براہ راست نشریات

خشوع کے بغیر نماز کی کیا حیثیت ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Khushu in Salah کاپی

مولانا محمد عابد ندوی

جدہ

کیا خشوع کے بغیر نماز ادا ہوجاتی ہے یا اسے دوبارہ پڑھنا ضروری ہے؟
قرآن و حدیث نماز میں دل کی حاضری اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کی اہمیت واضح کرتے ہیں۔
اس مضمون میں خشوع کی فضیلت، نماز کے اجر پر اس کے اثرات اور فقہائے کرام کی مختلف آرا کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

ایک حدیث میں رسول اللہﷺ نے خبر دی کہ لوگوں سے سب سے پہلے جو چیز اٹھالی جائے گی وہ خشوع ہے، یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب پوری مسجد میں کوئی ایک شخص بھی خشوع سے نماز پڑھنے والا نہیں ہوگا۔ 

خشوع کا اصل مقام دل ہے اور اللہ تعالیٰ ہی اس کی حقیقت جانتا ہے، تاہم ظاہری علامات سے بھی ہماری نمازوں میں اس کی کمی کا اندازہ ہوتا ہے۔ 

بہت سے لوگ نماز پڑھتے ہیں، لیکن اس کی روح یعنی خشوع و خضوع پر توجہ نہیں دیتے۔ حالانکہ نماز کی تاثیر اور اجر کے لیے خشوع نہایت اہم ہے۔

🤲 خشوع کیا ہے، اور کہاں پیدا ہوتا ہے؟

خشوع سے مراد نماز کے دوران اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی، دل کی توجہ اور سنجیدگی اختیار کرنا ہے۔ یہ صرف سر جھکانے یا ظاہری سکون کا نام نہیں۔

اس کا اصل مقام دل ہے۔ چنانچہ دوسرے انسان کے خشوع کی مکمل حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، اگرچہ بعض ظاہری علامات سے توجہ کا اندازہ ہوسکتا ہے۔

خشوع نماز کو محض حرکات کے بجائے اللہ سے تعلق اور مناجات کا ذریعہ بناتا ہے۔

قرآن مجید میں سورۃ المومنون کی ابتدائی آیات میں کامیاب اہل ایمان کی صفات بیان ہوئی ہیں۔ ان میں ایک نمایاں صفت یہ ہے کہ وہ اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ 

پھر انہی اہل ایمان کو جنت الفردوس کی وراثت کی خوشخبری دی گئی ہے۔ خشوع نماز کی بنیادی صفات میں شامل ہے۔ بعض اہل علم نے اسی بنیاد پر اسے واجب قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں

سورۃ البقرہ، آیت 45 میں فرمایا گیا کہ نماز بہت بھاری ہے، سوائے ان لوگوں کے جو خشوع اختیار کرتے ہیں۔ 

اس سے مراد نماز میں اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی ہے۔ 

جو شخص دل کی توجہ کے ساتھ کھڑا ہو، اس کے لیے نماز بوجھ نہیں رہتی۔ 

اس کے برعکس غفلت اور بے توجہی نماز کی کیفیت کو متاثر کرتی ہے۔

 قرآن کے اس اندازِ بیان میں غیر خاشعین کے لیے تنبیہ بھی پائی جاتی ہے۔

مشہور مفسر علامہ قرطبیؒ نے اپنی تفسیر ’الجامع لاحکام القرآن‘ میں نماز کے خشوع پر اہل علم کے اختلاف کا ذکر کیا ہے: آیا خشوع نماز کے فرائض میں سے ہے یا فضائل میں سے؟ 

ان کے نزدیک صحیح قول یہ ہے کہ خشوع فرائض میں سے ہے اور اس کا محل دل ہے۔ 

ان کے نزدیک یہ مسئلہ ظاہری آداب نہیں بلکہ قلبی عبادت سے متعلق ہے۔

📖 سورۃ المومنون میں کامیاب نمازی کی صفت

قرآن مجید میں اہل ایمان کی کامیابی کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا گیا: «الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» — یعنی وہ لوگ جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ (المومنون: 2)

ان آیات کے بعد اہل ایمان کے لیے جنت الفردوس کی بشارت آتی ہے۔ یہ انداز نماز میں خشوع کی بنیادی اہمیت واضح کرتا ہے۔

فقہا نے اسی اور دوسرے دلائل کی روشنی میں خشوع کے حکم اور درجے پر بحث کی ہے۔

قرآن و حدیث میں نماز سے غفلت پر سخت تنبیہات بھی آئی ہیں۔ 

سورۃ الماعون میں ان نمازیوں کے لیے وعید بیان ہوئی ہے جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں۔ 

اسی طرح نماز میں بلا ضرورت ادھر اُدھر دیکھنے اور آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے سے منع کیا گیا ہے۔ 

حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے نماز میں آسمان کی طرف دیکھنے والوں کو سختی سے متنبہ فرمایا کہ وہ اس حرکت سے باز آجائیں، ورنہ ان کی بینائی چھین لی جاسکتی ہے۔ (متفق علیہ)

یہ تنبیہات خشوع کی اہمیت واضح کرتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: 

اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔ (طٰہٰ: 14) 

نماز کا بنیادی مقصد اللہ کی یاد ہے، نہ کہ غفلت۔ 

⚖️ نماز کن لوگوں پر بھاری نہیں ہوتی؟

سورۃ البقرہ، آیت 45 میں نماز کو بھاری بتایا گیا ہے، سوائے خشوع اختیار کرنے والوں کے۔

جس شخص کا دل اللہ کی طرف متوجہ ہو، اس کے لیے نماز بوجھ بننے کے بجائے راحت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ غفلت اور بے دلی اس کیفیت کو کمزور کرتی ہے۔

مضمون میں اسی آیت سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ خشوع صرف ظاہری ادب نہیں بلکہ نماز کے حقیقی مقصد سے جڑا ہوا ہے۔

سورۃ الاعراف، آیت 205 میں بھی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے اور غافلوں میں شامل نہ ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔ 

رسول اللہﷺ نے نمازی کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہے۔ مناجات کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی جانتا اور محسوس کرتا ہو کہ وہ کس کے سامنے کھڑا ہے اور کیا عرض کررہا ہے۔

احادیث میں یہ مضمون بھی ملتا ہے کہ نمازی کو اپنی نماز کا اجر اسی قدر ملتا ہے جس قدر اس نے توجہ اور سمجھ بوجھ کے ساتھ نماز ادا کی۔ 

ایک روایت میں نماز کے اجر کے مختلف حصوں، مثلاً نصف، تہائی، چوتھائی، یہاں تک کہ دسویں حصے، کا ذکر ہے۔ 

🕌 نماز کا مقصد — اللہ تعالیٰ کی یاد

سورۃ طٰہٰ، آیت 14 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي» — میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔

نماز میں بندہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہے۔ اس لیے کوشش ہونی چاہئے کہ زبان سے پڑھے جانے والے کلمات کے ساتھ دل بھی متوجہ ہو۔

نماز پڑھتے ہوئے بار بار ذہن منتشر ہو تو نرمی سے توجہ واپس نماز کی طرف لانا خشوع کی تربیت کا حصہ ہے۔

اس کا مفہوم یہ ہے کہ ظاہری طور پر ایک جیسی نماز پڑھنے والے افراد اجر و ثواب میں برابر نہیں ہوتے۔ 

جس قدر دل حاضر اور توجہ زیادہ ہوگی، اسی قدر نماز کے حقیقی فائدے کی امید زیادہ ہوگی۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: 

اگر کسی شخص نے خشوع کے بغیر نماز پڑھی تو کیا اس کی نماز درست ہوگی یا اسے دوبارہ پڑھنا لازم ہوگا؟

اس بارے میں اہل علم کی آرا مختلف ہیں۔ 

بعض اہل علم نے کہا ہے کہ جب نماز کا بیشتر حصہ غفلت اور بے توجہی میں گزر جائے تو ایسی نماز کا اعادہ ہونا چاہئے۔ سفیان ثوریؒ سے خشوع کے بغیر نماز کے فاسد ہونے کا قول منقول ہے۔ امام غزالیؒ اور حنبلی فقیہ ابو عبداللہ حسن بن حامدؒ سے بھی اس نوعیت کی رائے نقل کی گئی ہے۔ 

ان اقوال میں خشوع پر زور دیا گیا ہے۔

⚠️ غفلت اور نگاہیں اِدھر اُدھر کرنا

سورۃ الماعون میں نماز سے غفلت برتنے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے۔ اس آیت کو محض ایک غیر ارادی خیال آنے کے برابر نہیں سمجھنا چاہئے۔

حضرت انسؓ سے مروی حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے نماز کے دوران آسمان کی طرف دیکھنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا۔ (صحیح بخاری: 750)

سبق یہ ہے کہ نمازی اپنی نظریں اور توجہ بلا ضرورت ادھر اُدھر پھیرنے سے بچے، اور نماز کے ادب کا خیال رکھے۔

جمہور اہل علم
کے مطابق
محض توجہ
کی کمی نماز کو
باطل نہیں کرتی
تاہم اس سے اجر
و ثواب متاثر
ہوسکتا ہے

دوسری طرف جمہور اہل علم کے نزدیک نماز کی ظاہری صحت اور اس کے باطنی اجر میں فرق ہے۔ 
اگر کسی شخص نے نماز کے شرعی ارکان اور ضروری شرائط پوری کرلی ہوں، لیکن اس کا دل غفلت کا شکار رہا ہو، تو صرف اس وجہ سے وہ نماز چھوڑنے والا نہیں سمجھا جائے گا اور نہ ہی محض توجہ کی کمی پر نماز کا اعادہ لازم ہوگا۔ 
البتہ خشوع کی کمی سے نماز کے اجر اور اس کے روحانی اثرات میں نقصان ہوسکتا ہے۔
جمہور کی اس رائے کی تائید میں وہ حدیث بھی پیش کی جاتی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ شیطان دورانِ نماز انسان کو مختلف باتیں یاد دلاتا ہے، یہاں تک کہ نمازی بھول جاتا ہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔
ایسی صورت میں رسول اللہﷺ نے نماز کو نئے سرے سے پڑھنے کے بجائے سجدۂ سہو کی تعلیم دی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر قسم کی غفلت یا ذہنی انتشار نماز کو خودبخود باطل نہیں کرتا۔ البتہ نماز کے کسی رکن یا واجب کے چھوٹنے کی صورت میں اس کے الگ شرعی احکام ہیں۔اصل ضرورت یہ ہے کہ مسلمان نماز کو محض جسمانی حرکات کا مجموعہ نہ سمجھے۔

📊 نماز کا اجر کتنا ملتا ہے؟

سنن ابی داؤد کی ایک روایت میں ذکر ہے کہ بعض نمازیوں کے لیے ان کی نماز کا نصف، تہائی، چوتھائی یا اس سے بھی کم حصہ درج ہوتا ہے۔ (حدیث: 796)

اس روایت کا اہم پیغام یہ ہے کہ نماز کے ظاہری طور پر ادا ہوجانے اور اس کے پورے اجر کے حصول میں فرق ہوسکتا ہے۔

دل کی توجہ، عبادت کا شعور اور خشوع نماز کے ثواب اور روحانی اثرات سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

نماز اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے، دل کو زندہ رکھنے، برائی سے بچنے اور ایمان میں قوت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔
یہ فوائد اسی وقت بھرپور طور پر حاصل ہوتے ہیں جب نماز میں عاجزی، توجہ اور خشوع پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ 

لہٰذا نماز کے باطنی معیار کی بھی فکر کی جائے۔
خشوع میں کمی ہوجائے تو مایوس ہونے کے بجائے آئندہ نمازوں میں دل جمعی کی مشق اور اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جائے۔
یہی اس عبادت کی روح اور اس کے مقصد کو سمجھنے کا راستہ ہے۔