دنیا کے نقشے پر ’میون‘ ایک معمولی سا پتھریلا جزیرہ دکھائی دیتا ہے، جس کا رقبہ صرف 13 مربع کلومیٹر ہے۔ نہ کوئی بڑا شہر، نہ وسیع آبادی، لیکن یہی چھوٹا سا جزیرہ اس وقت دنیا کی ایک انتہائی حساس بحری گزرگاہ باب المندب کے بیچوں بیچ بیٹھا ہے۔
مزید پڑھیں
ستمبر 2026 میں حوثی فورسز کے میون، جسے پیریم بھی کہا جاتا ہے، تک پہنچنے اور اس پر کنٹرول قائم کرنے کے بعد یہ جزیرہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
عالمی رپورٹس کے مطابق یمنی حکومتی ذرائع نے 11 ستمبر کو حوثیوں کے جزیرے تک پہنچنے کی تصدیق کی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سوال صرف یہ نہیں کہ میون پر کس کا پرچم لہرا
رہا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ بحیرہ احمر کے اس دروازے کو محفوظ رکھنے کی قیمت کون ادا کرے گا؟
⚓
فیکٹ باکس: باب المندب اتنا اہم کیوں ہے؟
+
فیکٹ باکس: باب المندب اتنا اہم کیوں ہے؟
روزانہ تیل و پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل (EIA ڈیٹا 2026)
81 لاکھ بیرل یومیہنہرِ سوئز کا ناگزیر جنوبی دہانہ
یہ تنگ آبی گزرگاہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے جوڑتی ہے۔ ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تیز ترین سمندری سفر اسی قدرتی کوریڈور سے گزرتا ہے۔
عالمی سمندری تجارت کی شہ رگ
اقوام متحدہ کی تنظیم آنکٹاڈ (UNCTAD) کے مطابق دنیا کی 80 فیصد سے زائد اشیا سمندر کے ذریعے منتقل ہوتی ہیں، جن میں سے بڑی مال برداری اسی راہداری کی مرہونِ منت ہے۔
کیپ آف گڈ ہوپ کا مہنگا ترین چکر
باب المندب میں خطرہ بڑھنے پر تجارتی جہازوں کو جنوبی افریقہ کا چکر کاٹ کر جانا پڑتا ہے، جس سے ایندھن، انشورنس پریمیم، فریٹ اور وقت میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔
میون جزیرے کا جغرافیائی تالا
صرف 13 مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل جزیرہ میون اس آبنائے کے بیچوں بیچ واقع ہے، جہاں سے گزرنے والے جہازوں کی رفتار اور سمت کو باآسانی براہِ راست نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
باب المندب اتنا اہم کیوں ہے؟
باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور پھر بحرِ ہند سے ملاتا ہے۔ اس کے شمال میں نہرِ سوئز ہے، یعنی ایشیا اور یورپ کے درمیان مختصر ترین بڑے بحری راستوں میں سے ایک اسی راہداری سے گزرتا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ اعداد کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی میں تقریباً 81 لاکھ بیرل یومیہ خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات باب المندب سے گزریں۔
محض تیرہ مربع کلومیٹر کا پتھریلا جزیرہ عالمی تیل اور مال برداری کی شہ رگ پر اثر انداز ہو رہا ہے، جہاں بحری راستوں کی مسلسل حفاظت عالمی طاقتوں کے لیے انتہائی مہنگا امتحان بن چکی ہے۔
روزانہ اکیاسی لاکھ بیرل تیل اس تنگ دہانے سے گزرتا ہے؛ یہاں کسی بھی عسکری خطرے کا فوری اثر کنٹینرز، ایندھن کے نرخوں اور عالمی مارکیٹ پر پڑتا ہے۔
محدود زمینی رقبے کے باوجود یہ چٹان بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے سنگم پر میزائل اور ڈرون حملوں سے بحری ناکہ بندی کا موثر گڑھ بن سکتی ہے۔
دنیا کی اسی فیصد تجارت سمندر سے وابستہ ہے؛ راستہ غیر محفوظ ہونے پر طویل افریقی چکر سے انشورنس اور مال برداری کی لاگت میں بھاری اضافہ ہوتا ہے۔
پاکستان سمیت سینتالیس ممالک بین الاقوامی میری ٹائم اتحاد کے تحت نگرانی کر رہے ہیں، تاہم سستے ڈرونز کے مقابلے میں جنگی جہازوں کی تعیناتی بے پناہ وسائل مانگتی ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
UNCTAD کے مطابق دنیا کی 80 فیصد سے زیادہ تجارت سمندر کے راستے ہوتی ہے۔
بحیرہ احمر میں خطرہ بڑھنے پر جہازوں کو جنوبی افریقہ کے گرد کیپ آف گڈ ہوپ کا طویل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے، جس سے سفر، ایندھن، انشورنس اور فریٹ کی قیمت بڑھتی ہے۔
یعنی باب المندب میں ہونے والی ایک فوجی پیش رفت کا اثر چند دن بعد کسی دوسرے براعظم میں کنٹینر، تیل یا روزمرہ مصنوعات کی قیمت پر نظر آ سکتا ہے۔
⚠️
اصل خطرہ کہاں ہے: ایک چھوٹا جزیرہ، پوری دنیا پریشان
◆
اصل خطرہ کہاں ہے: ایک چھوٹا جزیرہ، پوری دنیا پریشان
میون جزیرے کا تزویراتی محل وقوع اور غیر متناسب جنگ
ستمبر 2026 میں حوثی فورسز کی میون تک رسائی نے بڑی بحری طاقتوں کے لیے ایک نیا سیکیورٹی معمہ کھڑا کر دیا ہے۔ بین الاقوامی بحری قوانین اور کھلے سمندر کے برعکس یہ تنگ راہداری کم لاگت عسکری ہتھکنڈوں کے ذریعے دنیا کی مہنگی ترین تجارت کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
سمندری انکار (Sea Denial)
کمزور فریق کا ہتھیارماہرین کے مطابق حوثیوں کو کھلی جنگ میں امریکی یا مغربی بحریہ کو ہرانے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ چند ہزار ڈالر کے سستے ڈرونز یا اینٹی شپ میزائلوں سے محض خوف پیدا کر کے اس راستے کو انشورنس کمپنیوں اور کارگو شپنگ کے لیے ناقابلِ قبول بنایا جا سکتا ہے۔
سمندری کنٹرول (Sea Control)
بڑی بحریہ کا مہنگا بوجھبڑی طاقتوں کو گزرگاہ محفوظ رکھنے کے لیے دن رات اربوں ڈالر مالیت کے طیارہ بردار بحری جہاز، راڈارز اور ایئر ڈیفنس شیلڈز تعینات رکھنی پڑتی ہیں۔ ہر سستے راکٹ کو گرانے پر لاکھوں ڈالر کے میزائل خرچ ہوتے ہیں، جو مالی طور پر مستقل پائیدار نہیں۔
تزویراتی تضاد کا نچوڑ:
تاریخ شاہد ہے کہ بحری راستہ جتنا قیمتی ہو، اس کا دفاع اتنا ہی مہنگا ہوتا ہے۔ میون پر کنٹرول کا سوال دراصل یہ طے کرے گا کہ عالمی معیشت سستے ڈرونز کی ناکہ بندی کے سامنے کس حد تک مالی و عسکری قربانی دینے کو تیار ہے۔
چھوٹا جزیرہ، صدیوں پرانی کشمکش
میون کی اہمیت کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ سولہویں صدی میں پرتگالی یہاں پہنچے، بعد میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے جزیرے میں دلچسپی لی اور 1857 سے برطانیہ نے اسے اپنے کنٹرول میں رکھا۔
1967 میں عدن سے برطانوی انخلا کے بعد یہ جنوبی یمن کا حصہ بن گیا۔ سرد جنگ میں عدن، میون اور سقطریٰ سوویت بحری حکمتِ عملی میں بھی اہم سمجھے جاتے تھے۔
Houthis declares 'total ban' on Israeli ships in Red Sea as Israel-Iran strikes shatter ceasefirehttps://t.co/domsd95SZA
— Lloyd's List (@LloydsList) June 8, 2026
اصل تبدیلی 1869 میں نہرِ سوئز کھلنے کے بعد آئی، جب یورپ سے ہندوستان اور مشرقی ایشیا جانے والا راستہ چھوٹا ہوا تو عدن اور باب المندب برطانوی سلطنت کے لیے ایسے دروازے بن گئے جن کی حفاظت سامراجی طاقت کی ضرورت تھی۔
تاریخ کی یہی کہانی اہم سبق دیتی ہے کہ بحری راستہ جتنا قیمتی ہو، اس کی حفاظت اتنی ہی مہنگی ہوتی ہے۔
پاکستان الرٹ: مہنگی شپنگ کا بوجھ کہاں پڑے گا؟
▼
پاکستان الرٹ: مہنگی شپنگ کا بوجھ کہاں پڑے گا؟
کراچی سے یورپ تک سپلائی چین کے چیلنجز
پاکستان باب المندب سے جغرافیائی طور پر دور ضرور ہے، لیکن ملکی برآمدات کا بڑا حصہ بحیرہ احمر اور نہر سوئز کے ذریعے یورپی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) کے تجزیے کے مطابق اس بحری راستے کی بندش یا خطرات براہِ راست ملکی معیشت پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
🚢 ٹیکسٹائل برآمدات پر تاخیر اور جرمانے
جہازوں کو افریقہ کے گرد طویل روٹ اختیار کرنے سے یورپ تک سامان پہنچنے میں 10 سے 15 دن اضافی لگتے ہیں، جس سے پاکستانی فیکٹریوں کے آرڈرز منسوخ ہونے یا تاخیر کے جرمانے کا خطرہ رہتا ہے۔
📦 کنٹینر فریٹ اور انشورنس میں دوگنا اضافہ
جنگی خطرات کے باعث شپنگ کمپنیوں نے ہائی رسک سرچارج عائد کر دیا ہے۔ فی کنٹینر مال برداری بڑھنے سے عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت شدید متاثر ہو رہی ہے۔
⛽ درآمدی خام مال اور ایندھن کی گرانی
یورپ اور بحیرہ روم کے ممالک سے درآمد ہونے والی مشینری، کیمیکلز اور ادویات کی نقل و حمل مہنگی ہونے سے مقامی سطح پر پیداواری لاگت بڑھتی ہے جو بالآخر عام پاکستانی صارف کی جیب پر اثر ڈالتی ہے۔
🛡️ کمبائنڈ میری ٹائم فورسز (CMF) میں کردار
پاکستان 47 رکنی کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کا فعال رکن ہے۔ خطے میں سمندری استحکام اور بحری ڈکیتی کی روک تھام میں پاک بحریہ کے جہاز بین الاقوامی آبی تحفظ کے لیے مسلسل خدمات سرانجام دیتے ہیں۔
کمزور فریق کو سمندر فتح کرنے کی ضرورت نہیں
باب المندب کا سب سے دلچسپ فوجی پہلو یہی ہے۔
یعنی کسی نسبتاً کمزور مسلح قوت کو امریکی یا کسی دوسری بڑی بحریہ کو کھلی جنگ میں شکست دینے کی ضرورت نہیں۔ اسے صرف اتنا کرنا ہوتا ہے کہ اس راستے کو غیر محفوظ، مہنگا اور غیر یقینی بنا دے۔
بحری حکمتِ عملی کے ماہر جیفری ٹِل اسے ’سمندری کنٹرول‘ اور ’سمندری انکار‘ کے فرق سے سمجھاتے ہیں۔
طاقتور بحریہ کو راستہ ہر وقت محفوظ رکھنا پڑتا ہے، جبکہ کمزور فریق اپنی مرضی کے وقت میزائل یا ڈرون سے خطرہ پیدا کرکے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔
یہی عدم توازن بڑی طاقتوں کے لیے مسئلہ بنا ہوا ہے، کیونکہ نسبتاً سستا حملہ روکنے کے لیے مہنگے جنگی جہاز، فضائی نگرانی، میزائل اور مسلسل تعیناتی درکار ہوتی ہے۔
⚔️
امریکا بمقابلہ چین: سمندر کا اگلا نگہبان کون؟
❯
امریکا بمقابلہ چین: سمندر کا اگلا نگہبان کون؟
امریکا: طاقت بمقابلہ مالی تھکاوٹ
امریکی احتساب ادارے (GAO) کے مطابق امریکی بحریہ کو جنگی جہازوں کی دیکھ بھال، پرزوں کی قلت اور طویل سمندری مشنز کے باعث دباؤ کا سامنا ہے۔ سوال طاقت کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ پینٹاگون عالمی بحری راستوں کی حفاظت پر مسلسل کتنے ارب ڈالر جھونک سکتا ہے۔
چین: فوجی اڈہ موجود، مگر عملی گریز
باب المندب کے دہانے پر واقع جبوتی میں چین کا باقاعدہ فوجی اڈہ موجود ہے۔ تاہم امریکی محکمۂ دفاع کی 2025 کی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ بیجنگ عالمی جہاز رانی کے تحفظ کا مالی یا سیاسی بوجھ تن تنہا اٹھانے کے بجائے صرف اپنے تجارتی کارگو تک محدود رہتا ہے۔
سفارتی و عسکری حقیقت:
جنگی بحری بیڑا تیار کرنا الگ بات ہے، مگر دہائیوں تک عالمی تجارت کا سیکیورٹی بل ادا کرنا بالکل الگ معاملہ ہے۔ نہ برطانیہ 1967 کے بعد عدن میں رک سکا اور نہ ہی چین فوری طور پر امریکی بحری چھتری کا متبادل بننے کو تیار ہے، جس سے مستقبل میں ایک غیر محفوظ خلا ابھر سکتا ہے۔
امریکہ کا مسئلہ طاقت نہیں، قیمت ہے
امریکہ اب بھی خطے کی سب سے طاقتور بحری قوت ہے، لیکن ہر جنگی جہاز جو بحیرہ احمر میں تعینات ہوتا ہے، وہ کسی دوسرے محاذ پر موجود نہیں ہوتا۔
امریکی حکومتی احتساب کے ادارے GAO نے بھی نشاندہی کی ہے کہ امریکی بحریہ اپنے سطحی جنگی جہازوں کی دیکھ بھال میں پرزوں، تربیت یافتہ عملے اور تاخیر جیسے مسائل کا سامنا کرتی رہی ہے۔
EUNAVFOR ASPIDES remains vigilant and on high alert, continuing its commitment to freedom of navigation and to strengthening maritime security across one of the world’s most critical and vulnerable trade corridors.
— EUNAVFOR ASPIDES (@EUNAVFORASPIDES) March 9, 2026
اسی لیے آج بحث یہ نہیں کہ امریکہ باب المندب کی حفاظت کر سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ دنیا بھر میں پھیلی اپنی ذمہ داریوں کے درمیان اس کام پر کتنے وسائل خرچ کرنا چاہتا ہے۔
برطانیہ بھی 1960 کی دہائی میں کچھ ایسی ہی بحث اور مسائل سے گزرا تھا۔ عدن سے اس کا نکلنا فوری فوجی شکست سے زیادہ عالمی ذمہ داریوں اور کم ہوتے وسائل کے درمیان نئے توازن کی تلاش تھا۔
⏱️
اہم نکات: باب المندب کی جنگ، 60 سیکنڈ میں سمجھیں
❯
اہم نکات: باب المندب کی جنگ، 60 سیکنڈ میں سمجھیں
1۔ صدیوں پرانی تزویراتی کشمکش
تاریخی پس منظرپرتگالیوں کی آمد سے لے کر 1857 کے برطانوی قبضے اور 1869 میں نہر سوئز کے افتتاح تک، 13 مربع کلومیٹر کا جزیرہ میون ہمیشہ مشرقی و مغربی تجارت کا چوکیدار رہا ہے۔
2۔ ستمبر 2026 کا عسکری موڑ
تازہ پیش رفتیمنی حکومتی ذرائع نے تصدیق کی کہ حوثی فورسز جزیرہ میون تک پہنچ چکی ہیں، جس نے بحیرہ احمر کی اس تنگ گزرگاہ پر نئے عسکری محاصرے کا خطرہ کھڑا کر دیا ہے۔
3۔ ڈرونز بمقابلہ جنگی بیڑے کا عدم توازن
عسکری حکمتِ عملیکمزور مسلح گروہ کو سمندر فتح کرنے کی ضرورت نہیں، وہ صرف سستے میزائلوں سے خوف پھیلا کر جہاز رانی کو افریقہ کے طویل راستے پر موڑنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
4۔ نگہبانی کا مالی بوجھ کون اٹھائے گا؟
اصل سوالامریکی بحریہ وسائل کے تناؤ کا شکار ہے جبکہ چین جبوتی اڈے کے باوجود بوجھ لینے سے گریزاں ہے۔ گزرگاہ کو محفوظ رکھنے کا خرچ اٹھانا عالمی طاقتوں کا امتحان بن چکا ہے۔
کیا چین امریکہ کی جگہ لے سکتا ہے؟
ظاہری طور پر چین سب سے واضح امیدوار دکھائی دیتا ہے۔ اس کا پہلا بیرونِ ملک فوجی اڈہ جبوتی میں، باب المندب کے بالکل قریب ہے۔
لیکن امریکی محکمۂ دفاع کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق جبوتی میں چینی فوجی اڈے نے بحیرہ احمر کے موجودہ بحران میں محدود کردار ادا کیا ہے۔
یہ فرق اہم ہے، کیونکہ جنگی جہاز اور اڈہ بنانا الگ چیز ہے، مگر برسوں تک عالمی تجارت کی حفاظت کا خرچ، سیاسی ذمہ داری اور اتحادیوں کا نیٹ ورک سنبھالنا بالکل دوسری چیز۔
امریکہ بھی یہ کام اکیلا نہیں کرتا۔ Combined Maritime Forces میں پاکستان سمیت 47 ممالک شامل ہیں، جبکہ بحیرہ احمر کی سکیورٹی کے لیے الگ ٹاسک فورس بھی موجود ہے۔
🔭
آگے کیا ہوگا: بحران بڑھے گا یا نئی طاقت ابھرے گی؟
▼
آگے کیا ہوگا: بحران بڑھے گا یا نئی طاقت ابھرے گی؟
منظرنامہ 1: دائمی غیر یقینی اور مہنگی شپنگ
حوثی جزیرے کی قربت سے وقتاً فوقتاً خطرہ برقرار رکھیں گے۔ بین الاقوامی بحری بیڑے کارگو جہازوں کو مکمل تحفظ دینے سے قاصر رہیں گے اور تجارتی ٹینکر مستقل کیپ آف گڈ ہوپ پر شفٹ رہیں گے۔
منظرنامہ 2: کثیر فریقی سیکیورٹی فریم ورک
امریکہ اکیلا خرچ اٹھانے کے بجائے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایشیائی صارفین پر مشتمل ایک نیا مشترکہ فنڈ قائم کرے گا جس میں سیکیورٹی اخراجات تمام تجارتی شراکت دار بانٹیں گے۔
منظرنامہ 3: سفارتی ڈیل اور بحری جنگ بندی
علاقائی و بین الاقوامی مذاکرات کے ذریعے یمن میں سیاسی مفاہمت طے پا جائے اور آبنائے باب المندب کو محفوظ رکھنے کے بدلے معاشی مراعات اور بندرگاہوں پر ناکہ بندی میں نرمی دی جائے۔
حتمی تجزیاتی نچوڑ: 13 مربع کلومیٹر کے پتھریلے جزیرے میون پر عارضی قبضہ کرنا آسان ہو سکتا ہے، مگر بحیرہ احمر کی اس شہ رگ کی حفاظت ایک نہ ختم ہونے والا معاشی اور عسکری بوجھ ہے۔ آنے والے دور میں اس سمندری دروازے کا تحفظ وہی کرے گا جو اس بھاری سیکیورٹی بل کی ادائیگی برداشت کر سکے۔
پاکستان کے لیے باب المندب کیوں اہم ہے؟
پاکستان اس بحران سے ہزاروں کلومیٹر دُور ضرور ہے، مگر اس کے معاشی اثرات سے نہیں الگ نہیں۔
کراچی اور پورٹ قاسم سے یورپ جانے والی بحری تجارت کے لیے بحیرہ احمر اور سوئز اہم راستہ ہیں۔
پاکستان کی سرکاری پریس انفارمیشن سروس پر شائع تجزیے میں بھی خبردار کیا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی بے یقینی سے راستے بدلنے، ترسیل میں تاخیر اور شپنگ لاگت بڑھنے کا خطرہ پاکستان کی تجارت تک پہنچتا ہے۔
ایسی صورت میں پاکستانی برآمد کنندہ کو آرڈر دیر سے پہنچنے اور زیادہ فریٹ کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ درآمد کنندہ کے لیے مہنگی ٹرانسپورٹ بالآخر مقامی قیمتوں میں شامل ہو سکتی ہے۔
باب المندب کی اصل کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی
میون کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں پرتگالی آئے، عثمانی مقابلے میں اترے، برطانوی سلطنت چھائی، سوویت اثر پہنچا اور پھر امریکہ مرکزی بحری طاقت بن گیا۔
مگر ہر دور میں ایک حقیقت برقرار رہی کہ اس تنگ دروازے پر اثر قائم کرنا نسبتاً آسان، لیکن اسے مسلسل محفوظ رکھنا کہیں زیادہ مشکل اور مہنگا ہے۔
اسی لیے موجودہ بحران کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ باب المندب پر آج کس کا کنٹرول ہے۔
بلکہ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں اس راستے کی حفاظت کا خرچ کون اٹھائے گا؟۔ امریکہ، چین، علاقائی طاقتیں یا کئی ملکوں پر مشتمل کوئی نیا مشترکہ نظام؟
یہی جواب طے کرے گا کہ میون صرف یمن کا ایک چھوٹا جزیرہ رہے گا، یا ایک بار پھر عالمی طاقت کے بدلتے نقشے کی علامت بن جائے گا۔