کیا خشوع کے بغیر نماز ادا ہوجاتی ہے یا اسے دوبارہ پڑھنا ضروری ہے؟
قرآن و حدیث نماز میں دل کی حاضری اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کی اہمیت واضح کرتے ہیں۔
اس مضمون میں خشوع کی فضیلت، نماز کے اجر پر اس کے اثرات اور فقہائے کرام کی مختلف آرا کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
دوسری طرف جمہور اہل علم کے نزدیک نماز کی ظاہری صحت اور اس کے باطنی اجر میں فرق ہے۔
اگر کسی شخص نے نماز کے شرعی ارکان اور ضروری شرائط پوری کرلی ہوں، لیکن اس کا دل غفلت کا شکار رہا ہو، تو صرف اس وجہ سے وہ نماز چھوڑنے والا نہیں سمجھا جائے گا اور نہ ہی محض توجہ کی کمی پر نماز کا اعادہ لازم ہوگا۔
البتہ خشوع کی کمی سے نماز کے اجر اور اس کے روحانی اثرات میں نقصان ہوسکتا ہے۔
جمہور کی اس رائے کی تائید میں وہ حدیث بھی پیش کی جاتی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ شیطان دورانِ نماز انسان کو مختلف باتیں یاد دلاتا ہے، یہاں تک کہ نمازی بھول جاتا ہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔
ایسی صورت میں رسول اللہﷺ نے نماز کو نئے سرے سے پڑھنے کے بجائے سجدۂ سہو کی تعلیم دی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر قسم کی غفلت یا ذہنی انتشار نماز کو خودبخود باطل نہیں کرتا۔ البتہ نماز کے کسی رکن یا واجب کے چھوٹنے کی صورت میں اس کے الگ شرعی احکام ہیں۔اصل ضرورت یہ ہے کہ مسلمان نماز کو محض جسمانی حرکات کا مجموعہ نہ سمجھے۔