ایک فون کال، 2 دفاعی معاہدے اور دنیا کی 2 اہم سمندری گزرگاہیں اس وقت عالمی سطح پر زیرِ بحث ہیں۔
مزید پڑھیں
مشرق وسطیٰ میں جاری بحران پاکستان کے لیے صرف خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں رہا۔ یہ اب سعودی عرب کے دفاع، ایران سے تعلقات، امریکا اور اسرائیل کی ایران سے جاری جنگ اور پاکستان کی اپنی توانائی سلامتی کو ایک ہی نقطے پر لے آیا ہے۔
وہ فون کال جس نے اسلام آباد کا کردار نمایاں کردیا
پاکستانی چیف آف ڈیفنس فورسز، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر
نے بدھ کے روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔
🤝
اصل کھیل کیا ہے؟ پاکستان، ایران اور حوثیوں کا نازک تعلق
اصل کھیل کیا ہے؟ پاکستان، ایران اور حوثیوں کا نازک تعلق
بیک چینل سفارت کاری: ریاض کا پیغام اور کشیدگی روکنے کی مساعی
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اس بحران میں محض تماشائی نہیں بلکہ تہران اور ریاض کے درمیان بنیادی سفارتی پُل بن چکا ہے۔ اسلام آباد نے سعودی تیل تنصیبات کے تحفظ اور ایران امریکا رکے ہوئے مذاکرات کی بحالی پر زور دے کر خطے کو ہمہ گیر جنگ سے بچانے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔
تہران کا دفاعی بیانیہ بمقابلہ اثر و رسوخ
01ایران اگرچہ سفارتی سطح پر مؤقف رکھتا ہے کہ حوثی اپنے فیصلے خود کرتے ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ حوثی عسکری صلاحیت کا اصل سرچشمہ ایرانی اسلحہ اور تزویراتی مدد ہے، جس پر قابو پانا تہران کے دائرہ اختیار میں ہے۔
بیجنگ کا متوازی دباؤ اور ہم آہنگی
02پاکستان تنہا یہ مطالبہ نہیں کر رہا بلکہ چین نے بھی پسِ پردہ ایران کو حوثی حملے لگام دینے کی سخت تلقین کی ہے۔ اس سے پاکستان کے لیے تہران کو معاشی و سیاسی نتائج کے ادراک پر قائل کرنے کی گنجائش مزید وسیع ہو گئی ہے۔
سعودی تحفظ کی غیر مشروط یقین دہانی
03پاکستانی فوج کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ سعودی حدود اور حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کے لیے ریڈ لائن ہے۔ تہران کو یہ باور کرایا گیا ہے کہ حملے نہ رکے تو پاکستان دفاعی معاہدے کے تحت کارروائی پر مجبور ہو سکتا ہے۔
جنگ بندی یا وسیع تصادم کا فیصلہ کن موڑ
04پاکستان کا اصل ہدف یمن میں جنگ لڑنا نہیں بلکہ ایسی پیشگی سفارت کاری ہے جس سے خلیجی ممالک کی دفاعی شریانیں محفوظ رہیں اور امریکا اسرائیل ایران جنگ کا دائرہ خلیج کے تیل کے کنوؤں تک نہ پھیلے۔
پاکستانی حکومتی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل نے ایران سے کہا کہ وہ یمنی حوثیوں پر اپنا اثر استعمال کرے تاکہ سعودی تیل تنصیبات اور اقتصادی اہداف پر حملے رکیں۔
رپورٹس کے مطابق اسی گفتگو میں ایران اور امریکا کے درمیان رُکے ہوئے براہ راست مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوشش بھی زیر بحث آئی۔
پاکستان حرمین شریفین کے غیر مشروط تحفظ کے عزم کے ساتھ تہران سے مسلسل رابطے برقرار رکھ کر خطے کو بڑی تباہ کن جنگ سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ کر کے حوثی حملے رکوانے اور امریکا ایران کشیدگی کم کرانے میں ثالثی کردار ادا کیا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے تاریخی معاہدے کے تحت ایک رکن پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا، جس کے تحت دستوں کی تعیناتی بھی عمل میں آئی۔
آبنائے ہرمز اور باب المندب میں تجارتی ٹریفک غیر معمولی حد تک گرنے سے دنیا کے پانچویں حصے کی ایندھن ترسیل غیر یقینی ہو چکی ہے۔
قطر اور متحدہ عرب امارات سے مائع قدرتی گیس کی فراہمی میں معمولی تعطل بھی ملکی بجلی گھروں، کھاد کے کارخانوں اور صنعتی پیداوار کو متاثر کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ یہ رابطہ اچانک نہیں ہوا تھا۔ 9 ستمبر کو رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ اسلام آباد پہلے ہی تہران تک ریاض کا پیغام پہنچا چکا تھا کہ حوثی حملوں کو قابو کیا جائے تاکہ لڑائی بڑی علاقائی جنگ میں نہ بدلے۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ وہ یمن کے حوثیوں کو ’کنٹرول‘ نہیں کرتا۔
سعودی عرب کے لیے پاکستان کا واضح پیغام
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سعودی سلامتی کے لیے پاکستان کی وابستگی ’غیر مشروط‘ ہے اور ضرورت پڑنے پر پاکستان ’ہر حد تک‘ جائے گا۔
انہوں نے عرب ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں حرمین شریفین کے تحفظ کو بھی اس عزم کا حصہ قرار دیا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد صرف عسکری سطح پر ہی اپنا مؤقف ظاہر نہیں کررہا۔ دفتر خارجہ نے بھی باب المندب کی صورت حال کو ’انتہائی سنگین‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حوثی مسئلے کو طاقت کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری سے حل ہونا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان دونوں محاذوں پر اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ یعنی ریاض کو دفاع کی یقین دہانی بھی اور تہران کے ساتھ اس سلسلے میں رابطوں کا دروازہ بھی کھلا ہے۔
⚡
پاکستان کے لیے خطرہ کہاں ہے؟ تیل، گیس اور مہنگائی کا سوال
◆
پاکستان کے لیے خطرہ کہاں ہے؟ تیل، گیس اور مہنگائی کا سوال
گیسٹیک اور انرجی ڈیٹا کے مطابق پاکستان اپنی کل مائع قدرتی گیس کا 99 فیصد قطر اور متحدہ عرب امارات سے درآمد کرتا ہے، جو ملکی گیس گرڈ کے 30 فیصد حصے کو رواں رکھتی ہے۔
بجلی گھروں کی بندش اور بلیک آؤٹ کا خدشہ
توانائی بحرانپنجاب اور سندھ کے جدید آر ایل این جی پاور پلانٹس اسی ایندھن پر چلتے ہیں۔ ہرمز میں خلل پڑتے ہی ملک میں بجلی کی بھاری لوڈ شیڈنگ اور پیداواری لاگت میں ہوشربا اضافہ ہو سکتا ہے۔
کھاد کے کارخانے اور زرعی پیداوار کا تعطل
خوراک کی سلامتیملکی کھاد انڈسٹری درآمدی گیس کو خام مال کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ گیس کی ترسیل منقطع ہونے سے یوریا کھاد ناپید ہوگی، جس سے گندم اور چاول کی ملکی فصلیں شدید خطرے میں پڑ جائیں گی۔
روپے کی قدر میں تاریخی گراوٹ اور ڈالر دباؤ
مالیاتی صدمہعالمی سطح پر خام تیل اور اسپاٹ ایل این جی کارگوز کے ریٹس بڑھنے سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے پگھلیں گے، جس سے روپے پر زبردست دباؤ آئے گا اور امپورٹ بل بے قابو ہو جائے گا۔
سی پی آئی مہنگائی اور پیٹرولیم قیمتوں کا دھماکا
عوامی معیشتپیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں اضافے کا بوجھ سیدھا مال بردار گاڑیوں کے کرایوں اور عام سبزیوں تک منتقل ہوگا، جس سے نچلے اور متوسط طبقے کی کمر ٹوٹنے کا حقیقی خطرہ ہے۔
مکہ دفاعی معاہدہ اب آگے بڑھتا دکھائی دے رہا ہے
اگست میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
معاہدے میں اعلیٰ سطح کے سیاسی و عسکری رابطے، مشترکہ مشقیں، فضائی دفاع، ڈرون نظام اور دفاعی صنعت میں تعاون بھی شامل ہے۔
اس کے ساتھ پاکستان اور سعودی عرب کا الگ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ بھی موجود ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق یہ معاہدہ عملی حالت میں ہے اور اس کے تحت کچھ پاکستانی فورسز کی تعیناتی بھی ہو چکی ہے، تاہم تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
یہی وجہ ہے کہ حوثی حملے پاکستان کے لیے ممکنہ طور پر عملی امتحان بن گئے ہیں۔
مکہ دفاعی معاہدہ: کیا اب اصل امتحان شروع ہونے والا ہے؟
▼
مکہ دفاعی معاہدہ: کیا اب اصل امتحان شروع ہونے والا ہے؟
اگست میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دستخط ہونے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 'ایک پر حملہ سب پر حملہ' کی شق رکھتا ہے۔ حوثی حملوں میں شدت نے اب اس معاہدے کو عملی آزمائش کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے۔
مشترکہ دفاع کی خودکار شق
آرٹیکل 5 ماڈلمعاہدے کے تحت اگر سعودی عرب کی خودمختاری یا شہری آبادی پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اتحادی ممالک باہمی مشورے سے دفاعی مدد فراہم کرنے کے پابند ہیں، جس نے پاکستان کی قانونی ذمہ داری بڑھا دی ہے۔
فضائی دفاع اور اینٹی ڈرون شیلڈ
تکنیکی اشتراکسعودی انٹرسیپٹر میزائلوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے معاہدے میں ترکیہ کے ڈرون سسٹمز اور پاکستان کے فضائی دفاعی وسائل کا مربوط گرڈ شامل ہے، جس کی فوری تعیناتی ریاض کی ترجیح بن چکی ہے۔
سعودی دفاع بمقابلہ یمن مہم جوئی
باریک لکیرپاکستان کے لیے بنیادی سفارتی اصول یہ ہے کہ سعودی سرزمین کا دفاع غیر مشروط ہوگا، لیکن یمن کے اندر جاکر حوثیوں کے خلاف جارحانہ جنگی کارروائیوں کا حصہ نہیں بنا جائے گا۔
پاکستانی افواج کی علامتی تعیناتی
عملی موجودگیدفتر خارجہ کے مطابق دوطرفہ معاہدے کے تحت مخصوص فوجی دستے پہلے ہی تربیت اور مشاورتی کردار میں تعینات ہیں؛ بحران بڑھنے پر ان کی ذمہ داریاں بڑھانے کا شدید دباؤ آ سکتا ہے۔
ریاض کو مدد کی ضرورت، مگر جنگ میں کودنا الگ فیصلہ
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سعودی عرب نے میزائل دفاعی وسائل پر دباؤ بڑھنے کے بعد پاکستان سمیت کئی شراکت داروں سے فوجی مدد طلب کی ہے، تاہم 16 ستمبر تک کسی ملک نے براہ راست جنگی مدد کا واضح اعلان نہیں کیا تھا۔
اس صورت حال میں ایک اہم فرق سامنے آتا ہے کہ سعودی دفاع سے وابستگی اور یمن کے اندر جنگی کارروائی میں شامل ہونا ایک ہی بات نہیں ہے۔
🚢
دنیا کیوں فکرمند ہے؟ ہرمز اور باب المندب پر بڑھتا دباؤ
▼
دنیا کیوں فکرمند ہے؟ ہرمز اور باب المندب پر بڑھتا دباؤ
آبنائے ہرمز: 16 کے بجائے صرف 4 جہاز
75% ٹریفک جامرائٹرز ڈیٹا کے مطابق روزانہ اوسطاً 16 کے مقابلے میں صرف 4 تجارتی کارگو جہاز گزرے۔ دنیا کے 20 فیصد تیل اور گیس کی یہ مرکزی شاہراہ بند ہونا عالمی معیشت کے لیے دل کا دورہ ثابت ہو سکتا ہے۔
باب المندب: بحیرہ احمر پر حوثی سائے
26 سے کم ہو کر 23ایشیا کو یورپ سے ملانے والے اس سمندری راستے پر حملوں کے خوف سے کارگو ٹریفک مسلسل گر رہی ہے۔ انشورنس ریٹس اور فریٹ چارجز میں تاریخی اضافے نے بحری کمپنیوں کو راستہ بدلنے پر مجبور کر دیا ہے۔
عالمی خطرے کا منظرنامہ: چین، یورپ اور امریکا بیک وقت اس لیے متحرک ہیں کہ دونوں آبناؤں کا بیک وقت غیر محفوظ ہونا عالمی تجارتی سپلائی چین کو منجمد کر کے افراط زر کا نیا سونامی لا سکتا ہے۔
صرف پاکستان نہیں، چین بھی تہران سے یہی کہہ رہا ہے
اس پوری کہانی میں چین بھی اہمیت کا حامل ہے۔ رائٹرز کے مطابق سعودی درخواست کے بعد بیجنگ نے نجی طور پر ایران سے کہا ہے کہ وہ حوثیوں پر اپنا اثر استعمال کرے۔
چین کے لیے یہ مسئلہ سیاست کے ساتھ توانائی اور تجارت کا بھی ہے، کیونکہ انہی سمندری راستوں میں خلل اس کے مفادات کو متاثر کرتا ہے۔
یہی معاملہ پاکستان کے لیے سفارتی گنجائش پیدا کرتا ہے، کیونکہ تہران پر دباؤ صرف اسلام آباد یا ریاض کی طرف سے نہیں، بیجنگ بھی کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ حوثی رک جائیں گے، لیکن ایران کے سامنے علاقائی اور اقتصادی نتائج واضح ہوں گے۔
🔭
آگے کیا ہوگا؟ پاکستان کے سامنے تین بڑے سفارتی راستے
▼
آگے کیا ہوگا؟ پاکستان کے سامنے تین بڑے سفارتی راستے
راستہ اول: غیر جانبدار رابطہ کار اور ثالثی
سب سے موزوں اور ترجیحی راستہ یہ ہے کہ پاکستان، بیجنگ اور انقرہ کے اشتراک سے تہران پر سفارتی اثر استعمال کرے اور امریکا ایران پسِ پردہ مذاکرات بحال کروا کر بحیرہ احمر و خلیج میں سیز فائر کا راستہ ہموار کرے۔
راستہ دوم: دفاعی ڈیٹرنس اور محدود فضائی تعاون
اگر حوثی حملے نہ رکے تو پاکستان یمن کی دلدل میں کودے بغیر مکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کی سرزمین پر ائیر ڈیفنس، اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی اور ریڈار کور فراہم کر کے اپنے دفاعی وعدے پورے کر سکتا ہے۔
راستہ سوم: ہنگامی ملکی معاشی و توانائی حکمتِ عملی
اگر بحران بڑھ کر آبنائے ہرمز کو مکمل لپیٹ میں لے لے تو پاکستان کو فوری طور پر متبادل زمینی ایندھن، کوئلہ اور اضافی اسٹوریج کے ہنگامی پروٹوکول نافذ کرنے پڑیں گے تاکہ ملکی انڈسٹری اور زراعت کا پہیہ مکمل جام نہ ہو۔
ہرمز اور باب المندب: پاکستان تک پہنچتا خطرہ
رائٹرز کے مطابق جمعرات کو آبنائے ہرمز سے صرف 4 تجارتی جہاز گزرے، جبکہ 10 روزہ اوسط 16 تھی۔
باب المندب سے اسی روز 23 جہاز گزرے، جو 10 روزہ اوسط 26 سے کم تھے۔ ہرمز جنگ سے پہلے دنیا کے تیل اور گیس کی تقریباً پانچویں مقدار کی نقل و حرکت کا راستہ تھا۔
پاکستان اس جھٹکے سے براہ راست متاثر ہوسکتا ہے۔ گیسٹیک کی رپورٹ، جسے ڈان نے شائع کیا ہے، کے مطابق قطر اور متحدہ عرب امارات پاکستان کی تقریباً 99 فیصد مائع قدرتی گیس، یعنی ایل این جی، فراہم کرتے ہیں، جبکہ ایل این جی ملک کی مجموعی گیس سپلائی کا قریب 30 فیصد ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں طویل رکاوٹ بجلی، کھاد، صنعت اور قیمتوں پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔
کیا پاکستان واقعی حوثیوں کو ’رکوا‘ سکتا ہے؟
اسلام آباد کے پاس حوثیوں کو حکم دینے کی طاقت نہیں۔ اس کا اصل اثاثہ رابطے ہیں۔ ریاض کے ساتھ دفاعی شراکت، تہران تک رسائی، انقرہ کے ساتھ نیا دفاعی فریم ورک اور واشنگٹن سے بات چیت۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا مؤثر کردار براہ راست جنگ سے زیادہ پیغام رسانی، کشیدگی کم کرانے اور مذاکراتی راستہ کھلا رکھنے میں ہوسکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق اگلے چند دن موجودہ صورت حال اور سرگرمیوں کا نتیجہ دیکھنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کریں گے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے نئے سکیورٹی نقشے میں کہاں کھڑا ہے۔ یعنی سعودی عرب کا دفاعی ساتھی، ایران اور امریکا کے درمیان رابطہ کار، یا دونوں کردار ساتھ نبھانے والا ایسا ملک جس کا سب سے بڑا امتحان جنگ کو پھیلنے سے روکنا ہے۔