پاکستان اپنے خلائی پروگرام کے ایک تاریخی مرحلے کے قریب پہنچ گیا ہے۔
دو پاکستانی پائلٹ چین میں خلابازی کی خصوصی تربیت حاصل کر رہے ہیں اور اکتوبر میں ان میں سے ایک کو پاکستان کے پہلے خلاباز کے طور پر منتخب کئے جانے کی توقع ہے۔
منتخب خلاباز چین کے تیان گونگ خلائی اسٹیشن پر تقریباً ایک ہفتہ گزارے گا اور پاکستانی سائنس دانوں کے تیار کردہ تجربات انجام دے گا۔
پاکستان اپنے خلائی پروگرام کی تاریخ کے ایک نئے اور غیر معمولی مرحلے کے قریب پہنچ گیا ہے۔
دو پاکستانی پائلٹ ذیشان علی اور خرم داؤد اس وقت چین میں خلابازی کی خصوصی تربیت حاصل کر رہے ہیں اور توقع ہے کہ اکتوبر کے وسط یا آخر تک ان میں سے ایک کا انتخاب پاکستان کے پہلے خلاباز کے طور پر کردیا جائے گا۔
منتخب ہونے والا خلاباز نہ صرف پاکستان کا پہلا شہری ہوگا جو خلا میں جائے گا بلکہ وہ چین کے Tiangong خلائی اسٹیشن پر جانے والے پہلے غیر ملکی خلابازوں میں بھی شامل ہوسکتا ہے۔
👨🚀 دو پاکستانی امیدوار کون ہیں؟
پاکستان کے دو خلاباز امیدوار ذیشان علی اور خرم داؤد ہیں۔
دونوں کو سخت جسمانی، طبی، نفسیاتی اور تکنیکی جانچ کے بعد چین میں اعلیٰ سطح کی تربیت کے لیے منتخب کیا گیا۔
ان میں سے ایک پاکستان کی تاریخ میں پہلے خلاباز کے طور پر اپنا نام درج کرا سکتا ہے۔
یہ مشن محض علامتی خلائی سفر نہیں ہوگا۔
پاکستانی خلاباز کو Payload Specialist کی حیثیت سے بھیجا جائے گا، یعنی اس کی بنیادی ذمہ داری پاکستانی سائنس دانوں کی تیار کردہ تحقیق اور تجربات کو مائیکرو گریویٹی کے ماحول میں انجام دینا ہوگی۔
مزید پڑھیں
دو پاکستانی امیدوار آخری مرحلے میں
پاکستان کی خلائی ایجنسی سپارکو کے مطابق ابتدائی انتخابی عمل میں متعدد پائلٹوں اور سائنس دانوں کو جانچا گیا۔ امیدواروں کی جسمانی صحت، ذہنی مضبوطی، شدید دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت اور خلائی ماحول سے مطابقت جیسے عوامل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آخرکار ذیشان علی اور خرم داؤد کو اعلیٰ تربیت کے لیے چین بھیجا گیا۔
دونوں کو تیز رفتار طیارے اڑانے کا تجربہ بھی حاصل ہے، جو خلائی مشن کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
دونوں امیدوار بیجنگ میں China Astronaut Research and Training Center میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔
اس تربیت میں خلائی جہاز کے نظام، ہنگامی حالات سے نمٹنے، مائیکرو گریویٹی میں جسمانی حرکت، آلات کے استعمال اور مواصلاتی نظام کے ساتھ ساتھ چینی زبان بھی شامل ہے۔
📅 حتمی انتخاب کب ہوگا؟
پاکستان اور چین کے متعلقہ ادارے مشترکہ جائزے کے بعد دونوں امیدواروں میں سے ایک کا انتخاب کریں گے۔
حتمی فیصلہ اکتوبر 2026 میں متوقع ہے۔
منتخب امیدوار چین میں ہی اپنی آخری تربیت مکمل کرے گا اور پھر خلائی مشن کے لیے روانہ ہوگا۔
خلا میں کھانا، سونا اور مرمت بھی تربیت کا حصہ
خلائی زندگی زمین سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔
اسی لیے پاکستانی امیدواروں کو یہ بھی سکھایا جا رہا ہے کہ بے وزنی کی حالت میں کس طرح کھانا کھایا جاتا ہے، سونا کیسے ہوتا ہے اور روزمرہ کے کام کیسے انجام دیے جاتے ہیں۔
🧠 تربیت کتنی سخت ہے؟
دونوں امیدوار خلائی جہاز کے نظام، ہنگامی حالات، مائیکرو گریویٹی، مواصلاتی نظام اور شدید G-force برداشت کرنے کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔
انہیں بے وزنی میں کھانا کھانے، سونے، جسمانی حرکت اور آلات کی مرمت تک کی مشق کرائی جا رہی ہے۔
چینی زبان کی تربیت بھی پروگرام کا حصہ ہے تاکہ خلائی اسٹیشن پر رابطے اور آپریشنز بہتر طریقے سے انجام دیے جا سکیں۔
انہیں سینٹری فیوج مشینوں میں شدید G-force برداشت کرنے کی تربیت بھی دی جا رہی ہے، جبکہ ہنگامی صورت حال میں خلائی اسٹیشن کے آلات کی مرمت اور محفوظ واپسی کے طریقوں پر بھی مشق کرائی جاتی ہے۔
پاکستان اور چین کی متعلقہ ایجنسیاں اکتوبر میں مشترکہ جائزے کے بعد فیصلہ کریں گی کہ دونوں میں سے کون خلا میں جائے گا۔
پاکستانی خلاباز خلا میں کیا کرے گا؟
منتخب پاکستانی خلاباز کا خلائی اسٹیشن پر قیام تقریباً ایک ہفتہ متوقع ہے۔
اگرچہ یہ مدت چینی خلابازوں کے معمول کے کئی ماہ طویل مشن کے مقابلے میں مختصر ہوگی، تاہم پاکستانی خلاباز کو اس دوران اہم سائنسی تجربات انجام دینے ہوں گے۔
🛰️ مشن کہاں جائے گا؟
پاکستانی خلاباز کا ہدف چین کا Tiangong خلائی اسٹیشن ہوگا، جو زمین کے مدار میں مستقل سائنسی تجربہ گاہ کے طور پر کام کر رہا ہے۔
یہ اسٹیشن تین بڑے ماڈیولز پر مشتمل ہے اور یہاں حیاتیات، مٹیریلز سائنس، خلائی تابکاری اور دیگر شعبوں میں تحقیق کی جاتی ہے۔
پاکستانی خلاباز کی شرکت چین کے انسان بردار خلائی پروگرام میں بین الاقوامی تعاون کا اہم قدم ہوگی۔
سپارکو کو پاکستان کی جامعات اور تحقیقی اداروں سے 300 سے زیادہ تحقیقی تجاویز موصول ہوئی تھیں۔ ان میں سے چند تجربات کو حتمی طور پر خلائی اسٹیشن میں انجام دینے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
ان تجربات میں بائیوٹیکنالوجی، خوراک کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق تحقیق شامل ہونے کی توقع ہے۔
مائیکرو گریویٹی کا ماحول سائنس دانوں کو ایسے حیاتیاتی اور مادی عمل کا مشاہدہ کرنے کا موقع دیتا ہے جنہیں زمین پر اسی صورت میں دیکھنا مشکل ہوتا ہے۔
اسی لیے خلائی اسٹیشن دنیا کی جدید ترین تجربہ گاہوں میں شمار ہوتے ہیں۔
Tiangong خلائی اسٹیشن کیا ہے؟
چین کا Tiangong ایک مستقل خلائی اسٹیشن ہے جو زمین کے مدار میں گردش کررہا ہے۔
یہ 3 بڑے ماڈیولز پر مشتمل ہے اور یہاں زندگی کے علوم، مٹیریلز سائنس، خلائی تابکاری اور دیگر شعبوں میں تجربات کئے جاتے ہیں۔
⏱️ خلا میں کتنا قیام ہوگا؟
منتخب پاکستانی خلاباز کا تیان گونگ پر قیام تقریباً ایک ہفتہ متوقع ہے۔
اگرچہ یہ مدت چینی خلابازوں کے کئی ماہ طویل مشن کے مقابلے میں مختصر ہوگی، لیکن اس دوران متعدد پاکستانی سائنسی تجربات انجام دیے جائیں گے۔
یہ ایک ہفتہ پاکستان کے لیے انسانی خلائی تحقیق کا پہلا عملی تجربہ بن سکتا ہے۔
چین اس اسٹیشن پر اب تک بڑی تعداد میں سائنسی تجربات انجام دے چکا ہے اور پاکستانی خلاباز کی آمد اس کے بین الاقوامی تعاون میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جائے گی۔
پاکستانی سائنس دانوں کے لیے بھی یہ موقع خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ انہیں پہلی بار اپنی تحقیق کو انسان بردار خلائی مشن کے ذریعے عملی طور پر آزمانے کا موقع ملے گا۔
پاکستان کے لیے یہ مشن کیوں اہم ہے؟
پاکستان کے پاس اس وقت اپنا انسان بردار خلائی جہاز یا ایسا راکٹ موجود نہیں جو خلابازوں کو مدار تک پہنچا سکے۔
پاکستانی خلاباز چینی خلائی جہاز کے ذریعے سفر کرے گا اور چین کے لانچ مرکز سے روانہ ہوگا۔
🔬 پاکستانی خلاباز خلا میں کیا کرے گا؟
پاکستانی خلاباز کو Payload Specialist کی حیثیت سے ذمہ داریاں دی جائیں گی۔
اس کا بنیادی کام پاکستانی سائنس دانوں اور تحقیقی اداروں کے منتخب تجربات کو مائیکرو گریویٹی میں انجام دینا ہوگا۔
تحقیقی موضوعات میں بائیوٹیکنالوجی، خوراک کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق تجربات شامل ہونے کی توقع ہے۔
اس کے باوجود یہ مشن پاکستان کے لیے تکنیکی اور سائنسی لحاظ سے انتہائی اہم ہے۔
اس سے پاکستانی ماہرین کو انسانی خلائی سفر، مائیکرو گریویٹی ریسرچ اور خلائی مشنز کی عملی تیاری کا تجربہ حاصل ہوگا۔
پاکستان پہلے ہی سیٹلائٹس، زمین کے مشاہدے اور قمری منصوبوں میں چین کے ساتھ تعاون کررہا ہے۔
سپارکو نے مستقبل میں چاند کی سطح پر پاکستانی روور بھیجنے کے منصوبے پر بھی کام شروع کر رکھا ہے۔
اکتوبر میں فیصلہ
اب سب کی نظریں اکتوبر میں ہونے والے حتمی انتخاب پر ہیں۔ خرم داؤد اور ذیشان علی میں سے ایک پاکستان کی تاریخ میں پہلے خلاباز کے طور پر اپنا نام درج کرا سکتا ہے۔
منتخب امیدوار چین میں ہی اپنی حتمی تربیت مکمل کرے گا اور بعد میں خلائی مشن کے لیے روانہ ہوگا۔
یہ سفر صرف ایک پاکستانی شہری کے خلا میں پہنچنے کی کہانی نہیں ہوگا بلکہ پاکستان کے خلائی پروگرام کے لیے انسانی خلائی تحقیق، جدید سائنس اور بین الاقوامی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
🔗 مصادر اور مزید مطالعہ
Reuters — 28 September 2026:
پاکستانی خلاباز امیدواروں ذیشان علی اور خرم داؤد کی چین میں تربیت،
اکتوبر میں متوقع حتمی انتخاب، تیان گونگ مشن اور پاکستانی سائنسی تجربات کی تفصیلات۔
اصل رپورٹ کھولیں
SUPARCO — Astronaut Program:
پاکستان اور چین کے درمیان پہلے پاکستانی خلاباز کی تربیت اور
چین کے خلائی اسٹیشن مشن کے لیے سرکاری تعاون کی تفصیل۔
سرکاری صفحہ کھولیں
China Manned Space Agency — 22 April 2026:
چین کی جانب سے دو پاکستانی خلاباز امیدواروں کے انتخاب کی سرکاری تصدیق،
جن میں سے ایک Payload Specialist کی حیثیت سے تیان گونگ مشن میں شریک ہوگا۔
اصل سرکاری اعلان کھولیں
SUPARCO — Lunar Rover Program:
پاکستان کے 2028 میں چین کے Chang’e-8 مشن کے ساتھ
مقامی قمری روور بھیجنے کے منصوبے کی سرکاری تفصیلات۔
سرکاری صفحہ کھولیں