اربیل کے فوجی اڈے سے آخری امریکی طیارے کی روانگی بظاہر صرف ایک فوجی انخلا ہے، لیکن عراق کے لیے یہ ایک ایسے دور کا اختتام ہے، جس نے پورے مشرق وسطیٰ کی سیاست بدل کر رکھ دی تھی۔
مزید پڑھیں
30 ستمبر 2026 کو امریکا نے عراق میں داعش کے خلاف اپنا فوجی مشن باضابطہ طور پر ختم کر دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اربیل ایئر بیس سے امریکی فوجیوں اور سازوسامان کی واپسی کے ساتھ آپریشن اِن ہیرنٹ ریزولو کا عراقی باب مکمل ہوگیا اور اس پیش رفت کے بعد اب عراق کی سلامتی کی بنیادی ذمہ داری خود عراقی فورسز کے پاس ہوگی۔
لیکن خطے کے موجودہ حالات کے پیش نظر تجزیہ کاروں کا سوال ہے کہ کیا امریکہ واقعی عراق سے چلا گیا اور اس کے جانے کے بعد پیدا ہونے والی جگہ کون پُر کرے گا؟
امریکا واقعی عراق سے چلا گیا یا صرف طریقہ بدلا؟
+
امریکا واقعی عراق سے چلا گیا یا صرف طریقہ بدلا؟
جو ختم ہوا: باضابطہ عسکری مشن
اربیل ایئر بیس سے آخری پرواز کے ساتھ آپریشن اِن ہیرنٹ ریزولو کا عراقی باب مکمل ہو گیا۔ عراق بھر میں لڑاکا وردی والے امریکی فوجیوں کی مستقل موجودگی اور زمینی گشت باضابطہ ختم ہو چکا ہے۔
جو باقی رہا: انٹیلی جنس و سیکیورٹی گٹھ جوڑ
واشنگٹن دوطرفہ دفاعی شراکت داری کے تحت عراقی افواج کو ٹارگٹڈ تربیت، فضائی سرویلنس اور ڈیٹا فراہم کرتا رہے گا۔ سفارتی حفاظت کے دستے بغداد میں موجود ہیں اور انسدادِ داعش کا ریجنل کمانڈ سینٹر اب ہمسایہ ملک اردن منتقل ہو چکا ہے۔
تزویراتی نتیجہ: امریکا نے عراق سے براہِ راست جنگی بوجھ ہٹا لیا ہے، مگر خطے پر اثر و رسوخ رکھنے کے لیے اپنی موجودگی کو اڈوں کے بجائے اردن اور انٹیلی جنس رابطوں میں محفوظ کر لیا ہے۔
2003ء سے 2026ء تک: طویل اور خونریز سفر
امریکا نے مارچ 2003 میں صدام حسین کی حکومت گرانے کے لیے عراق پر حملہ کیا تھا۔
پھر بغداد چند ہی ہفتوں میں امریکی قبضے میں آگیا، مگر اس کے بعد مزاحمت، فرقہ وارانہ تشدد اور سیاسی عدم استحکام کا ایک طویل دور شروع ہوا۔
عراق سے امریکی انخلا: ۲۳ سالہ جنگ کا خاتمہ اور نیا دور
اربیل ایئر بیس سے امریکی افواج کی واپسی کے ساتھ دو دہائیوں پر محیط مشن ختم، عراقی خودمختاری کو پیچیدہ سیکیورٹی امتحانات کا سامنا ہے۔
امریکی افواج کا عسکری باب باضابطہ بند ہو گیا ہے، مگر خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے عراقی ریاست کو داخلی مسلح دھڑوں اور داعش کے باقیات پر مکمل قابو پانا ہوگا۔
🪖 طویل عسکری مداخلت
مارچ 2003 میں صدام حکومت کے خاتمے سے شروع ہونے والے دور میں 2 لاکھ سے زائد عراقی شہری اور 4,599 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔
⚔️ انسدادِ داعش مہم
شدت پسند گروہ کے ابھرنے پر 2014 میں امریکا کو دوبارہ آنا پڑا، جس کے خلاف فضائی و زمینی آپریشن بالآخر ستمبر 2026 میں مکمل ہوا۔
💸 جنگ کی مجموعی لاگت
براؤن یونیورسٹی کے مطابق دو دہائیوں کے دوران جنگی کارروائیوں، بحالی اور زخمی فوجیوں کی دیکھ بھال نے امریکی معیشت پر غیر معمولی بوجھ ڈالا۔
🛡️ تخفیفِ اسلحہ کا ہدف
بغداد نے غیر ریاستی مسلح گروپوں سے اسلحہ واپسی کے لیے جون 2027 کی مدت رکھی ہے، تاکہ انخلا کے بعد ایرانی اثر اور سیکیورٹی خلا قابو میں رہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
2011 میں امریکی فوج کا بڑا حصہ عراق سے نکل گیا تھا۔ امریکی فوجی تاریخ کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق دسمبر 2011 تک مرکزی فوجی مشن ختم ہو چکا تھا۔
لیکن صرف 3 سال بعد داعش نے عراق اور شام کے بڑے علاقوں پر قبضہ کر لیا اور امریکا کو 2014 میں دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنا پڑی۔
یہی آپریشن اب 12 سال کے بعد ستمبر 2026ء میں ختم ہوا ہے۔
تاریخی تخمینہ
23 سالہ جنگ نے عراق کو کیا دیا اور کیا چھینا؟
▼
23 سالہ جنگ نے عراق کو کیا دیا اور کیا چھینا؟
انسانی جانوں اور کھربوں ڈالرز کا دردناک نقصان
براؤن یونیورسٹی کے 'کاسٹس آف وار' منصوبے کے مطابق 2003 سے 2023 تک جنگی تشدد میں کم از کم 1 لاکھ 87 ہزار سے 2 لاکھ 10 ہزار معصوم عراقی شہری شہید ہوئے، جبکہ 4,599 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ اس تصادم پر 2.89 ٹریلین ڈالر سے زائد مالی وسائل ضائع ہوئے۔
⚖️ جو حاصل ہوا: آمریت کا خاتمہ و انتخابی نظام
صدام حسین کی دہائیوں پر محیط آمریت کا خاتمہ ہوا اور عراق میں کثیر الجماعتی پارلیمانی انتخابات اور کردستان کی باضابطہ آئینی خود مختاری کا ڈھانچہ قائم ہوا۔
💔 جو چھن گیا: معاشرتی امن اور معاشی سالمیت
فرقہ وارانہ فسادات، 2014 میں داعش کا ظہور، تاریخی شہروں کی بربادی اور ریاست کے متوازی درجنوں مسلح گروہوں کے قیام نے عراقی معاشرے کو شدید اندرونی عدم استحکام سے دوچار کر دیا۔
امریکا گیا، لیکن تعلق ختم نہیں ہوا
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ فوجی مشن ختم ہوا ہے، عراق کے ساتھ دفاعی تعلق ختم نہیں ہوا۔
امریکی حکومت جولائی ہی میں واضح کر چکی تھی کہ انسدادِ داعش مشن کے بعد دونوں ملک معمول کے دوطرفہ دفاعی تعلق کی طرف بڑھیں گے۔
CENTCOM established Combined Joint Task Force - Operation Inherent Resolve in 2014 to advise, assist, and enable partner forces in the fight against ISIS in Iraq and Syria. Over the last 12 years, the United States and Coalition partners have achieved tremendous success in… pic.twitter.com/05lLXmx1EB
— U.S. Central Command (@CENTCOM) September 27, 2026
امریکا عراقی فورسز کو مخصوص تربیت اور انٹیلی جنس مدد دیتا رہے گا، جبکہ داعش کے خلاف علاقائی مشن کا مرکز اب اردن منتقل ہو چکا ہے۔ امریکی اہلکار سفارتی تنصیبات کی حفاظت کے لیے بھی موجود رہیں گے۔
یعنی امریکی وردی والے فوجیوں کی بڑی موجودگی ختم، مگر واشنگٹن کا سکیورٹی اثر ابھی باقی رہے گا۔
🌐
امریکی انخلا کے بعد سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہوگا؟
امریکی انخلا کے بعد سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہوگا؟
ایران اور اتحادی دھڑے
🇮🇷امریکی فضائی و زمینی نگرانی ختم ہونے سے تہران سے ہمدردی رکھنے والے گروہوں کو سیکیورٹی خلا میں اپنا سیاسی اثرورسوخ اور بارڈر کوریڈورز پر تسلط مستحکم کرنے کی کھلی گنجائش مل گئی ہے۔
بغداد کی خودمختاری
🏛️وزیراعظم علی الزیدی کی حکومت قوم پرستانہ بنیادوں پر غیر ملکی فوج کے مکمل انخلا کو سیاسی فتح بنا کر پیش کر رہی ہے، جس سے بیرونی قبضے کے الزامات سے نجات ممکن ہوئی ہے۔
علاقائی معاشی شراکت دار
🤝ترکیہ اور خلیجی ریاستیں اب عراق کو براہِ راست تجارتی و توانائی راہداریوں کے منصوبوں میں شامل کرنے کی پوزیشن میں ہیں تاکہ تہران کے یکطرفہ اثر کو توازن دیا جا سکے۔
بغداد کے لیے سب سے بڑا امتحان کیا ہے؟
عراقی وزیر اعظم علی الزیدی نے انخلا کو خودمختاری کے ایک نئے مرحلے کا آغاز قرار دیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ عراقی فوج، پولیس اور کرد پیشمرگہ اب ملک کے دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
خطے کی سیاست اور جغرافیائی حالات پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق زمینی حقیقت زیادہ پیچیدہ ہے۔
ایک طرف داعش کے چھوٹے گروہ اور خفیہ سیلز اب بھی خطرہ سمجھے جاتے ہیں، دوسری طرف ایران سے قریبی تعلق رکھنے والے مسلح دھڑوں کا معاملہ بغداد کے لیے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی انخلا کے بعد عراقی سیاست و سلامتی میں ایرانی اثرورسوخ بڑھنے پر بحث جاری ہے۔
⚠️
داعش، ایران اور کردستان: عراق کے سامنے تین بڑے خطرے
داعش، ایران اور کردستان: عراق کے سامنے تین بڑے خطرے
1۔ ایران نواز مسلح دھڑے اور ریاست کی بے بسی
عراقی حکومت نے نجی ملیشیاؤں سے ہتھیار واپس لینے کے لیے جون 2027 کی تاریخ مقرر کی ہے، مگر طاقتور مسلح گروہوں کو باضابطہ فوج کے تابع کرنا انتہائی کٹھن چیلنج ہے، جو کسی بھی وقت اندرونی خانہ جنگی کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
2۔ 🏴 داعش کے سلیپر سیلز کا خطرہ
داعش کا زمینی خلافت کا خواب ختم ہو چکا ہے مگر صحرائی وادیوں اور دیہی علاقوں میں اس کے خفیہ نیٹ ورکس اب بھی عراقی فورسز پر گھات لگا کر حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
3۔ 🛡️ کردستان (اربیل) کا دفاعی خلا
امریکی فضائی شیلڈ ختم ہونے کے بعد کرد قیادت شدید فکرمند ہے کہ خطہ بیرونی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے سامنے غیر محفوظ ہو جائے گا، جس کے لیے وہ بغداد سے دفاعی ضمانتیں چاہتی ہے۔
الزیدی حکومت نے غیر ریاستی مسلح گروہوں سے ہتھیار واپس لینے کی آخری مدت جون 2027 مقرر کی ہے، جس پر بعض گروہوں نے ہتھیار دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن پورے عمل کی کامیابی ابھی یقینی نہیں۔
کردستان کیوں پریشان ہے؟
سب سے زیادہ بے چینی عراقی کردستان میں نظر آتی ہے، جہاں اربیل امریکی فوج کا آخری بڑا مرکز تھا۔
Video shows columns of US equipment leaving Erbil as the US wraps up its withdrawal from the region ahead of the September 30 deadline for fully withdrawing from Erbil: https://t.co/cN0COtExHC pic.twitter.com/jSUb1L00Yb
— Kurdistan Watch (@KurdistanWatch) September 28, 2026
کرد حکام کو خدشہ ہے کہ امریکی فضائی دفاعی نظام اور فوجی موجودگی ختم ہونے کے بعد خطہ میزائل، ڈرون حملوں یا داعش کی ممکنہ سرگرمیوں کے مقابلے میں زیادہ کمزور ہو سکتا ہے۔
اُدھر کرد قیادت بغداد کے ساتھ بہتر دفاعی رابطے اور فضائی دفاع کی مضبوط صلاحیت چاہتی ہے۔
⏳
اب آگے کیا ہوگا؟ عراق کے لیے اگلے 12 ماہ کیوں اہم ہیں؟
4 مراحل
اب آگے کیا ہوگا؟ عراق کے لیے اگلے 12 ماہ کیوں اہم ہیں؟
1۔ جون 2027 کی ڈیڈلائن اور تخفیفِ اسلحہ
بغداد کی الزیدی حکومت کا سب سے نازک مرحلہ غیر ریاستی ملیشیاؤں سے بھاری ہتھیار جمع کرنا ہے؛ اگر دھڑے انکار کرتے ہیں تو ریاستی رٹ کے لیے بڑا امتحان کھڑا ہوگا۔
2۔ عراقی فوج کی فضائی و انٹیلی جنس صلاحیت
امریکی فضائی مدد کے بغیر کیا عراقی فضائیہ اور انسدادِ دہشت گردی یونٹس تنہا طور پر دور افتادہ علاقوں میں داعش کی نقل و حرکت روک پائیں گے؟ یہ اگلے چند ماہ میں واضح ہوگا۔
3۔ اربیل اور بغداد کے سیکیورٹی مذاکرات
کرد پیشمرگہ اور وفاقی افواج کے درمیان مشترکہ دفاعی بریگیڈز کا قیام تیز کرنا ہوگا تاکہ اربیل ایئر بیس کے خالی ہونے سے پیدا ہونے والا اسٹریٹجک خلا پُر کیا جا سکے۔
4۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان توازن کا کڑا امتحان
امریکی فوج کے نکلنے کے بعد بغداد کو تہران کی قربت اور واشنگٹن کے مالی و تجارتی تعلقات کے درمیان ایسا توازن رکھنا ہوگا جس سے عراق کسی نئی پراکسی جنگ کا میدان نہ بنے۔
اس جنگ کی قیمت کتنی تھی؟
امریکی فوج تو نکل گئی، لیکن جنگ کی قیمت صرف فوجی اڈوں کے بند ہونے سے ختم نہیں ہوتی۔
براؤن یونیورسٹی کے کاسٹس آف وار منصوبے کے مطابق مارچ 2003 سے مارچ 2023 تک عراق میں براہِ راست جنگی تشدد سے ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد تقریباً 1 لاکھ 87 ہزار سے 2 لاکھ 10 ہزار کے درمیان رہی، جبکہ 4,599 امریکی فوجی بھی مارے گئے۔
اسی تحقیق کے مطابق عراق اور شام کی جنگوں پر امریکی مالی لاگت، مستقبل میں سابق فوجیوں کی دیکھ بھال سمیت 2.89 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔
اصل امتحان اب ہوگا
عراق کے لیے 30 ستمبر صرف امریکی فوج کے جانے کی تاریخ نہیں ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا بغداد داعش کو دوبارہ سر اٹھانے سے روک سکے گا، مسلح گروہوں کو ریاست کے تابع کر پائے گا اور امریکا و ایران کی کشمکش سے خود کو بچا سکے گا؟
عراق میں امریکی فوجی اڈوں کے دروازے تو بند ہو رہے ہیں، لیکن دو دہائیوں سے زیادہ عرصے کی جنگ کے سیاسی، سکیورٹی اور معاشرتی اثرات ابھی ختم نہیں ہوئے۔
اسی لیے عراق میں امریکی فوج کا آخری طیارہ اُڑ جانا ایک کہانی کا اختتام ضرور ہے، مگر ممکن ہے عراق کی اگلی اور زیادہ مشکل کہانی اسی لمحے سے شروع ہوئی ہو۔