خلیجی شماریاتی مرکز کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق 2025 میں خلیجی تعاون کونسل کے ممالک سے کارکنوں کی بیرونِ ملک ترسیلات تقریباً 161 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا ان رقوم سے نمایاں طور پر مستفید ہونے والے جنوبی ایشیائی ممالک میں شامل ہیں۔
پاکستان کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔
خلیجی تعاون کونسل کے ممالک میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کی اپنے وطن بھیجی جانے والی رقوم نے 2025 میں نیا ریکارڈ قائم کردیا۔
تازہ اعدادوشمار ایک بار پھر ظاہر کرتے ہیں کہ خلیج صرف غیر ملکی کارکنوں کے لیے روزگار کی بڑی منڈی نہیں بلکہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا سمیت متعدد ممالک کے لیے زرمبادلہ کا ایک انتہائی اہم ذریعہ بھی ہے۔
📊 161 ارب ڈالر — کتنا بڑا بہاؤ؟
161 ارب ڈالر: 2025 کی مجموعی بیرونِ ملک ترسیلات۔
13.6 فیصد: سالانہ اضافہ۔
تقریباً 19 ارب ڈالر: 2024 کے مقابلے میں اضافہ۔
خلیجی شماریاتی مرکز کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران خلیجی ممالک سے کارکنوں نے تقریباً 161 ارب ڈالر بیرونِ ملک بھیجے۔
یہ عالمی سطح پر بلند ترین سطح ہے۔
2024 کے مقابلے میں ان ترسیلات میں تقریباً 19 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ سالانہ شرح نمو 13.6 فیصد رہی۔
مزید پڑھیں
مرکز کے مطابق کارکنوں کی بیرونِ ملک ترسیلات خلیجی ممالک کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 6.6 فیصد کے برابر رہیں۔
یہ مسلسل دوسرا سال تھا جس میں ترسیلاتِ زر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ اعداد و شمار بالخصوص پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان ممالک کے لاکھوں
شہری سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عمان اور بحرین میں کام کرتے ہیں اور اپنی آمدنی کا بڑا حصہ اپنے خاندانوں کو بھیجتے ہیں۔
پاکستان: سعودی عرب اور امارات سب سے اہم
پاکستان کے معاملے میں خلیجی ممالک کی اہمیت سب سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر 26.6 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ 38.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال یہ رقم تقریباً 30.3 ارب ڈالر تھی۔
🇵🇰 پاکستان — سعودی عرب سب سے بڑا ذریعہ
مالی سال 2024-25 میں پاکستان کو ریکارڈ 38.3 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں۔
سعودی عرب سے تقریباً 9.35 ارب ڈالر پاکستان آئے۔
ان ترسیلات میں سعودی عرب سب سے بڑا ذریعہ رہا۔
سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے تقریباً 9.35 ارب ڈالر وطن بھیجے، جبکہ متحدہ عرب امارات سے تقریباً 7.83 ارب ڈالر پاکستان پہنچے۔
یوں صرف سعودی عرب اور امارات سے پاکستان کو ایک مالی سال میں 17 ارب ڈالر سے زیادہ موصول ہوئے۔
یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خلیجی ممالک میں روزگار، تنخواہوں اور معاشی سرگرمیوں میں ہونے والی تبدیلیاں پاکستان کے لیے کتنی اہم ہیں۔
ترسیلاتِ زر نہ صرف لاکھوں خاندانوں کے روزمرہ اخراجات پورے کرتی ہیں بلکہ پاکستان کو زرمبادلہ فراہم کرنے، ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے اور ملکی ذخائر کو سہارا دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
بھارت: نقشہ بدل رہا ہے، مگر خلیج اب بھی اہم
بھارت دنیا میں ترسیلاتِ زر وصول کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران بھارتی ترسیلات کے ذرائع میں تبدیلی ضرور آئی ہے اور امریکا، برطانیہ سمیت ترقی یافتہ ممالک کا حصہ بڑھا ہے، لیکن خلیج کی اہمیت اب بھی برقرار ہے۔
ریزرو بینک آف انڈیا کی تفصیلی تحقیق کے مطابق خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کا بھارت آنے والی مجموعی ترسیلاتِ زر میں حصہ تقریباً 38 فیصد ہے۔
🇦🇪 امارات — پاکستان کے لیے دوسرا بڑا خلیجی سہارا
متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں نے تقریباً 7.83 ارب ڈالر وطن بھیجے۔
سعودی عرب اور امارات کو ملا کر رقم 17 ارب ڈالر سے زیادہ بنتی ہے۔
مالی سال 2023-24 کے اعدادوشمار کے مطابق متحدہ عرب امارات کا حصہ 19.2 فیصد، سعودی عرب کا 6.7 فیصد، قطر کا 4.1 فیصد، کویت کا 3.9 فیصد اور عمان کا تقریباً 2.5 فیصد تھا۔
اس لیے خلیج کے حصے میں نسبتی کمی کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی اہمیت ختم ہورہی ہے۔ لاکھوں بھارتی شہری آج بھی خلیجی ممالک، خصوصاً امارات اور سعودی عرب میں کام کررہے ہیں۔
بنگلہ دیش: خلیج سے آنے والی رقم بڑا سہارا
بنگلہ دیش کے لیے بھی خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر انتہائی اہم ہیں۔
مالی سال 2024-25 کے دوران بنگلہ دیش کو بیرونِ ملک کارکنوں سے تقریباً 30.33 ارب ڈالر موصول ہوئے، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 26.8 فیصد زیادہ تھے۔
🇮🇳 بھارت — خلیج کا حصہ اب بھی بڑا
ریزرو بینک آف انڈیا کے مطابق خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کا بھارتی ترسیلات میں حصہ تقریباً 38 فیصد ہے۔
امارات اور سعودی عرب اہم ترین خلیجی ذرائع میں شامل ہیں۔
اس میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نمایاں ذرائع رہے۔
مجموعی ترسیلات میں سعودی عرب کا حصہ تقریباً 14.06 فیصد اور امارات کا 13.74 فیصد رہا، جبکہ عمان اور کویت کا حصہ بھی 5، 5 فیصد سے زیادہ تھا۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بنگلہ دیشی معیشت اور لاکھوں خاندانوں کی آمدنی کا خلیجی روزگار سے کتنا گہرا تعلق ہے۔
سری لنکا: تقریباً 45 فیصد ترسیلات کا تعلق خلیج سے
سری لنکا کے لیے بیرونِ ملک کارکنوں کی ترسیلاتِ زر کی اہمیت گزشتہ معاشی بحران کے بعد مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ ملک کو زرمبادلہ کی مسلسل ضرورت ہے۔
سری لنکا کے مرکزی بینک کے مطابق ملک کو ملنے والی کارکنوں کی ترسیلاتِ زر میں تقریباً 45 فیصد حصہ خلیجی ممالک کا ہے۔
🇧🇩 بنگلہ دیش — خلیجی کمائی بڑا سہارا
مالی سال 2024-25 میں بنگلہ دیش کو تقریباً 30.33 ارب ڈالر موصول ہوئے۔
سعودی عرب کا حصہ 14.06 فیصد اور امارات کا 13.74 فیصد رہا۔
یہ شرح واضح کرتی ہے کہ سعودی عرب، امارات، کویت، قطر اور دیگر خلیجی ممالک میں روزگار کی صورتحال میں آنے والی تبدیلی سری لنکا کے زرمبادلہ کے بہاؤ پر بھی براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
خلیج صرف روزگار کی منڈی نہیں
خلیجی ممالک سے نکلنے والی یہ رقم جب پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور دیگر ممالک میں پہنچتی ہے تو وہاں صرف بینک اکاؤنٹس میں جمع نہیں رہتی بلکہ لاکھوں خاندانوں کے گھریلو اخراجات، بچوں کی تعلیم، علاج، مکانات، بچت اور چھوٹے کاروباروں پر خرچ ہوتی ہے۔
🇱🇰 سری لنکا — تقریباً 45 فیصد خلیج سے
سری لنکا کے مرکزی بینک کے مطابق کارکنوں کی ترسیلات میں تقریباً 45 فیصد حصہ خلیجی ممالک سے وابستہ ہے۔
یہ رقوم ملکی زرمبادلہ اور لاکھوں خاندانوں کے لیے اہم سہارا ہیں۔
پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک کے لیے اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ ترسیلاتِ زر ملکی سطح پر زرمبادلہ کا بڑا ذریعہ بھی ہیں۔
یوں 2025 میں خلیج سے بیرونِ ملک بھیجے گئے 161 ارب ڈالر محض ایک ریکارڈ نہیں۔
یہ اس معاشی رشتے کی تصویر ہے جو ریاض، جدہ، دبئی، ابوظبی، دوحہ، کویت، مسقط اور منامہ میں کام کرنے والے لاکھوں افراد کو کراچی، لاہور، ممبئی، ڈھاکا اور کولمبو سمیت جنوبی ایشیا کے کروڑوں لوگوں کی روزمرہ زندگی سے جوڑتا ہے۔
🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ
GCC-Stat — خلیجی شماریاتی مرکز
خلیجی ممالک سے کارکنوں کی بیرونِ ملک ترسیلاتِ زر سے متعلق بنیادی سرکاری اعدادوشمار۔
سرکاری ویب سائٹ کھولیں
State Bank of Pakistan — Workers’ Remittances
پاکستان کی ترسیلاتِ زر، بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے آنے والی رقوم کے سرکاری اعدادوشمار۔
اصل اعدادوشمار کھولیں
Reserve Bank of India — Remittances
بھارت آنے والی ترسیلاتِ زر اور مختلف ممالک و خطوں کے حصے سے متعلق سرکاری ڈیٹا اور مطالعات۔
ریزرو بینک آف انڈیا کھولیں
Bangladesh Bank — Workers’ Remittances
بنگلہ دیش کو موصول ہونے والی ترسیلات اور خلیجی ممالک سے آنے والی رقوم کے سرکاری اعدادوشمار۔
اصل اعدادوشمار کھولیں
Central Bank of Sri Lanka — Workers’ Remittances
سری لنکا کی ورکرز ترسیلات اور بیرونِ ملک کارکنوں سے آنے والے زرمبادلہ کے سرکاری اعدادوشمار۔
سینٹرل بینک آف سری لنکا کھولیں