ریاض کی جانب حوثی میزائل حملے کی کوشش نے خلیج میں سلامتی کے خدشات دوبارہ بڑھا دیے ہیں، لیکن اسی دوران امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے بھی تیز ہورہے ہیں۔
قطر پیغامات اور تجاویز کے تبادلے میں سرگرم ہے جبکہ ایران مذاکرات کے لیے سات شرائط واشنگٹن تک پہنچانے کا اعلان کرچکا ہے۔
اب نیویارک میں ہونے والی سفارتی سرگرمیاں یہ واضح کرسکتی ہیں کہ بحران مذاکرات کی طرف بڑھتا ہے یا فوجی کشیدگی برقرار رہتی ہے۔
ایک طرف سعودی فضائی دفاع ریاض کی جانب آنے والے میزائل کو روک رہا ہے، دوسری طرف سفارتی چینلز واشنگٹن اور تہران کو دوبارہ مذاکرات کی طرف لانے کی کوشش کررہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کا شاید یہی سب سے بڑا تضاد ہے:
میدان میں میزائل، پس پردہ پیغامات اور نیویارک میں سفارت کاری۔
سعودی دار الحکومت کی طرف حالیہ حوثی میزائل حملے کی کوشش نے خلیج میں سلامتی کے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔
اسی دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکا، ایران اور خلیجی ممالک سے متعلق اہم سفارتی سرگرمیاں متوقع ہیں۔
◆OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTاہم نکات⌄
- ✓سعودی اتحاد کے مطابق ریاض کی جانب آنے والا حوثی بیلسٹک میزائل روک دیا گیا۔
- ✓امریکا ایران بحران پر خلیجی شراکت داروں سے مشاورت کررہا ہے۔
- ✓قطر واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں میں سرگرم ہے۔
- ✓ایران نے مذاکرات کے لیے سات شرائط امریکا تک پہنچانے کا اعلان کیا ہے۔
- ✓ان میں سے تین شرائط کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، باقی چار پوری طرح واضح نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے بارے میں اگلے اقدامات پر خلیجی شراکت داروں سے مشاورت کررہے ہیں، جبکہ واشنگٹن مذاکرات کا امکان مکمل طور پر بند کئے بغیر ایران پر دباؤ بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اس لیے اب بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ امریکا اور ایران دوبارہ بات کریں گے یا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا سفارتی کوششیں اس وقت کامیاب ہوسکتی ہیں جب خطے میں میزائل اور ڈرون حملے بدستور جاری ہوں؟
مزید پڑھیں
ریاض پر میزائل نے معاملہ مزید سنگین کردیا
19 ستمبر کو سعودی اتحاد نے بتایا کہ فضائی دفاع نے ریاض کی طرف داغا گیا حوثی بیلسٹک میزائل روک لیا۔
حوثیوں نے ریاض میں حساس اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم ان کے تمام دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
سعودی حکام نے کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔
اس واقعے کی سیاسی اہمیت صرف ایک میزائل تک محدود نہیں۔
ریاض سعودی ریاست، معیشت اور حکومتی نظام کا مرکز ہے۔
دارالحکومت کو نشانہ بنانے کی کوشش یہ پیغام دیتی ہے کہ یمن کا محاذ سعودی سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہا۔
iOVERSEAS POST | SPECIAL REPORTفیکٹ باکس⌄
- ✓مرکزی بحران: امریکا–ایران کشیدگی
- ✓سکیورٹی محاذ: سعودی عرب–حوثی کشیدگی
- ✓اہم سفارتی مقام: نیویارک
- ✓اہم رابطہ کار: قطر
- ✓ایرانی شرائط: 7 — واضح: 3
- ✓اہم بحری راستے: آبنائے ہرمز، بحیرہ احمر اور باب المندب
یہی وجہ ہے کہ امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان ایران سے متعلق مشاورت میں سعودی سلامتی اور حوثی خطرہ اہم موضوع بن سکتے ہیں۔
واشنگٹن کے سامنے مشکل انتخاب
ٹرمپ انتظامیہ کے لیے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ایران پر دباؤ اور مذاکرات کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔
واشنگٹن نے فوجی آپشن کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا، جبکہ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ سفارتی رابطے کے لیے بھی دروازہ کھلا رکھا ہے۔
7OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTایران کی سات شرائط⌄
- ✓جنگ کا خاتمہ سامنے آنے والے مطالبات میں شامل ہے۔
- ✓منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی بھی ایک مطالبہ ہے۔
- ✓امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ بھی بیان کیا گیا ہے۔
- ✓باقی چار شرائط کی مکمل تفصیلات ابھی واضح نہیں۔
دوسری طرف تہران کا پیغام بھی دوہرا ہے۔
ایران مذاکرات کے امکان کی بات کررہا ہے، لیکن ساتھ ہی خبردار کررہا ہے کہ کسی نئی امریکی فوجی کارروائی کا جواب دیا جائے گا۔
اس ماحول میں کسی بھی ممکنہ مذاکرات کے اوپر فوجی دباؤ کا سایہ برقرار رہے گا۔
اسی لیے یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ واشنگٹن لازماً مذاکرات یا نئی فوجی کارروائی میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرچکا ہے۔
قطر کے ہاتھ میں اہم سفارتی دھاگا
اس کشیدگی کے درمیان قطر ایک بار پھر اہم رابطہ کار کے طور پر سامنے آیا ہے۔
دوحہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات پہنچانے اور مذاکرات کی گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا نیویارک جاتے ہوئے قطر میں مشاورت کرنا بھی اسی وسیع سفارتی سرگرمی کا حصہ ہے۔
یہ پیش رفت اس لیے مزید اہم ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کے لیے 7 شرائط کی بات کرچکا ہے۔
◎OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTقطر کا کردار⌄
- ✓دوحہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات پہنچانے میں سرگرم ہے۔
- ✓قطری رابطے براہ راست مذاکرات نہ ہونے کی صورت میں بھی رابطے کا راستہ کھلا رکھ سکتے ہیں۔
- ✓ایرانی وزیر خارجہ کے قطر میں رابطے وسیع سفارتی سرگرمی کا حصہ ہیں۔
ان میں 3 مطالبات سامنے آئے ہیں: جنگ کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی اور ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ۔
لیکن باقی چار شرائط ابھی پوری طرح عوام کے سامنے نہیں آئیں۔
یہی 4 نامعلوم شرائط مستقبل کے مذاکرات میں اہم ثابت ہوسکتی ہیں، کیونکہ انہی سے اندازہ ہوگا کہ تہران مذاکرات شروع کرنے سے پہلے واشنگٹن سے مزید کیا چاہتا ہے۔
کیا ٹرمپ اور پزشکیان آمنے سامنے آئیں گے؟
نیویارک میں سب سے زیادہ توجہ جس امکان پر رہے گی، وہ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ممکنہ رابطے کی ہے۔
ٹرمپ نے پزشکیان سے ملاقات کے امکان کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ ایرانی صدر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے امریکا پہنچ رہے ہیں۔
◈OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTسعودی زاویہ⌄
- ✓ریاض کے لیے کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کا اہم پیمانہ سعودی سلامتی پر اس کا اثر ہوگا۔
- ✓حوثی میزائل اور ڈرون حملے جاری رہیں تو صرف امریکا–ایران کشیدگی میں کمی کافی نہیں ہوگی۔
- ✓یمن، بحیرہ احمر اور توانائی تنصیبات کی سلامتی بھی اہم رہے گی۔
لیکن یہاں ایک اہم فرق برقرار رکھنا ضروری ہے:
ملاقات کے لیے آمادگی اور ملاقات کا باقاعدہ طے ہوجانا ایک ہی بات نہیں۔
ابھی کسی براہ راست سربراہی ملاقات کو یقینی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
اگر دونوں صدور کی ملاقات ہوجاتی ہے تو یہ موجودہ بحران میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت ہوگی۔
اگر براہ راست ملاقات نہیں ہوتی تب بھی قطر اور دوسرے رابطہ کاروں کے ذریعے پیغام رسانی جاری رہ سکتی ہے۔
نیویارک میں
براہ راست یا
بالواسطہ رابطوں
پر توجہ مرکوز
رہے گی
سعودی عرب کے لیے اصل مسئلہ ایران نہیں، سلامتی ہے
ریاض کے لیے کسی ممکنہ امریکا ایران سمجھوتے کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ اس سے سعودی سلامتی پر کیا اثر پڑتا ہے۔
اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم ہوجاتی ہے لیکن سعودی شہروں کی طرف حوثی میزائل اور ڈرون آتے رہتے ہیں تو ریاض کے بنیادی خدشات اپنی جگہ موجود رہیں گے۔
اس لیے کسی وسیع علاقائی مفاہمت میں صرف امریکا ایران محاذ کافی نہیں ہوگا۔
یمن، حوثی حملے، بحیرہ احمر میں جہاز رانی، سعودی توانائی تنصیبات اور آبنائے ہرمز کی سلامتی بھی اہم معاملات رہیں گے۔
یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ امریکی مشاورت اہم ہے۔
واشنگٹن کو کسی بھی نئے سفارتی انتظام میں اپنے خلیجی شراکت داروں کے سلامتی خدشات کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔
تیل کی منڈی ہر اشارہ دیکھ رہی ہے
اس بحران کا ایک اور بڑا میدان عالمی تیل منڈی ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم ہونے کی معمولی امید بھی خام تیل کی قیمتوں، جہاز رانی اور انشورنس مارکیٹ پر اثر ڈال سکتی ہے۔
اس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز ہے۔
NYOVERSEAS POST | SPECIAL REPORTنیویارک میں کس بات پر نظر؟⌄
- ✓اعلیٰ سطح کے امریکی، ایرانی اور خلیجی رابطوں پر توجہ رہے گی۔
- ✓ملاقات کی آمادگی اور باقاعدہ طے شدہ ملاقات ایک ہی چیز نہیں۔
- ✓براہ راست ملاقات نہ بھی ہو تو بالواسطہ رابطے جاری رہ سکتے ہیں۔
دنیا کی توانائی تجارت کا ایک اہم حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
یہاں طویل رکاوٹ یا فوجی کشیدگی عالمی تیل کی فراہمی اور مال برداری کی لاگت پر فوری دباؤ ڈال سکتی ہے۔
اس کے برعکس اگر سفارتی رابطے کامیاب ہوتے ہیں اور بحری راستوں کے بارے میں خدشات کم ہوتے ہیں تو توانائی منڈی میں خطرے کا اضافی بوجھ بھی کم ہوسکتا ہے۔
پاکستان کے لیے معاملہ زیادہ پیچیدہ
پاکستان اس بحران سے جغرافیائی اور معاشی دونوں حوالوں سے براہ راست متاثر ہوسکتا ہے۔
ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اس کے گہرے دفاعی تعلقات ہیں، دوسری طرف ایران اس کا ہمسایہ ہے۔
⌁OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTتیل اور آبنائے ہرمز⌄
- ✓خلیج میں کشیدگی عالمی تیل، جہاز رانی اور انشورنس لاگت پر اثر ڈال سکتی ہے۔
- ✓آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے اہم ترین راستوں میں شامل ہے۔
- ✓سفارتی تناؤ میں کمی توانائی منڈی کے خطرات کم کرسکتی ہے۔
اسلام آباد کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ سعودی سلامتی کے لیے اپنے عزم، ایران کے ساتھ تعلقات اور خطے میں جنگ روکنے کی سفارتی کوششوں کے درمیان توازن برقرار رکھے۔
معاشی خطرہ بھی کم اہم نہیں۔
پاکستان اپنی توانائی ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔
خلیج یا آبنائے ہرمز میں طویل بحران تیل کے درآمدی بل، ایندھن کی قیمتوں، ٹرانسپورٹ اور بالآخر مہنگائی پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
اسی لیے نیویارک میں ہونے والی سفارتی پیش رفت اسلام آباد کے لیے بھی محض خارجہ پالیسی کی خبر نہیں بلکہ ممکنہ معاشی خبر ہے۔
فیصلہ کن موڑ، مگر فیصلہ ابھی نہیں
نیویارک میں ہونے والی سفارت کاری کو ابھی جنگ کے خاتمے کا آغاز قرار دینا جلد بازی ہوگی۔
مگر کئی اہم واقعات ایک ہی وقت میں جمع ہوگئے ہیں۔
ریاض کی طرف میزائل داغا گیا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان سخت پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
قطر رابطوں میں سرگرم ہے۔
خلیجی ممالک واشنگٹن کے ساتھ مشاورت کررہے ہیں اور ایرانی قیادت بھی جنرل اسمبلی کے لیے نیویارک پہنچ رہی ہے۔
PKOVERSEAS POST | SPECIAL REPORTپاکستان کہاں کھڑا ہے؟⌄
- ✓پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ اہم دفاعی و اقتصادی تعلقات ہیں جبکہ ایران اس کا ہمسایہ ہے۔
- ✓اسلام آباد کے لیے سعودی سلامتی، ایران سے تعلقات اور جنگ سے بچاؤ کے درمیان توازن اہم ہے۔
- ✓طویل خلیجی بحران پاکستان کے تیل درآمدی بل اور مہنگائی پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
اسی لیے آنے والے دن موجودہ بحران کے لیے اہم ہوسکتے ہیں۔
اب سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ جنگ ہوگی یا مذاکرات؟
بلکہ یہ ہے کہ:
کیا میزائلوں کا بڑھتا خطرہ فریقوں کو کسی وسیع علاقائی سمجھوتے کے قریب لے جائے گا، یا سلامتی کے یہی خدشات سفارت کاری کو ناکام کرکے ایک نئے فوجی مرحلے کا راستہ کھول دیں گے؟
فی الحال دونوں امکانات موجود ہیں، اور کسی ایک نتیجے کو یقینی قرار دینے کے لیے ابھی کافی شواہد نہیں۔