براہ راست نشریات

فٹبال ورلڈکپ: مصر کی فتح کا جشن، غزہ کے محصور اپنے زخم بھول گئے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
غزہ میں خیموں کے درمیان مصر کی فٹبال فتح کا جشن مناتے ہوئے فلسطینیوں کا تصویری خاکہ
فلسطینی شائقین غزہ میں تباہ عمارتوں کے ملبے کے درمیان مصر-آسٹریلیا میچ دیکھنے کے لیے جمع ہیں (فوٹو: الجزیرہ)

غزہ کے عوام نے اسرائیلی مسلط کردہ جنگ اور بدترین تباہی کے درمیان فٹ بال ورلڈ کپ 2026 میں مصری ٹیم کی تاریخی کامیابی کا بے مثال جشن منایا۔

مزید پڑھیں

ڈرونز کی گونج اور تباہ حال خیموں کے درمیان فلسطینیوں نے سادہ اسکرینز پر مصر اور آسٹریلیا کا میچ دیکھ کر ایک انوکھا ولولہ اور عزم ظاہر کیا ہے۔

کامیابی کے تاریخی لمحات

میچ کے دوران بجلی کی بندش اور شدید مشکلات کے باوجود غزہ کی سڑکیں خوشی کے مناظر میں بدل گئیں۔ 

پینالٹی کک پر فتح کے اعلان کے ساتھ ہی فلسطینیوں کی تکبیروں اور نعروں نے رات کی تاریکی کو چیر دیا، جس کا منظر صحافی عاصم النبیہ نے ویڈیو کیمرے میں محفوظ کیا۔

مشترکہ جذبات کی عکاسی

سوشل میڈیا پر فلسطینیوں نے اس خوشی کو ایک قومی جشن قرار دیا ہے۔

بلاگر ایاد حجار نے جذبات سے بھرپور ایک ویڈیو شیئر کی، جبکہ کارکن تامر قدیح نے لکھا کہ یہ فتح صرف مصر کی نہیں بلکہ غزہ کی بھی ہے۔ فلسطینیوں کا کہنا تھا کہ مصر کے لیے سب کچھ قربان ہے۔

مصر کا محبت بھرا ردعمل

غزہ کے عوام کے اس جوش و خروش پر مصری عوام نے بھی گہری محبت اور تشکر کا اظہار کیا ہے۔

معروف تجزیہ کار اور سابق فٹ بالر محمد ابو تریکہ نے اسٹوڈیو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ 12 کروڑ مصری عوام فلسطینی کاز کے ساتھ جذباتی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔

میدان میں فلسطینی پرچم کی لہر

مصری ٹیم کے کوچ حسام حسن نے بھی کھلاڑیوں کی کامیابی کے بعد فلسطینی پرچم لہرا کر اظہار یکجہتی کیا۔ اس اقدام کو فلسطین اور عرب دنیا میں خوب سراہا گیا۔

تجزیہ کار یاسر الزعاترہ نے اسے ایک خوبصورت عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کے ذریعے بھی انسانیت زندہ رہتی ہے۔

غزہ کے عوام کا یہ جشن ثابت کرتا ہے کہ شدید ترین مشکلات میں بھی انسان خوشی کے لمحے تلاش کر سکتا ہے۔

یہ واقعہ نہ صرف فٹ بال کی فتح تھا، بلکہ فلسطین اور مصر کے درمیان صدیوں پر محیط ثقافتی، جغرافیائی اور جذباتی تعلق کا عملی اظہار بھی رہا۔