براہ راست نشریات

جزیرے پر انسانوں سے زیادہ کچھوے، تعداد ایک لاکھ 80 ہزار سے تجاوز!

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Aldabra Giant Tortoises

سیشلز کے الڈابرا جزائر میں دیوہیکل کچھوؤں کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار سے تجاوز کرگئی، جو ملک کی انسانی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔
کبھی معدومی کے خطرے سے دوچار ان جانوروں کی حیرت انگیز واپسی قدرتی تحفظ کی بڑی کامیابی ہے، تاہم موسمیاتی تبدیلی اور دیگر خطرات اب بھی ان کے مستقبل کے لیے چیلنج ہیں۔

تصور کیجئے ایک ایسے جزیرے کا جہاں سڑکوں پر گاڑیوں کا شور نہیں، بڑے شہر نہیں، اور انسانوں کے مقابلے میں دیوہیکل کچھوؤں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ 

گھاس کے میدانوں، جھاڑیوں اور ساحلی راستوں پر یہ جانور اپنی مخصوص سست رفتار سے گھومتے پھرتے ہیں۔ 

بحرِ ہند میں واقع سیشلز کے الڈابرا جزائر قدرت کا ایسا ہی حیرت انگیز منظر پیش کرتے ہیں۔

📊 حیرت انگیز اعداد — کچھوؤں کی سلطنت

تقریباً 1 لاکھ 83 ہزار: موجودہ بہترین تخمینہ، بالغ اور نسبتاً کم عمر کچھوؤں کا۔

تقریباً 1 لاکھ: 1990 کی دہائی کے آخر میں عام طور پر بتایا جانے والا تخمینہ۔

ایک ہزار سے کم: انیسویں صدی میں شدید شکار کے بعد باقی رہ جانے والے کچھوے۔

2018 تا 2022: نئی تحقیق میں استعمال کئے گئے نگرانی کے اعدادوشمار کی مدت۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف ایکسیٹر اور سیشلز آئی لینڈز فاؤنڈیشن کی مشترکہ تحقیق کے مطابق یہاں دیوہیکل کچھوؤں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار سے زیادہ ہے۔ 

سائنسی تخمینے میں یہ تعداد تقریباً ایک لاکھ 83 ہزار بتائی گئی ہے، جو پورے سیشلز کی انسانی آبادی سے زیادہ ہے۔ 

یہ دنیا میں آزادانہ زندگی گزارنے والے الڈابرا دیوہیکل کچھوؤں کی سب سے بڑی آبادی سمجھی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں

معدومی کے خطرے سے حیرت انگیز واپسی

یہ تعداد اس لیے بھی غیرمعمولی ہے کہ کبھی انہی کچھوؤں کا وجود خطرے میں پڑ گیا تھا۔ 

19ویں صدی میں انسانوں کی جانب سے شکار اور دوسری سرگرمیوں کے باعث ان کی آبادی ایک ہزار سے بھی کم رہ جانے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ 

ان حالات میں ان جانوروں کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دیتا تھا۔ 

وقت کے ساتھ تحفظ کی کوششوں نے صورتِ حال بدل دی۔ الڈابرا میں انسانی مداخلت محدود کی گئی، قدرتی ماحول محفوظ بنایا گیا اور جانوروں کی نگرانی شروع ہوئی۔ 

🏝️ انسان کم، کچھوے زیادہ — یہ جگہ کہاں ہے؟

الڈابرا بحرِ ہند میں واقع ملک سیشلز کا دور افتادہ مرجانی جزیرہ نما ہے۔ اس میں چار بڑے مرجانی جزیرے اور ان کے درمیان سمندری جھیل موجود ہے۔

الڈابرا تک رسائی مشکل اور انسانی سرگرمیاں محدود ہیں، اسی لیے یہاں جانور قدرتی ماحول میں نسبتاً آزاد رہتے ہیں۔

یہ دنیا میں دیوہیکل کچھوؤں کی قدرتی، آزادانہ رہنے والی سب سے بڑی آبادی کا مسکن ہے۔

1982 میں یونیسکو نے اس علاقے کو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا۔ 

اس فیصلے نے علاقے کی بین الاقوامی اہمیت اجاگر کی اور تحفظ کے اقدامات کو مزید مضبوط بنانے میں مدد دی۔

کیا واقعی تعداد دگنی ہوگئی؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ 1999 میں یہاں کچھوؤں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ بتائی گئی تھی۔ 

نئے تخمینے سے یوں محسوس ہوسکتا ہے کہ آبادی تقریباً دگنی ہوگئی، لیکن سائنس دان اسے اتنا سادہ معاملہ نہیں سمجھتے۔

🌱 معدومی کے قریب سے واپسی کیسے ہوئی؟

انیسویں صدی میں بڑے پیمانے پر شکار سے الڈابرا کے دیوہیکل کچھوؤں کی آبادی ایک ہزار سے بھی کم رہ گئی تھی۔

1981: الڈابرا کو سخت ضابطوں والا محفوظ قدرتی علاقہ قرار دیا گیا۔

1982: یونیسکو نے الڈابرا کو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا۔

مسلسل تحفظ، محدود انسانی مداخلت اور سائنسی نگرانی نے آبادی کی بقا میں اہم کردار ادا کیا۔

پرانے سروے میں گھنی جھاڑیوں، دور دراز حصوں اور سایہ دار جگہوں پر موجود کئی جانور نظروں سے اوجھل رہ سکتے تھے۔ 

نئی تحقیق میں ایسے شماریاتی طریقے اپنائے گئے جن سے نظر آنے اور چھپے رہنے والے کچھوؤں کا بہتر اندازہ ممکن ہوا۔ 

اس لیے ایک لاکھ 83 ہزار کا عدد ہر جانور کی الگ گنتی نہیں بلکہ دستیاب شواہد پر مبنی تخمینہ ہے۔ اس تحقیق کے لیے کئی برس کے مشاہدات استعمال کیے گئے۔

یہ کچھوے ماحول کے محافظ کیسے ہیں؟

الڈابرا چار بڑے مرجانی جزیروں پر مشتمل علاقہ ہے۔ 

یہاں مستقل انسانی موجودگی بہت محدود ہے اور زیادہ تر تحقیق یا قدرتی تحفظ سے وابستہ افراد ہی آتے جاتے ہیں۔ 

اسی نسبتاً محفوظ ماحول میں کچھوے آزادانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ یہاں انسانی آمدورفت محدود رکھنے سے کچھوؤں کی قدرتی رہائش گاہیں بھی محفوظ رہتی ہیں۔

🔍 کیا کچھوؤں کی تعداد واقعی دگنی ہوگئی؟

پہلے تخمینے میں تقریباً ایک لاکھ اور نئی تحقیق میں تقریباً ایک لاکھ 83 ہزار کچھوے سامنے آئے؛ لیکن اس کا مطلب یہ لازماً نہیں کہ اتنے ہی عرصے میں آبادی تقریباً دگنی ہوگئی۔

پرانے سروے میں جھاڑیوں یا سائے میں چھپے جانور اکثر نظروں سے اوجھل رہتے تھے۔

نئے شماریاتی ماڈل نے نظر نہ آنے والے جانوروں کو بھی تخمینے میں شامل کیا، اس لیے نئی گنتی زیادہ جامع ہے۔

یہ دیوہیکل جانور گھاس اور پودے کھاتے ہیں اور اپنے چلنے پھرنے اور خوراک کی عادات سے مقامی نباتات پر اثر ڈالتے ہیں۔ ان کا کردار محض دلچسپ سیاحتی منظر تک محدود نہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ نباتاتی توازن اور قدرتی نظام کے لیے بھی اہم ہیں۔

محققین نے دیکھا کہ گھاس کے کھلے میدان کچھوؤں کی پسندیدہ جگہوں میں شامل ہیں۔ 

تیز گرمی کے دوران وہ جھاڑیوں اور دوسرے سایہ دار مقامات میں پناہ لیتے ہیں۔ 

یہی عادت انہیں گننے کے عمل کو مشکل بناتی ہے، کیونکہ ایک ہی علاقے میں کئی جانور بظاہر موجود نہیں دکھائی دیتے۔

کامیابی کے باوجود نئے خطرات

کچھوؤں کی بڑی تعداد خوش آئند ضرور ہے، لیکن ان کا مستقبل مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی گرمی اور خشک سالی خوراک اور پانی کی دستیابی پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ 

سمندر کی سطح بلند ہونے سے نشیبی ساحلی علاقوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

🌿 کچھوے کہاں رہنا پسند کرتے ہیں؟

محققین کے مطابق دیوہیکل کچھوؤں کی سب سے زیادہ کثافت کھلے گھاس کے میدانوں میں پائی گئی۔

اس کے بعد کھلے پتھریلے میدانوں اور کم گھنی جھاڑیوں والے علاقوں میں ان کی موجودگی زیادہ تھی۔

گھنی جھاڑیوں اور سایہ دار مقامات پر یہ آسانی سے نظر نہیں آتے، اسی لیے ان کی سائنسی گنتی مشکل ہوتی ہے۔

دوسری طرف باہر سے پہنچنے والے بعض جانور الڈابرا کے قدرتی توازن کے لیے خطرہ ہیں۔ جنگلی بلیاں اور چوہے کچھوؤں کے انڈوں اور بچوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ 

اسی لیے ماہرین نگرانی، تحقیق اور غیرمقامی جانوروں پر قابو پانے کو مسلسل ضروری قرار دیتے ہیں۔

دنیا کے لیے ایک سبق

الڈابرا کے کچھوؤں کی کہانی یہ بتاتی ہے کہ قدرت کو مناسب تحفظ اور وقت ملے تو شدید خطرات سے دوچار جانوروں کے لیے بھی نئی امید پیدا ہوسکتی ہے۔ 

تاہم بڑی آبادی کا مطلب یہ نہیں کہ تحفظ کی ضرورت ختم ہوگئی۔

🐢 ماحول میں ان کا کردار اتنا اہم کیوں؟

دیوہیکل کچھوے الڈابرا کے ماحولیاتی نظام میں بڑے سبزی خور جانور ہیں۔

یہ گھاس اور جھاڑیاں کھاتے ہیں اور اپنی خوراک اور نقل و حرکت سے مقامی نباتات کی ساخت پر اثر ڈالتے ہیں۔

الڈابرا کی غیرمعمولی خاصیت یہ ہے کہ یہاں ماحولیاتی نظام پر بڑے گوشت خور کے بجائے ایک سبزی خور جانور کا نمایاں اثر ہے۔

اس جزیرے میں ہزاروں کچھوؤں کا بے خوف گھومنا صرف ایک حیرت انگیز منظر نہیں، بلکہ برسوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ 

فطرت کی یہ خاموش کامیابی یاد دلاتی ہے کہ انسان اگر ماحول کو نقصان پہنچانے کے بجائے اس کی حفاظت کرے تو آنے والی نسلیں بھی ایسے منفرد جانوروں کو اپنی اصل دنیا میں دیکھ سکیں گی۔

🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ

University of Exeter — 7 اکتوبر 2026
اصل تحقیق کے نتائج اور ایک لاکھ 83 ہزار کا تخمینہ
اصل رپورٹ کھولیں


Ecology and Evolution — تحقیقی مقالہ
سائنسی طریقۂ کار اور آبادی کے تخمینے کی تفصیل
اصل رپورٹ کھولیں


UNESCO World Heritage Centre
الڈابرا کا قدرتی ورثہ، ماحول اور تحفظ
اصل رپورٹ کھولیں


Seychelles News Agency — 9 اکتوبر 2026
سیشلز سے شائع ہونے والی مقامی خبر
اصل رپورٹ کھولیں