ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنے کے لیے ایک نئے راستے پر بات چیت کررہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق خلیج میں داخل ہونے والے جہاز ایرانی نگرانی جبکہ باہر جانے والے جہاز عمانی انتظام میں سفر کرسکتے ہیں۔
معاہدہ توانائی کی برآمدات بحال کرسکتا ہے، لیکن اس سے ایران کو خلیج میں دیرپا اثر و رسوخ ملنے کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔
ایران اور عمان کے درمیان مجوزہ بحری معاہدہ دنیا کے اہم ترین توانائی راستے کو دوبارہ کھول سکتا ہے
لیکن سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے سامنے ایک مشکل سوال بھی کھڑا کرتا ہے: فوری طور پر برآمدات بحال کی جائیں یا ایران کے ایسے اثر و رسوخ کو قبول کیا جائے جو مستقبل میں مستقل اختیار بن سکتا ہے؟
نقشے پر دیکھا جائے تو ایران اور عمان کے درمیان زیرِ غور معاہدہ محض ایک نئے بحری راستے کی نشاندہی معلوم ہوتا ہے، جس کے ذریعے جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکیں گے۔
لیکن اس کی جغرافیائی حدود اور فنی اصطلاحات کے پیچھے ایک بڑی سیاسی کشمکش جاری ہے:
خلیج میں داخل ہونے والے جہازوں کی نگرانی کون کرے گا، محفوظ سفر کی ضمانت کس کے پاس ہوگی، اور کیا تہران اپنی فوجی طاقت کو دنیا کے اہم ترین اقتصادی راستے پر تسلیم شدہ اختیار میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا؟
ایران نے اعلان کیا ہے کہ عمان کے ساتھ نئے بحری راستے کے جغرافیائی نقاط پر ابتدائی مفاہمت ہو گئی ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق مجوزہ انتظام میں خلیج میں داخل ہونے والے جہاز ایرانی نگرانی میں سفر کرسکتے ہیں، جبکہ باہر جانے والے جہازوں کی نقل و حرکت عمان کے زیرِ انتظام ہوگی۔
اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو معاملہ صرف آبنائے ہرمز کھولنے تک محدود نہیں رہے گا۔
ایران ایک ایسے ملک سے، جس پر آزاد جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے، ایک ایسے فریق میں تبدیل ہو جائے گا جسے نظرانداز کرکے کسی جہاز کا خلیج میں داخل ہونا ممکن نہیں ہوگا۔
تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ ایران کو واقعی ’خلیج کی کنجی‘ مل گئی ہے۔
معاہدے کا مکمل متن سامنے نہیں آیا اور عمان نے بھی باضابطہ طور پر یہ اعلان نہیں کیا کہ اس نے ایران کو جہازوں پر سیاسی یا خود مختارانہ اختیار دے دیا ہے۔
مزید پڑھیں
اب تک کیا طے ہوا ہے؟
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق تہران اور مسقط مجوزہ بحری راستے کے جغرافیائی نقاط پر باہمی مفاہمت تک پہنچ گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اہم نکات پر مشتمل مشترکہ اعلامیہ تیاری کے آخری مرحلے میں ہے۔
تاہم بقائی نے یہ بھی کہا کہ اعلامیے کا اجرا اس بات پر منحصر ہے کہ کوئی تیسرا فریق اس عمل میں رکاوٹ نہ ڈالے۔
اسے امریکا یا ان علاقائی طاقتوں کی جانب اشارہ سمجھا جارہا ہے جو آبنائے ہرمز میں ایران کے وسیع کردار کی مخالفت کرتی ہیں۔
عمان کا سرکاری موقف زیادہ محتاط ہے۔
عمانی وزارتِ خارجہ کے مطابق مسقط تمام فریقوں کے ساتھ شفاف اور غیر جانب دار تعاون کے ذریعے آزاد جہاز رانی بحال کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
عمان نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی انتظام بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے سمندری قانون کے مطابق ہونا چاہئے۔
اس نے ایران کو جہازوں کی تلاشی یا انہیں روکنے کا اختیار دینے کی تصدیق نہیں کی۔
اس لیے سرکاری طور پر تصدیق شدہ بات صرف اتنی ہے کہ دونوں ممالک نے بحری راستے اور اس کے جغرافیائی نقاط پر اتفاق کیا ہے۔
ایران اور عمان کے درمیان جہازوں کی نگرانی تقسیم کرنے کی تفصیلات ابھی علاقائی ذرائع کی اطلاعات پر مبنی ہیں۔
نگرانی اور کنٹرول میں بڑا فرق
ایرانی ’نگرانی‘ کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ تہران خلیج میں داخل ہونے والے جہازوں سے رابطہ کرے، انہیں محفوظ راستے کی ہدایات دے اور ان کی معلومات عمان کے ساتھ شیئر کرے۔
یہ فنی اقدامات ایران کو جہاز روکنے کا سیاسی اختیار دیے بغیر بھی کیے جاسکتے ہیں۔
لیکن اگر تہران کو جہازوں کی تلاشی، انہیں تاخیر کا شکار کرنے یا کسی مخصوص ملک سے وابستہ ٹینکر کو روکنے کا حق مل جاتا ہے تو یہ معاہدہ کہیں زیادہ سنگین صورت اختیار کرلے گا۔
⏱️ ایک منٹ میں کہانی ⌄
- ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز کے مجوزہ بحری راستے پر ابتدائی مفاہمت کرلی ہے۔
- علاقائی ذرائع کے مطابق خلیج میں داخل ہونے والے جہاز ایرانی نگرانی میں آسکتے ہیں۔
- مکمل معاہدہ اور ایران کے ممکنہ اختیارات ابھی منظرِ عام پر نہیں آئے۔
- سعودی عرب اپنی تیل برآمدات کے بڑے حصے کے لیے ہرمز پر انحصار کرتا ہے۔
- اصل فیصلہ معاہدے میں شامل نگرانی، ضمانتوں اور اعتراض کے حق کی تشریح کرے گی۔
اصل فیصلہ نقشے پر کھینچی گئی لکیر نہیں بلکہ ان سوالات کے جوابات کریں گے:
جہاز کو گزرنے کی اجازت کون دے گا؟
اس کے سامان کی نگرانی کس کے پاس ہوگی؟
تنازع پیدا ہونے پر فیصلہ کون کرے گا؟
اور معاہدے کی خلاف ورزی روکنے کے لیے طاقت کس کے پاس ہوگی؟
ایران معاہدے سے پہلے ہی کیا حاصل کرچکا ہے؟
ایران کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس نے بحث کی نوعیت تبدیل کردی ہے۔
پہلے امریکا اور خلیجی ممالک یہ سوچ رہے تھے کہ ایران کو ہرمز میں مداخلت سے کیسے روکا جائے؛ اب وہ ایران سے پوچھ رہے ہیں کہ جہاز رانی کن شرائط پر بحال ہوسکتی ہے۔
اس طرح جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش ایک مؤثر سیاسی دباؤ میں تبدیل ہو گئی۔
خلیجی ممالک اپنی برآمدات بحال کرنا چاہتے ہیں، ایشیائی معیشتوں کو تیل اور گیس درکار ہے، جبکہ واشنگٹن توانائی کی بڑھتی قیمتوں کو مزید سیاسی اور اقتصادی بحران بننے سے روکنا چاہتا ہے۔
📌 رپورٹ کے اہم نکات ⌄
ممکنہ معاہدے کی امید میں برینٹ خام تیل کی قیمت 23 جولائی کو تقریباً 100 ڈالر فی بیرل سے کم ہوکر 80 ڈالر کے قریب آگئی۔
تاہم رائٹرز کے تجزیئے میں خبردار کیا گیا ہے کہ منڈیوں کا یہ اعتماد ضرورت سے زیادہ ہوسکتا ہے، کیونکہ نیا انتظام کچھ برآمدات تو بحال کرسکتا ہے لیکن مکمل آزاد جہاز رانی کی ضمانت نہیں دیتا۔
ایران ہرمز کھولنے کو اپنی بندرگاہوں سے امریکی محاصرہ ہٹانے، حملے رکوانے اور پابندیوں میں نرمی سے بھی منسلک کرسکتا ہے۔
یوں یہ معاہدہ الگ تھلگ بحری انتظام کے بجائے امریکا اور ایران کے درمیان ایک بڑی سیاسی سودے بازی کا حصہ بن جائے گا۔
عمان خلیجی سلامتی کا نظام بدلنا چاہتا ہے
عمان کے لئے یہ معاملہ صرف تیل بردار جہازوں کی واپسی تک محدود نہیں۔
عمانی وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی نے جولائی میں ایک نیا تصور پیش کیا تھا، جس کے مطابق ایران کو محدود رکھنے کی پرانی پالیسی ختم کرکے خلیج کے ساحل پر واقع تمام 8 ممالک کو سلامتی کے نئے نظام میں شامل کیا جائے۔
ان میں خلیج تعاون کونسل کے چھ ممالک کے ساتھ ایران اور عراق بھی شامل ہوں گے۔
📊 آبنائے ہرمز: فیکٹ باکس ⌄
مسقط کا خیال ہے کہ امریکی فوجی اڈوں اور عسکری طاقت پر طویل انحصار نہ جنگ کو روک سکا اور نہ جہاز رانی کو محفوظ رکھ پایا۔
اس لیے مستقل سلامتی کے لیے ایران کو الگ رکھنے کے بجائے اسے ذمہ داریوں کے ساتھ نظام میں شامل کرنا ضروری ہے۔
یہ سوچ عمان کو محض پیغامات پہنچانے والے ثالث کے بجائے خلیجی سلامتی کے نئے نظام کا اہم فریق بنا سکتی ہے۔
لیکن جس اقدام کو مسقط ضروری شمولیت سمجھتا ہے، کچھ خلیجی ممالک اسے ایران کی جانب سے طاقت کے استعمال کا انعام بھی تصور کرسکتے ہیں۔
سعودی عرب کی مشکل: آج کا نقصان یا کل کا خطرہ؟
آبنائے ہرمز کی حیثیت میں کسی بھی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سعودی عرب سرفہرست ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 2024 میں سعودی عرب روزانہ تقریباً 55 لاکھ بیرل خام تیل اور کنڈینسیٹ ہرمز کے راستے بھیج رہا تھا۔
یہ آبنائے سے گزرنے والے مجموعی خام تیل کا تقریباً 38 فیصد تھا۔
سعودی عرب کے پاس مشرقی علاقے سے بحیرۂ احمر میں ینبع تک جانے والی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن موجود ہے، مگر وہ ہرمز سے گزرنے والی تمام برآمدات کی جگہ نہیں لے سکتی۔ دوسری جانب بحیرۂ احمر اور خلیج عدن میں سعودی جہازوں کو حوثی خطرات نے متبادل راستے کو بھی غیر محفوظ بنادیا ہے۔
🇸🇦 یہ سعودی عرب کے لیے کیوں اہم ہے؟ ⌄
یوں ریاض دو بحری رکاوٹوں کے درمیان آگیا ہے:
مشرق میں ایران اور ہرمز، جبکہ جنوب مغرب میں حوثی اور باب المندب۔
معاہدے کو مسترد کرنے سے برآمدات میں خلل اور انشورنس و نقل و حمل کی لاگت جاری رہ سکتی ہے۔
دوسری طرف غیر مشروط قبولیت ایران کو ایسا اختیار دے سکتی ہے جسے وہ ہر آئندہ بحران میں استعمال کرے۔
اسی لیے امکان ہے کہ سعودی عرب ایک عارضی بحری انتظام قبول کرلے، بشرطیکہ بین الاقوامی ضمانتیں موجود ہوں، ایران جہازوں کی تلاشی یا امتیازی سلوک کا اختیار نہ رکھتا ہو اور اختلافات کے حل کے لئے غیر جانب دار نظام قائم کیا جائے۔
آگے کیا ہوسکتا ہے؟
سب سے قابلِ عمل راستہ ایک محدود فنی معاہدہ ہے، جس کے تحت ایران اور عمان جہازوں کی رہنمائی کریں مگر انہیں روکنے کا اختیار نہ رکھتے ہوں۔
مناسب بین الاقوامی نگرانی کے ساتھ سعودی عرب اور امریکا اسے قبول کرسکتے ہیں۔
دوسرا امکان یہ ہے کہ معاہدہ امریکا اور ایران کی بڑی سیاسی ڈیل کا حصہ بن جائے، جس میں حملے روکنا، ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کرنا اور جہاز رانی مرحلہ وار بحال کرنا شامل ہو۔
🔎 کیا تصدیق ہوئی، کیا ابھی ثابت نہیں؟ ⌄
✅ تصدیق شدہ
ایران اور عمان نے مجوزہ بحری راستے کے جغرافیائی نقاط پر باہمی مفاہمت کی ہے اور مشترکہ اعلامیہ تیاری کے آخری مرحلے میں ہے۔
⚠️ ابھی ثابت نہیں
- ایران کو تمام جہازوں پر مکمل اختیار ملنا
- جہازوں کی تلاشی یا انہیں روکنے کا حق
- امریکا اور سعودی عرب کی حتمی منظوری
- بین الاقوامی ضمانت یا نگرانی کا طریقہ
تیسرا امکان مذاکرات کی ناکامی ہے، خصوصاً اگر ایران فنی نگرانی سے بڑھ کر سیاسی یا فوجی اختیارات کا مطالبہ کرے۔ ایسی صورت میں ہرمز دوبارہ تصادم کا مرکز بن سکتا ہے۔
ایران کو ابھی باضابطہ طور پر خلیج کی کنجی نہیں ملی، لیکن وہ خود کو ایسے فریق کے طور پر منوانے میں کامیاب ہوگیا ہے جسے کسی نئے بحری نظام سے باہر نہیں رکھا جاسکتا۔
سعودی عرب کے لیے خطرہ اب صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہا۔
اسے مشرق میں ایران اور جنوب مغرب میں حوثیوں کے دباؤ کا بیک وقت سامنا ہے۔
اس لئے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ خلیج میں داخلہ کون کنٹرول کرے گا، بلکہ یہ بھی ہے کہ سعودی تیل کے دنیا تک محفوظ پہنچنے کی ضمانت کون دے گا۔
مجوزہ معاہدے میں سب سے اہم الفاظ ’راستہ‘ اور ’جغرافیائی نقاط‘ نہیں، بلکہ ’نگرانی‘، ’ضمانتیں‘ اور ’اعتراض کا حق‘ ہوں گے۔
انہی الفاظ کی تفصیلات طے کریں گی کہ معاہدے نے آزاد جہاز رانی بحال کی ہے یا ایران کو وہ کنجی دے دی ہے جس کی اسے طویل عرصے سے تلاش تھی۔