غزہ کے عوام نے اسرائیلی مسلط کردہ جنگ اور بدترین تباہی کے درمیان فٹ بال ورلڈ کپ 2026 میں مصری ٹیم کی تاریخی کامیابی کا بے مثال جشن منایا۔
مزید پڑھیں
ڈرونز کی گونج اور تباہ حال خیموں کے درمیان فلسطینیوں نے سادہ اسکرینز پر مصر اور آسٹریلیا کا میچ دیکھ کر ایک انوکھا ولولہ اور عزم ظاہر کیا ہے۔
کامیابی کے تاریخی لمحات
میچ کے دوران بجلی کی بندش اور شدید مشکلات کے باوجود غزہ کی سڑکیں خوشی کے مناظر میں بدل گئیں۔
پینالٹی کک پر فتح کے اعلان کے ساتھ ہی فلسطینیوں کی تکبیروں اور نعروں نے رات کی تاریکی کو چیر دیا، جس کا منظر صحافی عاصم النبیہ نے ویڈیو کیمرے میں محفوظ کیا۔
مشترکہ جذبات کی عکاسی
سوشل میڈیا پر فلسطینیوں نے اس خوشی کو ایک قومی جشن قرار دیا ہے۔
بلاگر ایاد حجار نے جذبات سے بھرپور ایک ویڈیو شیئر کی، جبکہ کارکن تامر قدیح نے لکھا کہ یہ فتح صرف مصر کی نہیں بلکہ غزہ کی بھی ہے۔ فلسطینیوں کا کہنا تھا کہ مصر کے لیے سب کچھ قربان ہے۔
صوت الفرحة من غزة بفوز مصر 🇪🇬💖 pic.twitter.com/0XAy4ycCJX
— عاصم النبيه Asem Alnabih (@AsemAlnabeh) July 3, 2026
مصر کا محبت بھرا ردعمل
غزہ کے عوام کے اس جوش و خروش پر مصری عوام نے بھی گہری محبت اور تشکر کا اظہار کیا ہے۔
معروف تجزیہ کار اور سابق فٹ بالر محمد ابو تریکہ نے اسٹوڈیو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ 12 کروڑ مصری عوام فلسطینی کاز کے ساتھ جذباتی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
هي غزة، مش القاهرة. هي طيبة أهل غزة، هي دموع أهل غزة، هي الناس اللي عمرها ما فقدت انتماءها لوطنها العربي اللي تركها لحالها في الإبادة. pic.twitter.com/RLPPIXUWGD
— 𓂆 Eyad| إِيَادٌ (@ehajjarr) July 3, 2026
میدان میں فلسطینی پرچم کی لہر
مصری ٹیم کے کوچ حسام حسن نے بھی کھلاڑیوں کی کامیابی کے بعد فلسطینی پرچم لہرا کر اظہار یکجہتی کیا۔ اس اقدام کو فلسطین اور عرب دنیا میں خوب سراہا گیا۔
تجزیہ کار یاسر الزعاترہ نے اسے ایک خوبصورت عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کے ذریعے بھی انسانیت زندہ رہتی ہے۔
"شمال يمين بنحب المصرين"
— MO (@Abu_Salah9) July 3, 2026
من كان يتخيل أن يرى هذه الفرحة على وجوه شعب لا زال يعيش الإبادة
ولكن كل شيء يهون لأجل عيونك يا مصر
شعب غزة التاريخي يحتفل بتأهل مصر التاريخي للدور القادم في كأس العالم
🇪🇬❤️🇵🇸 pic.twitter.com/70lMf1YfrI
غزہ کے عوام کا یہ جشن ثابت کرتا ہے کہ شدید ترین مشکلات میں بھی انسان خوشی کے لمحے تلاش کر سکتا ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف فٹ بال کی فتح تھا، بلکہ فلسطین اور مصر کے درمیان صدیوں پر محیط ثقافتی، جغرافیائی اور جذباتی تعلق کا عملی اظہار بھی رہا۔