براہ راست نشریات

سعودی عرب سے کویت تک.. خلیج کی سکیورٹی پاکستان کے حوالے کیوں؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Gulf Security

پاکستان اور کویت کے نئے دفاعی پروٹوکول نے ایک بڑی علاقائی تبدیلی کو نمایاں کردیا ہے۔
پاکستان اب صرف خلیجی افواج کو تربیت دینے والا روایتی شراکت دار نہیں، بلکہ سعودی عرب، کویت اور دیگر ممالک کے ساتھ بڑھتے دفاعی تعلقات کے ذریعے خلیج کے نئے سکیورٹی ڈھانچے کا حصہ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
اسلام آباد کے لئے اس کا ممکنہ فائدہ سرمایہ کاری، توانائی، روزگار اور سیاسی اثر و رسوخ کی صورت میں سامنے آسکتا ہے، لیکن ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا اس حکمت عملی کا سب سے مشکل امتحان ہوگا۔

پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان فوجی تعاون کوئی نئی بات نہیں۔ 

کئی دہائیوں سے پاکستانی فوج مختلف خلیجی ملکوں کی مسلح افواج کی تربیت کرتی رہی ہے، لیکن حالیہ مہینوں میں اس تعلق کی نوعیت بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔ 

پہلے جو تعاون زیادہ تر تربیت، مشاورت اور محدود دفاعی رابطوں تک تھا، اب وہ زیادہ رسمی اور وسیع معاہدوں میں تبدیل ہو رہا ہے۔

اسی سلسلے کی تازہ کڑی کویت ہے۔

27 اگست 2026 کو راولپنڈی میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور ان کے کویتی ہم منصب شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے پروٹوکول ایگریمنٹ 2026 پر دستخط کئے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان 2023 میں ہونے والے دفاعی تعاون کے معاہدے کو مزید وسعت دیتا ہے۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTپاکستان–کویت دفاعی تعاون — اہم نکات
  • پاکستان اور کویت نے 27 اگست 2026 کو دفاعی تعاون بڑھانے کے لیے پروٹوکول ایگریمنٹ 2026 پر دستخط کیے۔
  • تعاون میں فوجی تربیت، صلاحیت سازی، سرحدی انتظام اور دیگر متفقہ دفاعی شعبے شامل ہیں۔
  • یہ پیش رفت پاکستان کے خلیجی ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی کردار کی ایک نئی کڑی ہے۔
  • معاہدہ فی الحال ایسا مشترکہ دفاعی معاہدہ نہیں جس میں کویت پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے۔
  • اصل سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان خلیج کے نئے سکیورٹی ڈھانچے میں مستقل اور بڑا کردار حاصل کر رہا ہے۔
overseaspost.net

پاکستانی حکام کے مطابق نئے پروٹوکول کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویتی فورسز کو تربیت، صلاحیت سازی، سرحدی انتظام اور دیگر متفقہ دفاعی شعبوں میں معاونت فراہم کریں گی۔

لیکن اس معاہدے کو صرف پاکستان اور کویت کے درمیان ایک اور دفاعی تعاون کے طور پر دیکھنا پوری تصویر نہیں دکھاتا۔

اصل کہانی اس سے بڑی ہے۔

مزید پڑھیں

کویت پہلا قدم نہیں

پاکستان کے خلیجی ممالک کے ساتھ فوجی تعلقات کئی دہائیوں پرانے ہیں۔ خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون غیر معمولی طور پر گہرا رہا ہے۔

فرق یہ ہے کہ اب ان تعلقات کو باقاعدہ معاہدوں اور نئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچوں کی شکل دی جا رہی ہے۔

اگست میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کئے۔ 

اس بندوبست کے تحت کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، اگرچہ معاہدے کی تفصیلات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ جنگ کی صورت میں ہر ملک پر عملی فوجی ذمہ داری کتنی ہوگی۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXپاکستان–کویت معاہدہ: فیکٹ باکس
معاہدہProtocol Agreement-2026
تاریخ27 اگست 2026
مقامراولپنڈی
پاکستانی فریقوزیر دفاع خواجہ محمد آصف
کویتی فریقوزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح
مرکزی شعبےتربیت، صلاحیت سازی، سرحدی انتظام، دفاعی تعاون
اہم فرقیہ فی الحال باہمی دفاع کی ایسی ضمانت نہیں جس میں ایک ملک پر حملہ دوسرے پر حملہ سمجھا جائے۔
overseaspost.net

پاکستان نے سعودی عرب میں ہزاروں فوجیوں کے علاوہ جنگی طیارے، ڈرونز اور فضائی دفاعی نظام بھی تعینات کئے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان بیک وقت مختلف سطحوں پر خلیجی سکیورٹی سے جڑ رہا ہے: سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ مشترکہ دفاع، سعودی عرب میں عملی فوجی موجودگی، قطر کے ساتھ تربیتی تعاون اور اب کویت کے ساتھ زیادہ منظم دفاعی شراکت داری۔

یہیں سے بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:

خلیجی ممالک پاکستان کی طرف اتنی تیزی سے کیوں بڑھ رہے ہیں؟

پاکستان کے پاس کیا ہے؟

سب سے پہلے پاکستان ایک بڑی اور تجربہ کار فوجی طاقت ہے۔

اس کی مسلح افواج ایشیا کی بڑی افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ پاکستانی فوج کو مختلف نوعیت کے آپریشنز کا طویل تجربہ حاصل ہے، فضائیہ نسبتاً جدید سمجھی جاتی ہے، دفاعی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، جبکہ پاکستان کے پاس میزائل صلاحیت اور ایٹمی ڈیٹرنس بھی موجود ہے۔

OVERSEAS POST | ANALYSISیہ معاہدہ کیوں اہم ہے؟

کویت معاہدہ اپنی شرائط سے زیادہ اس بڑے رجحان کی وجہ سے اہم ہے جس کا وہ حصہ ہے۔

خلیجی تنوعدول الخليج تريد بدائل إضافية إلى جانب المظلة الأميركية التقليدية.
پاکستانی اثراسلام آباد اپنی فوجی صلاحیت کو سیاسی اور معاشی اثر و رسوخ میں بدل سکتا ہے۔
علاقائی توازنپاکستان خلیج کے ساتھ دفاعی قربت بڑھاتے ہوئے ایران کے ساتھ رابطہ بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

اصل اہمیت: پاکستان اب صرف تربیتی شراکت دار نہیں، بلکہ خلیجی سکیورٹی کیلکولیشن کا زیادہ نمایاں حصہ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

overseaspost.net

لیکن خلیج کے لئے پاکستان کی اہمیت صرف ہتھیاروں تک محدود نہیں۔

پاکستان ایک بڑی مسلم ریاست ہے جس کے سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کے ساتھ تاریخی اور سماجی تعلقات ہیں۔ 

ساتھ ہی پاکستان کوئی عرب طاقت نہیں، اس لئے وہ خلیج کے اندر سیاسی قیادت یا علاقائی بالادستی کا براہ راست حریف بھی نہیں بنتا۔

پاکستان امریکا کا پرانا شراکت دار ہے، چین کا قریبی اسٹریٹجک اتحادی ہے اور ایران کے ساتھ بھی رابطے کے دروازے کھلے رکھتا ہے۔

یہ امتزاج پاکستان کو دوسروں سے مختلف بناتا ہے۔

خلیجی ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھا سکتے ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں واشنگٹن کے ساتھ وہ فوری کشیدگی پیدا نہیں ہوتی جو مثال کے طور پر چین کی براہ راست فوجی موجودگی سے ہو سکتی ہے۔

کیا کویت اب پاکستانی سکیورٹی چھتری میں آگیا؟

ابھی نہیں۔

یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔

کویت کے ساتھ ہونے والا معاہدہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ہونے والے مشترکہ دفاعی بندوبست جیسا نہیں۔

ابھی تک کسی ایسی شق کا اعلان نہیں کیا گیا جس کے تحت کویت پر حملہ پاکستان پر حملہ سمجھا جائے۔

✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا مصدقہ ہے، کیا احتیاط چاہتا ہے؟

مصدقہ معلومات

  • پاکستان اور کویت نے 27 اگست 2026 کو دفاعی پروٹوکول پر دستخط کیے۔
  • تربیت، صلاحیت سازی اور سرحدی انتظام تعاون کے نمایاں شعبے ہیں۔
  • پاکستان کے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ پرانے دفاعی روابط موجود ہیں۔
  • پاکستان ایران سے رابطہ اور ثالثی کی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

ادارتی احتیاط

  • کویت کو ابھی باقاعدہ «پاکستانی دفاعی چھتری» میں شامل قرار نہ دیا جائے۔
  • معاہدے کو نیٹو طرز کی مشترکہ دفاعی ضمانت کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔
  • پاکستان کے ممکنہ معاشی فوائد کو حتمی طے شدہ پیکج کے طور پر بیان نہ کیا جائے۔
  • ایران کے ردعمل سے متعلق غیر مصدقہ قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔
overseaspost.net

موجودہ معاہدہ بنیادی طور پر تربیت، صلاحیت سازی، سرحدی انتظام، لاجسٹکس، مشترکہ مشقوں اور دفاعی تعاون کو وسعت دیتا ہے۔

لیکن اس کی اہمیت اس سمت میں ہے جس طرف تعلقات بڑھ رہے ہیں۔

اگر پاکستانی فوج کویتی فوج کی تربیت، دفاعی منصوبہ بندی، سرحدی انتظام اور صلاحیت سازی میں زیادہ گہرائی سے شامل ہوتی جاتی ہے تو عملی طور پر کویت کی دفاعی تیاری پاکستان کے ساتھ زیادہ منسلک ہوتی جائے گی۔

یوں کویت کو امریکی اور مغربی شراکت داریوں کے ساتھ ایک اضافی دفاعی تہہ بھی مل سکتی ہے۔

ابھی کیوں؟

یہ سوال شاید سب سے اہم ہے۔

امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ، خلیجی خطے میں حملوں کا خطرہ، توانائی کی تنصیبات پر دباؤ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے خلیجی حکمرانوں کے سامنے ایک پرانا سوال دوبارہ لا کھڑا کیا ہے:

کیا صرف امریکی سکیورٹی چھتری پر انحصار کافی ہے؟

حالیہ دفاعی معاہدوں سے ملنے والا جواب یہ ہے کہ شاید نہیں۔

1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی

پاکستان اور کویت نے دفاعی تعاون بڑھانے کے لیے نیا پروٹوکول سائن کیا ہے، جس میں فوجی تربیت، صلاحیت سازی اور سرحدی انتظام جیسے شعبے شامل ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب پاکستان سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ بھی اپنے دفاعی روابط کو وسعت دے رہا ہے۔

خلیجی ممالک امریکا کو چھوڑ نہیں رہے، مگر وہ سکیورٹی کے مزید آپشنز بنا رہے ہیں، اور پاکستان ان میں ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔

اسلام آباد کے لیے اصل فائدہ دفاعی اثر کو سرمایہ کاری، توانائی اور سفارتی وزن میں بدلنے کی صلاحیت ہے، مگر ایران کے ساتھ توازن برقرار رکھنا مشکل امتحان ہوگا۔

overseaspost.net

خلیجی ممالک امریکا کو چھوڑ نہیں رہے، لیکن وہ اضافی سکیورٹی آپشنز بنا رہے ہیں۔

یہ حکمت عملی کسی ایک ملک پر مکمل انحصار کم کرنے کی کوشش ہے۔

پاکستان اس نئے ڈھانچے میں اس لئے فٹ بیٹھتا ہے کیونکہ وہ ایک قابل فوجی شراکت دار ہے، جغرافیائی طور پر قریب ہے اور اس کی خطے میں کوئی کھلی توسیع پسندانہ سیاسی حکمت عملی نہیں۔

پاکستان کو کیا مل رہا ہے؟

یہ کہانی کا دوسرا اہم حصہ ہے۔

پاکستان صرف خلیج کو سکیورٹی نہیں دے رہا، وہ اس تعاون کو معاشی اور سفارتی فائدے میں بھی تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

اسلام آباد طویل عرصے سے خلیجی سرمایہ کاری، توانائی کی آسان شرائط، مالی معاونت اور پاکستانی شہریوں کے لئے روزگار کے مزید مواقع چاہتا رہا ہے۔

کویت کے ساتھ دفاعی تعاون میں توسیع کے ساتھ توانائی اور سرمایہ کاری کے معاملات بھی زیر بحث رہے ہیں۔

OVERSEAS POST | PAKISTANپاکستان کو اس تعاون سے کیا مل سکتا ہے؟
سرمایہ کاریخلیجی سرمایہ کاری کے لیے سیاسی اعتماد اور ادارہ جاتی قربت بڑھ سکتی ہے۔
توانائیاسلام آباد تیل، گیس اور طویل مدتی توانائی تعاون میں بہتر شرائط چاہتا ہے۔
روزگارپاکستانی افرادی قوت کے لیے خلیج میں نئے مواقع اقتصادی فائدے کا اہم حصہ بن سکتے ہیں۔

بڑا فائدہ: پاکستان اپنی مضبوط ترین ریاستی صلاحیت — فوج — کو سفارتی اور معاشی لیوریج میں بدل سکتا ہے۔

overseaspost.net

پاکستان کے لئے یہ بہت اہم ہے کیونکہ خلیج میں لاکھوں پاکستانی کام کرتے ہیں اور بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر ملکی معیشت کا بڑا سہارا ہیں۔

گزشتہ مالی سال پاکستان کو بیرون ملک مقیم شہریوں سے تقریباً 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، جن میں خلیج کا حصہ انتہائی اہم تھا۔

یوں پاکستان اپنی سب سے مضبوط ریاستی قوت، یعنی فوج، کو معاشی اور سفارتی اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔

جتنا خلیجی ممالک پاکستانی دفاعی مہارت پر انحصار کریں گے، اتنا ہی اسلام آباد کے لئے سرمایہ کاری، توانائی اور سیاسی حمایت کے معاملات میں اپنی اہمیت منوانا آسان ہوگا۔

OVERSEAS POST | GULFخلیج پاکستان کی طرف کیوں دیکھ رہی ہے؟
  • 1فوجی تجربہ: پاکستان ایک بڑی، منظم اور عملی تجربہ رکھنے والی فوجی طاقت ہے۔
  • 2جغرافیائی قربت: پاکستان خلیج کے قریب ہے اور تیز فوجی و تربیتی تعاون کی صلاحیت رکھتا ہے۔
  • 3سیاسی قبولیت: پاکستان خلیج میں کسی عرب ریاست کا براہ راست سیاسی حریف نہیں۔
  • 4متوازن روابط: اسلام آباد واشنگٹن، بیجنگ، خلیج اور تہران سب کے ساتھ رابطہ رکھتا ہے۔
overseaspost.net

ایران والی مشکل

مگر اس سارے کھیل میں ایک خطرناک توازن بھی موجود ہے۔

پاکستان ایک طرف خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی تعلقات بڑھا رہا ہے اور دوسری طرف ایران کے ساتھ ثالثی کا کردار بھی نبھا رہا ہے۔

پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حالیہ دنوں میں تہران کا دورہ کیا، جبکہ اسلام آباد ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات بحال کرنے کی کوششوں میں بھی سرگرم ہے۔

یہی پاکستان کی سب سے مشکل خارجہ پالیسی آزمائش ہے۔

جتنا پاکستان خلیجی دفاعی ڈھانچے میں گہرائی تک جائے گا، اتنا ہی ایران کے ساتھ اعتماد قائم رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

لیکن یہی متوازن تعلق پاکستان کی سب سے بڑی طاقت بھی ہے۔

اسلام آباد بیک وقت خلیج کا دفاعی شراکت دار، چین کا قریبی دوست، واشنگٹن کا قابل قبول رابطہ اور تہران سے بات کرنے والا ملک بننے کی کوشش کر رہا ہے۔

OVERSEAS POST | BALANCEایران والا توازن — پاکستان کا مشکل امتحان

پاکستان کے لیے سب سے حساس سوال یہ ہے کہ خلیج کے ساتھ دفاعی قربت بڑھاتے ہوئے ایران کا اعتماد کیسے برقرار رکھا جائے۔

خلیجی ضرورتسعودی عرب، کویت اور دیگر شراکت دار پاکستان سے زیادہ دفاعی تعاون چاہتے ہیں۔
ایرانی رابطہاسلام آباد تہران کے ساتھ سیاسی اور فوجی رابطوں کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا۔
ثالثی کا فائدہدونوں طرف بات کرنے کی صلاحیت ہی پاکستان کی علاقائی اہمیت بڑھاتی ہے۔

خطرہ: اگر علاقائی صف بندی سخت ہوئی تو پاکستان کو وہ انتخاب کرنا پڑ سکتا ہے جس سے وہ طویل عرصے سے بچتا آیا ہے۔

overseaspost.net

اگر یہ پالیسی کامیاب رہتی ہے تو پاکستان کو برسوں بعد غیر معمولی علاقائی اثر و رسوخ مل سکتا ہے۔

اگر توازن بگڑ گیا تو پاکستان کو وہ فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے جس سے وہ ہمیشہ بچنے کی کوشش کرتا رہا ہے: اپنے مختلف شراکت داروں میں سے کسی ایک کا انتخاب۔

خلیج امریکا کو نہیں چھوڑ رہا

اس لئے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ خلیج امریکی سکیورٹی چھتری سے باہر نکل رہی ہے۔

زیادہ درست بات یہ ہے کہ خلیجی ممالک اپنے دفاعی خطرات کو مختلف شراکت داروں میں تقسیم کر رہے ہیں۔

امریکا بدستور خلیج کی سب سے بڑی بیرونی فوجی طاقت رہے گا، لیکن اس کے ساتھ پاکستان، ترکی اور دوسرے علاقائی ممالک کے کردار میں اضافہ ہو رہا ہے۔

OVERSEAS POST | NEXT SCENARIOآگے کیا ہوسکتا ہے؟
مرحلہ 1تربیت، سرحدی انتظام اور صلاحیت سازی میں زیادہ پاکستانی شمولیت۔
مرحلہ 2مشترکہ فوجی مشقیں، فضائی دفاع، ڈرون اور انٹیلی جنس تعاون میں وسعت۔
مرحلہ 3مزید خلیجی ممالک کے ساتھ رسمی دفاعی پروٹوکول یا طویل مدتی انتظامات۔
اہم حدکسی باقاعدہ مشترکہ دفاعی ضمانت تک پہنچنا ایک کہیں بڑا سیاسی قدم ہوگا۔
overseaspost.net

پاکستان کو یہاں ایک خاص برتری حاصل ہے: 

بڑی فوجی قوت، خلیج کے ساتھ تاریخی اعتماد، ایٹمی طاقت کا درجہ اور ایسا سیاسی کردار جو بظاہر خطے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔

کویت کا معاہدہ شاید پاکستان کا سب سے بڑا دفاعی معاہدہ نہ ہو، لیکن یہ ایک بڑی تبدیلی کا واضح اشارہ ضرور ہے۔

مکہ سے ریاض اور اب کویت تک پاکستان کا کردار بدل رہا ہے۔

اسلام آباد اب صرف فوجی ٹرینرز اور مشیر بھیجنے والا ملک نہیں رہا، بلکہ وہ خلیج کی مجموعی سکیورٹی کیلکولیشن کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

اب سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان خلیج کو کیا دے سکتا ہے؟

اصل سوال یہ ہے:

خلیج پاکستان پر کتنا انحصار کرنے کے لئے تیار ہے.. اور اسلام آباد اس کے بدلے کیا قیمت مانگے گا؟