براہ راست نشریات

عراق سے انخلا: امریکی دور ختم یا کسی نئی کہانی کا آغاز؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
عراق سے امریکی انخلا کے دوران اربیل فوجی اڈے سے واپسی کا منظر
امریکا نے مارچ 2003 میں صدام حسین کی حکومت گرانے کے لیے عراق پر حملہ کیا تھا
OVERSEAS POST  |  PREMIUM ANALYSIS ←

اربیل کے فوجی اڈے سے آخری امریکی طیارے کی روانگی بظاہر صرف ایک فوجی انخلا ہے، لیکن عراق کے لیے یہ ایک ایسے دور کا اختتام ہے، جس نے پورے مشرق وسطیٰ کی سیاست بدل کر رکھ دی تھی۔

مزید پڑھیں

30 ستمبر 2026 کو امریکا نے عراق میں داعش کے خلاف اپنا فوجی مشن باضابطہ طور پر ختم کر دیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اربیل ایئر بیس سے امریکی فوجیوں اور سازوسامان کی واپسی کے ساتھ آپریشن اِن ہیرنٹ ریزولو کا عراقی باب مکمل ہوگیا اور اس پیش رفت کے بعد اب عراق کی سلامتی کی بنیادی ذمہ داری خود عراقی فورسز کے پاس ہوگی۔

لیکن خطے کے موجودہ حالات کے پیش نظر تجزیہ کاروں کا سوال ہے کہ کیا امریکہ واقعی عراق سے چلا گیا اور اس کے جانے کے بعد پیدا ہونے والی جگہ کون پُر کرے گا؟

امریکا کا پرچم عراق کا پرچم

امریکا واقعی عراق سے چلا گیا یا صرف طریقہ بدلا؟

+
🛬

جو ختم ہوا: باضابطہ عسکری مشن

اربیل ایئر بیس سے آخری پرواز کے ساتھ آپریشن اِن ہیرنٹ ریزولو کا عراقی باب مکمل ہو گیا۔ عراق بھر میں لڑاکا وردی والے امریکی فوجیوں کی مستقل موجودگی اور زمینی گشت باضابطہ ختم ہو چکا ہے۔

📡

جو باقی رہا: انٹیلی جنس و سیکیورٹی گٹھ جوڑ

واشنگٹن دوطرفہ دفاعی شراکت داری کے تحت عراقی افواج کو ٹارگٹڈ تربیت، فضائی سرویلنس اور ڈیٹا فراہم کرتا رہے گا۔ سفارتی حفاظت کے دستے بغداد میں موجود ہیں اور انسدادِ داعش کا ریجنل کمانڈ سینٹر اب ہمسایہ ملک اردن منتقل ہو چکا ہے۔

2003ء سے 2026ء تک: طویل اور خونریز سفر

امریکا نے مارچ 2003 میں صدام حسین کی حکومت گرانے کے لیے عراق پر حملہ کیا تھا۔

پھر بغداد چند ہی ہفتوں میں امریکی قبضے میں آگیا، مگر اس کے بعد مزاحمت، فرقہ وارانہ تشدد اور سیاسی عدم استحکام کا ایک طویل دور شروع ہوا۔

عراق سے امریکی انخلا: ۲۳ سالہ جنگ کا خاتمہ اور نیا دور

اربیل ایئر بیس سے امریکی افواج کی واپسی کے ساتھ دو دہائیوں پر محیط مشن ختم، عراقی خودمختاری کو پیچیدہ سیکیورٹی امتحانات کا سامنا ہے۔

امریکی افواج کا عسکری باب باضابطہ بند ہو گیا ہے، مگر خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے عراقی ریاست کو داخلی مسلح دھڑوں اور داعش کے باقیات پر مکمل قابو پانا ہوگا۔

مرحلہ 1

🪖 طویل عسکری مداخلت

23 سال

مارچ 2003 میں صدام حکومت کے خاتمے سے شروع ہونے والے دور میں 2 لاکھ سے زائد عراقی شہری اور 4,599 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔

مرحلہ 2

⚔️ انسدادِ داعش مہم

12 سال

شدت پسند گروہ کے ابھرنے پر 2014 میں امریکا کو دوبارہ آنا پڑا، جس کے خلاف فضائی و زمینی آپریشن بالآخر ستمبر 2026 میں مکمل ہوا۔

مرحلہ 3

💸 جنگ کی مجموعی لاگت

2.89 ٹریلین ڈالر

براؤن یونیورسٹی کے مطابق دو دہائیوں کے دوران جنگی کارروائیوں، بحالی اور زخمی فوجیوں کی دیکھ بھال نے امریکی معیشت پر غیر معمولی بوجھ ڈالا۔

مرحلہ 4

🛡️ تخفیفِ اسلحہ کا ہدف

2027 ڈیڈ لائن

بغداد نے غیر ریاستی مسلح گروپوں سے اسلحہ واپسی کے لیے جون 2027 کی مدت رکھی ہے، تاکہ انخلا کے بعد ایرانی اثر اور سیکیورٹی خلا قابو میں رہے۔

2011 میں امریکی فوج کا بڑا حصہ عراق سے نکل گیا تھا۔ امریکی فوجی تاریخ کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق دسمبر 2011 تک مرکزی فوجی مشن ختم ہو چکا تھا۔

لیکن صرف 3 سال بعد داعش نے عراق اور شام کے بڑے علاقوں پر قبضہ کر لیا اور امریکا کو 2014 میں دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنا پڑی۔

یہی آپریشن اب 12 سال کے بعد ستمبر 2026ء میں ختم ہوا ہے۔

تاریخی تخمینہ

23 سالہ جنگ نے عراق کو کیا دیا اور کیا چھینا؟

▼
📊

انسانی جانوں اور کھربوں ڈالرز کا دردناک نقصان

براؤن یونیورسٹی کے 'کاسٹس آف وار' منصوبے کے مطابق 2003 سے 2023 تک جنگی تشدد میں کم از کم 1 لاکھ 87 ہزار سے 2 لاکھ 10 ہزار معصوم عراقی شہری شہید ہوئے، جبکہ 4,599 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ اس تصادم پر 2.89 ٹریلین ڈالر سے زائد مالی وسائل ضائع ہوئے۔

⚖️ جو حاصل ہوا: آمریت کا خاتمہ و انتخابی نظام

صدام حسین کی دہائیوں پر محیط آمریت کا خاتمہ ہوا اور عراق میں کثیر الجماعتی پارلیمانی انتخابات اور کردستان کی باضابطہ آئینی خود مختاری کا ڈھانچہ قائم ہوا۔

💔 جو چھن گیا: معاشرتی امن اور معاشی سالمیت

فرقہ وارانہ فسادات، 2014 میں داعش کا ظہور، تاریخی شہروں کی بربادی اور ریاست کے متوازی درجنوں مسلح گروہوں کے قیام نے عراقی معاشرے کو شدید اندرونی عدم استحکام سے دوچار کر دیا۔

امریکا گیا، لیکن تعلق ختم نہیں ہوا

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ فوجی مشن ختم ہوا ہے، عراق کے ساتھ دفاعی تعلق ختم نہیں ہوا۔

امریکی حکومت جولائی ہی میں واضح کر چکی تھی کہ انسدادِ داعش مشن کے بعد دونوں ملک معمول کے دوطرفہ دفاعی تعلق کی طرف بڑھیں گے۔

امریکا عراقی فورسز کو مخصوص تربیت اور انٹیلی جنس مدد دیتا رہے گا، جبکہ داعش کے خلاف علاقائی مشن کا مرکز اب اردن منتقل ہو چکا ہے۔ امریکی اہلکار سفارتی تنصیبات کی حفاظت کے لیے بھی موجود رہیں گے۔

یعنی امریکی وردی والے فوجیوں کی بڑی موجودگی ختم، مگر واشنگٹن کا سکیورٹی اثر ابھی باقی رہے گا۔

🌐

امریکی انخلا کے بعد سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہوگا؟

ایران کا پرچم عراق کا پرچم

ایران اور اتحادی دھڑے

🇮🇷

امریکی فضائی و زمینی نگرانی ختم ہونے سے تہران سے ہمدردی رکھنے والے گروہوں کو سیکیورٹی خلا میں اپنا سیاسی اثرورسوخ اور بارڈر کوریڈورز پر تسلط مستحکم کرنے کی کھلی گنجائش مل گئی ہے۔

بغداد کی خودمختاری

🏛️

وزیراعظم علی الزیدی کی حکومت قوم پرستانہ بنیادوں پر غیر ملکی فوج کے مکمل انخلا کو سیاسی فتح بنا کر پیش کر رہی ہے، جس سے بیرونی قبضے کے الزامات سے نجات ممکن ہوئی ہے۔

علاقائی معاشی شراکت دار

🤝

ترکیہ اور خلیجی ریاستیں اب عراق کو براہِ راست تجارتی و توانائی راہداریوں کے منصوبوں میں شامل کرنے کی پوزیشن میں ہیں تاکہ تہران کے یکطرفہ اثر کو توازن دیا جا سکے۔

بغداد کے لیے سب سے بڑا امتحان کیا ہے؟

عراقی وزیر اعظم علی الزیدی نے انخلا کو خودمختاری کے ایک نئے مرحلے کا آغاز قرار دیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ عراقی فوج، پولیس اور کرد پیشمرگہ اب ملک کے دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

خطے کی سیاست اور جغرافیائی حالات پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق زمینی حقیقت زیادہ پیچیدہ ہے۔

ایک طرف داعش کے چھوٹے گروہ اور خفیہ سیلز اب بھی خطرہ سمجھے جاتے ہیں، دوسری طرف ایران سے قریبی تعلق رکھنے والے مسلح دھڑوں کا معاملہ بغداد کے لیے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

رائٹرز کے مطابق امریکی انخلا کے بعد عراقی سیاست و سلامتی میں ایرانی اثرورسوخ بڑھنے پر بحث جاری ہے۔

⚠️

داعش، ایران اور کردستان: عراق کے سامنے تین بڑے خطرے

2۔ 🏴 داعش کے سلیپر سیلز کا خطرہ

داعش کا زمینی خلافت کا خواب ختم ہو چکا ہے مگر صحرائی وادیوں اور دیہی علاقوں میں اس کے خفیہ نیٹ ورکس اب بھی عراقی فورسز پر گھات لگا کر حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

3۔ 🛡️ کردستان (اربیل) کا دفاعی خلا

امریکی فضائی شیلڈ ختم ہونے کے بعد کرد قیادت شدید فکرمند ہے کہ خطہ بیرونی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے سامنے غیر محفوظ ہو جائے گا، جس کے لیے وہ بغداد سے دفاعی ضمانتیں چاہتی ہے۔

الزیدی حکومت نے غیر ریاستی مسلح گروہوں سے ہتھیار واپس لینے کی آخری مدت جون 2027 مقرر کی ہے، جس پر  بعض گروہوں نے ہتھیار دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن پورے عمل کی کامیابی ابھی یقینی نہیں۔

کردستان کیوں پریشان ہے؟

سب سے زیادہ بے چینی عراقی کردستان میں نظر آتی ہے، جہاں اربیل امریکی فوج کا آخری بڑا مرکز تھا۔

کرد حکام کو خدشہ ہے کہ امریکی فضائی دفاعی نظام اور فوجی موجودگی ختم ہونے کے بعد خطہ میزائل، ڈرون حملوں یا داعش کی ممکنہ سرگرمیوں کے مقابلے میں زیادہ کمزور ہو سکتا ہے۔

اُدھر کرد قیادت بغداد کے ساتھ بہتر دفاعی رابطے اور فضائی دفاع کی مضبوط صلاحیت چاہتی ہے۔

⏳

اب آگے کیا ہوگا؟ عراق کے لیے اگلے 12 ماہ کیوں اہم ہیں؟

4 مراحل
📜

1۔ جون 2027 کی ڈیڈلائن اور تخفیفِ اسلحہ

بغداد کی الزیدی حکومت کا سب سے نازک مرحلہ غیر ریاستی ملیشیاؤں سے بھاری ہتھیار جمع کرنا ہے؛ اگر دھڑے انکار کرتے ہیں تو ریاستی رٹ کے لیے بڑا امتحان کھڑا ہوگا۔

🛡️️

2۔ عراقی فوج کی فضائی و انٹیلی جنس صلاحیت

امریکی فضائی مدد کے بغیر کیا عراقی فضائیہ اور انسدادِ دہشت گردی یونٹس تنہا طور پر دور افتادہ علاقوں میں داعش کی نقل و حرکت روک پائیں گے؟ یہ اگلے چند ماہ میں واضح ہوگا۔

🤝

3۔ اربیل اور بغداد کے سیکیورٹی مذاکرات

کرد پیشمرگہ اور وفاقی افواج کے درمیان مشترکہ دفاعی بریگیڈز کا قیام تیز کرنا ہوگا تاکہ اربیل ایئر بیس کے خالی ہونے سے پیدا ہونے والا اسٹریٹجک خلا پُر کیا جا سکے۔

⚖️

4۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان توازن کا کڑا امتحان

امریکی فوج کے نکلنے کے بعد بغداد کو تہران کی قربت اور واشنگٹن کے مالی و تجارتی تعلقات کے درمیان ایسا توازن رکھنا ہوگا جس سے عراق کسی نئی پراکسی جنگ کا میدان نہ بنے۔

اس جنگ کی قیمت کتنی تھی؟

امریکی فوج تو نکل گئی، لیکن جنگ کی قیمت صرف فوجی اڈوں کے بند ہونے سے ختم نہیں ہوتی۔

براؤن یونیورسٹی کے کاسٹس آف وار منصوبے کے مطابق مارچ 2003 سے مارچ 2023 تک عراق میں براہِ راست جنگی تشدد سے ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد تقریباً 1 لاکھ 87 ہزار سے 2 لاکھ 10 ہزار کے درمیان رہی، جبکہ 4,599 امریکی فوجی بھی مارے گئے۔

اسی تحقیق کے مطابق عراق اور شام کی جنگوں پر امریکی مالی لاگت، مستقبل میں سابق فوجیوں کی دیکھ بھال سمیت 2.89 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

←
اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

اصل امتحان اب ہوگا

عراق کے لیے 30 ستمبر صرف امریکی فوج کے جانے کی تاریخ نہیں ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا بغداد داعش کو دوبارہ سر اٹھانے سے روک سکے گا، مسلح گروہوں کو ریاست کے تابع کر پائے گا اور امریکا و ایران کی کشمکش سے خود کو بچا سکے گا؟

عراق میں امریکی فوجی اڈوں کے دروازے تو بند ہو رہے ہیں، لیکن دو دہائیوں سے زیادہ عرصے کی جنگ کے سیاسی، سکیورٹی اور معاشرتی اثرات ابھی ختم نہیں ہوئے۔

اسی لیے عراق میں امریکی فوج کا آخری طیارہ اُڑ جانا ایک کہانی کا اختتام ضرور ہے، مگر ممکن ہے عراق کی اگلی اور زیادہ مشکل کہانی اسی لمحے سے شروع ہوئی ہو۔

📚 اصل ذرائع: امریکا کا عراق سے انخلا VERIFIED SOURCES 🇮🇶 عراق سے امریکی فوجی انخلا، داعش، ایران نواز گروہوں اور جنگ کے انسانی نقصان سے متعلق بنیادی اور معتبر حوالہ جات 4 معتبر ذرائع
📰 تازہ ترین انخلا اور علاقائی صورتحال
روئٹرز — امریکی فوج کا عراق سے حتمی انخلا 30 ستمبر 2026 کو امریکی افواج کے انخلا، داعش کے دوبارہ منظم ہونے کے خدشات، ایران نواز مسلح گروہوں اور عراق کے بعد از انخلا سکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی رپورٹ۔ تازہ ترین بین الاقوامی رپورٹ اصل رپورٹ کھولیں ↗ ایسوسی ایٹڈ پریس — اربیل سے آخری امریکی فوجی روانہ اربیل ایئر بیس سے آخری امریکی فوجیوں کی روانگی، 12 سالہ انسدادِ داعش مشن کے خاتمے اور عراق کی جانب سے سکیورٹی ذمہ داریاں سنبھالنے کی تفصیلات۔ آزاد عالمی خبر رساں ادارہ اصل رپورٹ کھولیں ↗
🏛️ امریکی سرکاری مؤقف اور دفاعی تعلق
امریکی محکمۂ دفاع — مشن کے اختتام کا سرکاری منصوبہ امریکا کا سرکاری بیان جس میں 30 ستمبر تک Operation Inherent Resolve کے اختتام، عراقی فورسز کو مرکزی سکیورٹی ذمہ داری دینے اور دونوں ملکوں کے نئے دفاعی تعلق کی وضاحت کی گئی۔ سرکاری امریکی ماخذ سرکاری بیان کھولیں ↗
📊 جنگ کی انسانی قیمت
Brown University — عراق جنگ میں ہلاکتوں کا تحقیقی ریکارڈ Costs of War پروجیکٹ کی تحقیق، جس میں 2003 سے 2023 تک عراق میں 186,694 سے 210,038 شہری ہلاکتوں اور 4,599 امریکی فوجیوں کی اموات کے اعداد شامل ہیں۔ تحقیقی و اعدادوشمار کا ماخذ تحقیقی رپورٹ کھولیں ↗
🔎 ادارتی نوٹ: اس فیچر رپورٹ کی تیاری میں تازہ ترین عالمی خبر رساں اداروں، امریکی سرکاری دفاعی ریکارڈ اور Brown University کے Costs of War تحقیقی ڈیٹا سے استفادہ کیا گیا ہے۔ Iraq flag United States flag BY: overseaspost.net