براہ راست نشریات

تزکیۂ نفس کیا ہے؟ روحانی کامیابی کا راستہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Tazkiyah al Nafs

تزکیۂ نفس محض برائیوں سے بچنے کا نام نہیں بلکہ اپنے کردار کو سنوارنے اور نیکیوں کو فروغ دینے کا مسلسل عمل ہے۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں جانئے کہ نفسِ امارہ اور نفسِ مطمئنہ میں کیا فرق ہے اور حقیقی کامیابی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔

عربی زبان میں تزکیہ کے لغوی معنی ہیں کسی چیز کو صاف ستھرا بنانا اور اس کو نشوونما دے کر پروان چڑھانا۔ 

ایک اور اصطلاح میں تزکیہ کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو غلط رجحانات، میلانات اور اعمال سے ہٹا کر نیکی اور تقویٰ کی راہ پر ڈالنا۔

🌱 تزکیۂ نفس کیا ہے؟

عربی لفظ تزکیہ میں صفائی، پاکیزگی اور نشوونما کا مفہوم شامل ہے۔

نفس کا تزکیہ یہ ہے کہ انسان اپنی سوچ، خواہشات اور اعمال کو غلط رجحانات سے ہٹا کر نیکی اور تقویٰ کی طرف لے جائے۔

یہ صرف کسی برائی کو چھوڑ دینے کا نام نہیں؛ اچھی صفات کو مضبوط بنانا بھی اسی عمل کا حصہ ہے۔

تزکیۂ نفس درجِ ذیل طریقے سے کر سکتے ہیں:

اپنا محاسبہ کر کے دیکھنا کہ ہم میں کیا کیا خرابیاں اور برائیاں ہیں اور انہیں دور کرنا۔

اپنا محاسبہ کر کے دیکھنا کہ ہم میں کون سی اچھائیاں نہیں اور اس کے لئے کوشش کر کے اسے اپنے اندر پیدا کرنا۔

مزید پڑھیں

اب جو شخص اپنے نفس کا تزکیہ چاہے گا وہ ان اعمال کا جائزہ لے گا جن سے برائیاں اس سے دور ہوں اور اچھائیوں کا اس میں اضافہ ہو گا، اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو اس میں بھی کامیاب نہیں ہوگا۔

انسانی نفس ان اعمال کو بے فائدہ اور لاحاصل سمجھتا ہے جس کے فوائد اس کے ذہن نشین نہ ہوں، اس لئے تزکیۂ نفس کا خیال اسی کے دل میں آسکتا ہے جو یہ سمجھ لے کہ برائیاں میرے لئے ہلاکت خیز اور اچھائیاں

 فائدہ مند ہیں، اس لئے انسان کو پہلے تو یہ یقین ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جن باتوں سے روکا ہے وہ اس لئے کہ وہ میرے لئے تباہ کن ہیں اور جن باتوں کا حکم دیا ہے وہ مجھے دنیوی اور اخروی سعادتوں سے ہمکنار کرنے والی ہیں۔

🔎 خود احتسابی کے دو بنیادی سوال

پہلا سوال: میرے اندر کون سی خرابیاں اور غلط عادتیں موجود ہیں جنہیں مجھے دور کرنا چاہئے؟

دوسرا سوال: میرے کردار میں کون سی نیک صفات کی کمی ہے جنہیں مجھے اختیار کرنا چاہئے؟

مضمون کے مطابق محاسبہ اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب انسان ان سوالات کے جواب کے بعد اپنی اصلاح کے لیے عملی کوشش بھی کرے۔

سورۃ الشمس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’یقیناً کامیاب ہوا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور برباد ہوا وہ جس نے اسے دبا دیا۔‘ (الشمس: 9، 10)

نفس کا تزکیہ کرنے اور دبا دینے کی تشریح یوں ہے کہ تزکیہ کا مطلب ہے پاک کرنا، ابھارنا اور نشوونما دینا یعنی جو اپنے نفس کو فسق و فجور سے پاک کر دے، اس کو ابھار کر تقویٰ اور بلندی پر لے جائے اور اس کے اندر بھلائی کو نشوونما دے وہ فلاح پائے۔

آیتِ مبارکہ میں ’’دَسَّاهَا‘‘ ہے جس کا مطلب دبا دینے کے ہیں۔ 

وہ یہ کہ نامراد ہوا وہ شخص جو اپنے نفس میں نیکی کے جذبات کو ابھارنے کی بجائے اس کو دبا دے اور برائی کے رجحانات کو اتنا غالب کر دے کہ تقویٰ اور نیکیاں اس کے نیچے چھپ جائیں جیسا کہ مٹی کے نیچے لاش دبا دی جائے۔

⚖️ نیکی سے محبت، برائی سے نفرت کیوں؟

انسان عموماً وہی کام اختیار کرتا ہے جس کی اہمیت اور فائدے کا اسے یقین ہو۔ اس لیے تزکیۂ نفس کے لیے ضروری ہے کہ وہ برائی کو نقصان دہ اور نیکی کو فائدہ مند سمجھے۔

مضمون اس یقین پر زور دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام انسان کی دنیوی اور اخروی بھلائی کے لیے ہیں، اور جن باتوں سے روکا گیا ہے وہ اس کے لیے نقصان دہ ہیں۔

جب یہ شعور مضبوط ہوتا ہے تو اصلاح محض خواہش نہیں رہتی بلکہ سنجیدہ کوشش بن جاتی ہے۔

ہمارے نفس میں دونوں قسم کی خواہشات دبی ہوئی ہیں۔ نیکی اور برائی۔ 

برے نفس کو نفسِ امارہ کہتے ہیں جبکہ نیک نفس کو نفسِ مطمئنہ اور جس نے نیک جذبات کو غالب کیا اس نے نفس کا تزکیہ کیا اور کامیاب ہوا۔

حضرت زید بن ارقمؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے:

’اے اللہ! میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا کر اور اس کا تزکیہ کر، تو ہی بہتر ہستی ہے جو اس کا تزکیہ کر سکتی ہے، تو ہی اس کا سرپرست اور مولا ہے۔‘

📖 قرآن کی روشنی میں کامیابی کا معیار

قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ۝ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا

ترجمہ: یقیناً کامیاب ہوا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا، اور نامراد ہوا وہ جس نے اسے دبا دیا۔

حوالہ: سورۃ الشمس، آیات 9–10

مضمون کے مطابق نفس میں نیکی کے جذبات کو ابھارنا کامیابی کا راستہ ہے، جبکہ انہیں دبا کر برائیوں کو غالب کرنا ناکامی کا سبب بنتا ہے۔

تزکیۂ نفس کا اصل مطلب یہ ہے کہ انسان عملاً اپنے آپ کو برائیوں سے پاک کرنے اور اچھائیوں سے مزین کرنے کا کام شروع کر دے اور اس سلسلے میں پہلا قدم یہ ہے کہ اچھائیوں سے الفت اور برائیوں سے نفرت پیدا ہو۔ 

نیکی کی کروڑوں تعریفیں کرنے سے بھی انسان کا نفس پاک نہیں ہوتا جب تک نیکی کو عملاً اختیار نہ کرے اور اس طرح وہ اجتماعی دکھ بھی دور نہیں ہوتے جن کا منبع گناہ ہے۔

🧠 نفسِ امارہ اور نفسِ مطمئنہ

نفسِ امارہ: نفس کی وہ کیفیت جس میں برے رجحانات اور خواہشات غالب ہوں۔

نفسِ مطمئنہ: وہ پُرسکون نفس جو نیکی اور تقویٰ کی طرف مائل ہو۔

مضمون میں ان دونوں کیفیات کا ذکر کرکے سمجھایا گیا ہے کہ انسان کے اندر نیکی اور برائی کے رجحانات موجود ہوتے ہیں؛ تزکیہ ان میں نیکی کے رجحان کو غالب کرنے کی کوشش ہے۔