بھارت نے عالمی چِپ دوڑ میں اپنی رفتار تیز کردی ہے۔
Applied Materials کی 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری تحقیق، انجینئرنگ اور مقامی سپلائی چین کو مضبوط کرے گی۔ بھارت کو بڑی مقامی منڈی اور مضبوط آئی ٹی شعبے کا فائدہ حاصل ہے، لیکن جدید چِپ فیکٹریوں، خصوصی انجینئرز اور مکمل سپلائی چین کی تیاری اب بھی بڑا چیلنج ہے۔
مصنوعی ذہانت، اسمارٹ فونز، گاڑیوں، ڈیٹا سینٹرز اور دفاعی نظاموں میں بڑھتی ہوئی ضرورت نے سیمی کنڈکٹر یا چِپس کو دنیا کی سب سے اہم ٹیکنالوجیز میں شامل کردیا ہے۔
اب بھارت بھی اس دوڑ میں اپنی جگہ بنانے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔
امریکا کی معروف سیمی کنڈکٹر آلات بنانے والی کمپنی Applied Materials نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ 10 برس میں بھارت میں تقریباً 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔
منصوبے میں تحقیق و ترقی، مقامی سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTبھارت کی چِپ دوڑ — اہم نکات ⌄
- ✓امریکی کمپنی Applied Materials اگلے 10 برس میں بھارت میں تقریباً 5 ارب ڈالر سرمایہ کاری کرے گی۔
- ✓منصوبے کا زور تحقیق، انجینئرنگ، مقامی سپلائی چین اور تربیت یافتہ افرادی قوت پر ہوگا۔
- ✓بھارت سیمی کنڈکٹرز میں درآمدی انحصار کم کرکے مقامی پیداوار بڑھانا چاہتا ہے۔
- ✓ملک میں چِپس کی طلب 2030 تک تقریباً 110 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
- ✓بھارت کئی چِپ پیکیجنگ، ٹیسٹنگ اور فیب منصوبوں کو سرکاری مراعات دے رہا ہے۔
- ✓اصل امتحان بڑے اعلانات کو عملی فیکٹریوں اور مسلسل پیداوار میں تبدیل کرنا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت ہوا ہے جب بھارت خود کو صرف سافٹ ویئر اور آئی ٹی خدمات کے مرکز کے بجائے چِپس بنانے والے بڑے ملک کے طور پر سامنے لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
Applied Materials اہم کیوں ہے؟
Applied Materials عام صارف کے لیے Apple یا Nvidia جتنا معروف نام نہیں، لیکن عالمی چِپ صنعت میں اس کی حیثیت انتہائی اہم ہے۔
مزید پڑھیں
کمپنی ایسی جدید مشینیں اور ٹیکنالوجی فراہم کرتی ہے جو سیمی کنڈکٹر بنانے والی بڑی فیکٹریوں میں استعمال ہوتی ہیں۔
یعنی یہ صرف چِپس استعمال نہیں کرتی بلکہ ان مشینوں اور نظاموں کی تیاری میں شامل ہے جن کے بغیر جدید چِپس بنانا مشکل ہے۔
کمپنی پہلے ہی بھارت میں دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے کام کر رہی ہے اور وہاں تحقیق، انجینئرنگ، سافٹ ویئر اور سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی
سے متعلق سرگرمیاں چلا رہی ہے۔
اسی لیے 5 ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کو صرف ایک کمپنی کا کاروباری فیصلہ نہیں بلکہ بھارت کی بڑھتی ہوئی چِپ صنعت پر اعتماد کی علامت بھی سمجھا جا رہا ہے۔
بھارت کو چِپس کی ضرورت کیوں پڑی؟
بھارت دنیا کی بڑی آئی ٹی طاقتوں میں شامل ہے، لیکن سیمی کنڈکٹرز کے معاملے میں اسے بڑی حد تک بیرونی ممالک پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
کووڈ کے دوران عالمی سطح پر چِپس کی شدید قلت نے دنیا کو بتایا کہ اگر چند ممالک میں پیداوار رک جائے تو گاڑیوں سے موبائل فون تک کئی صنعتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس: 5 ارب ڈالر کی چِپ بازی ⌄
- سرمایہ کاری
- 5 ارب ڈالر
- مدت
- 10 سال
- کمپنی
- Applied Materials
- ملک
- بھارت
- شعبہ
- سیمی کنڈکٹر / چِپ ٹیکنالوجی
- مرکزی ہدف
- تحقیق، انجینئرنگ، سپلائی چین اور مقامی چِپ صنعت
- 2030 کی متوقع چِپ طلب
- تقریباً 110 ارب ڈالر
- اہم بھارتی منصوبہ
- Tata Electronics کا گجرات سیمی کنڈکٹر منصوبہ
اس کے بعد امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ٹیکنالوجی کشیدگی نے صورتحال کو مزید اہم بنا دیا۔
تائیوان دنیا کی جدید ترین چِپس کا بڑا مرکز ہے، جبکہ چین الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹر سپلائی چین میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اب امریکا، یورپ، جاپان اور بھارت کوشش کر رہے ہیں کہ چِپس کی پیداوار چند مقامات تک محدود نہ رہے۔
بھارت اربوں ڈالر لگا رہا ہے
بھارتی حکومت نے سیمی کنڈکٹر صنعت کے لیے بڑے پیمانے پر مراعات فراہم کی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بھارت اس شعبے میں 21 ارب ڈالر سے زیادہ کے منصوبوں اور مراعات پر کام کر رہا ہے۔
بھارتی حکومت کو توقع ہے کہ ملک میں سیمی کنڈکٹرز کی طلب 2030 تک تقریباً 110 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISیہ سرمایہ کاری کیوں اہم ہے؟ ⌄
یہ صرف ایک کمپنی کی سرمایہ کاری نہیں؛ بھارت پوری سیمی کنڈکٹر معیشت کھڑی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بھارت چاہتا ہے کہ اس بڑھتی ہوئی طلب کا بڑا حصہ درآمدات کے بجائے مقامی پیداوار سے پورا ہو۔
ملک میں چِپ بنانے، پیکیجنگ اور ٹیسٹنگ کے متعدد منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ بعض پلانٹس میں تجارتی پیداوار بھی شروع ہوگئی ہے۔
تاہم اصل چیلنج جدید چِپس بنانے والی بڑی فیکٹریوں کا قیام ہے۔
بڑا منصوبہ، بڑی تاخیر
بھارتی کمپنی Tata Electronics کا گجرات میں تقریباً 10 ارب ڈالر کا سیمی کنڈکٹر پلانٹ بھارت کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔
لیکن اس منصوبے کو بھی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
+ OVERSEAS POST | INDIA ADVANTAGEبھارت کے پاس کیا طاقت ہے؟ ⌄
- ✓دنیا کی بڑی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی الیکٹرانکس منڈیوں میں سے ایک۔
- ✓سافٹ ویئر، چِپ ڈیزائن اور انجینئرنگ میں پہلے سے موجود مضبوط انسانی سرمایہ۔
- ✓حکومت کی طرف سے اربوں ڈالر کی مراعات اور پالیسی سپورٹ۔
- ✓امریکا اور دوسری عالمی کمپنیوں کے لیے چین سے باہر متبادل پیداواری مرکز بننے کی صلاحیت۔
- ✓موبائل فون، گاڑیوں، ڈیٹا سینٹرز اور دفاعی شعبے میں مقامی چِپ طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔
یہ مثال بتاتی ہے کہ سیمی کنڈکٹر صنعت صرف سرمایہ فراہم کرنے سے کھڑی نہیں ہوتی۔
جدید چِپ فیکٹری کے لیے انتہائی صاف پانی، مستقل بجلی، مخصوص کیمیکلز، جدید مشینری، ہزاروں تربیت یافتہ انجینئرز اور مضبوط سپلائی چین ضروری ہوتی ہے۔
یہ نظام بنانے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔
کیا بھارت چین اور تائیوان کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے؟
فی الحال ایسا کہنا قبل از وقت ہوگا۔
تائیوان نے کئی دہائیوں میں چِپ سازی کا ایسا نظام بنایا ہے جس میں فیکٹریوں، انجینئرز، سپلائرز اور تحقیق کا مضبوط نیٹ ورک شامل ہے۔
چین بھی سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس کی عالمی سپلائی چین میں بہت آگے ہے۔
! OVERSEAS POST | CHALLENGESبھارت کے سامنے بڑے چیلنج ⌄
- ✓جدید چِپ فیکٹریوں کے لیے انتہائی صاف پانی اور مسلسل، قابلِ اعتماد بجلی ضروری ہے۔
- ✓خصوصی کیمیکلز، آلات اور ہزاروں سپلائرز کا مکمل نیٹ ورک ابھی محدود ہے۔
- ✓بڑے فیب منصوبے مہنگے، پیچیدہ اور برسوں پر محیط ہوتے ہیں۔
- ✓تربیت یافتہ مینوفیکچرنگ انجینئرز اور فیکٹری آپریشن ماہرین کی ضرورت بہت زیادہ ہے۔
- ✓Tata Electronics جیسے بڑے منصوبوں میں تاخیر نے دکھایا ہے کہ اعلان سے پیداوار تک سفر آسان نہیں۔
بھارت کے پاس بڑی مقامی منڈی، لاکھوں انجینئرز، مضبوط آئی ٹی صنعت اور عالمی کمپنیوں کو متوجہ کرنے کی صلاحیت ضرور موجود ہے، لیکن اسے ابھی جدید چِپ سازی میں طویل سفر طے کرنا ہے۔
پھر 5 ارب ڈالر کیوں اہم ہیں؟
Applied Materials کی سرمایہ کاری کی اصل اہمیت یہ ہے کہ بھارت صرف چِپس بنانے کی فیکٹریاں نہیں بلکہ پوری سیمی کنڈکٹر صنعت کا ماحول تیار کرنا چاہتا ہے۔
اگر ملک تحقیق، چِپ ڈیزائن، جدید مشینری، مقامی پرزہ جات اور تربیت یافتہ انجینئرز کی مضبوط بنیاد بنا لیتا ہے تو آنے والے برسوں میں عالمی سیمی کنڈکٹر صنعت میں اس کا کردار نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔
⇄ OVERSEAS POST | CHIP RACEچین اور تائیوان سے اصل فرق کیا ہے؟ ⌄
چین / تائیوان
- دہائیوں پرانا پیداواری تجربہ
- وسیع سپلائر نیٹ ورک
- جدید فیب آپریشن میں گہری مہارت
- عالمی گاہکوں کے ساتھ مضبوط انضمام
بھارت
- مضبوط آئی ٹی اور ڈیزائن بیس
- بڑی مقامی منڈی
- حکومتی مراعات
- مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم ابھی ابتدائی مرحلے میں
بھارت شاید جلد چین یا تائیوان کی جگہ نہ لے سکے، لیکن عالمی کمپنیوں کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری یہ ظاہر کرتی ہے کہ چِپ صنعت کا نقشہ آہستہ آہستہ بدل رہا ہے۔
اصل امتحان اب اعلانات کا نہیں بلکہ فیکٹریوں، پیداوار اور بھارت میں تیار ہونے والی جدید چِپس کا ہوگا۔