اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کا عمومی مباحثہ 22 سے 26 ستمبر اور پھر 28 ستمبر 2026 کو ہوگا۔
عالمی رہنماؤں کے اجتماع میں جنگوں، علاقائی سلامتی، موسمیاتی تبدیلی اور عالمی تعاون پر گفتگو ہوگی۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سعودی وفد کی قیادت کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان بھی اعلیٰ سطح پر اجلاس میں شریک ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا نیویارک کی سفارت کاری عملی پیش رفت پیدا کرسکے گی یا اہم فیصلے ایک بار پھر دو طرفہ ملاقاتوں میں ہوں گے؟
نیویارک میں ایک ہی ہفتے کے دوران دنیا کے تقریباً 130 سربراہانِ مملکت و حکومت جمع ہونے والے ہیں، مگر اس مرتبہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہے جب عالمی سفارت کاری کے سامنے ایک نہیں بلکہ کئی بیک وقت بحران کھڑے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی، سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد خلیج کی سکیورٹی، غزہ، روس–یوکرین جنگ، بحیرۂ احمر کی غیر یقینی صورتحال اور امریکا–چین مقابلہ سب نیویارک پہنچ رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق 81ویں جنرل اسمبلی کا عمومی مباحثہ 22 سے 26 ستمبر اور پھر 28 ستمبر 2026 کو ہوگا، جبکہ قریب 130 عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔
◆OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSجنرل اسمبلی — اہم نکات⌄
- ✓81ویں جنرل اسمبلی کا عمومی مباحثہ 22 سے 26 ستمبر اور 28 ستمبر 2026 کو ہوگا۔
- ✓تقریباً 130 سربراہانِ مملکت و حکومت اعلیٰ سطحی ہفتے میں شرکت کر رہے ہیں۔
- ✓اس سال کا مرکزی موضوع اعتماد کی بحالی اور مؤثر کثیرالجہتی تعاون ہے۔
- ✓جنگیں، علاقائی سلامتی، موسمیاتی تبدیلی، صحت اور AI governance ایجنڈے میں شامل ہیں۔
اس سال کا مرکزی عنوان ہے:
اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام اور ایسی اقوام متحدہ جو سب کے لیے نتائج دے۔
مگر یہی عنوان موجودہ عالمی صورتحال میں ایک سوال بھی بن گیا ہے:
جب بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف صف بندی کر رہی ہوں تو اقوام متحدہ کتنے نتائج دے سکتی ہے؟
مزید پڑھیں
اصل میدان مشرقِ وسطیٰ
اس جنرل اسمبلی کے پس منظر میں مشرقِ وسطیٰ سب سے حساس سیاسی میدانوں میں سے ایک ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی، حوثیوں کے سعودی عرب پر تازہ حملے اور خطے کی اہم سمندری گزرگاہوں کو لاحق خطرات نے نیویارک کی ملاقاتوں کی اہمیت بڑھا دی ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنرل اسمبلی کے دوران خلیج تعاون کونسل کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتوں کا منصوبہ رکھتے ہیں، جہاں ایران اور خطے کی سکیورٹی اہم موضوعات میں شامل رہنے کی توقع ہے۔
iOVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس: UNGA 81⌄
یہی وجہ ہے کہ جنرل اسمبلی کے رسمی خطابات سے زیادہ توجہ ان ملاقاتوں پر ہوگی جو اجلاس کے اطراف بند کمروں میں ہوں گی۔
اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی قسم کا رابطہ آگے بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔
تیل کی قیمتوں، آبنائے ہرمز، یمن، بحیرۂ احمر اور خلیجی ممالک کی سکیورٹی تک پورا خطہ اس سے متاثر ہوسکتا ہے۔
حالیہ دنوں میں ایران سے متعلق سفارتی پیش رفت کی امید نے تیل کی قیمتوں پر بھی اثر ڈالا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی منڈیاں نیویارک میں ہونے والی سفارت کاری کو محض رسمی اجتماع نہیں سمجھ رہیں۔
سعودی عرب کے لیے یہ اجلاس کیوں اہم ہے؟
سعودی عرب کی نمائندگی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد کر رہا ہے۔
وفد میں امریکا میں سعودی سفیر شہزادی ریما بنت بندر، عادل الجبیر اور دیگر اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں۔
◎OVERSEAS POST | WHY IT MATTERSنیویارک کا یہ اجتماع کیوں اہم ہے؟⌄
جنرل اسمبلی صرف تقاریر کا فورم نہیں؛ چند دنوں کے لیے دنیا کی بڑی سیاسی قیادت ایک ہی شہر میں موجود ہوتی ہے، جس سے دو طرفہ اور کثیرالجہتی سفارت کاری کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ریاض جنرل اسمبلی کے دوران علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی، استحکام اور مشترکہ سفارت کاری سے متعلق متعدد ملاقاتیں کرے گا۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے نیویارک میں جی سی سی وزرائے خارجہ کے رابطہ اجلاس میں بھی شرکت کی، جہاں خلیجی ممالک نے علاقائی صورتحال اور سلامتی سے متعلق مشترکہ مؤقف پر تبادلۂ خیال کیا۔
موجودہ حالات میں سعودی عرب کے لیے مسئلہ صرف اقوام متحدہ کی عمومی سفارت کاری نہیں۔
حوثی حملوں کے بعد ریاض چاہتا ہے کہ علاقائی سکیورٹی، یمن اور بحیرۂ احمر سے متعلق خدشات کو وسیع بین الاقوامی حمایت حاصل ہو۔
اسی کے ساتھ سعودی عرب ایران کے ساتھ ایسا راستہ بھی کھلا رکھنا چاہتا ہے جو مزید فوجی تصادم کو محدود کرسکے۔
یعنی سعودی سفارت کاری کے سامنے بیک وقت دو تقاضے موجود ہیں: سکیورٹی کی ضمانت مضبوط کرنا اور جنگ کے پھیلاؤ کو روکنا۔
پاکستان بھی ایک اہم سفارتی موقع کے سامنے
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نیویارک پہنچ چکے ہیں، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق ڈار مختلف وزارتی فورمز، دو طرفہ ملاقاتوں اور پاکستان کے لیے اہم علاقائی و بین الاقوامی امور پر مذاکرات میں شریک ہوں گے۔
MEOVERSEAS POST | MIDDLE EASTمشرقِ وسطیٰ سب سے بڑا سیاسی سایہ⌄
رائٹرز کے مطابق امریکا–ایران تنازع، حوثی حملے اور اہم سمندری راستوں کی سکیورٹی نیویارک کی ملاقاتوں پر نمایاں اثر ڈال رہے ہیں۔
- 1ایران کا بحران خلیجی ممالک کی سکیورٹی اور توانائی منڈی دونوں سے جڑا ہوا ہے۔
- 2حوثی سرگرمیاں سعودی عرب اور اہم بحری راستوں کے بارے میں تشویش بڑھا رہی ہیں۔
- 3اسی پس منظر میں سفارتی رابطوں اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر خصوصی توجہ ہے۔
شہباز شریف کا جنرل اسمبلی سے خطاب 25 ستمبر کو طے ہے۔
پاکستانی ذرائع کے مطابق اسلام آباد مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی میں اپنے سفارتی اور ثالثی کردار کو بھی اجاگر کرنا چاہتا ہے۔
پاکستان کے لیے اس اجلاس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ اس کے تعلقات بیک وقت سعودی عرب، ایران، چین اور امریکا سے جڑے ہوئے ہیں۔
خصوصاً سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون اور حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں اسلام آباد کی زبان اور سفارتی پوزیشن پر خاص توجہ ہوگی۔
پاکستان کو ایک طرف سعودی سکیورٹی کے بارے میں اپنے وعدوں کو برقرار رکھنا ہے اور دوسری طرف ایران کے ساتھ ہمسائیگی، تجارت اور سرحدی سلامتی کے تعلقات بھی سنبھالنے ہیں۔
یہ توازن جنرل اسمبلی کے دوران پاکستانی سفارت کاری کے لیے ایک نمایاں امتحان بن سکتا ہے۔
ٹرمپ کا خطاب نہیں، ملاقاتیں زیادہ اہم؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل کو جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے والے ہیں، مگر ان کے دورۂ نیویارک کی اصل سیاسی اہمیت شاید تقریر سے زیادہ دو طرفہ ملاقاتوں میں ہو۔
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ کا پروگرام متعدد عالمی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں پر مشتمل ہے، جن میں یوکرین، برطانیہ، جاپان اور عراق کے رہنما شامل ہیں۔
ایران اور خلیجی سکیورٹی بھی امریکی ایجنڈے میں نمایاں ہیں۔
KSAOVERSEAS POST | SAUDI ARABIAسعودی عرب کا ایجنڈا⌄
سعودی عرب کے وفد کی قیادت وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کر رہے ہیں۔ وفد میں شہزادی ریما بنت بندر، عادل الجبیر اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
یہ وہ مقام ہے جہاں اقوام متحدہ کی موجودہ کمزوری بھی سامنے آتی ہے۔
دنیا کے رہنما ایک ہی عمارت اور ایک ہی شہر میں جمع تو ہوتے ہیں، لیکن اہم سیاسی فیصلے اکثر جنرل اسمبلی کے فلور کے بجائے ہوٹلوں، مستقل مشنز اور سربراہی ملاقاتوں میں طے ہوتے ہیں۔
یوکرین کی جنگ بھی پس منظر میں نہیں گئی
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی کے باوجود یوکرین کا مسئلہ عالمی ایجنڈے سے غائب نہیں ہوا۔
کیف کے لیے جنرل اسمبلی عالمی سیاسی حمایت برقرار رکھنے کا موقع ہے، جبکہ روس یہ مؤقف پیش کرنے کی کوشش کرے گا کہ جنگ اور اس کے خاتمے کے بارے میں مغربی ممالک کا نقطۂ نظر واحد عالمی مؤقف نہیں۔
PKOVERSEAS POST | PAKISTANپاکستان کے لیے نیویارک کیوں اہم؟⌄
وزیراعظم شہباز شریف پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اعلیٰ سطحی مصروفیات میں شریک ہیں۔ وزیراعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب 25 ستمبر کو مقرر ہے۔
- ✓پاکستان علاقائی و عالمی پیش رفت پر اپنا مؤقف پیش کرے گا۔
- ✓ترقی، موسمیاتی تبدیلی، انسداد دہشت گردی، اسلاموفوبیا اور اقوام متحدہ اصلاحات پاکستانی ترجیحات میں شامل ہیں۔
- ✓اسحاق ڈار OIC، فلسطین، AI اور دیگر فورمز میں بھی شرکت کر رہے ہیں۔
یہ تنازع اقوام متحدہ کی ساختی مشکل کو بھی نمایاں کرتا ہے۔
روس سلامتی کونسل کا مستقل رکن اور ویٹو طاقت ہے، اس لیے سلامتی کونسل جنگ سے متعلق بہت سے معاملات پر مؤثر مشترکہ اقدام نہیں کرسکی۔
ایک نیا موضوع: مصنوعی ذہانت
اس مرتبہ نیویارک میں صرف ٹینک، میزائل اور جنگیں زیرِ بحث نہیں ہوں گی۔
مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی بھی اعلیٰ سطحی ہفتے کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ اقوام متحدہ نے اپنے 2026 کے پروگرام میں AI governance کو ان موضوعات میں شامل کیا ہے جن پر عالمی رہنما اور ماہرین گفتگو کریں گے۔
یہ تبدیلی اہم ہے۔
USOVERSEAS POST | UNITED STATESٹرمپ کی تقریر سے زیادہ ملاقاتیں اہم؟⌄
رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے اور نیویارک میں متعدد دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔
اب AI صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں کا معاملہ نہیں رہا؛ امریکا، چین اور دیگر طاقتیں اسے قومی سلامتی، معاشی برتری اور مستقبل کی فوجی صلاحیت سے جوڑ رہی ہیں۔
یوں اقوام متحدہ کو مستقبل کی جنگوں کے اصول اس وقت زیرِ بحث لانے پڑ رہے ہیں جب وہ موجودہ جنگوں کا حل تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کا اصل امتحان
اس پورے اجتماع کا سب سے بڑا سوال شاید یہ نہیں کہ کس رہنما نے اپنی تقریر میں کیا کہا۔
اصل سوال یہ ہوگا کہ 28 ستمبر کے بعد دنیا میں کیا بدلا؟
کیا امریکا اور ایران کے درمیان کسی سیاسی رابطے کا راستہ بنا؟
کیا سعودی عرب اور خلیجی ممالک کو علاقائی سکیورٹی پر وسیع حمایت ملی؟
کیا پاکستان کسی مفاہمتی سفارتی کردار کے لیے جگہ بنا سکا؟
کیا یوکرین کے مسئلے پر کوئی نیا سیاسی راستہ کھلا؟
UAOVERSEAS POST | UKRAINEیوکرین جنگ بھی ایجنڈے پر⌄
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باوجود یوکرین کا تنازع جنرل اسمبلی کے مرکزی عالمی مسائل میں شامل رہے گا۔
- 1کیف کے لیے عالمی سیاسی حمایت برقرار رکھنا اہم ہے۔
- 2روس سلامتی کونسل کا مستقل رکن اور ویٹو طاقت ہے، جس سے کونسل کی مشترکہ کارروائی محدود رہی ہے۔
- 3جنگ کے اثرات یورپی سلامتی، توانائی، خوراک اور عالمی اتحادوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔
اور کیا بڑی طاقتیں اقوام متحدہ کو ایک مؤثر ادارہ سمجھ کر استعمال کریں گی، یا نیویارک صرف وہ مقام ثابت ہوگا جہاں دنیا کے رہنما جمع ہوئے اور اصل فیصلے پھر اپنے اپنے دارالحکومتوں میں لے گئے؟
دنیا نیویارک میں جمع ہے، اگلے چند دن یہ طے کریں گے کہ اقوام متحدہ بحرانوں کے درمیان مذاکرات کا مرکز بن سکتی ہے یا صرف عالمی اختلافات سنانے کا سب سے بڑا اسٹیج رہ جائے گی۔