ایک فیصلے نے فلسطینی کھلاڑیوں کی قسمت کیسے بدل دی؟
+
ایک فیصلے نے فلسطینی کھلاڑیوں کی قسمت کیسے بدل دی؟
📜 25 اگست کا تاریخی اعلامیہ
شامی فٹبال فیڈریشن نے تمام فلسطینی کھلاڑیوں کو باضابطہ طور پر مقامی شامی کھلاڑیوں کے مساوی درجہ دے دیا، جس سے لیگ میں شمولیت کی تمام سابقہ قانونی بندشیں ختم ہوگئیں۔
🌍 جغرافیائی قید سے مکمل آزادی
ماضی میں یہ سہولت صرف شام میں پیدا یا مقیم فلسطینیوں تک محدود تھی، مگر نئے قانون کے بعد غزہ، مغربی کنارے یا دنیا بھر سے آنے والے فلسطینی بھی مقامی کوٹے پر کھیل سکتے ہیں۔
🚫 4 غیرملکی کھلاڑیوں کے کوٹے سے استثنیٰ
ہر شامی کلب صرف چار غیرملکی فٹبالرز رجسٹر کرنے کا مجاز ہے، لیکن فلسطینیوں پر یہ قدغن لاگو نہیں، جس کے تحت کلب جتنے چاہیں فلسطینی کھلاڑی اپنی ٹیم میں شامل کر سکتے ہیں۔
⚽ شامی لیگ میں ریکارڈ معاہدے
فیصلے کے فوراً بعد شامی کلبوں نے فلسطینی اسٹارز سے ریکارڈ معاہدے کیے، جس سے میدان میں دفاع، مڈفیلڈ اور گول کیپنگ کے اہم ترین شعبوں میں فلسطینی ٹیلنٹ کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔
شام کے فٹبال میدانوں میں اس بار ایک دلچسپ اور حیران کن تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
مزید پڑھیں
فلسطینی کھلاڑی اچانک کئی بڑے کلبوں کی پہلی پسند بن گئے ہیں۔ کوئی گول کیپنگ سنبھال رہا ہے تو کوئی دفاع اور حملے کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ فلسطینی فٹبالرز کی مانگ یکایک کیوں بڑھ گئی؟
اس کے پیچھے شامی فٹبال فیڈریشن کا فیصلہ ہے، جس نے فلسطینی کھلاڑیوں کے لیے پیشہ ورانہ فٹبال کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔
ایک فیصلے نے پوری تصویر بدل دی
شامی فٹبال فیڈریشن نے 25 اگست کو اعلان کیا ہے کہ فلسطینی کھلاڑیوں کو رجسٹریشن اور کلبوں سے معاہدوں میں مقامی شامی کھلاڑی تصور کیا جائے گا۔
اس سے پہلے یہ سہولت صرف شام میں مقیم فلسطینیوں کو حاصل تھی، لیکن اب دوسرے ممالک سے آنے والے فلسطینی کھلاڑی بھی فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔
ہر شامی کلب 4 غیرملکی کھلاڑی رکھ سکتا ہے، تاہم فلسطینی اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔ ا س طرح کلب جتنے چاہیں فلسطینی کھلاڑی شامل کرسکتے ہیں۔
📊
شام کے کون سے فٹبال کلب فلسطینی کھلاڑیوں پر مہربان ہیں؟
▼
شام کے کون سے فٹبال کلب فلسطینی کھلاڑیوں پر مہربان ہیں؟
الفتوہ کلب: 5 فلسطینی کھلاڑیوں کے ساتھ سرفہرست
الفتوہ نے سب سے زیادہ بھروسا کرتے ہوئے پانچ کھلاڑی (براء خروب، عمرو رزق، امین مزید، صادق عبید اور عمر صوافطہ) منتخب کیے، جن میں گول کیپنگ سے لے کر اسٹرائیکر تک شامل ہیں۔
🤝 معاہدے کرنے والے سرکردہ کلب
🛡️ دوڑ سے باہر رہنے والے 5 کلب
کون سا کلب فلسطینی کھلاڑیوں پر سب سے زیادہ مہربان؟
الفتوہ کلب 5 فلسطینی کھلاڑیوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔ ان میں گول کیپر براء خروب، دفاعی کھلاڑی عمرو رزق اور امین مزید، مڈفیلڈر صادق عبید اور فارورڈ عمر صوافطہ شامل ہیں۔
حمص الفداء نے 4 کھلاڑیوں، مہدی عاصی، محمد الغول، احمد کلاب اور جیانی توما کو جگہ دی ہے۔
الطلیعہ نے فادی قطمیش، احمد الطویل اور عبدالرحمان وشاح جبکہ دمشق الاہلی نے محمد ابو عواد، خالد دادر اور محمد یامین سے معاہدے کیے۔
🔭
کیا شام کا یہ فیصلہ فلسطینی فٹبال کا مستقبل بدل دے گا؟
◀
کیا شام کا یہ فیصلہ فلسطینی فٹبال کا مستقبل بدل دے گا؟
مصر اور لیبیا کے بعد علاقائی کھیل کے دروازے کھلنا
مصر (2017ء) اور لیبیا (2024ء) کے بعد شام کا یہ قدم فلسطینی کھلاڑیوں کو مشرق وسطیٰ میں مسلسل مسابقتی فٹبال اور روزگار کے مواقع فراہم کر کے ان کے کیریئر کو تحفظ دے گا۔
قومی ٹیم (فلسطین) کے معیار اور کارکردگی میں نکھار
شام کی 14 ٹیموں پر مشتمل سخت لیگ اور عمر السومہ جیسے انٹرنیشنل اسٹارز کے خلاف کھیلنے سے فلسطینی کھلاڑیوں کے میچ ٹیمپو اور مہارت میں اضافہ ہوگا، جس کا براہِ راست فائدہ فلسطینی قومی ٹیم کو ہوگا۔
رعایت سے آگے: کارکردگی ثابت کرنے کا امتحان
مبصرین کے مطابق پاسپورٹ اور قواعد کی قانونی رعایت صرف پہلا زینہ ہے؛ مستقبل میں مستقل معاہدوں کے لیے فلسطینی کھلاڑیوں کو خود کو شامی میدانوں میں غیرملکیوں سے بہتر ثابت کرنا ہو گا۔
اسی طرح الوحدہ میں توفیق علی، حطین میں محمد ایوب علی ربایعہ اور الکرامہ میں اسلام بطران فلسطینی نمائندگی کررہے ہیں۔
کچھ کھلاڑیوں کے خواب ادھورے کیوں رہ گئے؟
یہاں ہر فلسطینی کھلاڑی کے لیے راستہ آسان نہیں رہا۔ الحریہ کلب نے عمر کاید سے معاہدہ کیا، لیکن بعد میں انہیں ٹیم سے الگ کردیا گیا۔ ان کی لبنانی کلب الغد الافضل میں شمولیت کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
گول کیپر عرفات الترک کا معاملہ زیادہ دلچسپ تھا۔
وہ ہسپانوی پاسپورٹ پر شام پہنچے، جبکہ غیرملکی گول کیپر رکھنے پر پابندی تھی۔ وقت کی کمی کے باعث فلسطینی پاسپورٹ پر دوبارہ داخلے کا انتظام نہ ہوسکا اور معاہدہ ختم ہوگیا۔
5 کلب اس دوڑ سے باہر
اہلی حلب، تشرین، الجیش، الشرطہ اور قامشلی اسپورٹ نے نئے فلسطینی کھلاڑیوں سے معاہدے نہیں کیے۔
ان کلبوں نے مقامی نوجوانوں اور دیگر غیرملکی کھلاڑیوں پر توجہ رکھی۔
شامی لیگ میں مقابلہ کتنا سخت ہوگا؟
شامی لیگ کا نیا سیزن 9 اکتوبر سے شروع ہورہا ہے، جس میں 14 ٹیمیں حصہ لیں گی۔ تقریباً 70 غیرمقامی پیشہ ور کھلاڑیوں کی آمد نے مقابلے کو مزید دلچسپ بنادیا ہے۔
معروف شامی اسٹرائیکر عمر السومہ بھی تقریباً 15 سال بعد مقامی لیگ میں واپس آرہے ہیں۔ الکرامہ کے کوچ ہیثم جطل کے خیال میں یہ گزشتہ 10 برس کی مشکل ترین لیگ ہوسکتی ہے۔
فلسطینی فٹبال کے لیے نئی امید
فلسطینی فٹبال فیڈریشن نے شامی فیصلے کو تاریخی برادرانہ تعلقات اور کھیلوں میں تعاون کی مثال قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ مصر 2017ء اور لیبیا 2024ء میں فلسطینی کھلاڑیوں کو مقامی حیثیت دے چکے ہیں۔ اب شام کا اقدام بھی فلسطینی فٹبالرز کے لیے نئے مواقع پیدا کررہا ہے۔
کھیلوں کے ماہرین کے مطابق اصل امتحان میدان میں ہوگا، جہاں ان کھلاڑیوں کو ثابت کرنا ہے کہ وہ صرف خصوصی رعایت نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر بھی جگہ بنانے کے مستحق ہیں۔