جرمن سائنس دانوں نے 80 سالہ شخص کے خون سے حاصل کردہ خلیات کو اعصابی اسٹیم سیلز میں تبدیل کرکے ان کی سالماتی عمر 20 سال سے کم ریکارڈ کی۔
یہ دریافت مستقبل میں الزائمر اور بڑھاپے سے متعلق تحقیق کے نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے، مگر ابھی انسانی علاج نہیں۔
عمر بڑھنا الزائمر اور دوسری اعصابی بیماریوں کے بڑے خطراتی عوامل میں شامل ہے۔
اگر سائنس دان سمجھ سکیں کہ خلیات کی سالماتی عمر کیسے بدلتی ہے تو مستقبل میں بیماریوں کے تجرباتی ماڈل بنانے، دوا جانچنے اور شاید محفوظ خلیاتی علاج تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم موجودہ تحقیق میں نہ الزائمر کے مریضوں کا علاج کیا گیا اور نہ کسی انسان کے دماغ میں جوان خلیات لگاکر بیماری ختم کرنے کا تجربہ کیا گیا۔
اس مرحلے پر علاج کا دعویٰ کرنا سائنسی نتائج سے آگے کی بات ہوگی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ بڑھاپا روکنے کی دوا ہے؟
آسان جواب ہے: نہیں۔
ماہرین کے سامنے ابھی کئی اہم سوالات ہیں۔
ایک یہ کہ نئے خلیات مختلف حالات میں کتنے محفوظ رہتے ہیں۔
دوسرا یہ کہ عمر ماپنے والی گھڑی پر تبدیلی واقعی تمام حیاتیاتی صلاحیتوں کی بحالی کے برابر ہے یا نہیں۔