براہ راست نشریات

ہرمز سے پاکستانی باورچی خانے تک.. LNG بحران سے مہنگائی کی لہر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Strait of Hormuz

آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پاکستان کے لیے صرف خلیجی بحران نہیں۔
تقریباً پوری درآمدی LNG قطر اور امارات سے آنے کے باعث گیس کی قیمت میں اضافہ بجلی، صنعت، کھاد، ٹرانسپورٹ اور بالآخر عام پاکستانی کے روزمرہ اخراجات کو متاثر کررہا ہے۔

پاکستان کے لیے آبنائے ہرمز کا بحران اب خلیج سے آنے والی کسی دور کی خبر نہیں رہا۔ 

اس کے اثرات ملک کے بجلی گھروں، صنعت، ٹرانسپورٹ اور عام گھر کے بجٹ تک پہنچ رہے ہیں۔ 

ایک طرف پاکستان کی تقریباً پوری درآمدی LNG صرف قطر اور متحدہ عرب امارات سے آتی ہے، دوسری طرف ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے ہفتہ وار مہنگائی کو دوبارہ دو عددی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ 

یوں ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹ اور پاکستان میں بڑھتی قیمتوں کے درمیان ایک سیدھا معاشی تعلق بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTاہم نکات
  • پاکستان کی تقریباً 99 فیصد LNG قطر اور متحدہ عرب امارات سے آتی ہے۔
  • LNG پاکستان کی مجموعی گیس فراہمی کا تقریباً 30 فیصد بنتی ہے۔
  • 17 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں SPI مہنگائی 0.49 فیصد بڑھی۔
  • سالانہ بنیاد پر ہفتہ وار مہنگائی 10.64 فیصد تک پہنچ گئی۔
  • اسی ہفتے ڈیزل 7.29 فیصد اور پٹرول 6.40 فیصد مہنگا ہوا۔
overseaspost.net

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے تازہ اعداد کے مطابق 17 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں حساس قیمت اشاریہ 0.49 فیصد بڑھا، جبکہ سالانہ بنیاد پر ہفتہ وار مہنگائی 10.64 فیصد تک پہنچ گئی۔ 

اسی ہفتے ڈیزل 7.29 فیصد، پٹرول 6.40 فیصد اور ایل پی جی 3.26 فیصد مہنگی ہوئی۔ 

اگرچہ 19 ستمبر سے حکومت نے پٹرول میں 1.65 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 88 پیسے فی لیٹر کمی کی ہے، لیکن نئی قیمتیں اب بھی بالترتیب 389.14 اور 424.04 روپے فی لیٹر ہیں۔

مزید پڑھیں

اصل خطرہ پٹرول نہیں، LNG بھی ہے

Gastech کی ایشیائی گیس مارکیٹ سے متعلق رپورٹ کے مطابق قطر اور متحدہ عرب امارات مل کر پاکستان کی تقریباً 99 فیصد LNG فراہم کرتے ہیں، جبکہ LNG ملک کی مجموعی گیس فراہمی کا قریب 30 فیصد بنتی ہے۔ 

یہ گیس بجلی پیدا کرنے، کھاد بنانے اور صنعت چلانے میں استعمال ہوتی ہے۔ 

اس لیے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہو تو مسئلہ صرف بندرگاہ تک محدود نہیں رہتا، بلکہ بجلی کی لاگت، کھاد اور صنعتی پیداوار بھی دباؤ میں آ سکتی ہے۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس
LNG سپلائیقطر + امارات تقریباً 99٪
گیس میں LNG کا حصہتقریباً 30٪
ہفتہ وار اضافہ0.49٪
سالانہ SPI10.64٪
ڈیزل+7.29٪
پٹرول+6.40٪
overseaspost.net

اس خطرے کا عملی نمونہ پاکستان پہلے ہی دیکھ چکا ہے۔ 

11 ستمبر کو قطر سے تقریباً 82 ہزار ٹن LNG لے کر ایک جہاز پورٹ قاسم پہنچا، جو جولائی کے بعد ہرمز کے راستے پاکستان آنے والی پہلی قطری کھیپ تھی۔ 

اس سے پہلے معمول کی قطری ترسیل میں خلل کے باعث پاکستان کو اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی LNG خریدنا پڑی۔ اگست میں ری گیسیفائیڈ LNG کی قیمتیں ایک دہائی کی بلند سطح پر پہنچیں اور نرخوں میں تقریباً 32 فیصد اضافہ کیا گیا۔

عالمی سطح پر بھی دباؤ برقرار ہے۔ 

رائٹرز کے مطابق خلیجی رکاوٹوں کے بعد ایشیائی LNG کی اسپاٹ قیمت تقریباً 30 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹس تک پہنچی، اور اگر سردیوں میں طلب بڑھی اور یورپ کے گیس ذخائر کم رہے تو قیمت 40 ڈالر تک جا سکتی ہے۔ 

پاکستان کے لیے یہ خطرہ بڑا ہے، کیونکہ ہر مہنگے کارگو کے ساتھ زرمبادلہ، بجٹ اور بجلی کے نرخوں پر اضافی دباؤ پیدا ہوتا ہے۔

ہرمز سے سبزی منڈی تک

یہاں سے بحران عام آدمی تک پہنچنے لگتا ہے۔ 

مہنگی LNG سے بجلی کی پیداواری لاگت بڑھ سکتی ہے۔ 

کھاد کی صنعت بھی گیس پر منحصر ہے، اس لیے گیس مہنگی ہونے سے زرعی لاگت بڑھنے کا خطرہ ہے۔ پھر یہی اثر آٹا، سبزی، چاول اور دوسری غذائی اشیا کی قیمتوں تک پہنچ سکتا ہے۔

OVERSEAS POST | EXPLAINERہرمز سے باورچی خانے تک راستہ
ہرمز میں رکاوٹLNG مہنگی یا محدود بجلی و صنعت کی لاگتٹرانسپورٹ و کھاد خوراک اور روزمرہ اشیاگھریلو بجٹ پر دباؤ
overseaspost.net

دوسری طرف ڈیزل پاکستان کی مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی مشینری کے لیے بنیادی ایندھن ہے۔ ڈیزل مہنگا ہو تو ایک شہر سے دوسرے شہر سامان پہنچانے کا خرچ بڑھتا ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ ایندھن کا جھٹکا صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا، وہ ٹرانسپورٹ کرائے، سبزی منڈی، فیکٹری کی لاگت اور روزمرہ اشیا تک پھیل سکتا ہے۔

حکومت نے بھی توانائی دباؤ کے جواب میں سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کوٹے میں کمی، نئی سرکاری گاڑیوں کی خرید روکنے اور بعض دوسرے اخراجات محدود کرنے جیسے اقدامات کئے ہیں۔ 

رائٹرز کے مطابق یہ اقدامات خلیجی بحران کے باعث بڑھتی ایندھن لاگت کو قابو میں رکھنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔

اصل کمزوری کہاں ہے؟

پاکستان کی بنیادی مشکل صرف ہرمز نہیں، بلکہ چند سپلائرز اور ایک حساس سمندری راستے پر بھاری انحصار ہے۔ 

اگر تقریباً 99 فیصد LNG دو خلیجی ممالک سے آئے تو ہر علاقائی بحران ملک کی توانائی سلامتی کے لیے فوری خطرہ بن سکتا ہے۔

LNG OVERSEAS POST | SUPPLY WATCH82 ہزار ٹن LNG کی اہم کھیپ

11 ستمبر کو قطر سے تقریباً 82 ہزار ٹن LNG لے کر ایک جہاز پورٹ قاسم پہنچا۔ یہ جولائی کے بعد ہرمز کے راستے پاکستان آنے والی پہلی قطری LNG کھیپ تھی۔

یہ کھیپ بجلی کے شعبے کے لیے عارضی ریلیف تھی، مگر اس نے یہ بھی دکھایا کہ معمول کی ترسیل میں رکاوٹ پاکستان کے لیے کتنی حساس ہے۔

overseaspost.net

Gastech رپورٹ نے پاکستان کے لیے قابل تجدید توانائی، شمسی اور ہوا سے بجلی، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام اور دوسرے مقامی ذرائع بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ 

ساتھ ہی حکومت کوئلہ، پن بجلی اور جوہری توانائی جیسے متبادل بھی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

موجودہ بحران کا اصل سبق یہی ہے کہ توانائی کی سلامتی صرف یہ نہیں کہ آج LNG کا جہاز بندرگاہ پہنچ گیا یا پٹرول کی قیمت ایک دو روپے کم ہوگئی۔ 

اصل سوال یہ ہے کہ اگلی بار ہرمز بند ہو، خلیج میں کشیدگی بڑھے یا عالمی LNG قیمت اچانک دوگنی ہو تو پاکستان کے پاس کتنے متبادل ہوں گے؟

فی الحال صورت حال یہ بتاتی ہے کہ ہرمز میں رکاوٹ گیس مہنگی کرتی ہے، مہنگی گیس بجلی اور صنعت پر دباؤ ڈالتی ہے، مہنگا ڈیزل نقل و حمل کی لاگت بڑھاتا ہے، اور آخرکار یہی زنجیر خوراک اور روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں نظر آتی ہے۔

یعنی خلیج کے سمندر میں پیدا ہونے والا بحران اب پاکستانی گھر کے باورچی خانے سے زیادہ دور نہیں رہا۔

OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع
overseaspost.net