’جزاک اللہ خیر‘ محض شکریہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے بہترین اجر کی دعا ہے۔
عابدہ رحمانی اپنی تحریر میں بتاتی ہیں کہ دوسروں کے ساتھ نیکی کرکے بدلے کی توقع رکھنا اکثر مایوسی اور تعلقات میں تلخی پیدا کرتا ہے۔
حقیقی سکون اسی میں ہے کہ انسان ہر بھلائی اللہ کی رضا کے لیے کرے، شکرگزاری اپنائے اور اپنے اعمال کا بہترین اجر اسی سے طلب کرے۔
ہم کسی کے ساتھ بھلائی کریں، تحفہ دیں یا مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہوں تو بدلے میں اس سے کچھ پانے کی توقع نہ رکھیں۔
ایک نیک دل بہن نے مجھے سمجھایا تھا:
ہر اچھا کام کرتے وقت دل میں کہو کہ یا اللہ، یہ تیری رضا کے لیے ہے اور اجر بھی تجھی سے چاہتی ہوں۔
اس نصیحت پر عمل آسان نہیں، مگر دل کو بہت سکون دیتا ہے۔
ہماری نانی کہا کرتی تھیں:
جو اچھا کرے اس کا بھی بھلا، جو نہ کرے اس کا بھی بھلا۔
اردو کا محاورہ ’نیکی کر، دریا میں ڈال‘ بھی یہی سبق دیتا ہے۔
دین اس سوچ کو مزید بلند کرتا ہے:
نیکی کسی دریا میں گم نہیں ہوتی، اللہ کے ہاں اس کا اجر محفوظ رہتا ہے۔