براہ راست نشریات

حجت کس طرح قائم ہوتی ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Establishing the Truth in Islam

سید جلال الدین عمری کا فکری مضمون، جس میں قرآن کی روشنی میں بتایا گیا ہے کہ انبیائے کرام نے توحید کو دلائل کے ساتھ پیش کیا اور شرک کی فکری بنیادوں کو چیلنج کیا۔
مصنف کے نزدیک آج بھی اسلام کی مؤثر دعوت کے لیے جدید نظریات کا سنجیدہ علمی مطالعہ اور مدلل جواب ضروری ہے۔

سید جلال الدین عمریؒ

انڈیا

ہر نظام کی کچھ فکری بنیادیں ہوتی ہیں جن پر اس کا تہذیبی اور سیاسی ڈھانچہ قائم ہوتا ہے۔ کسی نظام کی تبدیلی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کی فکری بنیادوں کی کمزوری واضح نہ ہو۔ 

اللہ تعالیٰ کے رسول جن قوموں میں مبعوث ہوئے، ان کی زندگی کا بڑا حصہ شرک پر مبنی تصورات اور روایات کے زیرِ اثر تھا۔ 

عبادات، معاشرت اور اجتماعی نظام میں دیویوں اور دیوتاؤں کا تصور رچا بسا تھا۔

🧠 حجت قائم کرنے کا مفہوم کیا ہے؟

حجت: کسی مسئلے میں ایسی واضح اور مدلل بات پیش کرنا جس سے حق و باطل کا فرق سمجھنے کی راہ کھل جائے۔

انبیائے کرام نے محض دعوے نہیں کیے، بلکہ مخاطب انسان کی عقل، فطرت، مشاہدے اور تاریخ سے خطاب کیا۔

اس طریقے میں زور زبردستی کے بجائے دلیل کی قوت اور مخاطب کو سوچنے کا موقع دینا نمایاں ہے۔

ان قوموں کے لوگ بے عقل یا دنیا کے معاملات سے ناآشنا نہیں تھے۔ 

ان کے پاس علوم، فلسفے اور اپنے عقائد کی توجیہات موجود تھیں۔ 

وہ دنیاوی امور میں زیرک تھے، مگر اپنے مذہبی تصورات کی بنیادی خرابی کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ 

مزید پڑھیں

اللہ کے رسولوں نے انہیں محض جذباتی نعروں سے نہیں، بلکہ واضح دلائل اور بینات کے ذریعے مخاطب کیا۔ 

انہوں نے ان کے فکری تضادات اور عملی خرابیوں کی نشان دہی کی اور اصلاح کی دعوت دی۔

پیغمبروں کی دعوت کا مرکزی نکتہ توحید تھا۔ 

انہوں نے شرک کی تردید اس قوت سے کی کہ مخالفین کے پاس اپنے 

عقائد کے دفاع میں کوئی مضبوط حجت باقی نہ رہی۔ 

وہ انسان کی عقل اور فطرت سے خطاب کرتے، زمین و آسمان کی نشانیوں کی طرف متوجہ کرتے اور تاریخ سے عبرت کے اسباق پیش کرتے تھے۔ 

🏛️ قدیم قومیں اپنے عقائد پر کیوں قائم رہیں؟

شرک پر قائم معاشروں کے پاس اپنے رسوم و رواج، آبائی روایات اور مذہبی تصورات کے حق میں مختلف توجیہات موجود تھیں۔

وہ دنیاوی معاملات میں زیرک تھے، مگر موروثی تصورات کا تنقیدی جائزہ لینے سے گریز کرتے تھے۔

اہم نکتہ: دنیوی ترقی، علمی مہارت یا سماجی طاقت خودبخود کسی عقیدے کے درست ہونے کی دلیل نہیں بنتی۔

ان کا مقصد یہ تھا کہ انسان دلیل کی روشنی میں، حق اور باطل میں فیصلہ کرے۔

قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے: 

جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارتا ہے، جس کے لیے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں، اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہے۔ (المومنون: 117) 

ایک اور مقام پر چیلنج دیا گیا: 

کہہ دو، اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔ (النمل: 64)

قرآن واضح کرتا ہے کہ کائنات کا نظام توحید کی شہادت دیتا ہے، جبکہ شرک محض ظن و گمان پر قائم ہے۔ 

سورۂ یونس میں ارشاد ہے کہ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارنے والے حقیقت میں گمان کی پیروی کرتے ہیں اور محض قیاس آرائی کرتے ہیں۔ (یونس: 66)

یوں پیغمبروں نے شرک کی ان فکری بنیادوں کو ایک ایک کر کے بے نقاب کیا جن پر پرانے عقائد اور معاشرتی روایات استوار تھیں۔

📖 قرآن کس نوعیت کی دلیل مانگتا ہے؟

المؤمنون، 117: اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارنے کے لیے کوئی دلیل نہیں؛ حساب اللہ کے پاس ہے۔

النمل، 64: حق کے دعوے کے لیے دلیل پیش کرنے کا چیلنج دیا گیا ہے۔

یونس، 66: اللہ کے سوا شریک پکارنے والوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ وہ گمان کی پیروی کرتے ہیں۔

مرکزی سبق: قرآن عقائد کے معاملے میں بے دلیل تقلید کے بجائے غور و فکر اور واضح حجت کی دعوت دیتا ہے۔

تاہم دلیل واضح ہو جانے کے بعد بھی بعض قوموں نے ضد کے باعث حق قبول نہیں کیا۔ 

انہوں نے پیغمبروں کی تعلیمات کو حقارت سے ٹھکرایا اور ان کا مذاق اڑایا۔ 

قرآن بتاتا ہے کہ جب رسول واضح نشانیاں لے کر آئے تو بعض لوگ اپنے پاس موجود علم ہی پر نازاں رہے، یہاں تک کہ وہ اسی انجام سے دوچار ہوئے جس کا مذاق اڑاتے تھے۔ (غافر: 83)

عاد اور ثمود کی قومیں اپنے زمانے میں طاقت اور تہذیبی شان رکھتی تھیں۔ 

انہیں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ملی تھی، لیکن انہوں نے اس صلاحیت کو حق کی تلاش میں استعمال نہ کیا۔ 

ان کی آنکھیں، کان اور دل انہیں تباہی سے نہ بچا سکے، کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے رہے۔ 

قرآن اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے انسان کو متنبہ کرتا ہے کہ ظاہری ترقی اور علم، صحیح فکری رہنمائی کے بغیر نجات کی ضمانت نہیں۔ (الاحقاف: 26)

⚠️ عاد و ثمود کے انجام سے کیا سبق ملتا ہے؟

عاد اور ثمود جیسی قوموں کو اپنے زمانے میں قوت، وسائل اور تہذیبی ترقی حاصل تھی۔

لیکن جب انہوں نے رسولوں کی تعلیمات کو حقارت سے رد کیا تو ان کی ظاہری طاقت انہیں انجام سے نہ بچا سکی۔

غافر، 83: بعض قومیں اپنے پاس موجود علم پر نازاں رہیں اور رسولوں کی تنبیہ کا مذاق اڑاتی رہیں۔

الاحقاف، 26: آنکھیں، کان اور دل ہونے کے باوجود آیات کا انکار انہیں فائدہ نہ دے سکا۔

پیغمبروں کا یہ طرزِ عمل آج کے دور میں بھی اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ 

اگر اسلام کو ایک جامع اور مؤثر متبادل نظامِ فکر کے طور پر پیش کرنا ہے تو ضروری ہے کہ موجودہ نظریات، ان کی بنیادوں اور ان کے نتائج کا سنجیدہ علمی جائزہ لیا جائے۔ 

کسی مقبول تصور کو محض الفاظ کے زور پر غلط یا ظن و تخمین کی پیداوار قرار دینا کافی نہیں۔ 

اس کے لیے متعلقہ علوم، فلسفوں اور معاصر فکری مباحث کو سمجھنا اور ان کے دعووں کا مدلل جواب دینا ہوگا۔

اس میدان میں اہلِ علم اور دینی حلقوں کی کوششیں قابلِ قدر ہیں، لیکن منزل ابھی دور ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر علمی میدان میں مسلسل سنجیدہ تحقیق، گہری بصیرت اور مضبوط استدلال کے ساتھ اسلام کی تعلیمات سامنے لائی جائیں۔ 

جب جدید انسان کے سوالات کا اطمینان بخش جواب دیا جائے گا، تب اسلام کی فکری دعوت زیادہ مؤثر ہوگی اور دنیا کے سامنے اس کی حجت پوری قوت کے ساتھ پیش کی جا سکے گی۔

🔎 علم اور دلیل میں کیا فرق ہے؟

کسی قوم یا فرد کا بہت سے علوم جاننا اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس کے تمام بنیادی تصورات درست بھی ہوں گے۔

دلیل کی قوت اس میں ہے کہ وہ دعوے کی بنیاد اور اس کے نتائج کو واضح کرے، سوالات کا جواب دے اور غور و فکر کی راہ کھولے۔

مصنف کے نزدیک جذباتی انکار یا محض بلند آہنگ الفاظ کسی پختہ فکری نظریے کی علمی تردید کا متبادل نہیں۔