اخلاص وہ بنیادی خوبی ہے جو معمولی نیکی کو بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم بنا دیتی ہے، جبکہ ریاکاری بڑے سے بڑے عمل کو اجر سے محروم کر سکتی ہے۔
اس مضمون میں احادیثِ نبویﷺ کی روشنی میں نیت کی پاکیزگی، اعمال کی قبولیت اور آخرت میں اخلاص کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔
اخلاص کا فقدان یعنی ریاکاری کا انجام بڑا بھیانک اور خوفناک ہے۔
نبی کریمﷺ ارشاد فرماتے ہیں:
’کسی شخص نے ایسا علم حاصل کیا جس سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مطمع نظر ہونا چاہئے مگر اس شخص نے اس کو دنیا کے معمولی منافع کے حصول کے پیش نظر حاصل کیا تو ایسے شخص کو قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی ملنا محال ہے‘۔
🌱 اخلاص کیا ہے؟
اخلاص کا مفہوم: نیک عمل میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کو اصل مقصود بنانا۔
نیت کی اہمیت: عمل کی صورت ایک جیسی ہو سکتی ہے لیکن نیت کے اختلاف سے اس کی معنوی حیثیت بدل جاتی ہے۔
دل کا تعلق: اخلاص دل کے اعمال میں بنیادی مقام رکھتا ہے، جبکہ ظاہری اعمال اس کے تابع ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ ایک جگہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:
’جس کسی شخص نے بھی اس لئے علم حاصل کیا ہو کہ وہ اس کے ذریعہ کج فہموں سے کٹ حجتی کرے اور علمائے کرام کا بطور فخر ومباہات سامنا کرے یا لوگوں کی اپنی طرف توجہ مرکوز کرے تو ایسا شخص دوزخ کا ایندھن ہے، وہ جہنم میں جائے گا‘۔
مزید پڑھیں
اخلاص ہی انسان کو قیامت کے دن کے موقف کی ہولناکی اور حد سے زیادہ پریشانی سے نجات کا ذریعہ ثابت ہوگا۔ مخلص لوگ اخلاص کے سایۂ عاطفت میں چین وسکون اطمینان وراحت کے ساتھ ہوں گے، جس دن کہ اللہ تعالیٰ ریاکاروں کو مخاطب کرکے کہے گا، جاؤ ان لوگوں کے پاس جاکر دیکھو جن کو دکھانے کے لئے دنیا میں تم لوگ اعمال کیا کرتے تھے۔
اسی طرح اخلاص کا کمال یہ ہے کہ وہ انسان کو اجر و ثواب سے محرومیت کا شکار ہونے نہیں دیتا۔
⚠️ ریاکاری کا نقصان
ریاکاری: عمل کا مقصد اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں سے تعریف، شہرت یا نیک نامی حاصل کرنا بن جائے۔
بڑا خطرہ: مضمون کے مطابق دکھاوے کا جذبہ بڑے سے بڑے نیک عمل کو بھی اجر سے محروم کر سکتا ہے۔
خود احتسابی: عمل کرتے وقت اور عمل کے بعد اپنے دل کو ٹٹولنا چاہئے کہ اصل مقصد کیا تھا۔
نبی کریمﷺ کے پاس ایک شخص آیا، اس نے کہا کہ آپﷺ کا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو کسی غزوہ میں اجر وثواب اور نیک نامی وشہرت کی غرض سے شریک ہو، اس کے لئے اس کے صلہ میں کیا ہے؟
نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کے لئے کچھ بھی نہیں (3 مرتبہ اس جملہ کو دہرایا) پھر فرمایا:
’اللہ اسی عمل کو قبول کرتا ہے جو خالص اللہ ہی کے لئے کیا گیا ہو اور اس سے اللہ ہی کی رضا وخوشنودی مقصود ہو‘ (رواہ النسائی)
راویٔ حدیث حضرت مکرز نے حضرت ابوہریرہؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے نبی کریمﷺ سے دریافت کیا:
’یا رسول اللہﷺ کوئی شخص اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا چاہتا ہے اور حصول دنیا کی بھی دل میں تمنا لئے ہوئے ہے‘۔
تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’اس کے لئے کوئی اجر و ثواب نہیں‘۔
📖 علمِ دین اور نیت
علم کا اصل مقصد: دینی علم کو اللہ کی رضا، حق کی معرفت اور بھلائی کے لئے حاصل کرنا چاہئے۔
غلط مقصد: محض دنیاوی فائدہ، دوسروں سے بحث میں برتری یا اپنی طرف لوگوں کی توجہ کھینچنا نیت کو خراب کر سکتا ہے۔
حدیث کا تنبیہی مضمون: مضمون میں ایسی نیت کے ساتھ علم حاصل کرنے کے بارے میں سخت وعید بیان کی گئی ہے۔
نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے:
’اللہ تعالیٰ نے صاف صاف دوٹوک الفاظ میں ارشاد فرما دیا ہے کہ میں شرک کرنے والوں کے شرک سے پورے طور پر مستغنی ہونے کا اعلان کرتا ہوں، جس شخص نے میرے ساتھ کسی اور کو شریک کیا، میں نے اس سے اور اس کے شرک سے دست برداری کا اعلان کر دیا، وہ جانے اور اس کا کام جانے، میرا اس سے کوئی تعلق نہیں‘۔
ہم کہہ سکتے ہیں کہ اعمال قلوب میں اخلاص بنیادی حیثیت کا حامل ہے اور اعضا وجوارح سے سرزد ہونے والے اعمال کا تتمہ اور تکملہ گردانا جائے گا۔
ان کی حیثیت جزوی گردانی جاتی ہے۔
اعضائے انسانی سے انجام پذیر ہونے والے اعمال، اعمال قلوب کے تابع شمار ہوا کرتے ہیں۔
🛡️ جہاد اور نیت کا امتحان
مضمون کی مثال: ایک شخص نے ایسے فرد کے بارے میں سوال کیا جو غزوے میں اجر کے ساتھ شہرت بھی چاہتا ہو۔
جواب کا حاصل: مضمون میں نقل کردہ روایت کے مطابق قبولیت کے لئے اللہ کی رضا ہی کو مقصود بنانا ضروری ہے۔
عمومی سبق: یہ اصول صرف ایک عمل تک محدود نہیں: نیک نامی کی خواہش نیکی کے مقصد پر غالب نہ آنے پائے۔
اخلاص کے اہم ترین فوائد میں سے یہ بھی ہے کہ اخلاص معمولی سے معمولی کام کو بڑھاتا چلا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ پہاڑ کے مانند دیوہیکل بن کر مخلصین کے لئے نمودار ہوگا۔
ریا کاری عظیم الشان عمل کو بیکار اور ناکارہ بنا دیتی ہے حتیٰ کہ عنداللہ اس کارخیر کی کوئی قدروقیمت باقی نہیں رہتی بلکہ اللہ تعالیٰ اس کو خس وخاشاک کی طرح ضائع کر دیتا ہے۔
⚖️ قیامت کے دن اخلاص کی اہمیت
اصل سرمایہ: مضمون میں اخلاص کو قیامت کی سختیوں میں نجات اور اجر کی امید کا اہم ذریعہ بتایا گیا ہے۔
ریاکار کے لئے تنبیہ: اس شخص کا معاملہ سخت ہوگا جس نے اعمال اللہ کے بجائے دوسروں کو دکھانے کے لئے کئے۔
سبق: لوگوں کی تحسین وقتی ہے؛ نیک عمل کا مقصد پائیدار اجر ہونا چاہئے۔