براہ راست نشریات

جزاک اللہ خیر: دنیاوی اجر سے بے نیاز کرنے والے کلمات

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Jazak Allah Khair

اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر بہترین جزا دینے والا کوئی نہیں، اسی سے اجر کی امید رکھنی چاہئے

عابدہ رحمانی

امریکہ

’جزاک اللہ خیر‘ محض شکریہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے بہترین اجر کی دعا ہے۔
عابدہ رحمانی اپنی تحریر میں بتاتی ہیں کہ دوسروں کے ساتھ نیکی کرکے بدلے کی توقع رکھنا اکثر مایوسی اور تعلقات میں تلخی پیدا کرتا ہے۔
حقیقی سکون اسی میں ہے کہ انسان ہر بھلائی اللہ کی رضا کے لیے کرے، شکرگزاری اپنائے اور اپنے اعمال کا بہترین اجر اسی سے طلب کرے۔

میں اپنے گھر کا سامان اونے پونے داموں فروخت کرتے ہوئے دل گرفتہ تھی۔ 

خریدار سستا خرید کر خوش ہوتا ہے، لیکن بیچنے والے کے دل میں کبھی کبھی کسک رہ جاتی ہے۔ 

🤲 جزاک اللہ خیر کا مطلب کیا ہے؟

معنی: ’’اللہ آپ کو بہترین جزا دے۔‘‘

اس دعا میں احسان کا بدلہ محض انسانی تعریف یا مادی فائدے تک محدود نہیں رہتا؛ معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا جاتا ہے۔

مصنفہ کے مطابق ’’جزاک اللہ خیر‘‘ کہنا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بہترین اجر دینے والا اللہ ہے۔

ترکی اور سعودی عرب سے آئے ایک خاندان نے بھی میرے گھر کی بہت سی چیزیں کم قیمت پر خرید لی تھیں۔ 

میں نے خاندان کے سربراہ کو فون کرکے کہا کہ یہ چیزیں میں نے خاصی مہنگی خریدی تھیں، اگر آپ کچھ دام بڑھا دیں تو اچھا ہوگا۔

اس نے فوراً جواب دیا: معاملہ طے ہوچکا ہے، ڈیل ہوچکی ہے، جزاک اللہ سسٹر۔

مزید پڑھیں

اس کا ’جزاک اللہ‘ میرے ذہن میں دیر تک گونجتا رہا۔ 

ہم روزمرہ زندگی میں کئی الفاظ محض عادتاً بول دیتے ہیں، ان کے معنی پر غور نہیں کرتے۔ 

لیکن اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے بہتر جزا دینے والا کوئی نہیں۔ 

دنیا کا نفع اور نقصان عارضی ہے، اصل کامیابی آخرت کی ہے۔ 

مسلمان کا ایمان اسے یہی سکھاتا ہے کہ ہر بھلائی کا بہترین اجر اپنے رب سے مانگے۔

ہماری گفتگو میں سبحان اللہ، الحمدللہ، ماشاء اللہ، بارک اللہ اور جزاک اللہ جیسے دعائیہ کلمات کتنی خوب صورتی سے شامل ہیں۔ 

📞 ایک فون کال نے سوچ کیسے بدلی؟

مصنفہ گھر کا قیمتی سامان کم قیمت پر فروخت کرکے دل گرفتہ تھیں۔ انہوں نے خریدار سے قیمت بڑھانے کی بات کی۔

خریدار نے جواب دیا: ’’معاملہ طے ہوچکا ہے، جزاک اللہ سسٹر۔‘‘

یہ مختصر دعا انہیں سوچنے پر مجبور کر گئی کہ دنیاوی نفع و نقصان عارضی ہے، اور انسان کو اصل توقع اپنے رب سے رکھنی چاہئے۔

بچپن میں ہم ’اللہ تمہارا بھلا کرے‘ یا ’خدا تمہارے ساتھ اچھا کرے‘ کہتے تھے۔ 

پھر شکریہ اور بہت بہت شکریہ کا رواج ہوا، اور انگریزی کے بڑھتے استعمال کے ساتھ ’تھینک یو‘ زبان پر چڑھ گیا۔

ہماری ایک منہ بولی امی تھیں۔ 

انہیں شکریہ کہنا گویا ناراض کرنے کے مترادف تھا۔ 

کہتیں: ’تم ہمیں اپنا نہیں سمجھتیں، اپنوں کو کون شکریہ کہتا ہے؟

مگر میں سوچتی تھی کہ شکریہ تو محبت اور قدر دانی کا اظہار ہے۔ 

اللہ تعالیٰ بھی قرآن میں بار بار شکر کی تلقین فرماتا ہے اور شکر گزار بندوں کو مزید نعمتوں کی خوش خبری دیتا ہے۔

💛 شکریہ، دعا اور دل کی شکرگزاری

کبھی ہم ’’شکریہ‘‘، ’’تھینک یو‘‘ یا ’’اللہ تمہارا بھلا کرے‘‘ کہتے ہیں۔ ہر لفظ میں قدر دانی کا جذبہ جھلک سکتا ہے۔

مصنفہ اپنی منہ بولی امی کا ذکر کرتی ہیں، جنہیں اپنوں سے شکریہ سننا اجنبیت محسوس ہوتا تھا۔

اصل نکتہ: محبت اور احسان مندی کا اظہار کریں، اور اسے اللہ سے خیر کی دعا کے ساتھ مزید خوب صورت بنائیں۔

جب ’جزاک اللہ‘ کہنا شروع کیا تو ایک عالمہ نے توجہ دلائی کہ ’جزاک اللہ خیر‘ کہا کرو، یعنی اللہ تمہیں بہترین بدلہ دے۔ 

یوں یہ دعا میری گفتگو کا حصہ بن گئی۔ 

اس کے جواب میں ’وایاکم‘، یعنی تمہیں بھی، کہنا سیکھا۔

محض شکریہ
نہیں بلکہ
اللہ سے
بہترین اجر
کی دعا ہے

ہم کسی کے ساتھ بھلائی کریں، تحفہ دیں یا مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہوں تو بدلے میں اس سے کچھ پانے کی توقع نہ رکھیں۔
ایک نیک دل بہن نے مجھے سمجھایا تھا: 
ہر اچھا کام کرتے وقت دل میں کہو کہ یا اللہ، یہ تیری رضا کے لیے ہے اور اجر بھی تجھی سے چاہتی ہوں۔
اس نصیحت پر عمل آسان نہیں، مگر دل کو بہت سکون دیتا ہے۔
ہماری نانی کہا کرتی تھیں:
جو اچھا کرے اس کا بھی بھلا، جو نہ کرے اس کا بھی بھلا۔
اردو کا محاورہ ’نیکی کر، دریا میں ڈال‘ بھی یہی سبق دیتا ہے۔
دین اس سوچ کو مزید بلند کرتا ہے:
نیکی کسی دریا میں گم نہیں ہوتی، اللہ کے ہاں اس کا اجر محفوظ رہتا ہے۔

⚖️ توقعات تعلقات کو کیسے متاثر کرتی ہیں؟

ہم کسی کی عیادت کریں تو جوابی عیادت، تحفہ دیں تو ویسے ہی تحفے اور مدد کریں تو فوری قدردانی کی امید رکھتے ہیں۔

یہ توقعات پوری نہ ہوں تو دل میں شکوے، مایوسی اور تعلقات میں تلخی پیدا ہوسکتی ہے۔

بہتر راستہ: اپنے اچھے عمل کی نیت درست رکھیں اور دوسروں کے رویّے کو اپنی نیکی کی قیمت نہ بنائیں۔

زندگی کی بہت سی تلخیاں توقعات سے جنم لیتی ہیں۔ 

ہم سوچتے ہیں کہ فلاں کی عیادت کی تھی، اس نے ہماری خیریت تک نہ پوچھی، کسی کو مہنگا تحفہ دیا، مگر جواب میں معمولی چیز ملی۔ 

ایسے حساب کتاب میں وقت بھی ضائع ہوتا ہے اور تعلقات میں تلخی بھی بڑھتی ہے۔ 

میں نے ایک دوست کو دیکھا جو شادی بیاہ کے تحفوں پر اپنا نام تک نہیں لکھتی تھیں۔

زندگی میں مختلف مزاج کے لوگوں سے واسطہ پڑا۔ 

کچھ بے لوث، مخلص اور مہربان تھے، کچھ خود غرض اور دوسروں کو تکلیف دینے والے۔ 

کچھ سے مل کر سکون ملتا تھا، کچھ کی باتیں دل پر بوجھ بن جاتی تھیں۔ 

🌱 نیکی کر، دریا میں ڈال — اصل سبق

مصنفہ اپنی نانی کی بات یاد کرتی ہیں: ’’جو اچھا کرے اس کا بھی بھلا، جو نہ کرے اس کا بھی بھلا۔‘‘

اردو کا محاورہ ’’نیکی کر، دریا میں ڈال‘‘ بھی بے لوث خدمت سکھاتا ہے۔

مضمون اس میں ایک دینی پہلو شامل کرتا ہے: نیکی انسان سے بھول سکتی ہے، مگر اللہ کے ہاں اس کے اجر کی امید رکھی جا سکتی ہے۔

جس نے مشکل میں ساتھ دیا، اسے بھی ’جزاک اللہ خیر‘ اور جس نے دکھ پہنچایا، اس کے معاملے میں بھی دل کو انتقام اور حساب کتاب سے آزاد رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

کینیڈا اور پھر امریکہ آکر مجھے دوبارہ ان بہنوں کی صحبت نصیب ہوئی جو دین کی خدمت اور علم کی اشاعت میں مصروف تھیں۔ 

مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے علما اور داعیات نئے ذرائع سے لوگوں تک دینی تعلیم پہنچا رہے ہیں۔ 

🎁 بے نام تحفہ — اخلاص کی مثال

مصنفہ ایک ایسی دوست کا ذکر کرتی ہیں جو شادی بیاہ میں تحفہ دیتے وقت اپنا نام ظاہر نہیں کرتی تھیں۔

یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ کبھی کسی کو خوشی دینا ہی کافی ہوتا ہے؛ اس کے بدلے شہرت، تعریف یا جواباً تحفے کی طلب ضروری نہیں۔

غور طلب سوال: کیا ہم نیکی صرف اس وقت کرتے ہیں جب کوئی دیکھ رہا ہو؟

آن لائن کلاسوں اور نشستوں نے دور بیٹھے افراد کو بھی ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے۔ 

اس ماحول میں مجھے پھر یاد آیا کہ حقیقی اطمینان اللہ کی یاد اور صالح صحبت سے حاصل ہوتا ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے: 

اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ (آل عمران: 103)

ان تمام بہنوں اور بھائیوں کے لیے، جو کسی صلے یا ستائش کی پروا کئے بغیر دوسروں کی بھلائی اور دین کی خدمت میں لگے ہیں، میرے دل سے یہی دعا نکلتی ہے:

جزاک اللہ خیر، جزاک اللہ خیراً کثیراً۔

📖 صالح صحبت اور اللہ کی یاد

کینیڈا اور امریکہ میں قیام کے دوران مصنفہ کو دینی سرگرمیوں سے وابستہ خواتین کی صحبت دوبارہ میسر آئی۔

آن لائن کلاسوں اور علمی نشستوں نے مختلف جگہوں پر رہنے والے افراد کو دینی تعلیم اور باہمی خیرخواہی سے جوڑے رکھا۔

مضمون میں آل عمران: 103 کی روشنی میں اتحاد، اللہ کی رسی مضبوطی سے تھامنے اور صالح صحبت کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے