حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کی ضرورت نہیں، چند مؤثر حملے اسے تجارت کے لیے خطرناک بنا سکتے ہیں
حوثیوں کی زمینی، بحری اور میزائل سرگرمیاں باب المندب کے گرد ایک وسیع تر عسکری حکمت عملی کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔
میون کے قریب دراندازی کی اطلاعات، ساحلی علاقوں میں ممکنہ بارودی ڈرون بوٹس کی تعیناتی، سعودی تیل بردار جہازوں پر حملے اور ایرانی پاسداران کے کمانڈروں و مشیروں کی یمن آمد نے خدشہ بڑھا دیا ہے کہ بحیرہ احمر کو ایران کی علاقائی دباؤ کی حکمت عملی میں مستقل جنگی محاذ بنایا جا رہا ہے۔
جزیرہ میون کے قریب دراندازی کی کوشش، اللحیہ میں بارود سے لدے ڈرون بوٹس، سعودی عرب کی سمت میزائل نقل و حرکت اور تیل بردار جہازوں پر حقیقی حملے—چند روز میں سامنے آنے والی یہ پیش رفت ایک ایسے خطرناک منظرنامے کی طرف اشارہ کر رہی ہے جس میں حوثی صرف بحری جہازوں کو نشانہ نہیں بنانا چاہتے، بلکہ باب المندب کو ایران کی علاقائی جنگ میں ایک مستقل دباؤ کے محاذ میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسی دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈروں، مشیروں اور میزائل و ڈرون سازوسامان کی یمن آمد نے صورت حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
بحیرہ احمر کے مختلف حصوں میں ہونے والی سرگرمیاں بظاہر الگ الگ دکھائی دیتی ہیں، مگر انہیں ایک ساتھ جوڑا جائے تو ایک بڑی عسکری تصویر ابھرنے لگتی ہے۔
جنوب میں یمنی فوجی ذرائع جزیرہ میون کے قریب ان اہم مورچوں کی طرف حوثی دراندازی کی کوشش کی اطلاع دے رہے ہیں جو باب المندب پر نظر رکھتے ہیں۔
اہم نکات+
- باب المندب کے قریب جزیرہ میون کے اطراف حوثی دراندازی کی کوشش کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
- اللحیہ اور الحدیدہ کے ساحلی علاقوں میں بارودی ڈرون بوٹس اور ممکنہ زیرِ آب نظاموں کی تعیناتی کی اطلاعات ہیں۔
- ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈروں اور فوجی مشیروں کی یمن آمد کی معتبر اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔
- سعودی تیل بردار جہاز حملوں کی زد میں آ چکے ہیں جبکہ بعض جہازوں نے اپنے راستے تبدیل کیے۔
- اصل خطرہ باب المندب پر قبضہ نہیں بلکہ اسے تجارتی جہازوں کے لیے مسلسل غیر محفوظ بنانا ہے۔
شمال کی جانب اللحیہ اور الحدیدہ کے ساحلی علاقوں میں بارود سے لدے بغیر پائلٹ بحری جہازوں اور ممکنہ زیرِ آب ہتھیاروں کی تیاری کی اطلاعات ہیں۔
دوسری طرف حوثی میزائل یونٹس کی نقل و حرکت سعودی سرحد اور سعودی اہداف کی سمت بڑھنے کے اشارے مل رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
اس تمام منظرنامے میں سب سے اہم اضافہ ایران کا براہ راست عنصر ہے۔
معتبر اطلاعات کے مطابق جولائی کے دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سینئر اہلکار اور فوجی مشیر یمن پہنچے ہیں، جبکہ ان کے ساتھ میزائلوں اور ڈرونز سے متعلق آلات بھی منتقل کیے گئے۔
یہی وہ عنصر ہے جو منتشر عسکری سرگرمیوں کو ایک وسیع تر
علاقائی حکمت عملی سے جوڑتا ہے۔
اصل سوال اب یہ نہیں رہا کہ حوثی کسی ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنا سکتے ہیں یا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ آیا وہ بحری جہاز پر حملے کی حکمت عملی سے آگے بڑھ کر پورے باب المندب کے گرد ایسا خطرناک عسکری ماحول قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں ہر جہاز کو گزرنے سے پہلے خطرے کا حساب لگانا پڑے۔
میون کیوں اتنا اہم ہے؟
جزیرہ میون یمن کا محض ایک چھوٹا سا جزیرہ نہیں۔
اس کا محل وقوع اسے بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان واقع باب المندب کے انتہائی حساس مقام میں تبدیل کرتا ہے۔
یہ جزیرہ آبنائے کے وسط کے قریب واقع ہے اور بحری راستے کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس کے اطراف کسی بھی زمینی عسکری تبدیلی کو معمولی واقعہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق حوثی عناصر نے باب المندب کی طرف دیکھنے والے اگلے مورچوں تک پہنچنے کی کوشش کی، تاہم جزیرہ میون اور قریبی علاقوں میں موجود یمنی فورسز نے انہیں روک دیا۔
ذرائع کے مطابق جھڑپوں کے بعد حوثی عناصر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے اور ممکنہ نئے حملوں کے پیش نظر یمنی فوج نے علاقے میں مزید کمک بھیجی۔
بعض مقامی ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس کوشش کی نگرانی ایرانی ماہرین نے کی۔
یہاں ایک اہم فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔
فیکٹ باکس+
اہم آبی گزرگاہ: باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے ملاتا ہے۔
اہم مقام: جزیرہ میون باب المندب کے وسط کے قریب واقع ہے۔
حوثی صلاحیتیں: بیلسٹک اور کروز میزائل، فضائی ڈرون، اینٹی شپ میزائل اور بغیر پائلٹ بحری نظام۔
ایرانی عنصر: جولائی میں پاسداران کے کمانڈروں اور مشیروں کی یمن آمد کی معتبر اطلاعات سامنے آئیں۔
خطرے کی نوعیت: بحری، فضائی، میزائل اور ممکنہ زمینی دباؤ۔
دراندازی کی کوشش سے متعلق اطلاعات متعدد یمنی فوجی ذرائع سے سامنے آئی ہیں، تاہم اس کارروائی کی مکمل آزادانہ تصدیق اور ایرانی افسران کی براہ راست نگرانی کے ناقابلِ تردید ثبوت ابھی عوامی سطح پر موجود نہیں۔
اس کے باوجود ایرانی عسکری اہلکاروں کی یمن میں موجودگی اب محض قیاس نہیں رہی۔
وہ ایرانی پرواز جس نے تصویر بدل دی
23 جولائی کو رائٹرز نے ایک ایسی خبر جاری کی جس نے یمن میں ایرانی کردار کے بارے میں بہت سے سوالات کو نئی اہمیت دے دی۔
4 باخبر ذرائع کے مطابق 13 جولائی کو ایرانی فضائی کمپنی ماہان ایئر کی ایک پرواز کے ذریعے تقریباً 10 سے 21 پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار، جن میں سینئر کمانڈر اور فوجی مشیر بھی شامل تھے، یمن پہنچے۔
پرواز کو ابتدا میں صنعاء جانا تھا، تاہم بعد میں اسے الحدیدہ کی طرف موڑ دیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ طیارے میں صرف ایرانی اہلکار ہی نہیں تھے بلکہ مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز سے متعلق پرزے اور سازوسامان بھی موجود تھا۔
ایک ایرانی ذریعے کے مطابق ان کمانڈروں اور مشیروں کا مقصد حوثیوں کی عسکری کارروائیوں میں معاونت اور انہیں نئے میزائل نظام استعمال کرنے کی تربیت فراہم کرنا تھا۔
کیا تصدیق ہو چکی ہے؟+
- ایرانی پاسداران کے اہلکاروں اور فوجی مشیروں کی یمن آمد کی اطلاعات مضبوط ذرائع سے سامنے آئی ہیں۔
- حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری دباؤ اور دھمکیوں میں اضافہ کیا ہے۔
- سعودی تیل بردار جہاز حملے کا سامنا کر چکے ہیں۔
- خطرات کے بعد بعض تجارتی جہازوں نے اپنے راستے تبدیل کیے۔
- جنوبی بحیرہ احمر میں جنگی خطرات اور انشورنس لاگت بڑھی ہے۔
حوثیوں نے ان اطلاعات کی تردید کی اور ایران بھی طویل عرصے سے حوثیوں کو میزائل فراہم کرنے کے الزامات مسترد کرتا آیا ہے۔
لیکن اس خبر کا سب سے حساس پہلو صرف ایرانی کمانڈروں کی موجودگی نہیں بلکہ ان کی آمد کا وقت ہے۔
13 جولائی کو ایرانی اہلکار یمن پہنچے۔
چند روز بعد اطلاعات سامنے آئیں کہ تہران نے حوثیوں کو خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تو وہ بحیرہ احمر کے راستے کو بند کرنے کی تیاری کریں۔
اس کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف نام نہاد ’بحری ناکہ بندی‘ کا اعلان کیا۔
پھر بعض جہازوں نے اپنے راستے تبدیل کرنا شروع کیے۔
اور اس کے بعد سعودی تیل لے جانے والے جہاز کو حقیقی حملے کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ زمانی ترتیب ہی وہ عنصر ہے جو مختلف واقعات کو ایک ممکنہ بڑے عسکری منصوبے میں تبدیل کرتی ہے۔
کمران سے اللحیہ تک کیا ہو رہا ہے؟
باب المندب سے شمال کی جانب ساحلی پٹی پر بھی غیر معمولی سرگرمیوں کی اطلاعات ہیں۔
انٹیلی جنس اور میدانی معلومات پر کام کرنے والی پلیٹ فارم ’شیبا انٹیلی جنس‘ کے مطابق حوثیوں نے ساحلی علاقے اللحیہ میں تین بارود سے لدے بغیر پائلٹ سطحی بحری جہاز منتقل کیے ہیں۔
مزید یہ کہ ایسے چھوٹے بغیر پائلٹ زیرِ آب نظام بھی علاقے میں پہنچائے جانے کی اطلاعات ہیں جو دھماکا خیز مواد لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حوثی بحریہ، کوسٹ گارڈ اور الحدیدہ میں پانچویں فوجی علاقے کے ذمہ داران کو لاجسٹک سہولیات فراہم کرنے اور ممکنہ بحری حملوں کے لیے لانچنگ مقامات تیار کرنے کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔
کیا ابھی مکمل طور پر ثابت نہیں؟+
- میون کے قریب حالیہ دراندازی کی مکمل آزادانہ میدانی تصدیق۔
- اس مخصوص کارروائی کی ایرانی افسران کی براہ راست نگرانی۔
- اللحیہ میں مبینہ بارودی ڈرون بوٹس کی درست تعداد اور موجودہ مقام۔
- زیرِ آب مسلح نظاموں کی تازہ تعیناتی اور عملی حالت۔
- یہ دعویٰ کہ ہر حوثی حملے کا براہ راست حکم تہران سے آتا ہے۔
ان مخصوص تفصیلات—خصوصاً 3 کشتیوں کی تعداد، ان کا موجودہ مقام اور زیرِ آب نظاموں کی تعیناتی—کی آزادانہ تصدیق ابھی مکمل نہیں۔
تاہم حوثیوں کی عمومی بحری صلاحیت کوئی نئی یا فرضی چیز نہیں ہے۔
وہ ماضی میں بارود سے لدے ڈرون بوٹس، اینٹی شپ میزائل، فضائی ڈرون اور دیگر غیر روایتی ہتھیار استعمال کر چکے ہیں۔
اس لیے اصل خطرہ کسی ایک نئے ہتھیار کا نہیں، بلکہ مختلف عسکری نظاموں کے بیک وقت استعمال کا ہے۔
فضائی ڈرون اوپر سے حملہ کر سکتا ہے۔
اینٹی شپ میزائل دور سے جہاز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
بارود سے لدی ڈرون کشتی پانی کی سطح سے قریب پہنچ سکتی ہے۔
اور اگر زیرِ آب بغیر پائلٹ نظام بھی استعمال کیے جائیں تو دفاعی چیلنج کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
اس کے ساتھ ساحلی مورچوں سے نگرانی اور ہدف کی معلومات فراہم کی جائیں تو ایک مکمل ’کثیر سطحی بحری خطرہ‘ وجود میں آ سکتا ہے۔
معاملہ صرف باب المندب تک محدود نہیں
اس تصویر کا دوسرا حصہ سعودی عرب کی سمت بنتا دکھائی دیتا ہے۔
انٹیلی جنس اطلاعات میں حوثی میزائل یونٹس کی سعودی سرحد سے متصل علاقوں میں نقل و حرکت اور کروز و بیلسٹک میزائلوں سے متعلق ماہر ٹیموں کی سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
اگر ان معلومات کو ساحلی عسکری تیاریوں کے ساتھ دیکھا جائے تو ایک دو محاذی حکمت عملی سامنے آتی ہے۔
پہلا محاذ بحیرہ احمر ہے، جہاں سعودی بندرگاہوں، تیل بردار جہازوں اور باب المندب سے گزرنے والی تجارت پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔
دوسرا محاذ زمینی اور میزائل ہے، جہاں سعودی عرب کے جنوبی حصوں اور اہم تنصیبات کو مسلسل خطرے میں رکھا جا سکتا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے؟+
باب المندب صرف یمن یا سعودی عرب کا سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایشیا، افریقہ اور یورپ کو ملانے والی عالمی تجارت کی اہم گزرگاہ ہے۔
اگر حملوں کا خطرہ مسلسل برقرار رہا تو جہازوں کے راستے بدل سکتے ہیں، انشورنس مہنگی ہو سکتی ہے اور سامان کی ترسیل میں تاخیر بڑھ سکتی ہے۔
اصل خطرہ یہ نہیں کہ حوثی آبنائے پر قبضہ کر لیں، بلکہ یہ ہے کہ اسے اتنا خطرناک بنا دیں کہ تجارتی جہاز خود وہاں سے گزرنا چھوڑ دیں۔
حوثیوں کو اس مقصد کے لیے مکمل جنگ شروع کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔
مسلسل خطرے کی حالت ہی سعودی دفاعی نظام، عالمی بحری کمپنیوں اور اتحادی افواج کو مستقل چوکس رکھنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔
جب دھمکی حقیقی حملے میں بدل گئی
حوثیوں کے سعودی عرب کے خلاف ’بحری محاصرے‘ کے اعلان کو محض نفسیاتی جنگ سمجھا جا سکتا تھا، لیکن بحری کمپنیوں نے اسے نظر انداز نہیں کیا۔
جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ حوثی دھمکیوں کے بعد کئی تیل بردار جہازوں نے بحیرہ احمر میں اپنے راستے تبدیل کیے۔
بعض جہاز جنوب کی طرف باب المندب جانے کے بجائے شمال کی طرف مڑ گئے یا اپنی پیش قدمی روک دی۔
اس کے بعد صورت حال مزید سنگین ہوئی۔
حوثیوں نے سعودی تیل بردار جہازوں Encelia اور Layla پر بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا۔
سعودی حکام نے تصدیق کی کہ Encelia کے اگلے حصے کو حملے سے نقصان پہنچا اور آگ لگ گئی، تاہم عملہ محفوظ رہا۔
سعودی عرب کے لیے کیا مطلب ہے؟+
سعودی عرب کے لیے بحیرہ احمر توانائی برآمدات اور عالمی تجارت کا انتہائی اہم راستہ ہے۔ آبنائے ہرمز میں بحران کی صورت میں مملکت مشرق سے مغرب پائپ لائن کے ذریعے تیل ینبع منتقل کر سکتی ہے۔
لیکن اگر ہرمز کے ساتھ باب المندب بھی غیر محفوظ ہو جائے تو سعودی عرب کو جزیرہ نمائے عرب کے دونوں اطراف بیک وقت بحری دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسی لیے موجودہ حوثی سرگرمیاں سعودی قومی سلامتی، بندرگاہوں اور توانائی برآمدات سے براہ راست جڑی ہوئی ہیں۔
یہ وہ لمحہ تھا جب خطرہ محض نظریاتی نہیں رہا۔
اب جہاز رانی کی کمپنیوں کو یہ حساب نہیں لگانا تھا کہ ’حملہ ہو سکتا ہے یا نہیں‘۔
حملہ ہو چکا تھا۔
حوثیوں کو باب المندب پر قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں
یہ پوری کہانی سمجھنے کے لیے شاید سب سے اہم نکتہ ہے۔
اکثر سوال پوچھا جاتا ہے کہ کیا حوثی باب المندب کو مکمل طور پر بند کر سکتے ہیں؟
فوجی اعتبار سے مکمل بندش کے لیے ایسی فضائی، بحری اور زمینی بالادستی درکار ہے جو حوثیوں کے پاس فی الحال موجود نہیں۔
مزید یہ کہ وہ باب المندب کے انتہائی تنگ حصے سے ملحق تمام یمنی ساحلی علاقوں پر بھی قابض نہیں۔
لیکن اقتصادی اور تجارتی نقطۂ نظر سے انہیں آبنائے پر مکمل قبضے کی ضرورت ہی نہیں۔
ایک تجارتی جہاز جنگی بحری جہاز نہیں ہوتا۔
جہاز کے مالک کو راستہ بدلنے کے لیے سو فیصد یقین کی ضرورت نہیں کہ اس پر حملہ ہوگا۔
صرف اتنا کافی ہے کہ خطرہ اتنا بڑھ جائے کہ انشورنس کمپنی پریمیم کئی گنا بڑھا دے، جہاز کا مالک خطرہ لینے سے انکار کر دے یا خریدار متبادل راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ کرے۔
ایران کے لیے کیا مطلب ہے؟+
حوثی ایران کو یہ صلاحیت دیتے ہیں کہ وہ اپنی بحریہ یا فضائیہ کو براہ راست میدان میں لائے بغیر بحیرہ احمر میں مخالفین پر دباؤ بڑھا سکے۔
اگر مشرق میں ہرمز پر ایران اور مغرب میں باب المندب پر حوثی دباؤ پیدا کریں تو خطے میں دو حساس بحری محاذ بیک وقت فعال ہو سکتے ہیں۔
تاہم دستیاب شواہد یہ ثابت نہیں کرتے کہ ہر حوثی حملے کا براہ راست حکم تہران دیتا ہے۔
یہ عمل شروع ہو چکا ہے۔
حالیہ حملوں کے بعد جنوبی بحیرہ احمر میں جنگی خطرے کی انشورنس لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا۔
یہاں اصل ہتھیار صرف میزائل نہیں رہتا۔
اصل ہتھیار وہ خوف بن جاتا ہے جو میزائل بحری نقشے پر چھوڑ جاتا ہے۔
سعودی عرب دو آبناؤں کے درمیان
یہیں سے ایرانی حکمت عملی کا وسیع تر پہلو سامنے آتا ہے۔
سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے لیے آبنائے ہرمز ہمیشہ سے توانائی کی برآمدات کا سب سے حساس راستہ رہی ہے۔
اسی خطرے کو کم کرنے کے لیے سعودی عرب مشرق سے مغرب تک پائپ لائن کے ذریعے خام تیل کو بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع منتقل کرتا ہے تاکہ ہرمز پر انحصار محدود کیا جا سکے۔
لیکن اگر ایران مشرق میں ہرمز پر دباؤ برقرار رکھے اور حوثی مغرب میں باب المندب کو غیر محفوظ بنادیں تو سعودی عرب خود کو جزیرہ نمائے عرب کے دونوں اطراف دو حساس بحری راستوں کے دباؤ میں پا سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حوثیوں کی موجودہ سرگرمی کو صرف یمن کی خانہ جنگی کا تسلسل سمجھنا کافی نہیں۔
بدترین منظرنامے میں یہ ایران کی ایک بڑی بحری ’چمٹی‘ کا مغربی حصہ بن سکتی ہے۔
ایران: مددگار یا آپریشن روم کا حصہ؟
ابھی تک ایسے کھلے شواہد موجود نہیں جن سے یہ ثابت ہو کہ ایران ہر حوثی میزائل یا ڈرون حملے کا براہ راست حکم دیتا ہے۔
لیکن اسٹریٹجک سطح پر دونوں کے درمیان رابطے کی نوعیت زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے۔
عالمی تجارت پر اثرات+
بحری تجارت میں صرف جہاز کا تباہ ہونا بحران پیدا نہیں کرتا؛ خطرے کا مستقل تصور بھی کافی ہو سکتا ہے۔
- جنگی انشورنس مہنگی ہو سکتی ہے۔
- جہاز افریقہ کے گرد طویل راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔
- ایندھن اور شپنگ لاگت بڑھ سکتی ہے۔
- سامان کی ترسیل میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
- توانائی اور بعض درآمدی اشیا کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ایران کی جانب سے حوثیوں کو بحیرہ احمر میں ممکنہ کارروائی کے لیے تیار رہنے کا پیغام، یمن میں پاسداران کے اہلکاروں کی موجودگی، اور میزائل و ڈرون سازوسامان کی مبینہ منتقلی اس تعلق کو محض سیاسی حمایت سے کہیں آگے لے جاتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ضروری نہیں کہ ہر حوثی آپریشن ایرانی افسر چلاتا ہے۔
لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ کشیدگی کو تہران کی وسیع علاقائی حکمت عملی سے الگ کرکے دیکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
سب سے خطرناک منظرنامہ: آبنائے کھلی رہے، مگر جہاز نہ گزریں
ممکن ہے ہمیں کبھی حوثی جنگی کشتیاں باب المندب کے درمیان کھڑی دکھائی نہ دیں۔
ممکن ہے کوئی حکومت باضابطہ اعلان بھی نہ کرے کہ آبنائے بند ہو گئی ہے۔
لیکن ایک زیادہ حقیقت پسندانہ اور شاید زیادہ مؤثر منظرنامہ موجود ہے۔
پاکستان کے لیے کیا مطلب ہے؟+
پاکستان باب المندب کے کنارے واقع نہیں، لیکن اس بحران کے معاشی اثرات براہ راست پاکستان تک پہنچ سکتے ہیں۔
- تیل: عالمی قیمتیں بڑھنے سے درآمدی بل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
- مہنگائی: مہنگا ایندھن ٹرانسپورٹ اور بجلی کی قیمتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
- تجارت: شپنگ اور انشورنس لاگت میں اضافہ درآمدات و برآمدات کو مہنگا کر سکتا ہے۔
- زرمبادلہ: توانائی کا بڑا درآمدی بل روپے اور ذخائر پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔
ایک میزائل کسی ٹینکر کو نشانہ بنائے۔
ایک بارود سے بھری ڈرون کشتی دوسرے جہاز کے قریب پہنچ جائے۔
فضائی ڈرون بحری راستے کے اوپر دکھائی دیں۔
زیرِ آب ہتھیاروں یا بارودی سرنگوں کی اطلاعات پھیل جائیں۔
انشورنس کمپنیاں شرح بڑھا دیں۔
5 جہاز راستہ بدلیں۔
پھر 10۔
اور آخرکار بڑی عالمی شپنگ کمپنیاں باب المندب کو ایسا راستہ سمجھنے لگیں جہاں خطرے کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔
تب آبنائے نقشے پر کھلی ہوگی، لیکن تجارت کے حساب کتاب میں تقریباً بند۔
یہی وہ مقام ہے جہاں حوثی خطرے کو درست انداز میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
کیونکہ آنے والی جنگ شاید باب المندب پر قبضے کی جنگ نہ ہو۔
یہ دراصل اس فیصلے پر قبضے کی جنگ ہوگی کہ کون سا جہاز وہاں سے گزرنے کی ہمت کرتا ہے۔
میون سے لے کر اللحیہ اور الحدیدہ تک، یمن میں میزائل اڈوں سے لے کر سعودی ساحل کے قریب تیل بردار جہازوں تک، اس نئی جنگ کے خدوخال اب واضح ہونے لگے ہیں۔
اور اگر حوثی عارضی حملوں کو ایک مستقل خطرے میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو بحیرہ احمر ہرمز کا محفوظ متبادل نہیں رہے گا۔
وہ خود ایک مکمل جنگی محاذ بن جائے گا۔
🛰️
رپورٹ کے اصل اور بنیادی ذرائع
بحیرۂ احمر، باب المندب، حوثی عسکری تیاری، ایرانی کردار اور جہاز رانی کے خطرات سے متعلق سرکاری، بین الاقوامی اور انٹیلی جنس ذرائع
9 بنیادی ذرائع
رپورٹ کے اصل اور بنیادی ذرائع
بحیرۂ احمر، باب المندب، حوثی عسکری تیاری، ایرانی کردار اور جہاز رانی کے خطرات سے متعلق سرکاری، بین الاقوامی اور انٹیلی جنس ذرائع