براہ راست نشریات

سعودی عرب، چین کے ڈیجیٹل منصوبے سے کیوں الگ ہوا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
mBridge

ساما نے واضح کیا ہے کہ mBridge میں سعودی شرکت پہلے سے محدود تجرباتی نوعیت کی تھی اور 13 مئی 2025 کو تجربہ مکمل ہونے کے ساتھ ختم ہوگئی۔
اس فیصلے کو بٹ کوائن یا سعودی عرب کی پوری ڈیجیٹل کرنسی پالیسی سے جوڑنا درست نہیں۔

سعودی عرب کے مرکزی بینک ’ساما‘ نے سرحد پار ادائیگیوں کے لیے تیار کئے جانے والے mBridge منصوبے کے بارے میں اہم وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی شرکت کسی اچانک پالیسی تبدیلی کے نتیجے میں ختم نہیں ہوئی، بلکہ پہلے سے طے شدہ محدود تجرباتی دائرے کے مکمل ہونے کے بعد 2025 میں ختم ہوگئی تھی۔

ساما کے مطابق اس نے 13 مئی 2025 کو ’پروف آف کانسپٹ‘ یعنی عملی طور پر ٹیکنالوجی کی افادیت جانچنے کا تجربہ مکمل کیا۔ 

یہ تجربہ آزمائشی ماحول میں کیا گیا اور اس میں حقیقی مالی لین دین شامل نہیں تھا۔ 

تجربہ مکمل ہونے کے بعد ساما نے منصوبے کے اگلے مراحل میں شرکت نہیں کی۔

OVERSEAS POST | DIGITAL FINANCEاہم نکات
  • ساما کے مطابق mBridge میں سعودی شرکت ایک محدود تجرباتی مرحلے کے لیے تھی۔
  • تجربہ 13 مئی 2025 کو مکمل ہوا۔
  • آزمائش میں حقیقی مالی لین دین نہیں ہوا۔
  • ساما تجربہ مکمل ہونے کے بعد منصوبے کے اگلے مرحلے میں شامل نہیں ہوا۔
  • mBridge کا تعلق بٹ کوائن نہیں بلکہ مرکزی بینکوں کی ڈیجیٹل کرنسیوں سے ہے۔
overseaspost.net

یہ وضاحت اس وقت نمایاں ہوئی جب فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ سعودی عرب mBridge سے الگ ہوگیا ہے۔ 

اخبار نے اس منصوبے کو بین الاقوامی ادائیگیوں کے ایسے ابھرتے ہوئے نظام کے تناظر میں دیکھا جو مستقبل میں ڈالر اور روایتی سرحد پار مالیاتی ڈھانچے پر انحصار کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 

تاہم ساما کی وضاحت کے مطابق سعودی شرکت شروع ہی سے ایک مخصوص اور محدود تکنیکی تجربے کے لیے تھی۔

مزید پڑھیں

mBridge آخر ہے کیا؟

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ mBridge عام کرپٹو کرنسی پلیٹ فارم نہیں ہے۔

اس کا تعلق بٹ کوائن، ایتھیریم یا عام لوگوں کے درمیان خرید و فروخت ہونے والے ڈیجیٹل سکّوں سے نہیں، بلکہ Central Bank Digital Currency (CBDC) کی اس قسم سے ہے جو بنیادی طور پر مرکزی

 بینکوں اور مالیاتی اداروں کے درمیان استعمال کے لیے تیار کی جاتی ہے۔

mBridge میں مختلف ملکوں کے مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسی اور تقسیم شدہ کھاتے کی ٹیکنالوجی کے ذریعے یہ جانچتے ہیں کہ کیا سرحد پار ادائیگیاں اور بینکوں کے درمیان مالی تصفیہ زیادہ تیزی، کم لاگت اور براہ راست طریقے سے کیا جاسکتا ہے۔

i OVERSEAS POST | DIGITAL FINANCEmBridge: فیکٹ باکس
منصوبہmBridge
نوعیتسرحد پار CBDC ادائیگی پلیٹ فارم
سعودی شرکتمحدود تجرباتی شمولیت
تجربہ مکمل13 مئی 2025
حقیقی لین دیننہیں
بٹ کوائن سے تعلقبراہ راست کوئی تعلق نہیں
overseaspost.net

بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس BIS کے مطابق منصوبہ 2021 میں چین، ہانگ کانگ، تھائی لینڈ اور متحدہ عرب امارات کے مالیاتی اداروں کے تعاون سے آگے بڑھا۔ 

سعودی مرکزی بینک 2024 میں اس میں شریک ہوا۔ 

اسی سال منصوبہ Minimum Viable Product یعنی قابل استعمال ابتدائی نمونے کے مرحلے تک پہنچ گیا۔

سعودی عرب نے کیا آزمایا؟

ساما کی شرکت کا بنیادی مقصد یہ دیکھنا تھا کہ مرکزی بینکوں کی ڈیجیٹل کرنسیاں بین الاقوامی ادائیگیوں اور کمرشل بینکوں کے درمیان مالی تصفیے کو کس حد تک مؤثر بنا سکتی ہیں۔

اس تجربے میں صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ قانونی، پالیسی اور عملی مسائل بھی زیرِ غور آئے۔

OVERSEAS POST | DIGITAL FINANCEmBridge آخر ہے کیا؟

mBridge ایک تجرباتی نظام ہے جس میں مختلف مرکزی بینک اپنی ڈیجیٹل کرنسیوں کے ذریعے سرحد پار ادائیگیوں اور بینکوں کے درمیان مالی تصفیے کو زیادہ تیز اور مؤثر بنانے کے امکانات جانچتے ہیں۔

CBDCمرکزی بینک کی جاری کردہ ڈیجیٹل کرنسی
Cross-borderمختلف ملکوں کے درمیان ادائیگیاں
Wholesaleبنیادی طور پر بینکوں اور مالیاتی اداروں کے لیے
overseaspost.net

ساما کے مطابق 13 مئی 2025 کو طے شدہ تجربہ مکمل ہوتے ہی اس مرحلے میں اس کی شرکت بھی ختم ہوگئی اور سعودی مرکزی بینک اگلے مراحل میں شامل نہیں ہوا۔

یہ فرق بہت اہم ہے۔

یہ کہنا کہ ’سعودی عرب اچانک چین کے ڈیجیٹل منصوبے سے نکل گیا‘ ایک مختلف تاثر پیدا کرتا ہے، جبکہ ساما کی وضاحت یہ ہے کہ سعودی عرب نے پہلے سے متعین تجربہ مکمل کیا اور اس کے بعد اگلے مرحلے میں شرکت نہیں کی۔

پھر ڈالر اور چین کا ذکر کیوں؟

mBridge پر عالمی دلچسپی صرف ٹیکنالوجی کی وجہ سے نہیں۔

چین طویل عرصے سے یوآن کے بین الاقوامی استعمال کو وسعت دینے اور سرحد پار ادائیگیوں کے متبادل راستوں پر کام کر رہا ہے۔ 

اگر مختلف ملکوں کے مرکزی بینک ایک مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر براہ راست ادائیگیاں کرسکیں تو بعض معاملات میں روایتی correspondent banking اور موجودہ بین الاقوامی ادائیگی ڈھانچے پر انحصار کم ہوسکتا ہے۔

OVERSEAS POST | DIGITAL FINANCEکیا اس خبر کا بٹ کوائن سے تعلق ہے؟

نہیں، براہ راست نہیں۔ mBridge عام کرپٹو مارکیٹ، بٹ کوائن یا ایتھیریم کی خرید و فروخت کا پلیٹ فارم نہیں۔

mBridgeمرکزی بینکوں اور مالیاتی اداروں کے درمیان ڈیجیٹل ادائیگیوں کا تجربہ
Bitcoinغیر مرکزی کرپٹو اثاثہ، جسے کوئی ایک مرکزی بینک جاری نہیں کرتا
overseaspost.net

اسی پس منظر میں فنانشل ٹائمز نے سعودی عرب کی عدم شرکت کو ڈالر، چین اور متبادل عالمی ادائیگی نظام کی وسیع بحث سے جوڑا۔

تاہم اس پہلو میں احتیاط ضروری ہے۔

BIS نے 2024 میں واضح کیا تھا کہ mBridge کو BRICS کے لیے پابندیوں سے بچنے کا نظام بنانے کے مقصد سے تیار نہیں کیا گیا۔ 

BIS کے اس وقت کے جنرل منیجر نے یہ بھی کہا تھا کہ منصوبہ مکمل عملی عالمی نظام بننے سے ابھی کافی فاصلے پر تھا۔

اس لیے mBridge کو فوراً ’ڈالر کا متبادل‘ قرار دینا حقیقت سے آگے بڑھنا ہوگا۔

کیا سعودی عرب ڈیجیٹل کرنسی سے پیچھے ہٹ رہا ہے؟

فی الحال دستیاب شواہد ایسا نہیں کہتے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ IMF کی 2026 کی سعودی عرب سے متعلق رپورٹ کے مطابق سعودی حکام ایک وسیع ڈیجیٹل اثاثوں کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ساما مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسی CBDC اور ادائیگیوں کے لیے استعمال ہونے والے stablecoins کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ سعودی حکام مالی استحکام، صارفین کے تحفظ، مالیاتی نظام کی سالمیت اور اپنی مالیاتی خودمختاری کو بنیادی ترجیحات قرار دیتے ہیں۔

$ OVERSEAS POST | DIGITAL FINANCEڈالر اور چین کا ذکر کیوں؟

mBridge عالمی توجہ اس لیے حاصل کرتا ہے کیونکہ یہ روایتی correspondent banking نظام سے ہٹ کر مرکزی بینکوں کے درمیان براہ راست ڈیجیٹل ادائیگیوں کا امکان جانچتا ہے۔

  • چین یوآن کے بین الاقوامی استعمال کو بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
  • ایسے پلیٹ فارمز بعض معاملات میں روایتی ڈالر-مرکوز ادائیگی ڈھانچے پر انحصار کم کرسکتے ہیں۔
  • لیکن mBridge کو ابھی مکمل طور پر ڈالر کا متبادل کہنا قبل از وقت ہے۔
overseaspost.net

لہٰذا mBridge میں شرکت ختم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ سعودی عرب نے ڈیجیٹل مالیات یا بلاک چین ٹیکنالوجی کا راستہ چھوڑ دیا ہے۔

زیادہ درست تصویر یہ ہے کہ سعودی عرب مختلف ٹیکنالوجیز اور ماڈلز کی جانچ کر رہا ہے اور کسی ایک تجربے کو مستقل نظام بنانے سے پہلے اس کے فائدے اور خطرات دیکھنا چاہتا ہے۔

عام آدمی کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

اس خبر کا بٹ کوائن خریدنے یا فروخت کرنے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔

نہ ساما نے بٹ کوائن کو قانونی کرنسی بنانے کا اعلان کیا ہے اور نہ ہی یہ سعودی عوام کے لیے ڈیجیٹل ریال جاری کرنے کا اعلان ہے۔

OVERSEAS POST | DIGITAL FINANCEmBridge اور سعودی عرب: مختصر ٹائم لائن
2021mBridge منصوبے کی ابتدائی پیش رفت
2024سعودی مرکزی بینک کی شمولیت
13 مئی 2025ساما کا طے شدہ تجربہ مکمل
2025 کے بعدساما اگلے مرحلے میں شامل نہیں ہوا
2026ساما نے اپنی شرکت کی نوعیت اور اختتام کی وضاحت کی
overseaspost.net

mBridge بنیادی طور پر مرکزی بینکوں اور مالیاتی اداروں کے لیے بنایا جانے والا wholesale payment experiment تھا۔

البتہ مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجیز کامیاب ہوتی ہیں تو ان کا اثر عام لوگوں تک پہنچ سکتا ہے—خصوصاً بیرون ملک رقم بھیجنے، بینکوں کے درمیان ادائیگیوں اور بین الاقوامی تجارت میں۔

اصل کہانی

اصل خبر یہ نہیں کہ سعودی عرب نے ڈیجیٹل کرنسیوں کا دروازہ بند کردیا۔

اصل خبر یہ ہے کہ ساما نے ایک مخصوص بین الاقوامی ڈیجیٹل کرنسی تجربہ مکمل کیا، اس کے نتائج کا جائزہ لیا اور اگلے مرحلے میں شامل نہیں ہوا۔

اب اصل سوال یہ ہوگا کہ سعودی عرب مستقبل میں CBDC، tokenized deposits، stablecoins یا کسی دوسرے سرحد پار ادائیگی نظام میں سے کس سمت کو اپنی ضروریات کے لیے زیادہ موزوں سمجھتا ہے۔

OVERSEAS POST | SOURCES اصل اور معتبر ذرائع
SAMA الشرق الأوسط — ساما: مشاركتنا في «إم بريدج» انتهت في 2025 ساما کی براہِ راست وضاحت: PoC تجربہ 13 مئی 2025 کو مکمل ہوا، حقیقی مالی لین دین نہیں ہوا اور بعد کے مراحل میں شرکت نہیں کی گئی۔ ECO الاقتصادية — المركزي السعودي: مشاركتنا انتهت وفق الخطة ساما کی شرکت کے محدود دائرے، آزمائشی ماحول اور 2025 میں منصوبہ مکمل ہونے کی تفصیل۔ BIS Bank for International Settlements — Project mBridge mBridge کا سرکاری تعارف، CBDC، سرحد پار ادائیگیوں، DLT اور سعودی مرکزی بینک کی 2024 میں شمولیت کی تفصیل۔ BIS BIS — mBridge reaches Minimum Viable Product stage 5 جون 2024 کی سرکاری ریلیز: سعودی مرکزی بینک کی شمولیت اور mBridge کے MVP مرحلے کی تفصیلات۔ IMF IMF — Saudi Arabia: 2026 Article IV Consultation سعودی ڈیجیٹل اثاثہ حکمتِ عملی، CBDC اور payment-focused stablecoins پر ساما کی تحقیق، اور مالی استحکام و صارف تحفظ کی ترجیحات۔ FT Financial Times — Saudi Arabia quits China-led cross-border currency platform mBridge سے سعودی علیحدگی کو چین، ڈالر اور متبادل سرحد پار ادائیگی نظام کے وسیع عالمی تناظر میں پیش کرنے والی رپورٹ۔

مرکزی حوالہ ساما کی وضاحت ہے؛ BIS سے mBridge کی تکنیکی نوعیت، IMF سے سعودی ڈیجیٹل اثاثہ پالیسی، جبکہ Financial Times سے چین اور ڈالر والا عالمی تناظر لیا گیا ہے۔

overseaspost.net