براہ راست نشریات

عالمی غذائی بحران کا خطرہ، پاکستان میں خوراک مزید مہنگی ہوگی؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Global Food Crisis 2026 کاپی

دنیا میں خوراک کی مہنگائی ایک نئے بحران کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔
جنگوں، مہنگی کھاد، ایندھن اور تجارتی رکاوٹوں نے عالمی غذائی قیمتوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
پاکستان میں پہلے ہی مہنگائی بلند ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں غذائی قیمتوں کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

دنیا کو خوراک کی مہنگائی کی نئی لہر کا سامنا ہے۔ 

عالمی منڈی میں گندم، چاول، چینی اور کھانے کے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ماہرین خبردار کررہے ہیں کہ آنے والے مہینوں میں غذائی بحران مزید سنگین ہوسکتا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی 19 اکتوبر کی خصوصی تحقیق کے مطابق جنگوں، تجارتی راستوں میں رکاوٹوں، مہنگی کھاد، ایندھن اور موسمیاتی تبدیلیوں نے عالمی غذائی نظام پر بیک وقت دباؤ بڑھا دیا ہے۔

📊 اہم اعداد — مہنگائی کتنی بڑھی؟

136 پوائنٹس: ستمبر 2026 میں FAO کا عالمی غذائی قیمتوں کا اشاریہ۔

5.8 فیصد: FAO کے مطابق گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں عالمی غذائی اشاریے کا اضافہ۔

10.26 فیصد: ستمبر 2026 میں پاکستان کی مجموعی سالانہ مہنگائی۔

31.71 فیصد: پاکستان کے شہری علاقوں میں آٹے کی قیمت کا سالانہ اضافہ؛ یہ مخصوص سرکاری اشاریے کی پیمائش ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (FAO) کے چیف اکانومسٹ میکسیمو ٹوریرو نے خبردار کیا ہے کہ ان مسائل کے زیادہ نمایاں اثرات رواں سال کے اختتام اور 2027 کے آغاز میں سامنے آسکتے ہیں۔

یہ صورتحال پاکستان جیسے ممالک کے لیے زیادہ اہم ہے، جہاں لاکھوں خاندان اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں

عالمی قیمتیں کتنی بڑھ چکی ہیں؟

رائٹرز کے مطابق 2026 کے دوران عالمی گندم کی قیمتوں میں 30 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جبکہ ایشیا کے بعض بڑے برآمدی ممالک میں چاول کی قیمتیں بھی 10 سے 13 فیصد بڑھیں۔

مصر میں بغیر سرکاری سبسڈی والی روٹی کی قیمت جولائی کے مقابلے میں تقریباً 25 فیصد بڑھ گئی۔

FAO کا عالمی غذائی قیمتوں کا اشاریہ ستمبر میں 136 پوائنٹس تک پہنچا، جو نومبر 2022 کے بعد بلند ترین سطح تھی۔

یہ اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ خوراک کی مہنگائی کسی ایک خطے تک محدود نہیں بلکہ متعدد ممالک کی معیشتوں کو متاثر کررہی ہے۔

🌍 خوراک مہنگی کیوں ہورہی ہے؟

جنگیں اور رکاوٹیں: بحیرہ اسود میں اناج کی ترسیل متاثر ہو تو خریدار دوسرے ملکوں سے مہنگا اناج حاصل کرتے ہیں۔

ایندھن اور کھاد: آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں توانائی اور کھاد کی لاگت بڑھا سکتی ہیں۔

موسمیاتی خطرات: خشک سالی اور غیر معمولی موسم بعض فصلوں کی پیداوار اور عالمی رسد کو متاثر کرتے ہیں۔

خوراک مہنگی ہونے کی تین وجوہ

عالمی غذائی بحران کے پیچھے 3 بڑے عوامل ہیں۔

پہلا، جنگیں: 

روس اور یوکرین کی جنگ نے بحیرہ اسود سے اناج کی ترسیل متاثر کی۔ اس سے بعض درآمدی ممالک کو متبادل ذرائع تلاش کرنا پڑے۔

دوسرا: توانائی اور کھاد: 

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تیل، گیس اور کھاد کی ترسیل متاثر ہوئی۔ کھاد اور ایندھن مہنگے ہونے سے زرعی پیداوار کے اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

🇵🇰 پاکستان میں غذائی مہنگائی کی تصویر

مہنگائی برقرار: ستمبر میں مجموعی مہنگائی 10.26 فیصد اور خوراک و مشروبات کی سالانہ مہنگائی 8.20 فیصد ریکارڈ ہوئی۔

سب اشیا یکساں نہیں: گندم، آٹے اور پیاز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، لیکن چینی، انڈے اور بعض دوسری اشیا سستی بھی ہوئیں۔

اہم فرق: عالمی غذائی اشاریہ اور پاکستانی دکانوں کی قیمتیں مختلف چیزیں ناپتے ہیں؛ دونوں میں یکساں اضافہ ضروری نہیں۔

تیسرا، موسمیاتی تبدیلیاں: 

ال نینو سے وابستہ خشک سالی اور غیر معمولی موسم نے کئی ممالک میں فصلوں کی پیداوار کے لیے خطرات پیدا کئے ہیں۔

ان عوامل کے ساتھ سمندری مال برداری کے اخراجات بڑھنے سے درآمدی خوراک مزید مہنگی ہوسکتی ہے۔

پاکستان میں مہنگائی کی موجودہ صورتحال

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق ستمبر 2026 میں مجموعی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.26 فیصد رہی۔

خوراک اور غیر الکحل مشروبات کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 8.20 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ ہوا۔

🌾 کیا پاکستان میں آٹا مزید مہنگا ہوگا؟

مقامی پیداوار اہم: پاکستان اپنی گندم کا بڑا حصہ خود اگاتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں کا اثر مقامی پیداوار کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔

اصل فیصلہ کن عوامل: فصل کی پیداوار، سرکاری و نجی ذخائر، درآمدی ضرورت اور حکومتی خریداری کی پالیسی۔

احتیاط: عالمی گندم مہنگی ہونے سے پاکستان میں آٹے کی قیمت اسی شرح سے بڑھنے کا دعویٰ درست نہیں۔

شہری علاقوں میں گندم کی قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 41 فیصد اور آٹے کی قیمت 31.71 فیصد زیادہ تھی۔

پیاز کی قیمت میں 125 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، تاہم چینی، انڈوں اور بعض دوسری اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی۔

یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں غذائی مہنگائی پہلے سے موجود ہے۔ 

عالمی منڈی میں مزید اضافہ مقامی صارفین کے لیے مشکلات بڑھا سکتا ہے۔

پاکستان میں
پہلے ہی
مہنگائی کی
شرح 10 فیصد
سے زیادہ ہے

کیا آٹا مزید مہنگا ہوگا؟

پاکستان اپنی گندم کا بڑا حصہ مقامی طور پر پیدا کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں کا اثر مکمل طور پر درآمدات پر انحصار کرنے والے ممالک سے مختلف ہوسکتا ہے۔
تاہم اگر مقامی فصل توقعات سے کم ہوئی، سرکاری ذخائر ناکافی رہے یا درآمد کی ضرورت بڑھی تو عالمی گندم کی مہنگائی پاکستان کو متاثر کرسکتی ہے۔
آٹے کی آئندہ قیمتوں کا انحصار مقامی پیداوار، دستیاب ذخائر، درآمدی پالیسی اور حکومتی فیصلوں پر ہوگا۔
اس لیے عالمی قیمتوں میں اضافے کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں بھی آٹا لازماً اسی تناسب سے مہنگا ہوگا۔

پاکستانی زراعت میں کھاد، ڈیزل، بجلی اور آبپاشی کے اخراجات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

کھاد مہنگی ہونے سے کسانوں کو گندم، چاول اور دوسری فصلیں اگانے کے لیے زیادہ سرمایہ درکار ہوگا۔

🚜 کھاد اور ڈیزل کیوں زیادہ اہم ہیں؟

کھاد کی لاگت: کھاد مہنگی ہو تو کسان گندم اور چاول جیسی فصلوں پر زیادہ خرچ کرتا ہے۔

ڈیزل اور بجلی: ٹیوب ویل، زرعی مشینری اور فصلوں کی نقل و حمل کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔

دوسرا اثر: زرعی لاگت میں اضافے کا اثر اگلی فصل کی قیمت پر تاخیر سے بھی سامنے آسکتا ہے۔

اسی طرح ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے زرعی مشینری، ٹیوب ویل اور فصلوں کی نقل و حمل مہنگی ہوسکتی ہے۔

پاکستان کے اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق فاسفیٹ کھاد کی کھپت بلند قیمتوں سے متاثر ہوئی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ عالمی بحران کا اثر صرف درآمدی خوراک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مقامی زرعی پیداوار کی لاگت بھی بڑھ سکتی ہے۔

کیا 2027 میں بحران مزید سنگین ہوگا؟

رائٹرز کی تحقیق کے مطابق بعض ممالک نے پہلے سے موجود ذخائر کے باعث عالمی منڈی سے خریداری مؤخر کررکھی تھی۔

جب یہ ممالک دوبارہ بڑی مقدار میں اناج خریدیں گے تو عالمی طلب بڑھنے سے قیمتوں پر اضافی دباؤ پڑسکتا ہے۔

📅 2027 تک مہنگائی بڑھے گی؟

خطرے کا سبب: ذخائر کم ہونے پر اگر بڑے خریدار عالمی منڈی میں واپس آئیں تو طلب اور قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

تاخیر سے اثر: خوراک تیار کرنے والی کمپنیوں کے نئے خام مال اور ترسیل کے معاہدے بلند قیمتوں پر ہوسکتے ہیں۔

متبادل منظر: بہتر فصل، سستی توانائی اور تجارتی راستے کھلنے سے دباؤ کم بھی ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب خوراک تیار کرنے والی کمپنیاں عموماً کئی ماہ کے معاہدوں کے تحت خام مال خریدتی ہیں۔ نئے معاہدے مہنگے ہونے سے قیمتوں میں اضافے کا اثر صارفین تک تاخیر سے پہنچ سکتا ہے۔

تاہم بہتر فصلیں، جنگی کشیدگی میں کمی اور تجارتی راستوں کی بحالی مہنگائی کے خطرات محدود بھی کرسکتی ہیں۔

پاکستان کو کیا کرنا چاہئے؟

پاکستان کو گندم کے ذخائر، کھاد کی دستیابی اور آئندہ فصل کی پیداوار کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات کی بنیاد پر فیصلے کرنے چاہئیں۔

زرعی لاگت کم کرنا، ضروری اشیا کی ذخیرہ اندوزی روکنا اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ہدفی امداد فراہم کرنا اہم اقدامات ہوسکتے ہیں۔

درآمدات اور برآمدات سے متعلق پالیسی بھی بروقت اور شفاف اعدادوشمار پر مبنی ہونی چاہئے۔

💡 پاکستان کے لیے عملی راستہ

ذخائر کی شفافیت: گندم کے ذخائر، فصلوں کی پیداوار اور درآمد کی ضرورت سے متعلق بروقت اعداد شائع کئے جائیں۔

کسان کی مدد: کھاد و آبپاشی کی لاگت اور ترسیل کے مسائل پر توجہ دی جائے۔

صارف کا تحفظ: ذخیرہ اندوزی کی نگرانی اور کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے ہدفی امداد برقرار رکھی جائے۔

نتیجہ: عالمی قیمتیں فوری طور پر قابو میں نہیں آتیں، لیکن مقامی تیاری سے ان کے اثرات کم کئے جاسکتے ہیں۔

نتیجہ: عالمی بحران، پاکستانی دسترخوان

دنیا میں خوراک کی مہنگائی اب صرف زرعی پیداوار کا مسئلہ نہیں رہی۔ جنگ، توانائی، موسم اور تجارت ایک دوسرے سے جڑ کر نئی معاشی مشکلات پیدا کررہے ہیں۔

پاکستان میں پہلے ہی متعدد ضروری اشیا مہنگی ہیں۔ عالمی قیمتوں کا مزید دباؤ عام خاندانوں کے ماہانہ بجٹ کو متاثر کرسکتا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان آنے والے ممکنہ بحران سے پہلے اپنی زرعی پیداوار، غذائی ذخائر اور کم آمدنی والے شہریوں کے تحفظ کو مضبوط بناسکے گا؟

🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ

Reuters — 19 October 2026عالمی خوراک کی مہنگائی اور رسد میں رکاوٹوں سے متعلق خصوصی تحقیقاصل رپورٹ کھولیں ↗

FAO — September 2026عالمی غذائی قیمتوں کا اشاریہ: 136 پوائنٹس اور 5.8 فیصد سالانہ اضافہاصل رپورٹ کھولیں ↗

Pakistan Bureau of Statisticsستمبر 2026 کی ماہانہ افراط زر کی رپورٹاصل رپورٹ کھولیں ↗

Pakistan Bureau of Statistics — Press Releaseشہری اور دیہی اشیا کی سالانہ قیمتوں کی تفصیلی جدولاصل رپورٹ کھولیں ↗

Pakistan Planning Ministry — 8 October 2026قیمتوں، گندم کے آٹے اور ذخیرہ اندوزی کی نگرانی سے متعلق سرکاری بیاناصل رپورٹ کھولیں ↗