💡
تہران اجلاس کے 5 بڑے انکشافات
+
تہران اجلاس کے 5 بڑے انکشافات
تہران میں منعقدہ چار فریقی اعلیٰ سطح کے اجلاس نے خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کو روکنے کے لیے ایک نیا سفارتی دروازہ کھول دیا ہے، جس میں اہم عسکری اور انٹیلی جنس قیادت نے شرکت کی۔
چار فریقی عسکری و سفارتی سطح
اس اجلاس میں پاکستان کی جانب سے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی عرب کی طرف سے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کی جانب سے انٹیلی جنس سربراہ نے شرکت کی۔
فوجی کارروائیوں سے گریز کا نظام
مذاکرات کا بنیادی مقصد خطے میں ایک ایسا موثر نظام قائم کرنا ہے جس کے ذریعے ممالک ایک دوسرے کے خلاف براہ راست یا پراکسی فوجی کارروائیوں سے گریز کریں۔
پاکستان کی اہم ثالثی تجویز
یہ چار فریقی اجلاس دراصل فیلڈ مارشل عاصم منیر کے گزشتہ دورۂ تہران کے دوران طے پانے والی حکمت عملی کا عملی نتیجہ ہے، جو اسلام آباد کی بڑھتی سفارتی حیثیت ظاہر کرتا ہے۔
قطر کی متوازی سفارتی کوششیں
تہران میں قطری وفد کی متواتر موجودگی اور مشاورت اس بات کا ثبوت ہے کہ خلیجی ریاستیں امریکہ اور ایران کے درمیان برف پگھلانے کے لیے پوری طرح متحرک ہیں۔
حتمی معاہدے کا اب تک فقدان
اگرچہ رابطے بحال ہو چکے ہیں، تاہم فریقین کے مابین کسی باضابطہ امن معاہدے یا امریکہ اور ایران کے براہ راست مذاکرات کی بحالی کا تاحال کوئی اعلان نہیں ہوا۔
مشرق وسطیٰ ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں مذاکرات کی کامیابی پورے خطے کو بڑے بحران سے بچا سکتی ہے اور سفارت کاری کی ناکامی ایک نئی اور زیادہ خطرناک جنگ کا راستہ کھول سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی، اسرائیل کے ممکنہ حملوں کی اطلاعات، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور خلیجی ممالک کی سلامتی نے صورت حال کو غیر معمولی طور پر حساس بنا دیا ہے۔
اسی پس منظر میں آج (26 اکتوبر 2026ء کو) تہران میں ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اہم 4 فریقی اجلاس منعقد ہوا۔
کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ بظاہر یہ الگ الگ سفارتی سرگرمیاں ہیں، لیکن ان کا مشترکہ مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات کا راستہ دوبارہ کھولنا ہے۔
تہران اجلاس: کیا پاکستانی کوششیں خطے کو نئی جنگ سے بچا سکیں گی؟
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی راہ نکالنے کے لیے اہم چار فریقی اجلاس
تہران میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات منعقد ہوئے ہیں، جن کا مقصد خطے کو بڑی جنگ سے بچانا اور سفارتی رابطے بحال کرنا ہے۔
🤝 چار فریقی سفارتی اجلاس
4تہران میں ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جس میں علاقائی سلامتی اور فوجی کشیدگی روکنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
⚖️ بنیادی اختلافات
2امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے اور سکیورٹی شرائط پر گہرے اختلافات تاحال برقرار ہیں۔
🛢️ توانائی اور معیشت
1آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل اور تیل کی قیمتوں پر شدید دباؤ بڑھ رہا ہے، جو پاکستان سمیت دیگرممالک کے لیے اہم ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
تہران اجلاس میں کیا ہوا؟
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق 4 فریقی اجلاس میں ایران کی نمائندگی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کی، جبکہ سعودی وفد کی قیادت وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے کی۔
پاکستان کی جانب سے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکیہ کی جانب سے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن شریک ہوئے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی بھی ان ملاقاتوں میں شرکت ہوئی۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اجلاس میں علاقائی سلامتی، امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے اثرات، فلسطین اور لبنان کی صورت حال اور خطے میں امن کے لیے تعاون پر گفتگو ہوئی۔
پاکستان کے لیے یہ سفارتی مشن کیوں اہم ہے؟
‹
پاکستان کے لیے یہ سفارتی مشن کیوں اہم ہے؟
🌐 اسٹریٹجک توازن اور رابطہ
پاکستان بیک وقت تہران، ریاض اور واشنگٹن کے ساتھ سفارتی رابطے رکھنے کی منفرد پوزیشن میں ہے، جو اسے خطے میں ایک کلیدی پل کا کردار عطا کرتا ہے۔
⛽ معاشی و توانائی کے مفادات
آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہِ راست پاکستان کی معیشت، درآمدی بل اور مہنگائی پر اثر انداز ہوتا ہے۔
🛡️ سرحدی سلامتی اور استحکام
مشیریت اور عسکری قیادت کے مشترکہ رابطوں کا مقصد ایران اور خلیجی خطے میں ایسی فضا بنانا ہے جہاں پاکستان کے اپنے حفاظتی اور سلامتی مفادات محفوظ رہیں۔
🤝 ثالثی کا کامیاب تجربہ
جون میں پاکستان اور قطر کی کوششوں سے عبوری معاہدہ طے پا چکا ہے، اور موجودہ مشن اسی سابقہ تجربے کو بنیاد بنا کر جنگ کو پھیلنے سے روکنے کی کوشش ہے۔
⚖️ سفارتی امتحان اور چیلنج
مبصرین کے نزدیک یہ مشن پاکستان کے لیے ایک بڑا امتحان بھی ہے؛ کیونکہ اگر اسلام آباد فریقین کو قابلِ عمل سمجھوتے پر آمادہ کر لے تو خطے میں اس کا سفارتی قدوقامت بے پناہ بڑھ جائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ نے اس ملاقات کو علاقائی سلامتی کے مشترکہ نظام کی جانب ایک قدم قرار دیا ہے۔
یہ اجلاس اب مکمل ہو چکا ہے، تاہم دستیاب اطلاعات میں کسی حتمی معاہدے یا امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی بحالی کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
اس لیے اسے جنگ کے خاتمے کا فیصلہ کن معاہدہ قرار دینا فی الحال قبل از وقت ہوگا۔
Ali Bagheri, Deputy Secretary of the Supreme National Security Council, announced that senior officials from Saudi Arabia, Pakistan, and Turkey will travel to Tehran as part of efforts to implement the idea of endogenous security in West Asia. https://t.co/XU0ByEdsJv
— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) October 26, 2026
پاکستان کا کردار کیوں اہم ہے؟
اس بحران میں پاکستان کی اہمیت صرف ایران کے ساتھ ہمسایہ تعلقات یا سعودی عرب سے قریبی روابط تک محدود نہیں، بلکہ اسلام آباد کے پاس تہران، ریاض اور واشنگٹن کے ساتھ رابطے رکھنے کا سفارتی موقع ہے، جبکہ پاکستان اور قطر پہلے بھی امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کر چکے ہیں۔
ایران امریکہ جنگ: کن 3 باتوں پر اٹکا ہے معاملہ؟
تفصیلات
ایران امریکہ جنگ: کن 3 باتوں پر اٹکا ہے معاملہ؟
☢️ جوہری پروگرام اور افزودگی
واشنگٹن کا اصرار ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کو اپنی یورینیم افزودگی محدود کرنا ہوگی، جبکہ تہران امریکی مطالبات ماننے سے یکسر انکار کر رہا ہے۔
⚓ پابندیاں اور ناکہ بندی
تہران کا مؤقف ہے کہ جب تک امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور تیل کی برآمدات پر عائد سخت پابندیاں ختم نہیں کرتا، جوہری پروگرام پر بات نہیں ہوگی۔
⚔️ عسکری دھمکیاں اور دباؤ
ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری طرف امریکی فوجی منصوبہ بندی اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ حملے کی وارننگز نے فریقین کے درمیان اعتماد کی فضا ختم کر دی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 4 فریقی اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے گزشتہ دورۂ تہران کے دوران سامنے آئی تھی۔
پاکستان کے ایک اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار کے مطابق اجلاس کا ایک اہم مقصد خطے میں ایسا نظام قائم کرنا تھا جس کے ذریعے ممالک ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیوں سے گریز کریں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے لیے یہ ایک موقع بھی ہے اور امتحان بھی۔
یعنی کامیاب سفارت کاری خطے میں اس کی اہمیت بڑھا سکتی ہے، لیکن ایران اور امریکہ کے بنیادی اختلافات اتنے گہرے ہیں کہ صرف ایک ملاقات سے ان کا حل نکلنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
قطر بھی سرگرم، مذاکرات کا راستہ کھلا
پاکستان کے ساتھ قطر بھی سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ قطری وفد تہران پہنچا اور ثالثی سے متعلق مشاورت جاری رہی۔
قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کا اصل منصوبہ کیا ہے؟
+
قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کا اصل منصوبہ کیا ہے؟
کشیدگی میں کمی اور ثالثی کا فروغ
قطر اور پاکستان کی مشترکہ ثالثی کا مقصد واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی خلیج کو کم کرنا اور سفارتی چینلز کو دوبارہ فعال بنانا ہے۔
سعودی عرب اور ترکیہ کا کلیدی کردار
سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ اس دورے کا مقصد خطے میں جنگ کو پھیلنے سے روکنا اور علاقائی ممالک کے درمیان مشترکہ سکیورٹی کا نظام قائم کرنا ہے۔
عبوری معاہدے کی بحالی
ان تمام علاقائی طاقتوں کی کوشش ہے کہ جون میں طے پانے والے اس عارضی سمجھوتے کو دوبارہ زندہ کیا جائے جو عسکری جھڑپوں کے باعث ٹوٹ گیا تھا۔
ایرانی مؤقف کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایرانی مطالبات تسلیم نہ کیے جانے اور سابقہ وعدوں پر عمل نہ ہونے سے مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکے۔
دوسری طرف واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیوں اور سکیورٹی معاملات کو حل کیا جائے۔
یہاں اصل مشکل یہی ہے کہ دونوں فریق مذاکرات چاہتے ہیں، لیکن ان کی شرائط مختلف ہیں۔
HRH Prince Khalid bin Salman bin Abdulaziz Al-Saud, Minister of Defense, leads the Kingdom’s delegation to the meetings that will be held today in Tehran, capital of Iran, between Makkah Joint Defense Agreement countries and officials from the Islamic Republic of Iran, with participation of Field Marshall Asim Munir, Pakistani Chief of Army Staff and Ibrahim Kalin, Director of the Turkish National Intelligence. Representatives of Makkah Joint Defense Agreement countries will meet with the H.E. President of the Islamic Republic of Iran Dr. Masoud Pezeshkian, and H.E. the Secretary of the Supreme National Security Council of Iran Mohsen Rezaei. The visit comes as part of the continued efforts by the Makkah Joint Defense Agreement countries for de-escalation between parties involved in the ongoing crisis, and promoting dialogue and diplomatic solutions, in support of the mediation efforts carried out by the State of Qatar and the Islamic Republic of Pakistan. The visit underscore the pivotal role of Makkah Joint Defense Agreement countries in reinforcing regional security and stability, and working with all countries in the region to achieve that goal.
— AMB Dr. Rayed Krimly (@Rayedkrimly) October 26, 2026
تہران امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں، جبکہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام پر اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کا عندیہ نہیں دے رہا۔
یاد رہے کہ پاکستان اور قطر کی کوششوں سے جون میں ایک عبوری معاہدہ طے پایا تھا، لیکن لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد وہ برقرار نہ رہ سکا۔ یہی سابقہ تجربہ موجودہ مذاکرات کے لیے امید بھی ہے اور انتباہ بھی۔
پاکستانی معیشت پر نئی جنگ کے ممکنہ اثرات
▼
پاکستانی معیشت پر نئی جنگ کے ممکنہ اثرات
📈 درآمدی بل میں اضافہ
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے تیل کی عالمی قیمتیں بڑھتی ہیں، جس کا براہِ راست بوجھ پاکستان کے درآمدی بل پر پڑتا ہے۔
🚌 نقل و حمل اور مہنگائی
عالمی منڈی میں ایندھن مہنگا ہونے کے نتیجے میں ملکی سطح پر ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں اور عام استعمال کی اشیاء کی قیمتیں اوپر جاتی ہیں۔
⚡ توانائی کی فراہمی کا دباؤ
خطے میں جنگی صورت حال خلیجی ممالک سے تیل و گیس کی سپلائی لائنز کو غیر مستحکم کر سکتی ہے، جس سے توانائی بحران کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
📉 معاشی استحکام کے چیلنجز
مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات ملکی معیشت کے لیے جاری اصلاحاتی عمل کو شدید متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے تہران میں امن کوششیں پاکستان کے لیے حیاتاتی اہمیت رکھتی ہیں۔
جوہری پروگرام پر اختلاف برقرار
تہران اجلاس کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان سب سے مشکل معاملات ابھی حل طلب ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ایک ایرانی عہدیدار نے واضح کیا کہ تہران اپنے جوہری پروگرام پر اس وقت تک بات نہیں کرے گا جب تک امریکہ ایرانی مطالبات پر پیش رفت نہیں کرتا۔
ان مطالبات میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم اور ایرانی تیل برآمدات پر پابندیاں اٹھانا شامل ہیں۔
اس کے برعکس امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا مؤقف رہا ہے کہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کو یورینیم افزودگی محدود کرنا ہوگی۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت یقینی بنانے اور ایرانی جوہری مسئلے کا پُرامن حل نکالنے کے لیے مفاہمت کی گنجائش کا ذکر کیا ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارت کاری کے لیے راستہ مکمل بند نہیں، لیکن کسی بھی پیش رفت کے لیے دونوں جانب سے بنیادی شرائط میں لچک ضروری ہوگی۔
عالمی طاقتیں کیا چاہتی ہیں، اور کس کا کیا مفاد ہے؟
◀
عالمی طاقتیں کیا چاہتی ہیں، اور کس کا کیا مفاد ہے؟
🇺🇸 امریکہ کا موقف
واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام اور یورینیم افزودگی کو محدود کرے، جبکہ ساتھ ہی خطے میں سکیورٹی معاملات پر سخت شرائط برقرار رکھے ہوئے ہے۔
🇮🇷 ایران کا موقف
تہران اس بات پر بضد ہے کہ امریکی ناکہ بندی اور تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں ختم ہونے تک وہ جوہری پروگرام پر کوئی بات چیت نہیں کرے گا۔
🇮🇱 اسرائیل کا موقف
اسرائیل کی جانب سے براہِ راست حملے کی تردید کے باوجود تہران کی طرف سے کسی بھی جارحیت کی صورت میں انتہائی سخت عسکری جواب دینے کا انتباہ دیا گیا ہے۔
🇺🇳 اقوام متحدہ اور ثالث
اقوام متحدہ اور ثالث ممالک (جیسے پاکستان و قطر) آبنائے ہرمز کی سلامتی بحال کرنے اور فریقین کے درمیان مفاہمت کا راستہ نکالنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔
جنگ کا خطرہ کتنا حقیقی ہے؟
تہران میں مذاکرات ایسے وقت ہوئے ہیں جب امریکی حکام کی جانب سے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے امکان کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق فوجی منصوبہ بندی پر کام جاری ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری حملے کے بارے میں مختلف مواقع پر مختلف اشارے دیے ہیں۔
اُدھر اسرائیل کی جانب سے بھی ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے ایران پر انتخابات سے پہلے حملے کی منصوبہ بندی کی تردید کی، تاہم ایران کی جانب سے کسی حملے کی صورت میں سخت جواب دینے کا انتباہ بھی دیا۔
دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک سفارت کاری کے لیے تیار ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور دفاع پر سمجھوتا نہیں کرے گا۔
مبصرین کے مطابق اس صورت حال میں مذاکرات کے ساتھ فوجی دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، جو کسی غلط اندازے یا اچانک واقعے کو بڑے تصادم میں بدل سکتا ہے۔
⏳
اگلے چند دن فیصلہ کن؟ امن یا نئی جنگ؟
+
اگلے چند دن فیصلہ کن؟ امن یا نئی جنگ؟
📅 جاری سفارتی سرگرمیاں
تہران میں چار فریقی اجلاس اور قطری وفد کے مذاکرات نے فریقین کے درمیان رابطے بحال رکھے ہیں، جس سے فوری تصادم ٹلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
⚡ فوجی دباؤ اور دھمکیاں
امریکی عسکری منصوبہ بندی اور ممکنہ کارروائیوں کے اشارے ماحول کو کشیدہ رکھے ہوئے ہیں، جو کسی بھی غلط فहमी کو بڑے تنازع میں بدل سکتے ہیں۔
🔍 فیصلہ کن عوامل
آنے والے چند دن اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا فریقین مطالبات میں لچک دکھا کر مستقل مذاکرات کی طرف بڑھتے ہیں یا تناؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔
⚖️ پاکستان اور ثالثوں کا امتحان
پاکستان اور قطر کے لیے اصل کامیابی صرف اجلاس منعقد کرانا نہیں بلکہ فریقین کو جنگ سے پیچھے ہٹنے والے قابلِ عمل سمجھوتے پر رضامند کرنا ہے۔
آبنائے ہرمز اور تیل کی قیمتوں پر نظر
اہم بات یہ ہے کہ اس کشیدگی کا اثر صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شامل ہے۔ یہاں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے تیل اور گیس کی فراہمی، عالمی منڈیوں اور درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق جاری جنگ نے اس آبی گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت محدود کی ہے اور عالمی توانائی کی قیمتوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔
پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ صورت حال خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ درآمدی بل، نقل و حمل اور مہنگائی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
اسی لیے تہران میں امن کی کوششیں پاکستان کے لیے محض خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں، بلکہ اس کے معاشی مفادات سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔
اب آگے کیا ہوگا؟
تہران اجلاس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ایران اور سعودی عرب سمیت خطے کے اہم ممالک نے بڑھتی کشیدگی کے دوران رابطے کا راستہ اختیار کیا ہے۔
سعودی عرب نے بھی واضح کیا ہے کہ دورے کا مقصد کشیدگی کم کرنا، مذاکراتی رابطے کھولنا اور قطر و پاکستان کی ثالثی کی حمایت کرنا ہے۔
تاہم ابھی 3 بڑے سوال جواب طلب ہیں کہ کیا امریکہ ایرانی مطالبات پر کوئی رعایت دے گا؟ کیا ایران اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے تیار ہوگا؟ اور کیا اسرائیل سمیت خطے کے دوسرے فریق نئی فوجی کارروائیوں سے گریز کریں گے؟
مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں کی کامیابی کا انحصار انہی سوالات پر ہوگا۔
اگر یہ ممالک فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہوگئے تو جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کا موقع پیدا ہوسکتا ہے، لیکن اگر دھمکیاں، ناکہ بندی اور فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو تہران کا اجلاس بھی ایک عارضی سفارتی کوشش ثابت ہوسکتا ہے۔
فی الحال سب سے اہم پیش رفت یہی ہے کہ رابطے جاری، مگر امن کا کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا۔
پاکستان کے لیے اصل کامیابی اجلاس منعقد کرانا نہیں، بلکہ امریکہ اور ایران کو ایسے قابلِ عمل سمجھوتے تک پہنچانے میں مدد دینا ہوگی جو جنگ کی واپسی کو روک سکے۔