براہ راست نشریات

سعودی عرب میں بجلی اور پانی مہنگا، جنوری سے بل کتنا بڑھے گا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

سعودی عرب میں یکم جنوری 2027 سے بجلی، پانی اور سیوریج کے نئے نرخ نافذ ہوں گے۔
بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کے ساتھ مقررہ ماہانہ چارجز بھی ہوں گے۔
نئے نظام سے غیر ملکی خاندانوں کے گھریلو اخراجات بڑھنے کا امکان ہے۔

سعودی عرب میں یکم جنوری 2027 سے بجلی، پانی اور سیوریج کے نئے نرخ نافذ کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ 

نئے نظام کے تحت صارفین کو استعمال شدہ بجلی اور پانی کی قیمت کے علاوہ مقررہ ماہانہ چارجز بھی ادا کرنا ہوں گے۔ 

اس فیصلے سے مملکت میں مقیم پاکستانیوں سمیت لاکھوں غیر ملکی خاندانوں کے گھریلو اخراجات متاثر ہونے کا امکان ہے۔

⚡ بجلی کے نئے فی یونٹ نرخ

پہلے 6,000 یونٹ ماہانہ: 21 ہلالہ فی کلوواٹ گھنٹہ (پہلے 18 ہلالہ)۔

6,000 یونٹ سے زیادہ: اضافی استعمال کے لیے 33 ہلالہ فی یونٹ (پہلے 30 ہلالہ)۔

دونوں سلیب میں 3 ہلالہ فی یونٹ اضافہ کیا گیا ہے؛ پہلے سلیب میں تقریباً 16.7 فیصد اضافہ بنتا ہے۔

یہ قیمتیں صرف استعمال کی ہیں؛ ماہانہ مقررہ چارج اور ٹیکس الگ ہوں گے۔

سعودی انرجی کمپنی اور نیشنل واٹر کمپنی نے اتوار 25 اکتوبر کو نئی قیمتوں کی تفصیلات جاری کیں۔ 

دوسری جانب اہل سعودی شہریوں کے لیے ماہانہ 500 ریال اضافی مالی معاونت کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں

بجلی کے نئے نرخ کیا ہیں؟

سعودی انرجی کمپنی کے مطابق گھریلو صارفین کے لیے ماہانہ پہلے 6 ہزار یونٹ بجلی کی قیمت 18 سے بڑھا کر 21 ہلالہ فی یونٹ کردی گئی ہے، جبکہ 6 ہزار یونٹ سے زیادہ اضافی استعمال کی قیمت 30 سے بڑھ کر 33 ہلالہ ہوگی۔

اس طرح پہلے سلیب میں تقریباً 16.7 فیصد اور دوسرے میں 10 فیصد 

اضافہ ہوا ہے۔

بجلی کے بل میں مقررہ ماہانہ چارج بھی شامل ہوگا، جس کا انحصار میٹر کے منظورشدہ بریکر کی گنجائش پر ہوگا۔

  • 20 سے 100 ایمپیئر سے کم: 70 ریال

  • 100 سے 200 ایمپیئر سے کم: 80 ریال

  • 200 سے 300 ایمپیئر سے کم: 90 ریال

  • 300 ایمپیئر یا زیادہ: 100 ریال

یہ چارج موجودہ میٹر ریڈنگ اور دیکھ بھال کی مقررہ فیس کی جگہ لے گا۔

🔌 بجلی کا مقررہ ماہانہ چارج

نیا مقررہ چارج میٹر کے منظورشدہ بریکر کی گنجائش پر منحصر ہوگا:

20 سے 100 ایمپیئر سے کم: 70 ریال ماہانہ

100 سے 200 ایمپیئر سے کم: 80 ریال

200 سے 300 ایمپیئر سے کم: 90 ریال

300 ایمپیئر یا زیادہ: 100 ریال

یہ چارج سابقہ میٹر ریڈنگ، دیکھ بھال اور بل بنانے کی مقررہ فیس کی جگہ لے گا۔

ایک ہزار یونٹ بجلی کا بل کتنا ہوگا؟

اگر کسی گھر میں ماہانہ ایک ہزار یونٹ بجلی استعمال ہوتی ہے تو نئے نرخ کے مطابق استعمال کی قیمت 210 ریال بنے گی۔

اگر بریکر کی گنجائش 100 ایمپیئر سے کم ہے تو 70 ریال مقررہ چارج شامل کرکے مجموعی بل 280 ریال ہوگا، ٹیکس کے بغیر۔

اسی طرح تین ہزار یونٹ استعمال کرنے والے گھر کی بجلی کی قیمت 630 ریال ہوگی، جس میں مقررہ چارج الگ شامل کیا جائے گا۔

پانی کے نرخوں میں کیا تبدیلی آئی؟

نیشنل واٹر کمپنی نے پانی کے پانچ پرانے سلیب ختم کرکے چار نئے سلیب متعارف کرائے ہیں۔

پہلے 15 مکعب میٹر پانی کی قیمت 10 ہلالہ سے بڑھ کر ایک ریال فی مکعب میٹر ہوگئی ہے۔

🧮 ایک ہزار یونٹ بجلی: بل کی مثال

فرض کریں گھر ماہانہ 1,000 یونٹ بجلی استعمال کرتا ہے اور اس کا منظورشدہ بریکر 100 ایمپیئر سے کم ہے۔

استعمال کی قیمت: 1,000 × 0.21 = 210 ریال

ماہانہ مقررہ چارج: 70 ریال

مجموعی بل: 280 ریال (ٹیکس سے پہلے)

پرانے نرخ پر اتنے استعمال کی قیمت 180 ریال تھی، مگر مکمل پرانے اور نئے بل کا موازنہ کرنے میں دونوں نظاموں کی متعلقہ فیس بھی دیکھنا ہوگی۔

اگلے 15 مکعب میٹر کی قیمت دو ریال، 30 سے 45 مکعب میٹر کے اضافی استعمال پر چار ریال جبکہ 45 مکعب میٹر سے زیادہ استعمال پر چھ ریال فی مکعب میٹر وصول کئے جائیں گے۔

سیوریج کی قیمت پانی کے متعلقہ سلیب کی نصف ہوگی۔ 

اس طرح پانی اور سیوریج کی مجموعی قیمت مختلف سلیب میں ڈیڑھ، 3، 6 اور 9 ریال فی مکعب میٹر ہوگی۔

پانی کے بل میں مقررہ فیس

نئے نظام کے تحت میٹر کے قطر کے مطابق ماہانہ مقررہ چارج بھی وصول کیا جائے گا۔

20 ملی میٹر تک کے میٹر کے لیے پانی کے 20 اور سیوریج کے 10 ریال، یعنی مجموعی طور پر 30 ریال ماہانہ مقرر کئے گئے ہیں۔

💧 پانی کے چار نئے سلیب

گھریلو پانی کی قیمت استعمال کی مقدار کے مطابق ہوگی:

0 تا 15 مکعب میٹر: 1 ریال فی مکعب میٹر

15 سے زیادہ تا 30: اضافی پانی پر 2 ریال

30 سے زیادہ تا 45: اضافی پانی پر 4 ریال

45 سے زیادہ: اضافی پانی پر 6 ریال

یاد رہے، یہ تدریجی سلیب ہیں: زیادہ استعمال سے پہلے سلیب کے پانی کی قیمت تبدیل نہیں ہوتی۔

بڑے میٹروں پر مجموعی چارج 60 سے 150 ریال تک ہوسکتا ہے۔ 

ہر اضافی رہائشی یونٹ کے لیے بھی الگ چارجز لاگو ہوسکتے ہیں۔

30 مکعب میٹر پانی استعمال کرنے والا گھر

اگر کوئی خاندان ماہانہ 30 مکعب میٹر پانی استعمال کرتا ہے تو پہلے 15 مکعب میٹر پر پانی اور سیوریج کی مجموعی قیمت 22.50 ریال اور اگلے 15 پر 45 ریال ہوگی۔

اس طرح استعمال کا بل 67.50 ریال جبکہ چھوٹے میٹر کا 30 ریال مقررہ چارج شامل کرنے کے بعد مجموعی رقم 97.50 ریال ہوگی، ٹیکس کے بغیر۔

🚰 سیوریج اور پانی کے میٹر کی فیس

جہاں سیوریج سروس دستیاب ہو، ہر سلیب میں اس کی قیمت پانی کی قیمت کا نصف ہوگی۔

پانی + سیوریج کی مجموعی فی مکعب میٹر قیمت چار سلیب میں بالترتیب 1.5، 3، 6 اور 9 ریال بنتی ہے۔

20 ملی میٹر تک کے میٹر: پانی 20 + سیوریج 10 = 30 ریال ماہانہ مقررہ چارج۔

21–40 ملی میٹر: 60 ریال؛ 41–65 ملی میٹر: 90 ریال؛ اس سے بڑے میٹروں پر 120 یا 150 ریال۔

ہر اضافی رہائشی یونٹ کے لیے مزید 30 ریال مقررہ چارج بھی لاگو ہوسکتا ہے۔

پاکستانی خاندانوں پر کتنا بوجھ پڑے گا؟

نئے نرخوں کے اثرات کو سمجھنے کے لیے ایک ایسے گھر کی مثال لیتے ہیں جہاں بجلی کا بریکر 100 ایمپیئر سے کم اور پانی کا میٹر 20 ملی میٹر تک ہے۔

اگر گھر میں ماہانہ ایک ہزار یونٹ بجلی اور 30 مکعب میٹر پانی استعمال ہو تو دونوں بلوں کی مجموعی رقم 377.50 ریال ہوگی۔

📊 30 مکعب میٹر پانی کا حساب

اگر گھر ماہانہ 30 مکعب میٹر پانی استعمال کرے اور سیوریج سروس بھی موجود ہو:

پہلے 15 مکعب میٹر: 15 × 1.5 = 22.50 ریال

اگلے 15 مکعب میٹر: 15 × 3 = 45 ریال

پانی اور سیوریج کے استعمال کی قیمت: 67.50 ریال

20 ملی میٹر تک میٹر کی مقررہ فیس: 30 ریال

مجموعی بل: 97.50 ریال (ٹیکس سے پہلے)

دو ہزار یونٹ بجلی پر یہ رقم 587.50 ریال جبکہ تین ہزار یونٹ پر 797.50 ریال ہوسکتی ہے، بشرطیکہ پانی کا استعمال یکساں رہے۔

یہ حساب ٹیکس کے بغیر ہے۔ 

حقیقی بل کا انحصار استعمال، میٹر کی گنجائش اور دستیاب خدمات پر ہوگا۔

مشترکہ عمارتوں میں رہنے والے پاکستانی کرایہ داروں کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ مالک مکان مقررہ چارجز اور استعمال کی رقم کس بنیاد پر تقسیم کرے گا۔

سعودی شہریوں کو 500 ریال اضافی امداد

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اہل سعودی سرکاری ملازمین، فوجیوں، پنشن یافتگان اور سوشل سیکیورٹی سے مستفید خاندانوں کے لیے ماہانہ 500 ریال اضافی معاونت کی منظوری دی ہے۔

اعلان میں غیر ملکی رہائشیوں کو اس مالی معاونت کا عمومی مستحق قرار نہیں دیا گیا۔ 

اس لیے پاکستانی خاندانوں کو ممکنہ اضافی اخراجات اپنے بجٹ سے پورے کرنا ہوں گے۔

🏠 پاکستانی خاندان کا مشترکہ ماہانہ بل

فرضی گھر: بجلی کا بریکر 100 ایمپیئر سے کم، پانی کا میٹر 20 ملی میٹر تک، اور 30 مکعب میٹر پانی ماہانہ۔

1,000 یونٹ بجلی: 280 ریال + پانی 97.50 = 377.50 ریال

2,000 یونٹ بجلی: 490 ریال + پانی 97.50 = 587.50 ریال

3,000 یونٹ بجلی: 700 ریال + پانی 97.50 = 797.50 ریال

یہ صرف حسابی مثالیں ہیں، ٹیکس کے بغیر۔ حقیقی بل استعمال، میٹر اور خدمات کے مطابق مختلف ہوگا۔

نئے نرخ کب نافذ ہوں گے؟

بجلی اور پانی کے نئے نرخ یکم جنوری 2027 سے نافذ ہوں گے۔ جن بلوں میں دسمبر اور جنوری دونوں کی کھپت شامل ہوگی، ان میں متعلقہ تاریخوں کے مطابق پرانے اور نئے نرخ لاگو ہوسکتے ہیں۔

صارفین بجلی کے میٹر کی گنجائش سعودی انرجی ایپ سے معلوم کرسکتے ہیں جبکہ پانی سے متعلق معلومات کے لیے نیشنل واٹر کمپنی سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

اہم بات: 

نئے نظام میں مقررہ ماہانہ چارجز گھریلو بجٹ کا مستقل حصہ ہوں گے۔ 

پاکستانی خاندانوں کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ ایئرکنڈیشنر اور پانی کے استعمال پر نظر رکھیں اور جنوری سے پہلے اپنے ممکنہ اخراجات کا تخمینہ تیار کریں۔

🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ

اخبار سبق — بجلی کے نئے نرخ
اصل خبر کھولیں

اخبار سبق — پانی اور سیوریج کے نئے نرخ
اصل خبر کھولیں

سعودی انرجی / السعودية للطاقة
اصل خبر کھولیں

نیشنل واٹر کمپنی
اصل خبر کھولیں

حسابی مثالیں اعلان کردہ نرخوں سے اخذ کی گئی ہیں؛ ان میں ٹیکس شامل نہیں۔