براہ راست نشریات

مجوزہ سعودی ٹریفک قانون: 60 پوائنٹس پر لائنسنس منسوخ ہوگا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Saudi Traffic Rules

جرمانوں کی وصولی کے سخت طریقے، خطرناک خلاف ورزیوں پر غیر ملکیوں کی ملک بدری کی تجویز

سعودی عرب میں ٹریفک نظام کے انتظامی ضابطوں میں بڑی تبدیلیوں کا مسودہ سامنے آیا ہے۔
مجوزہ نظام کے تحت ایک سال میں 60 پوائنٹس ہونے پر پہلی مرتبہ لائسنس 30 دن، دوسری مرتبہ 90 دن اور تیسری مرتبہ 180 دن کے لیے معطل ہوسکتا ہے، جبکہ چوتھی مرتبہ لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔
بعض خطرناک خلاف ورزیوں میں غیر ملکیوں کی ملک بدری بھی ممکن ہوگی۔
تاہم یہ تجاویز ابھی حتمی طور پر نافذ نہیں ہوئیں۔

سعودی عرب میں ٹریفک قوانین کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری ہورہی ہے۔ 

وزارت داخلہ نے ٹریفک نظام کے انتظامی ضابطوں میں تبدیلی کا مسودہ عوامی رائے کے لیے پیش کیا ہے، جس میں ڈرائیونگ لائسنس، ٹریفک پوائنٹس، جرمانوں کی وصولی اور سنگین خلاف ورزیوں پر غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی سے متعلق اہم تجاویز شامل ہیں۔

تاہم سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ تمام نئی تجاویز ابھی نافذ نہیں ہوئی ہیں۔ 

یہ ایک مجوزہ ضابطہ ہے اور حتمی منظوری سے پہلے اس کی بعض شقوں میں تبدیلی بھی ہوسکتی ہے۔

OVERSEAS POST | TRAFFIC GUIDEاہم نکات
  • سعودی عرب میں ٹریفک نظام کے انتظامی ضابطے میں بڑی تبدیلیوں کا مسودہ عوامی رائے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔
  • ایک سال میں 60 پوائنٹس ہونے پر پہلی مرتبہ لائسنس 30 دن کے لیے معطل کرنے کی تجویز ہے۔
  • دوسری مرتبہ 90 دن، تیسری مرتبہ 180 دن اور چوتھی مرتبہ لائسنس منسوخ ہوسکتا ہے۔
  • بعض خطرناک خلاف ورزیوں میں غیر سعودی کے خلاف ملک بدری کی کارروائی ممکن ہوسکتی ہے۔
  • اہم وضاحت: مجوزہ نئی دفعات کو ابھی مکمل طور پر نافذ شدہ قانون نہ سمجھا جائے۔
overseaspost.net

60 پوائنٹس ہوئے تو کیا ہوگا؟

مجوزہ نظام میں ٹریفک پوائنٹس کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔

اگر کسی ڈرائیور کے پوائنٹس ایک سال کے دوران 60 تک پہنچ جاتے ہیں تو پہلی مرتبہ اس کا ڈرائیونگ لائسنس 30 دن کے لیے معطل ہوگا۔

دوسری مرتبہ 60 پوائنٹس ہونے پر لائسنس 90 دن اور تیسری مرتبہ 180 دن کے لیے معطل ہوگا۔

اگر چوتھی مرتبہ بھی ڈرائیور 60 پوائنٹس تک پہنچ گیا تو اس کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔

اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ پہلی مرتبہ 60 پوائنٹس ہوتے ہی لائسنس ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا۔ 

سزا مرحلہ وار بڑھے گی اور مستقل منسوخی چوتھی مرتبہ حد پوری ہونے سے منسلک ہے۔

مزید پڑھیں

جرمانہ ادا نہ کیا تو کیا ہوگا؟

مجوزہ ضابطے میں ٹریفک جرمانوں کی وصولی کو بھی زیادہ مؤثر بنانے کی تجویز ہے۔

اگر کسی شخص نے مقررہ مدت میں جرمانہ ادا نہیں کیا تو قانونی طریقہ کار مکمل ہونے کے بعد اس کے مالی وسائل سے رقم وصول کرنے کی کارروائی ہوسکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اعتراض کی مدت ختم ہونے یا متعلقہ عدالت سے اعتراض مسترد ہونے کے بعد 15 دن کے اندر جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

اگر کوئی شخص اس مدت میں ادائیگی نہیں کرسکتا تو اسے 90 دن تک اضافی مہلت مانگنے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔

یعنی چالان ہوتے ہی فوری طور پر بینک اکاؤنٹ سے رقم نہیں کاٹی جائے گی۔ اس سے پہلے اعتراض اور ادائیگی کے لیے مقررہ قانونی مدت موجود ہوگی۔

60OVERSEAS POST | TRAFFIC GUIDE60 پوائنٹس کا حساب
  • پہلی مرتبہ: 30 دن لائسنس معطل۔
  • دوسری مرتبہ: 90 دن لائسنس معطل۔
  • تیسری مرتبہ: 180 دن لائسنس معطل۔
  • چوتھی مرتبہ: لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔
overseaspost.net

قسطیں اور جرمانے میں کمی

مجوزہ ضابطے میں ڈرائیوروں کے لیے کچھ سہولتیں بھی شامل ہیں۔

مقررہ شرائط کے تحت ایک ٹریفک جرمانے کو قسطوں میں ادا کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

اسی طرح مخصوص شرائط پوری ہونے پر جرمانے کی رقم میں 25 فیصد تک کمی کی گنجائش بھی موجود ہے۔

غیر ملکیوں کے لیے سب سے اہم بات

سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں سمیت لاکھوں غیر ملکیوں کے لیے سب سے اہم معاملہ ملک بدری سے متعلق شق ہے۔

اگر کوئی غیر سعودی ایسی سنگین ٹریفک خلاف ورزی کرتا ہے جس سے لوگوں کی جان اور سلامتی خطرے میں پڑتی ہو تو مخصوص حالات میں معاملہ صرف جرمانے یا لائسنس کی معطلی تک محدود نہیں رہے گا۔

OVERSEAS POST | TRAFFIC GUIDEجرمانہ کب ادا کرنا ہوگا؟
  • اعتراض کی مقررہ مدت ختم ہونے یا متعلقہ اعتراض مسترد ہونے کے بعد ادائیگی کی مدت شروع ہوگی۔
  • رپورٹ میں 15 دن کے اندر جرمانہ ادا کرنے کی تفصیل دی گئی ہے۔
  • چالان ہوتے ہی فوری طور پر بینک اکاؤنٹ سے رقم کاٹنے والی بات درست تشریح نہیں۔
overseaspost.net

حتمی عدالتی فیصلہ آنے کے بعد ایسے غیر ملکی کو سزا مکمل ہونے پر سعودی عرب سے ملک بدر کیا جاسکتا ہے اور اس کے دوبارہ ملک میں داخلے پر بھی پابندی لگ سکتی ہے۔

لیکن یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے:

ہر ٹریفک چالان پر کسی غیر ملکی کو ملک بدر نہیں کیا جائے گا۔

ملک بدری کی بات مخصوص سنگین خلاف ورزیوں اور حتمی عدالتی فیصلے سے منسلک ہے۔ اس لیے معمولی ٹریفک چالان کو اس شق کے ساتھ جوڑنا درست نہیں۔

کون سی خلاف ورزیاں خطرناک ہیں؟

ان خلاف ورزیوں میں مقررہ رفتار سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ تیز گاڑی چلانا، سرخ سگنل توڑنا، گاڑیوں کے درمیان خطرناک انداز میں لین تبدیل کرنا اور نشے کی حالت میں گاڑی چلانا شامل ہوسکتا ہے۔

یہ ایسی خلاف ورزیاں ہیں جن سے ڈرائیور کے ساتھ سڑک استعمال کرنے والے دوسرے افراد کی جان بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

90OVERSEAS POST | TRAFFIC GUIDE90 دن کی اضافی مہلت
  • مقررہ طریقہ کار کے تحت جرمانے کی ادائیگی کے لیے 90 دن تک اضافی مہلت مانگی جاسکتی ہے۔
  • اس سہولت کا مقصد ادائیگی کے لیے اضافی وقت دینا ہے، جرمانہ ختم کرنا نہیں۔
overseaspost.net

خطرناک کرتب پر گاڑی ضبط

سڑک پر گاڑی سے خطرناک کرتب دکھانے یعنی تفحیط کے خلاف بھی سخت کارروائی تجویز کی گئی ہے۔

پہلی مرتبہ خلاف ورزی پر گاڑی 15 دن کے لیے ضبط اور 20 ہزار ریال جرمانہ ہوسکتا ہے۔

%OVERSEAS POST | TRAFFIC GUIDEقسطیں اور ممکنہ رعایت
  • بعض شرائط کے تحت ایک ٹریفک جرمانے کو قسطوں میں ادا کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
  • مخصوص ضوابط کے مطابق جرمانے کی رقم میں 25 فیصد تک کمی کی گنجائش بھی بیان کی گئی ہے۔
overseaspost.net

بار بار خلاف ورزی کرنے پر سزا بڑھتی جائے گی اور تیسری مرتبہ جرمانہ 60 ہزار ریال تک پہنچ سکتا ہے۔ 

معاملہ عدالت میں بھیجا جاسکتا ہے جہاں گاڑی مستقل ضبط کرنے اور قید کی سزا پر بھی غور ہوسکتا ہے۔

سنگین حادثے پر 4 سال تک قید

اگر ڈرائیور کی غلطی یا لاپروائی سے ایسا حادثہ پیش آئے جس میں کسی شخص کی موت ہوجائے، کوئی عضو ضائع ہوجائے یا جسم کا کوئی حصہ مستقل طور پر کام کرنا چھوڑ دے تو سزا 4 سال تک قید اور دو لاکھ ریال تک جرمانہ ہوسکتی ہے۔

اگر حادثے میں ایسی چوٹ آئے جس کے علاج میں 15 دن سے زیادہ وقت درکار ہو تو سزا دو سال تک قید اور ایک لاکھ ریال تک جرمانہ ہوسکتی ہے۔

OVERSEAS POST | TRAFFIC GUIDEغیر ملکی کب ملک بدر ہوسکتا ہے؟
  • ہر ٹریفک چالان پر ملک بدری نہیں ہوگی۔
  • معاملہ ان مخصوص سنگین خلاف ورزیوں سے متعلق ہے جو عوامی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھی جائیں۔
  • ایسی کارروائی کے لیے حتمی عدالتی فیصلہ اہم شرط ہے۔
overseaspost.net

پاکستانی ڈرائیوروں کے لیے کیا اہم ہے؟

اگر مجوزہ تبدیلیاں منظور ہوجاتی ہیں تو سعودی عرب میں مقیم پاکستانی ڈرائیوروں کو تین چیزوں کا خاص خیال رکھنا ہوگا: اپنے ٹریفک پوائنٹس پر نظر رکھیں، جرمانوں کو نظر انداز نہ کریں اور انتہائی خطرناک ڈرائیونگ سے بچیں۔

خاص طور پر سرخ سگنل توڑنا، انتہائی تیز رفتاری اور دوسروں کی جان خطرے میں ڈالنے والی ڈرائیونگ غیر ملکی کے لیے صرف مالی جرمانے کا معاملہ نہیں رہ سکتی۔

کیا یہ نئے قوانین ابھی نافذ ہیں؟

نہیں۔

یہ اس خبر کا سب سے اہم پہلو ہے۔ 

سامنے آنے والی نئی تفصیلات مجوزہ انتظامی ضابطے کا حصہ ہیں اور ابھی انہیں مکمل طور پر نافذ شدہ نئے قوانین سمجھنا درست نہیں۔

!OVERSEAS POST | TRAFFIC GUIDEکون سی خلاف ورزیاں زیادہ خطرناک؟
  • مقررہ حد سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ تیز رفتاری۔
  • سرخ سگنل توڑنا۔
  • گاڑیوں کے درمیان خطرناک انداز میں لین تبدیل کرنا۔
  • نشے کی حالت میں گاڑی چلانا۔
overseaspost.net

مسودے کو حتمی شکل دینے کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ کون سی تجاویز اسی صورت میں برقرار رہتی ہیں، کن میں تبدیلی ہوتی ہے اور ان پر عمل کب سے شروع ہوگا۔

اس لیے سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کو ان تبدیلیوں سے آگاہ ضرور رہنا چاہئے، لیکن یہ سمجھنا درست نہیں کہ تمام مجوزہ پابندیاں اور سزائیں ابھی سے نافذ ہوچکی ہیں۔

OVERSEAS POST | SOURCES اصل اور معتبر ذرائع

ادارتی وضاحت: رپورٹ میں زیرِ بحث متعدد تبدیلیاں مجوزہ ضابطے کا حصہ ہیں۔ انہیں حتمی اور مکمل طور پر نافذ شدہ نئی ٹریفک دفعات کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔

overseaspost.net

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے