مشرق وسطیٰ میں طاقت کے پرانے فارمولے بہت تیزی سے بدلتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
ایک طرف سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا نیا مشترکہ دفاعی معاہدہ سامنے آیا ہے، دوسری جانب ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے نئے انتظام پر آگے بڑھ رہے ہیں۔
بظاہر یہ دو الگ پیش رفت ہیں، مگر یہ دونوں معاملات خطے میں بنتی ہوئی نئی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ تبدیلی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اسلام آباد اب صرف
خطے کے بحرانوں کا مبصر نہیں بلکہ ایک ایسے دفاعی معاہدے کا حصہ ہے جس پر تہران بھی کھل کر ردعمل دے رہا ہے۔
تہران کا مؤقف
ایران نے نئے دفاعی اتحاد کو خطرہ کیوں نہیں سمجھا؟
ایران نے نئے دفاعی اتحاد کو خطرہ کیوں نہیں سمجھا؟
💡 تہران کا بنیادی زاویۂ نظر
ایران نے معاہدأ مکہ کو ایک منفی پیش رفت کے بجائے خطے کی سیکورٹی میں خود انحصاری کی جانب پیش رفت قرار دیا ہے۔ تہران کا ماننا ہے کہ علاقائی طاقتوں کا متحد ہونا امریکہ پر انحصار ختم کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
تینوں ممالک سے گہرے تعلقات
ایران کے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب سے تاریخی و سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اسے اپنے خلاف کسی محاذ آرائی کے بجائے باہمی سیکیورٹی فریم ورک کے طور پر دیکھتا ہے۔
غیر ملکی افواج کا انخلا
ایرانی خارجہ پالیسی کا دیرینہ مقصد خطے سے امریکی اثر و رسوخ ختم کرنا ہے۔ سعودی عرب کا خطے کے ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدہ تہران کے مطابق امریکی چھتری کی ضرورت کم کر سکتا ہے۔
پاکستان کا متوازن کردار
پاکستان نے ایرانی قیادت کو اسلام آباد کے دورے کی دعوت دے کر یہ واضح پیغام دیا ہے کہ یہ معاہدہ تہران کے خلاف استعمال نہیں ہوگا، جس سے اعتماد کا ماحول قائم ہوا ہے۔
مشترکہ خطرات پر توجہ
ایرانی ترجمان کے مطابق خطے کا اصل خطرہ اسرائیل کا توسیع پسندانہ عزائم اور 'گریٹر اسرائیل' کا تصور ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مسلمان ممالک کی یکجہتی سود مند ثابت ہو سکتی ہے۔
معاہدۂ مکہ میں ایسا کیا ہے؟
مکہ مکرمہ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف کے دستخط سے سامنے آنے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کی سب سے اہم شق بالکل واضح ہے کہ 3 ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔
مبصرین کے مطابق یہ دفاعی تعاون بڑھانے کا کوئی روایتی اعلان نہیں ہے۔ یہ معاہدہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی صلاحیت اور دشمن کو روکنے قوت مضبوط کرنے کے ساتھ وسیع تر عسکری تعاون کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔
مکہ سے ہرمز تک: خطے میں طاقت کا نیا کھیل
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا مشترکہ دفاعی معاہدہ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال
مشرق وسطیٰ میں نٹوہ جیسے دفاعی اتحاد کی تشکیل اور آبنائے ہرمز پر نئے انتظام کے ذریعے علاقائی طاقت کے سیکیورٹی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں جنم لے رہی ہیں۔
تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی مسلح حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔ یہ اتحاد مشترکہ دفاعی صلاحیت اور عسکری تعاون کی نئی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
ایران نے معاہدے کو مخالفت کے بجائے بڑی تبدیلی قرار دیا ہے۔ تہران کے مطابق یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ علاقائی سلامتی کے لیے امریکا پر انحصار ختم ہو رہا ہے۔
اسلام آباد دفاعی اتحاد کا حصہ ہونے کے ساتھ ایران سے اہم تعلقات رکھتا ہے۔ پاکستان کو دونوں فریقین کے ساتھ تعلقات متوازن رکھ کر اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع حاصل ہے۔
ایران اور عمان جہاز رانی کے نئے نقشے پر متفق ہو گئے ہیں۔ تہران بحری آمدورفت کی نگرانی اور خدمات کے بدلے فیس عائد کرنے کا طریقہ کار زیر غور لارہا ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
انفرادی لحاظ سے دیکھا جائے تو تینوں ممالک کی اپنی اپنی غیر معمولی اہمیت ہے۔
سعودی عرب مشرق وسطیٰ کی بڑی معاشی اور سیاسی طاقت ہے، ترکی نیٹو کی اہم فوجی قوت ہے، جبکہ پاکستان جوہری صلاحیت رکھنے والا بڑا مسلم ملک ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس اتحاد کے اثرات صرف ان تین ملکوں کی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے۔
تہران نے خطرے کی گھنٹی کیوں نہیں بجائی؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران نے معاہدے پر فوری مخالفت کے بجائے اسے ایک ’بڑی تبدیلی‘ قرار دیا ہے۔
⚔️
معاہدۂ مکہ کتنا طاقت ور ہے؟
"تینوں میں سے کسی بھی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تمام شراکتی ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔"
عالمِ اسلام کا مرکز، غیر معمولی مالی وسائل اور جدید ترین مغربی تکنیکی اسلحہ خانہ۔
واحد مسلم ایٹمی قوت، تجربے کار پیشہ ور فوج اور بڑی دفاعی صلاحیت کا حامل۔
نیٹو کی دوسری بڑی فوج، اعلیٰ ڈرون ٹیکنالوجی اور جدید دفاعی انڈسٹری۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق اس پیش رفت کا ایک اہم مطلب یہ ہے کہ خطے کی سلامتی کے لیے امریکا پر انحصار نہیں کیا جاسکتا۔
تہران کا کہنا ہے کہ اسے اس معاہدے سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ایران کے پاکستان، ترکی اور سعودی عرب تینوں سے مضبوط اور تاریخی تعلقات موجود ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ ردعمل دراصل تہران کے اس دیرینہ مؤقف سے جڑا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سلامتی کا نظام بیرونی طاقتوں کے بجائے علاقائی ممالک کو خود تشکیل دینا چاہیے۔
بقائی نے امریکا کو خطے میں عدم تحفظ کی وجوہات میں شامل کیا ہے اور اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کا ذکر کرتے ہوئے ’گریٹر اسرائیل‘ کے تصور کو بھی کئی علاقائی ممالک کے لیے خطرہ قرار دیا۔
🌐
کیا امریکہ کے بغیر علاقائی سیکیورٹی ممکن ہے؟
+
کیا امریکہ کے بغیر علاقائی سیکیورٹی ممکن ہے؟
خود انحصاری کے حق میں معروضات
- معاہدۂ مکہ جیسے علاقائی بلاکس بیرونی فوجی اڈوں پر انحصار کم کر سکتے ہیں۔
- ایران اور عمانی مذاکرات سے ثابت ہوتا ہے کہ ساحلی ممالک خود بحری راستے محفوظ بنا سکتے ہیں۔
- امریکی مداخلت کو خطے کے متعدد ممالک کشیدگی کی بنیادی وجہ سمجھتے ہیں۔
موجودہ امریکی اثرات کے حائل چیلنجز
- امریکی بحری ناکہ بندی اور پانچواں بحری بیڑا اب بھی خلیج میں حاوی ہے۔
- تکنیکی نگرانی اور بارودی سرنگیں ہٹانے کے لیے جدید امریکی ٹیکنالوجی کا متبادل درکار ہے۔
- واشنگٹن اور تہران کے عدم اعتماد سے سفارتی پیش رفت بار بار رک جاتی ہے۔
پاکستان اچانک اتنا اہم کیوں ہوگیا؟
اس پوری صورت حال میں پاکستان ایک دلچسپ مقام پر کھڑا ہے۔
اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی معاہدے میں شریک ہے، تو دوسری طرف ایران کے ساتھ طویل سرحد اور اہم سیاسی تعلقات رکھتا ہے۔
تہران کا اس معاملے پر نرم اور معتدل ردعمل پاکستان کے لیے سفارتی طور پر اہم سمجھا جاسکتا ہے۔
🗺️
مکہ سے ہرمز تک؟ نئی صف بندی کو سمجھیں
تزویراتی خاکہ
مرحلہ 1: معاہداۂ مکہ کی تشکیل
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے ایک سہ ملکی دفاعی فریم ورک بنایا ہے جس سے خلیج اور ایشیا میں طاقت کے نئے توازن نے جنم لیا ہے۔
مرحلہ 2: آبنائے ہرمز میں مذاکرات
ایران اور عمان نے جہاز رانی کا نیا نقشہ ترتیب دیا ہے جس کے تحت ساحلی کنٹرول کو ترجیح دی جا رہی ہے اور سروسز فیس کی تجویز زیرِ غور ہے۔
مرحلہ 3: پاکستان کا کلیدی سفارتی پل
پاکستان سعودی بلاک کا حصہ ہوتے ہوئے بھی تہران کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور امریکی ناکہ بندی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ثالثی کا موقع رکھتا ہے۔
مزید یہ کہ ایران نے بتایا ہے کہ پاکستان نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کو دورے کی دعوت بھی دی ہے۔
اس طرح اسلام آباد کے سامنے ایک ایسا موقع موجود ہے جس میں وہ سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھتے ہوئے خطے کے نئے سیکیورٹی ڈھانچے میں اپنا وزن بڑھا سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز اصل امتحان
دفاعی اتحاد سے ہٹ کر اس وقت دوسرا بڑا اور اہم ترین معاملہ آبنائے ہرمز ہے، جہاں ایران اور عمان کے مذاکرات اہم مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔
📌
فیکٹ باکس: معاہدۂ مکہ میں کیا طے پایا؟
◀
فیکٹ باکس: معاہدۂ مکہ میں کیا طے پایا؟
شہزادہ محمد بن سلمان، رجب طیب اردوان، شہباز شریف
مشترکہ دفاع، سیکیورٹی خطرات کا یکمشت جواب اور عسکری ٹیکنالوجی کا تبادلہ۔
مکہ مکرمہ، سعودی عرب
جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور ایناٹولیا کا مشترکہ سیکیورٹی زون۔
تہران کے مطابق دونوں ممالک (ایران اور عمان) جہازوں کی آمدورفت کے نقشے پر متفق ہوچکے ہیں، البتہ بعض تکنیکی معاملات ابھی زیر بحث ہیں۔
ایران جنوبی بحری راستے کو غیر قانونی اور غیر محفوظ قرار دیتا ہے اور اسے جون میں امریکا کے ساتھ ہونے والی مفاہمت کے بھی خلاف سمجھتا ہے۔
بارودی سرنگیں ہٹانے کے معاملے پر بھی ایران کا مؤقف ہے کہ بنیادی ذمہ داری تہران اور مسقط کی ہے کیونکہ دونوں آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک ہیں۔
پانچ اہم نکات جو پوری کہانی بدل سکتے ہیں
▼
1. پاکستان کا 'سفارتی برج' کا کردار
اسلام آباد ایک طرف سعودی دفاعی معاہدے کا حصہ ہے اور دوسری طرف تہران سے اعلیٰ سطح روابط استوار رکھے ہوئے ہے، جو اسے تنازعات میں فیصلہ کن ثالث بناتا ہے۔
2. آبنائے ہرمز کی ممکنہ ٹول فیس
ایران کا جہاز رانی سروسز کے بدلے فیس عائد کرنے کا اشارہ مستقبل میں واشنگٹن اور عالمی منڈیوں کے ساتھ تنازع بن سکتا ہے۔
3. امریکہ پر عدم انحصار
معاہدۂ مکہ نے واضح کیا ہے کہ علاقائی طاقتیں اب سیکیورٹی کی ضمانت کے لیے امریکہ کی طرف دیکھنے کے بجائے خود کلمہ پڑھ رہی ہیں۔
4. تہران کی غیر متوقع لچک
ایران کی طرف سے اس معاہدے پر مثبت اور معتدل ردعمل نے کسی بھی فوری علاقائی قطبیت یا مقابلے کی گنجائش کو ختم کر دیا ہے۔
5. جون مفاہمت کا مستقبل
ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل اگر ختم نہ ہوا تو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا عمل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
ہرمز کی فیس، اگلا تنازع؟
ایران فی الحال بحری جہازوں پر باقاعدہ فیس کی بات نہیں کر رہا، مگر اس نے ایک اہم دروازہ کھلا رکھا ہے۔
تہران کا کہنا ہے کہ جہاز رانی کی نگرانی اور خدمات کے لیے ایک نظام بنایا جائے گا اور ایسی خدمات کے بدلے فیس لینا غیر معمولی بات نہیں ہے۔
دوسری جانب امریکا سمیت خطے کے کئی ممالک ایسی کسی بھی فیس کی مخالفت کرتے ہیں اور یہی نکتہ مستقبل میں نئے اختلاف کی بنیاد بن سکتا ہے۔
ایران یہ بھی واضح کرچکا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہنے تک ہرمز کو مکمل محفوظ راستہ نہیں سمجھا جاسکتا، جبکہ واشنگٹن مکمل بحری آمدورفت بحال ہونے کو ناکہ بندی ختم کرنے سے مشروط کرتا ہے۔
🔭
آگے کیا ہوگا؟
ممکنہ منظرنامے
علاقائی سفارتی تحرک
ایران، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سہ فریقی یا چہار فریقی مذاکرات سے ایک مربوط سیکیورٹی فریم ورک جنم لے سکتا ہے۔
ہرمز میں امریکی کشیدگی
ایران کی طرف سے ٹول فیس یا سخت نگرانی کی کوشش کی صورت میں امریکہ بحری ناکہ بندی سخت کر کے نئی جنگی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔
عمان مذاکرات کی کامیابی
تہران اور مسقط کے درمیان تکنیکی معاہدہ طے پانے سے خلیج میں بحری جہاز رانی کا نیا روڈ میپ نافذ ہو جائے گا۔
تزویراتی توازن کی تبدیلی
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا اتحاد خطے میں پاور بروکر کے طور پر ابھرے گا جس سے بیرونی طاقتوں کا اثر تدریجی طور پر کم ہوگا۔
خطہ نئے دور میں داخل ہورہا ہے؟
ایران اور امریکا اس وقت براہ راست مذاکرات نہیں کررہے، تاہم ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
جون میں ہونے والی مفاہمت سے جنگ ختم کرنے، ہرمز اور ایرانی جوہری پروگرام جیسے مسائل سلجھانے کی امید پیدا ہوئی تھی، مگر گزشتہ ماہ حملوں کے تبادلے نے اس عمل کو روک دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ معاہدۂ مکہ اور ہرمز مذاکرات کسی بڑے علاقائی سمجھوتے کا آغاز ہیں یا کوئی نئی صف بندی؟۔
پاکستان کے لیے دونوں صورتوں میں داؤ بڑا ہے، کیونکہ آنے والے دور میں خلیج کی سلامتی، توانائی کے راستے اور علاقائی اتحاد براہ راست اس کے معاشی اور تزویراتی مفادات کو متاثر کرسکتے ہیں۔