ناسا کے ماہرین ایک ایسے انقلابی خلائی مشن پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد زمین جیسے سیاروں کی براہِ راست تصویر کشی کرنا ہے۔
مزید پڑھیں
’ہیبی ٹیبل ورلڈز آبزرویٹری‘ (HWO) نامی ناسا کا یہ ٹیلی اسکوپ ان دُور دراز دنیاؤں کے کرہ ہوائی کا تجزیہ کر کے وہاں زندگی کے شواہد تلاش کررہا ہے۔
زندگی کی تلاش، مگر کیسے ؟
یہ ٹیلی اسکوپ ستاروں کے گرد گھومنے والے سیاروں سے منعکس ہونے والی روشنی کا مطالعہ کرے گا۔
جب روشنی سیارے کے ماحول سے گزرتی ہے تو وہاں موجود گیسیں ایک منفرد نشان چھوڑتی ہیں۔ یاد رکھیں کہ آکسیجن، اوزون، میتھین اور آبی بخارات حیات کے بنیادی اشارے سمجھے جاتے ہیں۔
ارتقائی مراحل اور زمین کا ماڈل
محققین نے ٹیلی اسکوپ کی جانچ کے لیے زمین کی تاریخ کے ارتقائی مراحل کو نمونہ بنایا ہے۔
قدیم زمین کے مختلف ادوار، بشمول وہ وقت جب آکسیجن کی سطح بہت کم تھی، کو سمیلیٹ کیا گیا۔ اس سے ٹیلی اسکوپ کو ابتدائی یا محدود حیات کے نشانات پہچاننے میں مدد ملے گی۔
ناسا کے تکنیکی اہداف
تحقیق کے مطابق آکسیجن کی شناخت کے لیے 140 کی اسپیکٹرل ریزولوشن درکار ہوگی۔
اوزون کے لیے 7 اور اورکٹ (انفراریڈ) روشنی میں کاربن کے مرکبات کی تفریق کے لیے 70 کی ریزولوشن ضروری ہے۔ ناسا کے انجینئرز ان درست اعداد و شمار کی روشنی میں آلات کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔
چیلنجز اور سائنسی احتیاط
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کسی گیس کی موجودگی حتمی ثبوت نہیں، کیونکہ یہ غیر حیاتیاتی عمل سے بھی بن سکتی ہے۔
ٹیلی اسکوپ کا اصل کام ایسے سیاروں کی نشاندہی کرنا ہوگا جو تفصیلی تحقیق کے قابل ہوں، تاکہ مستقبل میں ان پر زندگی کی تصدیق ممکن ہو سکے۔
ایک قدیم انسانی سوال کا جواب
یہ منصوبہ انسانیت کے سب سے بڑے سوال ’کیا ہم کائنات میں تنہا ہیں؟‘ کا جواب دینے کی کوشش ہے۔
اگرچہ اس مشن کی تکمیل میں وقت لگے گا، لیکن یہ تکنیکی پیش رفت ہمیں کائنات میں اپنی اصلیت کو سمجھنے اور حیات کی تلاش میں ایک اہم قدم اور قریب کر دیتی ہے۔