، جن کے لیے لیتھیم بنیادی خام مال کی حیثیت رکھتا ہے۔
🌐 سپلائی چین کی جنگ
مختلف ممالک اور بڑی معیشتیں اپنے مستقبل کی تکنیکی خود مختاری کے لیے لیتھیم کے نئے ذخائر کی تلاش اور ان پر کنٹرول حاصل کرنے کی دوڑ میں لگی ہوئی ہیں۔
کیا لیتھیم نکالنے کا نیا طریقہ ممکن ہے؟
ایک ممکنہ طریقہ یہ ہے کہ نمکین پانی کا کچھ حصہ بخارات میں تبدیل کرکے لیتھیم کا ارتکاز بڑھایا جائے۔ اس کے بعد مخصوص مواد کی مدد سے لیتھیم کو دوسرے نمکیات سے الگ کیا جاسکتا ہے۔
The price of oil is only part of what determines the cost to supply the world with fuel. With tanker rates at historic highs amid disruptions in the Middle East, rising shipping costs are adding further pressure to global oil markets. Read more 👉 https://t.co/bHl85JhsUL https://t.co/uBk2hcalf0
— International Energy Agency (@IEA) October 24, 2026
دنیا میں اس کے متبادل طریقوں پر بھی کام ہورہا ہے۔ ان میں ڈائریکٹ لیتھیم ایکسٹریکشن (DLE) شامل ہے، جس کے ذریعے نمکین پانی سے لیتھیم براہ راست حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق یہ ٹیکنالوجی روایتی تبخیر کے مقابلے میں وقت اور پانی کے استعمال سے متعلق بعض مسائل کم کرسکتی ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار مقامی حالات اور عملی لاگت پر ہوتا ہے۔
🔭 مستقبل
اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟ کیا نمکین پانی سے واقعی سونا نکل سکے گا؟
❖
💧 ماحولیاتی اور آبی اثرات
تبخیر کے عمل یا براہِ راست اخراج سے مقامی آبی وسائل اور زیر زمین پانی پر دباؤ پڑ سکتا ہے، اس لیے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینا ناگزیر ہے۔
⚙️ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
روایتی طریقوں کے علاوہ ڈائریکٹ لیتھیم ایکسٹریکشن (DLE) جیسی جدید تکنیکوں کا استعمال لاگت اور کارکردگی پر منحصر ہوگا۔
💰 معاشی افادیت اور پیداوار
اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب لیتھیم کو ماحول دوست طریقے سے کم لاگت پر نکال کر عالمی معیار کے مطابق فروخت کے قابل بنایا جا سکے۔
پانی بچے گا یا نئی مشکل پیدا ہوگی؟
تیونس کے لیے اس منصوبے کا سب سے حساس پہلو پانی ہے۔
بڑے پیمانے پر تبخیر کے ذریعے لیتھیم حاصل کرنے سے مقامی آبی وسائل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ زیر زمین پانی پہلے ہی اہم قدرتی وسیلہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اخراج کی جدید ٹیکنالوجی بھی مکمل طور پر بے اثر نہیں ہوتی۔ اس میں توانائی، کیمیائی مادوں، پانی اور باقی ماندہ نمکیات کے انتظام کے اخراجات شامل ہوسکتے ہیں۔
اس لیے کسی بھی منصوبے سے پہلے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیا جانا ازحد ضروری ہے۔
کیا شط الجرید تیونس کی قسمت بدل سکتا ہے؟
اگر آئندہ تحقیق سے لیتھیم کی قابلِ استخراج مقدار اور منصوبے کی معاشی افادیت ثابت ہوجاتی ہے تو شط الجرید تیونس کے لیے ایک اہم معدنی موقع بن سکتا ہے۔
میگنیشیم اور پوٹاشیم جیسے دوسرے نمکیات سے قابلِ فروخت مصنوعات حاصل کرنا بھی منصوبے کی آمدنی بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔
فی الحال یہ دریافت ممکنہ قدرتی وسائل کی نشاندہی ہے، کسی تیار شدہ معدنی صنعت کا اعلان نہیں۔
اصل کامیابی اسی وقت ہوگی جب لیتھیم کو ماحول، پانی اور معیشت کو نقصان پہنچائے بغیر قابلِ عمل لاگت پر حاصل کرنے کا طریقہ سامنے آئے۔