براہ راست نشریات

80 سالہ شخص کے خلیات کی عمر 20 سال سے کم، حیران کن تجربہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Cellular Rejuvenation Research

جرمن سائنس دانوں نے 80 سالہ شخص کے خون سے حاصل کردہ خلیات کو اعصابی اسٹیم سیلز میں تبدیل کرکے ان کی سالماتی عمر 20 سال سے کم ریکارڈ کی۔
یہ دریافت مستقبل میں الزائمر اور بڑھاپے سے متعلق تحقیق کے نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے، مگر ابھی انسانی علاج نہیں۔

جرمنی کے سائنس دانوں نے خلیات کو جوان کرنے کے امکانات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ 

بون یونیورسٹی اور یونیورسٹی ہسپتال بون کے محققین نے 80 سالہ شخص کے خون سے حاصل کردہ خلیات کو تجربہ گاہ میں تبدیل کیا تو ان کی سالماتی عمر 20 سال سے بھی کم ظاہر ہوئی۔

تاہم یہ کامیابی کسی انسان کی عمر گھٹانے، جسم جوان کرنے یا بڑھاپا ختم کرنے کا ثبوت نہیں، بلکہ مخصوص خلیات پر کیا گیا تجربہ ہے۔ 

یہ نتیجہ صرف تجربہ گاہ کے خلیات تک محدود ہے، پورے انسانی جسم پر اس کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔

📊 اہم اعداد — تحقیق کا فیکٹ باکس

80 سال: اس عطیہ دہندہ کی عمر جس کے خلیات کے نتائج کو نمایاں کیا گیا۔

20 سال سے کم: تبدیل شدہ خلیات کی تخمینی سالماتی عمر، نہ کہ عطیہ دہندہ کی عمر۔

15 افراد: تحقیق میں مجموعی عطیہ دہندگان کی تعداد؛ عمریں نومولود سے 101 سال تک تھیں۔

تقریباً 50 دن: خلیاتی تبدیلی میں عمر سے وابستہ زیادہ تر نشانات کے بدلنے کا وقت۔

9 اکتوبر 2026: بون یونیورسٹی کی طرف سے اس دریافت کی تفصیلات جاری کرنے کی تاریخ۔

تحقیق 3 اکتوبر 2026 کو سائنسی جریدے Aging Cell میں شائع ہوئی اور بون یونیورسٹی نے 9 اکتوبر کو اس کی تفصیلات جاری کیں۔ 

آخن یونیورسٹی کے محققین بھی شریک تھے۔ 

بنیادی سوال تھا کہ خلیے کی شناخت بدلنے پر عمر کے نشانات کس رفتار سے مٹتے ہیں۔

مزید پڑھیں

خون کے خلیے دماغی خلیات کیسے بنے؟

انسانی جسم میں خون، جلد، عضلات اور دماغ کے خلیات مختلف کام انجام دیتے ہیں۔ 

ان کے ڈی این اے میں بڑی حد تک یکساں بنیادی ہدایات موجود ہوتی ہیں، لیکن ہر قسم کا خلیہ ان میں سے الگ ہدایات استعمال کرتا ہے۔

محققین نے خون کے سرخ خلیات بنانے والے ابتدائی خلیات حاصل کئے 

اور SOX2 اور cMYC نامی دو عوامل کی مدد سے ان کی پروگرامنگ بدلی۔

اس عمل کے بعد خلیات ایسی اعصابی بنیادی خلیاتی حالت میں پہنچ گئے جس سے آگے مختلف عصبی خلیات تیار کئے جا سکتے ہیں۔

🧬 سائنس دانوں نے خون کے خلیات کے ساتھ کیا کیا؟

محققین نے خون کے سرخ خلیات بنانے والے ابتدائی خلیات استعمال کئے، پھر انہیں اعصابی اسٹیم سیلز کی حالت میں لانے کے لیے خصوصی پروگرامنگ کی۔

اس عمل میں SOX2 اور cMYC نامی عوامل استعمال ہوئے جو خلیے میں جینیاتی ہدایات کے استعمال کا انداز بدلتے ہیں۔

یہ براہ راست تبدیلی تھی؛ خلیات کو پہلے مکمل غیر مخصوص اسٹیم سیلز کے مرحلے سے نہیں گزارا گیا۔

نئے خلیات سے مستقبل میں عصبی خلیات تیار کرکے ان کی خصوصیات کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

 اسے براہ راست سیلولر ری پروگرامنگ کہا جاتا ہے۔

اس طریقے میں مکمل غیر مخصوص بنیادی خلیات کا درمیانی مرحلہ استعمال نہیں ہوا۔

80 سال کے خلیے کی عمر 20 سال سے کم کیسے ہوئی؟

یہاں عمر کا مطلب کیلنڈر پر لکھی عمر نہیں۔

سائنس دان خلیات کے ڈی این اے پر ہونے والی بعض کیمیائی تبدیلیوں کو دیکھ کر ان کی تخمینی سالماتی عمر معلوم کرتے ہیں۔ 

اس پیمانے کو ایپی جینیٹک گھڑی کہتے ہیں۔

یہ بتاتی ہے کہ خلیے کے اندر عمر کے ساتھ وابستہ نشانات کتنے موجود ہیں، مگر کسی شخص کی حقیقی عمر یا بقیہ زندگی کی پیش گوئی نہیں کرتی۔

⏳ سالماتی عمر کیا ہے، کیا انسان واقعی جوان ہوگیا؟

سالماتی یا ایپی جینیٹک عمر، ڈی این اے پر موجود بعض کیمیائی نشانات کی بنیاد پر لگایا گیا اندازہ ہے۔

یہ کسی شخص کی اصل عمر، مجموعی صحت یا باقی زندگی کے سال نہیں بتاتی۔

اہم فرق: 80 سالہ عطیہ دہندہ کی عمر نہیں بدلی؛ اس کے خون سے حاصل کردہ خلیات کی تجربہ گاہ میں پیمائش بدلی۔

مصنفین نے یہ امکان بھی تسلیم کیا کہ خلیے کی قسم بدلنے سے سالماتی عمر کا حساب متاثر ہو سکتا ہے۔

جب ٹیم نے تبدیل شدہ خلیات کا تجزیہ کیا تو 80 سالہ عطیہ دہندہ کے خلیات کی سالماتی عمر 20 برس سے نیچے آگئی۔

تحقیق میں نوزائیدہ بچوں سے لے کر 101 سالہ افراد تک، مجموعی طور پر 15 عطیہ دہندگان کے نمونے شامل کئے گئے۔ 

بعض عمر رسیدہ افراد سے بننے والے خلیات میں بڑھاپے سے وابستہ کئی دوسری نشانیاں بھی کم ہوگئیں۔

🔬 تقریباً 50 دن کیوں اہم ثابت ہوئے؟

عام دو مرحلوں والے بعض طریقوں میں عمر کے متعلق سالماتی نشانات نسبتاً تیزی سے بدلتے ہیں۔

اس نئی براہ راست تبدیلی میں زیادہ تر نشانات بدلنے میں تقریباً 50 دن لگے اور عمل کو 100 دن سے زیادہ دیکھا جا سکا۔

فائدہ: سائنس دان ہر مرحلے پر دیکھ سکتے ہیں کہ تبدیلی کن عوامل سے تیز یا سست ہوتی ہے۔

یہ سست رفتاری مستقبل میں بڑھاپے کے خلیاتی عمل کو سمجھنے کے لیے ایک مفید تجرباتی ماڈل فراہم کرتی ہے۔

50 دن کیوں اہم ہیں؟

اس تحقیق کی اصل انفرادیت صرف عمر کے اعداد میں کمی نہیں بلکہ تبدیلی کی رفتار ہے۔

روایتی دو مرحلوں والے بعض طریقوں میں سالماتی گھڑی نسبتاً تیزی سے بدلتی ہے، جبکہ اس نئے طریقے میں عمر کے بیشتر نشانات مٹنے میں تقریباً 50 دن لگے۔ 

🧠 الزائمر اور دماغی بیماریوں سے کیا تعلق ہے؟

عمر میں اضافہ الزائمر اور کئی دوسری اعصابی بیماریوں کا اہم خطراتی عنصر ہے۔

جوانی جیسے خلیاتی نشانات حاصل کرنے والے اعصابی اسٹیم سیلز بیماریوں کا مطالعہ کرنے اور ممکنہ ادویات جانچنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

لیکن: اس تحقیق میں الزائمر کے کسی مریض کا علاج نہیں ہوا اور نہ انسانی دماغ کو جوان بنانے کا تجربہ کیا گیا۔

بیماری کے علاج کا راستہ ابھی تحقیق، حفاظت کی جانچ اور مستقبل کی آزمائشوں سے مشروط ہے۔

بعض تبدیلیوں کی نگرانی 100 دن سے زیادہ عرصے تک کی گئی۔

یہ سست عمل سائنس دانوں کو مختلف دنوں میں جائزہ لینے کی سہولت دیتا ہے تاکہ وہ جان سکیں کہ کون سے عوامل تبدیلی کو تیز یا سست کرتے ہیں۔

15 افراد کے
خلیات پر
تحقیق کی گئی
جن میں سب سے
زیادہ عمر
101 سال تھی

الزائمر کے علاج سے کیا تعلق ہے؟

عمر بڑھنا الزائمر اور دوسری اعصابی بیماریوں کے بڑے خطراتی عوامل میں شامل ہے۔
اگر سائنس دان سمجھ سکیں کہ خلیات کی سالماتی عمر کیسے بدلتی ہے تو مستقبل میں بیماریوں کے تجرباتی ماڈل بنانے، دوا جانچنے اور شاید محفوظ خلیاتی علاج تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم موجودہ تحقیق میں نہ الزائمر کے مریضوں کا علاج کیا گیا اور نہ کسی انسان کے دماغ میں جوان خلیات لگاکر بیماری ختم کرنے کا تجربہ کیا گیا۔
اس مرحلے پر علاج کا دعویٰ کرنا سائنسی نتائج سے آگے کی بات ہوگی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ بڑھاپا روکنے کی دوا ہے؟
آسان جواب ہے: نہیں۔
ماہرین کے سامنے ابھی کئی اہم سوالات ہیں۔
ایک یہ کہ نئے خلیات مختلف حالات میں کتنے محفوظ رہتے ہیں۔
دوسرا یہ کہ عمر ماپنے والی گھڑی پر تبدیلی واقعی تمام حیاتیاتی صلاحیتوں کی بحالی کے برابر ہے یا نہیں۔

⚖️ کیا یہ بڑھاپا روکنے والی دوا کی دریافت ہے؟

نہیں۔ خلیات میں عمر سے وابستہ چند نشانات بدلنا کسی عمر رسیدہ انسان کو دوبارہ جوان کرنے کے برابر نہیں۔

انسانی بڑھاپے میں کئی اعضاء، جینیاتی عوامل، ماحول اور جسمانی نظام شامل ہوتے ہیں۔

یہ تحقیق کسی اینٹی ایجنگ انجیکشن، کریم یا دوا کی منظوری ثابت نہیں کرتی۔

ایسے اشتہارات سے محتاط رہیں جو اس سائنسی خبر کو فوری علاج یا عمر پلٹنے کے ثبوت کے طور پر پیش کریں۔

اصل مقالے کے مصنفین نے خود بتایا کہ خلیے کی قسم بدلنے سے بھی سالماتی عمر کے حساب پر اثر پڑ سکتا ہے۔

اس لیے 80 سالہ شخص کو دوبارہ 20 سال کا بنا دینے جیسی سرخیاں گمراہ کن ہوں گی۔حقیقت یہ ہے کہ محققین نے لیبارٹری میں خلیات کی شناخت اور ان کے عمر سے متعلق بعض نشانات تبدیل کئے ہیں۔

اصل کامیابی کیا ہے؟

یہ تجربہ بتاتا ہے کہ خلیاتی بڑھاپے کے کئی پہلو پہلے تصور کئے جانے سے زیادہ لچک دار ہو سکتے ہیں۔

اگر اس عمل کے بنیادی اصول سمجھ میں آ جائیں تو آنے والے برسوں میں عمر سے متعلق دماغی بیماریوں کے مطالعے کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

فی الحال اس تحقیق کا سب سے بڑا فائدہ فوری علاج نہیں بلکہ انسانی خلیات کے بڑھاپے کو سمجھنے کے لیے ایک نیا، قابلِ مشاہدہ سائنسی طریقہ ہے۔

🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ

Aging Cell — اصل سائنسی مقالہ (2026)
Protracted Fate Acquisition and Epigenetic De-Aging During Induced Neural Stem Cell Conversion of Human Blood Cells
اصل رپورٹ کھولیں

University of Bonn — 9 October 2026
Researchers Transform Old Blood Cells into Young Brain Cells
اصل رپورٹ کھولیں

Medical Xpress — October 2026
Blood cells from 80-year-old donor become stem cells with molecular age under 20
اصل رپورٹ کھولیں