🎬
یو این اجلاس کے 5 سب سے وائرل لمحات
+
یو این اجلاس کے 5 سب سے وائرل لمحات
1۔ ٹرمپ کی 37 منٹ تقریر، ایرانی واک آؤٹ اور میلانیا کا اچانک ذکر
امریکی صدر نے ایران کو کھلی تباہی کی دھمکی دی تو تہران کے سفارت کار ہال چھوڑ کر چلے گئے۔ اسی شدید کشیدگی کے دوران ٹرمپ نے اچانک اپنی اہلیہ میلانیا کو پکار کر ان کا شکریہ ادا کیا اور اے آئی کو ’سپر انٹیلی جنس‘ کہنے کا مشورہ دے کر تقریب میں غیر متوقع رنگ بھر دیا۔
2۔ احمد الشرع کی فون اسکرولنگ
ترک صدر کے سنجیدہ خطاب کے دوران شامی صدر کا چند سیکنڈ تک موبائل پر مبینہ انسٹاگرام ریلز دیکھنا سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ شیئر ہونے والا کلپ بن گیا۔
3۔ اردوان کی للکار پر اسرائیلی واک آؤٹ
رجب طیب اردوان نے غزہ پر اسرائیل اور اقوام متحدہ کے نظام کو آڑے ہاتھوں لیا تو اسرائیلی سفیر ہال سے باہر نکل گئے جبکہ ہال فلسطینی حامیوں کی تالیوں سے گونج اٹھا۔
4۔ محمود عباس کو ویزا انکار اور ورچوئل اسکرین
امریکا نے فلسطینی صدر کو مسلسل دوسرے سال نیویارک کا ویزا دینے سے انکار کیا، جس کے بعد وہ ویڈیو لنک کے ذریعے اسکرین پر خطاب کرنے پر مجبور ہوئے۔
5۔ شی جن پنگ کا اقوام متحدہ بائی پاس
چینی صدر نے 193 ملکی جنرل اسمبلی ہال کے بجائے واشنگٹن جا کر براہ راست ٹرمپ سے ملنے کو ترجیح دی، جس نے ثابت کیا کہ بڑی طاقتوں کا اصل کھیل اسمبلی سے باہر ہے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس دنیا کے بڑے بحرانوں پر بحث کے لیے منعقد ہوا، مگر اس بار کئی ایسے مناظر بھی سامنے آئے جو رسمی تقاریر سے کہیں زیادہ سوشل میڈیا کی توجہ سمیٹ گئے۔
مزید پڑھیں
کہیں امریکی صدر ٹرمپ ایران کو دھمکی دیتے نظر آئے، کہیں سفارتی وفود احتجاجاً واک آؤٹ کرگئے اور کہیں شامی صدر احمد الشرع کی موبائل فون استعمال کرتے ہوئے ویڈیو عالمی بحث بن گئی۔
اقوام متحدہ کے مطابق اس سال جنرل اسمبلی کا مرکزی موضوع عالمی نظام پر اعتماد بحال کرنا ہے، لیکن اجلاس کے ابتدائی دنوں نے ایک بار پھر دکھا دیا کہ دنیا کے درمیان فاصلے کتنے گہرے ہو چکے ہیں۔
عالمی اعتماد کی بحالی کا اجلاس سنجیدہ حل نکالنے کے بجائے ایرانی و اسرائیلی بائیکاٹ، ٹرمپ کی دھمکیوں اور شامی صدر کے وائرل موبائل کلپ کا مرکز بن گیا۔
امریکی صدر نے تہران کو تباہی کی دھمکی دی جبکہ ایرانی وفد نے احتجاجاً اسمبلی ہال سے باہر نکل کر سفارتی ناراضی درج کرائی۔
ترک صدر کے خطاب کے دوران احمد الشرع کے فون اسکرول کرنے کی مختصر ویڈیو سوشل میڈیا پر اجلاس کا سب سے بڑا موضوع بن گئی۔
فلسطین اور مغربی کنارے پر ترک صدر کے تند و تیز مؤقف کے بعد اسرائیلی وفد فوری طور پر ہال سے واک آؤٹ کر گیا۔
سیکریٹری جنرل نے اپنے آخری خطاب میں نہ تھمنے والی جنگوں، ماحولیاتی تباہی اور بے قابو مصنوعی ذہانت سے پیدا شدہ خطرات سے آگاہ کیا۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
ٹرمپ کی تقریر، دھمکی اور اچانک میلانیا کا ذکر
ٹرمپ نے تقریباً 37 منٹ کی تقریر میں ایران کے خلاف اپنی پالیسی کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ امن معاہدہ نہ ہوا تو امریکا ایران کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے لیے ’سپر انٹیلی جنس‘ کی اصطلاح استعمال کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
הערב ב-21:00 - ראש הממשלה נתניהו נואם באו״ם >> pic.twitter.com/HuPoLdPfJ7
— Benjamin Netanyahu - בנימין נתניהו (@netanyahu) September 24, 2026
تقریر کے دوران ایرانی وفد کے بیشتر سینئر ارکان نے اسمبلی ہال سے نکل کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
اسی سنجیدہ ماحول میں ٹرمپ نے اچانک اپنی اہلیہ میلانیا کے بارے میں پوچھا اور ان کا شکریہ ادا کیا، جس سے تقریر میں ایک غیر متوقع ذاتی لمحہ بھی شامل ہوگیا۔
Trump: "I’m surprised CNN is here is covering me. You shouldn’t be here.”
— philip lewis (@Phil_Lewis_) September 22, 2026
CNN’s Kaitlan Collins: “The United Nations allowed us in, sir.” pic.twitter.com/fMrWCnABEO
اقوام متحدہ پہنچنے پر ٹرمپ کا سی این این کی کیٹلان کولنز سے مختصر مگر تلخ سامنا بھی ہوا۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب ٹرمپ انتظامیہ اور بعض امریکی میڈیا اداروں کے درمیان وائٹ ہاؤس تک رسائی کا تنازع عدالت تک پہنچ چکا ہے۔
🌟
ٹرمپ سے الشرع تک: کس نے سب سے زیادہ توجہ سمیٹی؟
◆
ٹرمپ سے الشرع تک: کس نے سب سے زیادہ توجہ سمیٹی؟
ڈونلڈ ٹرمپ
سخت فوجی دھمکیوں سے لے کر میلانیا کے اچانک ذکر اور سی این این رپورٹر سے نوک جھونک تک، ٹرمپ روایتی سفارت کاری کو اپنے خاص میڈیا شو میں بدلنے کے ماہر ثابت ہوئے۔
احمد الشرع
شامی صدر نے کوئی بڑی تقریر نہیں کی، مگر اسمبلی کے سنجیدہ ماحول میں خاموشی سے موبائل اسکرین پر ریلز اسکرول کرنے کے چند سیکنڈز نے انہیں انٹرنیٹ میمز کا بادشاہ بنا دیا۔
رجب طیب اردوان
غزہ کے قتل عام پر کڑک دار لہجے میں اسرائیلی پالیسیوں کو ہدف بنانا اور اقوام متحدہ کی غیر فعالیت کو جھنجھوڑنا مسلم اور ترقی پذیر دنیا میں زبردست پذیرائی سمیٹ گیا۔
شی جن پنگ
نیویارک سے دور رہ کر واشنگٹن میں ٹرمپ سے دوطرفہ مذاکرات کا انتخاب کر کے چینی صدر نے ثابت کیا کہ دنیا کے مستقبل کے اصل فیصلے یو این ہال سے باہر طے ہو رہے ہیں۔
احمد الشرع کا فون کیوں بن گیا عالمی موضوع؟
شامی صدر احمد الشرع کی چند سیکنڈ کی ویڈیو اجلاس کا سب سے غیر رسمی اور وائرل لمحہ ثابت ہوئی۔
أحياناً تكون السياسة مملة والكلام مكرراً..
— مُضَر | Modar (@ivarmm) September 22, 2026
الرئيس أحمد الشرع يتصفح الإنستغرام خلال جلسة الجمعية العامة للأمم المتحدة. pic.twitter.com/l8nsQNni5t
ویڈیو میں وہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی تقریر کے دوران فون پر ایک ایسی فیڈ اسکرول کرتے دکھائی دیے جو بظاہر انسٹاگرام ریلز تھی۔
United Nations ☑️
@UN
Official account of the United Nations. For peace, dignity & equality on a healthy planet.
تاہم ویڈیو سے حتمی طور پر یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ کیا دیکھ یا شیئر کر رہے تھے۔ یہی مختصر کلپ چند گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گیا۔
اردوان بولے تو اسرائیلی وفد باہر نکل گیا
اردوان کی تقریر کا ماحول اس سے کہیں زیادہ سنجیدہ تھا۔ انہوں نے غزہ، مغربی کنارے اور فلسطینی ریاست کے معاملے پر اسرائیل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا۔
⚡
واک آؤٹ، غصہ اور انسٹاگرام: اصل کہانی کیا ہے؟
▼
واک آؤٹ، غصہ اور انسٹاگرام: اصل کہانی کیا ہے؟
🏛️ رسمی سفارت کاری بمقابلہ ڈیجیٹل دور کی بے اعتنائی
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس اس سال ’عالمی نظام پر اعتماد کی بحالی‘ کے عنوان سے بلایا گیا تھا۔ لیکن ہال کی خالی کرسیوں، غصے سے بھرپور بائیکاٹس اور موبائل فون اسکرینوں نے ثابت کر دیا کہ عالمی رہنما اب ایک دوسرے کی بات سننے کے بجائے کیمروں اور سوشل میڈیا کلپس کے لیے پرفارم کر رہے ہیں۔
سفارتی واک آؤٹ: مذاکرات سے فرار
سخت احتجاججب ایرانی وفد ٹرمپ کے سامنے اور اسرائیلی وفد اردوان کے سامنے اٹھ کر باہر نکل گیا، تو یہ محض پروٹوکول کا مظاہرہ نہیں تھا بلکہ اس بات کا ثبوت تھا کہ فریقین ایک دوسرے کا مؤقف سننے کی بنیادی رواداری بھی کھو چکے ہیں اور اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم مکالمے کے بجائے ڈیڈ لاک کا گڑھ بن چکا ہے۔
فون اسکرولنگ: بدلتی ہوئی ترجیحات
بے حسی کی علامتشامی صدر کا ترکیہ جیسے کلیدی علاقائی حریف کے خطاب کے دوران انسٹاگرام پر متوجہ رہنا علامتی طور پر ظاہر کرتا ہے کہ خود سربراہانِ مملکت اب طویل اور رسمی تقریروں کو بے اثر اور لاحاصل رسم سمجھنے لگے ہیں، جہاں اصل دلچسپی اپنے ذاتی اسکرین اور بیرونی معاملات میں ہوتی ہے۔
حتمی تجزیاتی نچوڑ:
عالمی سیاست اب صرف روسٹرم سے پڑھے گئے روایتی بیانات میں زندہ نہیں ہے۔ 2026 کی عالمی سفارت کاری خالی ہوتی نشستوں، غصے بھرے بائیکاٹس اور وائرل ہونے والے چند سیکنڈز کے کلپس میں رقم ہو رہی ہے، جس نے کثیر فریقی نظام کے بحران کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔
اسرائیلی وفد اردوان کی تقریر کے دوران ہال سے نکل گیا جبکہ فلسطینی نمائندوں نے تالیاں بجائیں۔
محمود عباس اسکرین پر، شی جن پنگ واشنگٹن میں
فلسطینی صدر محمود عباس کو امریکا نے مسلسل دوسرے سال جنرل اسمبلی کے لیے ویزا نہیں دیا، جس کے بعد اقوام متحدہ نے انہیں ویڈیو کے ذریعے خطاب کی اجازت دی۔
Con abucheos y retirada de diplomáticos del mundo:
— aapayés (@aapayes) September 22, 2026
¡El criminal de guerra Netanyahu habla a sillas vacías en la Asamblea General de la ONU! pic.twitter.com/waCWpmvaP7
دوسری جانب دنیا کی دوسری بڑی طاقت چین کے صدر شی جن پنگ نیویارک کے بجائے واشنگٹن میں ٹرمپ سے ملاقات کے لیے موجود تھے۔
رائٹرز کے مطابق یہ منظر خود ایک علامت بن گیا کہ بڑی طاقتوں کی اہم سفارت کاری بعض اوقات اقوام متحدہ کے ہال سے باہر طے ہو رہی ہے۔
🌍
دنیا نے ان مناظر کو کیسے دیکھا؟
❯
دنیا نے ان مناظر کو کیسے دیکھا؟
📱 سوشل میڈیا اور نوجوان نسل
انٹرنیٹ صارفین نے گھنٹوں طویل تقریروں کے بجائے احمد الشرع کی اسکرولنگ، ٹرمپ کی میلانیا سے گفتگو اور کیٹلان کولنز کے ساتھ تلخ کلامی پر ہزاروں میمز اور وائرل ویڈیوز بنا کر سفارت کاری کا خوب تمسخر اڑایا۔
🕌 مسلم اور عرب عوامی رائے
عرب دنیا میں صدر اردوان کی جانب سے اسرائیلی مظالم کی کھلی مذمت اور محمود عباس کو ویزا نہ دینے کے امریکی دوہرے معیار پر شدید ردعمل دیکھا گیا، جبکہ اسرائیلی واک آؤٹ کو سچائی سے فرار قرار دیا گیا۔
📰 مغربی میڈیا اور پالیسی ساز
امریکی و یورپی تجزیہ کاروں نے ٹرمپ کی تہران کے خلاف جارحانہ زبان اور میڈیا کے ساتھ محاذ آرائی کو خطرے کی گھنٹی قرار دیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن کثیر فریقی اداروں کی بجائے یکطرفہ فیصلوں پر قائم ہے۔
⚖️ عالمی سفارت کار اور تھنک ٹینکس
ماہرین نے افسوس کا اظہار کیا کہ 1945 میں قائم ہونے والا ادارہ آج سب سے غیر متعلقہ محسوس ہو رہا ہے۔ جب بڑی طاقتیں اہم فیصلے باہر طے کریں تو جنرل اسمبلی محض تماشے کا اسٹیج بن کر رہ جاتی ہے۔
گوتریس کی الوداعی تقریر، نظریں نیتن یاہو پر
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنی مدت ختم ہونے سے قبل جنرل اسمبلی سے آخری خطاب میں جنگوں، موسمیاتی بحران اور بے قابو مصنوعی ذہانت کے خطرات سے خبردار کیا۔
یاد رہے کہ ان کے عہدے کی مدت 31 دسمبر 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔
اب اگلی توجہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی تقریر پر ہے۔ 2025 میں ان کے خطاب کے وقت متعدد وفود واک آؤٹ کر گئے تھے۔
🔭
اب آگے کیا ہوگا؟ نظریں کن رہنماؤں پر ہیں؟
▼
اب آگے کیا ہوگا؟ نظریں کن رہنماؤں پر ہیں؟
بنیامین نیتن یاہو کا خطاب
پوری دنیا کی نظریں اسرائیلی وزیراعظم کی تقریر پر لگی ہیں۔ 2025 کی طرح اس سال بھی درجنوں وفود کے بڑے واک آؤٹ اور ہال کے اندر شدید احتجاج کا قوی امکان ہے۔
ٹرمپ اور شی کی واشنگٹن بیٹھک
نیویارک سے باہر وائٹ ہاؤس میں دو سپر پاورز کے مذاکرات دنیا کی معیشت، تائیوان اور مشرق وسطیٰ کی جنگ بندی کے حوالے سے فیصلہ کن پیش رفت طے کریں گے۔
گوتریس کے بعد یو این کا مستقبل
سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی مدت 31 دسمبر 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔ ان کے الوداعی انتباہ کے بعد ادارے کے نئے سربراہ کے انتخاب پر ویٹو پاورز کی نئی جنگ چھڑے گی۔
حتمی خلاصہ: جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس اس تلخ حقیقت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے کہ بین الاقوامی ادارے جنگیں روکنے اور انصاف دلانے میں بے اثر دکھائی دے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا اب باقاعدہ کثیر فریقی نظام سے نکل کر دوطرفہ سخت طاقت کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔
اس سال غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور ان پر عالمی تنقید کے پس منظر میں ایک بار پھر یہ سوال موجود ہے کہ کیا وہی منظر دوبارہ دیکھنے کو ملے گا۔
اس بار جنرل اسمبلی نے ایک بات واضح کی کہ عالمی سیاست اب صرف روسٹرم پر کی گئی تقریروں میں نہیں، بلکہ خالی ہوتی نشستوں، موبائل فون کی اسکرینوں اور چند سیکنڈ کی وائرل ویڈیوز میں بھی لکھی جا رہی ہے۔