براہ راست نشریات

دن ہمیشہ 24 گھنٹے کا نہیں رہتا، سائنس دانوں نے راز کھول دیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Earth Rotation

سائنس دانوں نے زمین کی گردش میں دہائیوں کے دوران آنے والی معمولی تبدیلیوں کی ایک اہم وجہ تلاش کی ہے۔
نئی تحقیق کے مطابق زمین کی اندرونی کور اور مینٹل کے درمیان پیدا ہونے والا Gravitational Torque زمین کی رفتار کو انتہائی معمولی سطح پر متاثر کرتا ہے۔
یہ فرق عام زندگی میں محسوس نہیں ہوتا، لیکن سیٹلائٹ نیوی گیشن، خلائی مشنز اور عالمی وقت کے انتہائی درست نظام کے لیے اہم ہے۔

ہم روزمرہ زندگی میں ایک دن کو 24 گھنٹے سمجھتے ہیں، لیکن سائنسی اعتبار سے زمین ہر روز بالکل ایک ہی رفتار سے گردش نہیں کرتی۔ 

کبھی اس کی رفتار معمولی بڑھ جاتی ہے اور کبھی کم ہوجاتی ہے۔ 

یہ فرق انتہائی معمولی، یعنی چند ملی سیکنڈ کا ہوتا ہے، مگر جدید سائنسی آلات اسے نہایت درستگی سے ریکارڈ کرسکتے ہیں۔

1′ — ایک منٹ میں پوری کہانی

زمین کا قدرتی دن ہمیشہ بالکل 24 گھنٹے کا نہیں ہوتا۔ سیارے کی گردش میں چند ملی سیکنڈ کا فرق آتا رہتا ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق زمین کی اندرونی کور اور مینٹل کے درمیان کششِ ثقل کا ٹارک اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

یہ فرق عام انسان محسوس نہیں کرسکتا، لیکن سیٹلائٹ نیوی گیشن، خلائی مشنز اور عالمی وقت کے انتہائی درست نظام کے لیے اہم ہے۔

سائنسی جریدے Nature میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق نے اس سوال کا اہم جواب پیش کیا ہے کہ کئی دہائیوں پر محیط ان تبدیلیوں کے پیچھے اصل قوت کیا ہوسکتی ہے۔ 

کینیڈا کی یونیورسٹی آف البرٹا کے محققین کے مطابق زمین کی اندرونی کور اور مینٹل کے درمیان پیدا ہونے والا کششِ ثقل کا ٹارک طویل مدت میں زمین کی گردش کو متاثر کرنے والے اہم عوامل میں سے ایک ہے۔

مزید پڑھیں

زمین کے اندر کیا ہورہا ہے؟

زمین بظاہر ایک ٹھوس کرہ دکھائی دیتی ہے، لیکن اس کا اندرونی نظام کئی تہوں پر مشتمل ہے۔ 

سب سے اندر ٹھوس اندرونی کور ہے، جس میں بڑی مقدار میں لوہا اور نکل موجود ہے۔ 

اس کے گرد انتہائی گرم اور مائع حالت میں بیرونی کور ہے، جبکہ اس

سے باہر ہزاروں کلومیٹر موٹی چٹانی تہہ یعنی مینٹل پھیلی ہوئی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ اندرونی کور، زمین کے باقی حصوں کے مقابلے میں معمولی مختلف رفتار سے گھوم سکتی ہے کیونکہ وہ مائع بیرونی کور کے اندر موجود ہے۔

📊 اہم اعداد — دن کتنا بدلتا ہے؟

24 گھنٹے: ہماری گھڑی کا معیاری دن۔

چند ملی سیکنڈ: زمین کی حقیقی گردش میں آنے والا معمولی فرق۔

ہزاروں کلومیٹر: زمین کی وہ گہرائی جہاں کور اور مینٹل کے باہمی اثرات پیدا ہوتے ہیں۔

2010 کے بعد: اندرونی کور کی نسبتی گردش میں سست روی کے شواہد زیادہ نمایاں ہوئے۔

سائنس دان عرصے سے جانتے ہیں کہ زمین کی گردش میں طویل مدتی تبدیلیوں کا تعلق کور اور مینٹل کے درمیان Angular Momentum کے تبادلے سے ہے۔ 

تاہم اب تک یہ واضح نہیں تھا کہ کون سی قوت اس عمل میں سب سے بڑا کردار ادا کرتی ہے۔

تین قوتیں آمنے سامنے

محققین نے زمین کے اندر کام کرنے والی تین بڑی قوتوں کا جائزہ لیا۔

پہلی قوت مکینیکل یا ٹوپوگرافک تعامل ہے۔ 

مائع بیرونی کور میں حرکت کرنے والا مادہ کور اور مینٹل کی سرحد پر موجود ناہمواریوں سے ٹکراتا یا تعامل کرتا ہے اور یوں گردش پر اثر ڈال سکتا ہے۔

🌍 زمین کے اندر اصل میں کیا ہے؟

زمین کے مرکز میں ٹھوس اندرونی کور موجود ہے، جس کے گرد انتہائی گرم مائع بیرونی کور ہے۔

اس کے باہر ہزاروں کلومیٹر موٹی چٹانی تہہ یعنی مینٹل پھیلی ہوئی ہے۔

اندرونی کور باقی زمین کے مقابلے میں معمولی مختلف رفتار سے گھوم سکتی ہے، اور یہی فرق زمین کی مجموعی گردش سے جڑ جاتا ہے۔

دوسری قوت برقی مقناطیسی تعامل ہے۔ 

زمین کا مقناطیسی میدان بنیادی طور پر بیرونی کور میں پگھلے ہوئے دھاتی مادے کی حرکت سے پیدا ہوتا ہے اور یہ مینٹل کے ساتھ بھی تعامل کرسکتا ہے۔

تیسری قوت کششِ ثقل ہے۔ 

زمین کے اندر مختلف کثافت والے حصے ایک دوسرے کو اپنی جانب کھینچتے ہیں، جس کے نتیجے میں گھماؤ پیدا کرنے والی ایک قوت وجود میں آتی ہے جسے Gravitational Torque کہا جاتا ہے۔

کششِ ثقل کا کردار نمایاں

نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے ان مختلف قوتوں پر مبنی ماڈلز تیار کئے اور ان کے نتائج کا موازنہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران زمین کے دن کی ریکارڈ شدہ طوالت سے کیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ مشاہدات کے ساتھ سب سے بہتر مطابقت اس وقت سامنے آئی جب کششِ ثقل کے ٹارک کو بنیادی قوتوں میں نمایاں مقام دیا گیا۔

⚙️ تین قوتیں — اصل کشمکش کہاں ہے؟

مکینیکل قوت: بیرونی کور میں مائع مادے کی حرکت اور سرحدی ناہمواریوں کا اثر۔

برقی مقناطیسی قوت: زمین کے مقناطیسی میدان اور اندرونی تہوں کا باہمی تعامل۔

کششِ ثقل: مختلف کثافت والے حصے ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں اور Gravitational Torque پیدا ہوتا ہے۔

تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسری قوتیں غیر اہم ہیں۔ 

تحقیق کے مطابق برقی مقناطیسی اور مکینیکل قوتیں بعض حالات میں کششِ ثقل کے اثر کے مخالف سمت میں کام کرتی ہیں۔ یوں زمین کے اندر ایک مسلسل مگر انتہائی باریک کھینچا تانی جاری رہتی ہے۔

اسی عمل کا معمولی اثر زمین کی مجموعی گردش پر پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں قدرتی دن کی طوالت چند ملی سیکنڈ کم یا زیادہ ہوسکتی ہے۔

اندرونی کور بھی رفتار بدلتی ہے

زلزلوں سے پیدا ہونے والی لہروں کے مطالعے نے گزشتہ دہائیوں میں زمین کی اندرونی کور کی حرکت کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی ہیں۔

🧲 کششِ ثقل کا ٹارک کیا ہے؟

زمین کے اندر موجود مختلف کثافت والے حصے ایک دوسرے کو کششِ ثقل سے کھینچتے ہیں۔

یہ کھینچاؤ صرف سیدھی سمت میں نہیں رہتا بلکہ گھماؤ پیدا کرنے والی قوت بھی بنا سکتا ہے، جسے Gravitational Torque کہا جاتا ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق یہی قوت طویل مدت میں زمین کی گردش کو معمولی طور پر تیز یا سست کرنے میں نمایاں کردار ادا کرسکتی ہے۔

کچھ مشاہدات سے عندیہ ملا کہ اندرونی کور ایک عرصے تک زمین کے باقی حصوں کے مقابلے میں قدرے تیز حرکت کرتی رہی، تاہم تقریباً 2010 کے بعد اس کی نسبتی گردش سست ہونے لگی۔

نئی تحقیق اس تبدیلی کو کور، مینٹل اور کششِ ثقل کے باہمی تعلق سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہے۔

کیا ہماری گھڑیوں پر فرق پڑتا ہے؟

عام انسان کے لیے چند ملی سیکنڈ کا فرق عملی طور پر محسوس کرنا ممکن نہیں۔ 

موبائل فون، گھڑی یا روزمرہ معمول میں کوئی نمایاں تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔

لیکن سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے یہ فرق اہم ہے۔

🔄 اندرونی کور کی رفتار کیوں بدلتی ہے؟

زلزلوں سے پیدا ہونے والی لہروں کے مطالعے سے سائنس دان زمین کی اندرونی کور کی حرکت کا اندازہ لگاتے ہیں۔

مشاہدات سے معلوم ہوا کہ اندرونی کور ایک عرصے تک باقی زمین کے مقابلے میں قدرے تیز حرکت کرتی رہی۔

تقریباً 2010 کے بعد اس کی نسبتی گردش میں سست روی کے شواہد سامنے آئے، جسے کور، مینٹل اور کششِ ثقل کے باہمی تعلق سے جوڑا جا رہا ہے۔

زمین کی گردش کی انتہائی درست پیمائش سیٹلائٹ نیوی گیشن، خلائی مشنز، فلکیاتی مشاہدات اور عالمی وقت کے نظام میں استعمال ہوتی ہے۔ 

اس کے علاوہ گردش میں آنے والی چھوٹی تبدیلیاں سائنس دانوں کو زمین کے ان حصوں کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرتی ہیں جہاں انسان براہ راست پہنچ نہیں سکتا۔

زمین کے مزید راز بھی کھل سکتے ہیں

اس تحقیق کی اہمیت صرف دن کی طوالت تک محدود نہیں۔ اس سے زمین کے انتہائی گہرے حصوں میں مادے کی کثافت، اندرونی کور کی خصوصیات اور مینٹل کے نچلے حصے کی ساخت کے بارے میں بھی نئے اشارے مل سکتے ہیں۔

⏱️ کیا ہماری گھڑی پر فرق پڑے گا؟

عام زندگی میں نہیں۔ چند ملی سیکنڈ کا فرق انسان کے لیے تقریباً ناقابلِ محسوس ہے۔

آپ کے موبائل، گھڑی یا روزمرہ شیڈول میں کوئی نمایاں تبدیلی نظر نہیں آئے گی۔

لیکن انتہائی درست سائنسی پیمائش، عالمی وقت اور خلائی نظاموں کے لیے یہی معمولی فرق اہم ہوجاتا ہے۔

تاہم محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج موجودہ سائنسی ماڈلز پر مبنی ہیں اور مزید مشاہدات اور اعدادوشمار کی ضرورت ہوگی۔

یوں ہماری گھڑی کا دن تو 24 گھنٹے ہی رہتا ہے، لیکن زمین کا قدرتی دن ہر وقت بالکل ایک جیسا نہیں۔ 

ہمارے پاؤں کے ہزاروں کلومیٹر نیچے جاری ایک خاموش کششِ ثقل کی کشمکش اس بات میں بھی معمولی کردار ادا کررہی ہے کہ زمین اپنا ایک چکر کتنی دیر میں مکمل کرتی ہے۔

🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ

Nature — اصل سائنسی تحقیق:
Huifeng Zhang اور Mathieu Dumberry کی تحقیق: Gravitational torque drives multidecadal variations in length of day۔ تحقیق میں زمین کی اندرونی کور اور مینٹل کے درمیان کششِ ثقل کے ٹارک کو کئی دہائیوں پر محیط دن کی طوالت میں تبدیلیوں کا اہم محرک قرار دیا گیا ہے۔
اصل تحقیق کھولیں


Nature News — 23 September 2026:
Gravitational tug-of-war inside Earth is changing the length of our days — زمین کی اندرونی کور، بیرونی کور اور مینٹل کے درمیان قوتوں کی کشمکش اور زمین کی گردش پر اس کے اثرات کی وضاحت۔
اصل خبر کھولیں


Nature News & Views — 23 September 2026:
Gravitational forces inside Earth drag some decades out — and make others fly by — کئی دہائیوں کے دوران دن کی طوالت میں چند ملی سیکنڈ کی تبدیلی اور کور و مینٹل کے درمیان Angular Momentum کے تبادلے کا سائنسی تجزیہ۔
اصل تجزیہ کھولیں

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے