🔭
جبل شمس رصدگاہ کی 5 حیران کن باتیں
5 حقائق
عمان کی پہلی مکمل روبوٹک رصدگاہ کو چلانے کے لیے پہاڑ پر جانا ضروری نہیں؛ محققین، اساتذہ اور طلبہ دنیا کے کسی بھی کونے سے انٹرنیٹ اور لیپ ٹاپ کے ذریعے دوربین کو کائناتی اجرام کی جانب موڑ سکتے ہیں۔
رصدگاہ کا نیا گنبد شیڈول کے تحت خود کھلتا ہے، جبکہ سینسرز بارش، گرد یا نمی بڑھتے ہی گنبد کو فوری خودکار بند کر دیتے ہیں تاکہ حساس ترین آپٹکس محفوظ رہیں۔
یہاں دور دراز کہکشاؤں کے لیے 16 انچ کی بڑی دوربین، سورج کے دھبوں کے مشاہدے کے لیے شمسی ٹیلی اسکوپ اور دمدار ستاروں کے لیے وسیع زاویے کا کیمرہ ایک ساتھ نصب ہے۔
کتابی تصاویر کے برعکس، اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ ہلال، شہابیوں کی بارش اور دمدار ستاروں کو حقیقی وقت (Real-time) میں اسکرین پر لائیو دیکھ اور تصاویر محفوظ کر سکتے ہیں۔
جبلِ شمس کو صرف سائنس تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ صاف و تاریک پہاڑی فضا کو بین الاقوامی اسٹار گیزنگ اور ایکو ٹورازم کے نئے معاشی ماڈل میں ڈھالا جا رہا ہے۔
تصور کریں، آپ ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھے ہوں اور کمپیوٹر سے ایسی دوربین چلا رہے ہوں جو ایک بلند پہاڑ پر رات کی تاریکی میں کہکشاؤں، دمدار ستاروں اور شہابیوں کو دیکھ رہی ہو۔
مزید پڑھیں
عُمان نے جبل شمس پر قائم اپنی فلکیاتی رصدگاہ کو جدید بنا کر اسی تصور کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔
عُمان کی فلکیات و خلائی سوسائٹی کے مطابق یہ اس کی پہلی مکمل روبوٹک رصدگاہ ہے، جسے دور بیٹھ کر چلایا جا سکتا ہے۔
اس جدید ترین سائنسی منصوبے کو پیٹرولیم ڈویلپمنٹ عُمان کی معاونت حاصل ہے۔
جبلِ شمس رصدگاہ: عُمان کی پہلی روبوٹک آنکھ
بلند ترین پہاڑ پر خودکار دوربینوں کی تنصیب؛ دنیا بھر سے کہکشاؤں کی لائیو نگرانی اور سیاحت کا ملاپ۔
عُمان نے جبلِ شمس پر مکمل خودکار روبوٹک رصدگاہ قائم کر کے عام طلبہ اور محققین کو گھر بیٹھے جدید ترین دوربینوں سے براہ راست خلا کی تسخیر اور فلکیاتی سیاحت کی منفرد سہولت فراہم کر دی ہے۔
🤖 مکمل روبوٹک و موسمیاتی کنٹرول
رصدگاہ کا ذہین گنبد نمی اور بارش کو خود بھانپ کر فوراً بند ہو جاتا ہے تاکہ حساس آلات محفوظ رہیں، جبکہ پورا نظام دنیا سے ریموٹ کنٹرول پر چلتا ہے۔
🔭 طاقتور مرکزی خلائی دوربین
دور دراز کہکشاؤں، دمدار ستاروں اور شہابیوں کے مشاہدے کے لیے نصب ہے، جس کے ساتھ سورج کے دھبوں کی تفصیلی تحقیق کا الگ نظام بھی فعال کیا گیا ہے۔
⛺ فلکیاتی سرگرمیوں کا مرکز
سال 2009 سے اب تک یہاں متعدد بڑے فلکیاتی کیمپس منعقد ہو چکے ہیں جن میں دنیا بھر سے محققین، طلبہ اور خلائی سائنس کے شائقین شریک ہوئے ہیں۔
🌌 نائٹ اسکائی سیاحتی منصوبہ
عمان ایٹ نائٹ فریم ورک کے ذریعے صحرائی و پہاڑی فضا کے صاف آسمان کو دستاویزی شکل دے کر خطے میں رات کی فلکیاتی سیاحت کو تیزی سے فروغ دیا جا رہا ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
رصدگاہ خود موسم بھی سمجھے گی
اس منصوبے کی خاص بات صرف دوربین نہیں ہے، بلکہ یہ ایک پورا خودکار نظام ہے۔
⚙️
یہ روبوٹک رصدگاہ آخر کام کیسے کرتی ہے؟
پہاڑ کی چوٹی پر لگے موسمی سینسرز ہوا کا دباؤ، درجہ حرارت، نمی اور بادلوں کی آمد مسلسل ماپتے ہیں۔ اگر فضا مشاہدے کے لیے محفوظ ہو تو گنبد کا ہائیڈرولک سسٹم خود بخود کھل جاتا ہے، جبکہ خطرے کی صورت میں نظام فوراً بند ہو جاتا ہے۔
دور دراز بیٹھا صارف ویب پورٹل یا سافٹ ویئر کے ذریعے جس ستارے، سیارے یا کہکشاں کے کوآرڈینیٹس درج کرتا ہے، دوربین کے روبوٹک موٹرز خودکار زاویہ ترتیب دے کر مطلوبہ ہدف کو ملی سیکنڈز میں فریم کے اندر لاک کر لیتے ہیں۔
تینوں دوربینوں پر نصب جدید سائنسی کیمرے ایکسپوزر مکمل کر کے ہائی ریزولوشن تصاویر پروسیس کرتے ہیں اور انٹرنیٹ کے ذریعے چند ہی سیکنڈوں میں محقق کے لیپ ٹاپ یا اسکول کی اسکرین پر منتقل کر دیتے ہیں۔
رصدگاہ کا نیا گنبد پروگرام کے مطابق خود کھل اور بند ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ لگا ذہین موسمیاتی نظام درجہ حرارت اور نمی پر نظر رکھتا ہے اور بارش یا زیادہ نمی کی صورت میں گنبد خود بند کر دیتا ہے، تاکہ مہنگے آلات محفوظ رہیں۔
▶️ تقرير | المخيم الفلكي في قمة جبل شمس بولاية الحمراء.#مركز_الأخبار pic.twitter.com/vKk36VYeea
— مركز الأخبار (@omantvnews) June 27, 2026
یہاں 16 انچ کی مرکزی دوربین دور دراز کہکشاؤں اور شہابیوں کے مشاہدے کے لیے نصب ہے۔
ایک الگ دوربین سورج کے دھبوں اور سرگرمی کو دیکھے گی، جبکہ وسیع منظر والی دوربین دمدار ستاروں اور آسمان کے بڑے حصے کی نگرانی کرے گی۔
🎓
طلبہ اور عام لوگوں کو اس منصوبے سے کیا فائدہ ہوگا؟
اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو لاکھوں روپے کی ذاتی دوربینیں خریدنے کی ضرورت نہیں۔ کلاس رومز میں بیٹھے طلبہ سائنسی پراجیکٹس، سورج کے دھبوں کے مشاہدے اور نئے اجرام فلکی کی کھوج کے لیے حقیقی سائنسی ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔
رمضان و عیدین کا چاند دیکھنا ہو یا شہابیوں کی سالانہ بارش، عام شہری بھی فلکیاتی ایونٹس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس سے معاشرے میں توہمات کے بجائے سائنسی سوچ اور علمِ ہیئت کا فروغ ممکن ہو گا۔
طالب علم بھی آسمان کو ’لائیو‘ دیکھ سکیں گے
نئے نظام کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ محققین، طلبہ اور فلکیات کے شوقین افراد دنیا کے کسی بھی حصے سے دوربینوں کو کنٹرول کرکے آسمانی واقعات دیکھ اور ان کی تصاویر بنا سکیں گے۔
یہ سہولت ہلال، شہابیوں، دمدار ستاروں اور شمسی سرگرمی کی نگرانی میں بھی کام آئے گی۔
جبل شمس پہلے ہی فلکیاتی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ 2009 کے بعد یہاں 17 سے زیادہ بڑے فلکیاتی کیمپ اور 20 سے زائد خصوصی ورکشاپس منعقد ہو چکی ہیں۔ بعض کیمپوں میں 200 سے 300 افراد تک شریک ہوتے رہے ہیں۔
🌌
عُمان فلکیاتی سیاحت کا نیا مرکز کیوں بن سکتا ہے؟
جبلِ شمس عمان کی بلند ترین چوٹی ہے جہاں شہری مصنوعی روشنیوں کی آلودگی (Light Pollution) تقریباً صفر ہے۔ یہ صاف اور خشک فضا ستاروں کی فوٹوگرافی کے لیے دنیا کے بہترین مقامات میں شمار ہوتی ہے۔
عمان نے رات کے آسمان کو ایک قیمتی قدرتی اثاثے کے طور پر محفوظ کرنے کا سرکاری منصوبہ شروع کیا ہے، جس کے تحت بین الاقوامی فوٹوگرافرز اور خلائی سیاحوں کو مراعات دی جا رہی ہیں۔
2009 سے اب تک یہاں 17 سے زائد بڑے فلکیاتی کیمپ لگ چکے ہیں جن میں سینکڑوں لوگ شریک ہوئے۔ اب روبوٹک رصدگاہ کے اضافے سے یہ سرگرمیاں باقاعدہ فائیو اسٹار اسٹرگلنگ کیمپنگ میں تبدیل ہو رہی ہیں۔
جس طرح مراکش کی اوکایمیدن رصدگاہ نے عالمی شہرت پائی، عمان بھی خلیجی ممالک میں پہلا ملک بن رہا ہے جو سائنسی ریسرچ اور صحرائی سیاحت کو یکجا کر کے دنیا بھر کو راغب کر رہا ہے۔
سائنس کے ساتھ نئی سیاحت
ماہرین کا کہنا ہے کہ عُمان اب تاریک اور صاف آسمان کو سیاحت سے بھی جوڑنا چاہتا ہے۔
سرکاری اور فلکیاتی حلقوں کے مطابق ملک کے پہاڑی اور صحرائی علاقوں کی صاف فضا اسے خطے میں اسٹار گیزنگ اور فلکیاتی سیاحت کے لیے موزوں بناتی ہے۔
اسی تقریب میں Oman At Night منصوبہ بھی سامنے آیا، جس کا مقصد عُمان کے رات کے آسمان کو محفوظ کرنا، اس کی تصاویر اور سائنسی اہمیت کو دستاویزی شکل دینا اور اسے سیاحتی اثاثے میں بدلنا ہے۔
پاکستان اس ماڈل سے کیا سیکھ سکتا ہے؟
پاکستان کے پاس بلوچستان (زیارت، ہنگول) اور گلگت بلتستان (دیوسائی، ہنزہ) میں دنیا کے شاندار ترین ڈارک اسکائی کوریڈورز موجود ہیں۔ عمان نے پیٹرولیم کمپنی کی شراکت سے سستی روبوٹک ٹیکنالوجی اپنا کر دکھایا ہے کہ بھاری قومی بجٹ کے بغیر بھی جدید سائنسی نظام کھڑا کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان بھی اپنے بلند و شفاف پہاڑی علاقوں میں ایک خودکار روبوٹک دوربین نصب کر سکتا ہے جسے کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی یونیورسٹیاں انٹرنیٹ سے لائیو آپریٹ کریں۔
سرکاری اور نجی اسکولوں کے فزکس طلبہ کو اس رصدگاہ تک سالانہ مشاہداتی گھنٹے فراہم کیے جائیں، جس سے ملک میں خلائی سائنس اور فلکی طبیعیات (Astrophysics) میں عملی دلچسپی بڑھے گی۔
گلگت بلتستان اور بلوچستان کے پرامن سیاحتی مقامات پر نائٹ کیمپنگ اور اسٹار گیزنگ ٹورازم کو فروغ دے کر مقامی معیشت اور ماحولیاتی سیاحت میں نمایاں زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ رجحان عرب دنیا میں نیا نہیں ہے۔
مراکش کی اوکایمیدن رصدگاہ میں بھی روبوٹک اور دور سے چلنے والی دوربینیں استعمال ہو رہی ہیں اور وہ سیارچوں، دمدار ستاروں اور ماورائے شمسی سیاروں کی تحقیق میں عالمی منصوبوں کا حصہ بن چکی ہے۔
جبل شمس کا منصوبہ اس لیے اہم ہے کہ یہاں آسمان دیکھنا اب صرف ماہر فلکیات کا کام نہیں رہے گا، بلکہ ٹیکنالوجی اسے کلاس روم، لیپ ٹاپ اور عام شوقین افراد کے قریب لا رہی ہے۔