براہ راست نشریات

آبنائے ہرمز کا نظام؟ ایران اور خلیجی ممالک کی میز پر سودا کیا ہے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Strait of Hormuz

ایران اور خلیجی ممالک آبنائے ہرمز کے مستقبل پر عمان میں اہم مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں۔
اصل اختلاف صرف محفوظ جہاز رانی کا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ ہرمز کے انتظام میں ایران کو کتنا اختیار ملے گا۔ سعودی عرب اور امارات کے لیے معاملہ اس لیے زیادہ اہم ہے کہ ہرمز اور بحیرۂ احمر دونوں راستوں پر بڑھتے خطرات تیل برآمدات کو متاثر کرسکتے ہیں۔ پاکستان بھی مہنگے تیل، ایل این جی اور خلیجی معیشت میں ممکنہ سست روی سے متاثر ہوسکتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی میں اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ اگلا حملہ کہاں ہوگا۔ اصل سوال یہ بنتا جا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر مستقبل کا نظام کیا ہوگا، جہازوں کی محفوظ آمدورفت کی ضمانت کون دے گا اور کیا ایران اس اہم آبی راستے پر پہلے سے زیادہ اختیار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا؟

اسی پس منظر میں پیر 14 ستمبر کو عمان میں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان اہم مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔ 

عمان کئی ہفتوں سے پس پردہ سفارت کاری میں مصروف ہے تاکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کی جائے، جہاز رانی محفوظ بنائی جائے اور مستقبل کے کسی قابلِ عمل انتظام کی بنیاد رکھی جائے۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTاہم نکات
  • عمان میں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کی سلامتی اور مستقبل کے انتظام پر اہم سفارت کاری جاری ہے۔
  • فوری اور مکمل معاہدے کی توقع کم ہے؛ موجودہ بات چیت مستقبل کے کسی قابلِ عمل فارمولے کی بنیاد بن سکتی ہے۔
  • اصل تنازع صرف راستہ کھولنے کا نہیں بلکہ ایران کے ممکنہ انتظامی کردار اور شرائط کا بھی ہے۔
  • خلیجی ممالک کے لیے ہرمز توانائی برآمدات، شپنگ اور عالمی منڈی تک رسائی کی اہم شہ رگ ہے۔
  • سعودی عرب کے لیے ہرمز کے ساتھ بحیرۂ احمر اور متبادل پائپ لائنوں کی سلامتی بھی اہم ہوگئی ہے۔
  • پاکستان پر اثر مہنگے تیل، ایل این جی، درآمدی بل اور مہنگائی کی صورت میں آسکتا ہے۔
overseaspost.net

تاہم مذاکرات سے پہلے ایران نے واضح کردیا ہے کہ کسی فوری اور مکمل معاہدے کی توقع نہیں کی جانی چاہئے۔ 

ایرانی حکام کے مطابق عمان میں ہونے والی ملاقات میں ہرمز سے متعلق کسی حتمی معاہدے پر دستخط متوقع نہیں۔

مزید پڑھیں

اصل مسئلہ راستہ کھولنا نہیں

ظاہر میں مذاکرات کا موضوع آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی ہے، لیکن اصل اختلاف اس سے کہیں گہرا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران ایسا انتظام چاہتا ہے جس کے تحت اسے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے اور آمدورفت کے انتظام میں زیادہ کردار مل سکے۔

 عمان اور بعض خلیجی ممالک ایسے کسی انتظام کے بارے میں محتاط دکھائی دیتے ہیں۔

اگر تہران مستقبل کے کسی معاہدے میں جہازوں کی آمدورفت، نگرانی یا فیس کے معاملے میں باضابطہ کردار حاصل کرلیتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ ہرمز میں ایران کے اثرورسوخ کو پہلے سے زیادہ تسلیم کیا جا رہا ہے۔

i OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTفیکٹ باکس
  • جغرافیائی مقام: خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان
  • مرکزی ساحلی ممالک: ایران اور عمان
  • اہم استعمال: تیل، گیس، تجارتی اور کموڈیٹی شپنگ
  • اہم متبادل: سعودی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن اور اماراتی مشرقی راستے
  • بڑا سوال: مستقبل میں ہرمز کی سلامتی اور انتظام کس فارمولے کے تحت ہوگا؟
overseaspost.net

دوسری طرف خلیجی عرب ممالک کے لیے ایسا کوئی بھی انتظام انتہائی حساس ہوگا، کیونکہ ان کی معیشت، تیل برآمدات اور عالمی منڈیوں تک رسائی کا بڑا حصہ اسی آبی راستے سے وابستہ ہے۔

ہرمز اتنا اہم کیوں ہے؟

جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ یہ تنگ بحری راستہ عالمی معیشت کی اہم ترین شہ رگوں میں شمار ہوتا ہے۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور دوسرے توانائی پیدا کرنے والے ممالک کے لیے ہرمز صرف سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی منڈی تک رسائی کا بنیادی دروازہ ہے۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTیہ مذاکرات کیوں اہم ہیں؟
  • توانائی: ہرمز میں رکاوٹ عالمی تیل اور گیس سپلائی، شپنگ اور انشورنس کو متاثر کرسکتی ہے۔
  • سلامتی: خلیجی ممالک محفوظ جہاز رانی چاہتے ہیں تاکہ تجارتی بہاؤ برقرار رہے۔
  • اختیار: ایران، خلیجی ریاستیں اور امریکہ مستقبل کے سکیورٹی نظام پر مختلف مفادات رکھتے ہیں۔
overseaspost.net

حالیہ کشیدگی کے دوران جہاز رانی متاثر ہوئی، انشورنس کی لاگت بڑھی اور توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ نے ایشیا سمیت کئی منڈیوں کو پریشان کیا۔

مذاکرات سے صرف ایک روز قبل آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کی اطلاع نے خطرات کو مزید نمایاں کردیا۔ 

جہاز میں آگ لگنے اور عملہ نکالنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ 

ایسے واقعات دکھاتے ہیں کہ سمندر میں ایک حملہ بھی عالمی تیل، شپنگ اور انشورنس مارکیٹ کو فوری متاثر کرسکتا ہے۔

سعودی عرب کے لیے مسئلہ دو طرفہ

سعودی عرب نے کئی برسوں سے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے مشرقی علاقوں سے بحیرۂ احمر تک ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو متبادل راستے کے طور پر استعمال کیا ہے۔

لیکن حالیہ حملوں نے اس متبادل کی سلامتی پر بھی سوال کھڑے کردئے ہیں۔

اسی دوران یمن میں حوثیوں کی سرگرمیوں نے باب المندب اور بحیرۂ احمر کی سکیورٹی کے بارے میں بھی خدشات بڑھا دیے ہیں۔

IR OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTایران کیا چاہتا ہے؟
  • ایران طویل عرصے سے کہتا ہے کہ خلیج کی سلامتی میں علاقائی ممالک کا مرکزی کردار ہونا چاہئے۔
  • موجودہ بحران نے تہران کو ہرمز کو ایک اہم سفارتی اور اسٹریٹجک کارڈ بنانے کا موقع دیا ہے۔
  • فوری reopening کے بجائے مستقبل کے انتظام اور شرائط پر زیادہ زور نظر آتا ہے۔
  • ہرمز کو امریکہ کے ساتھ وسیع تر مذاکرات کا حصہ بھی بنایا جاسکتا ہے۔
overseaspost.net

یوں سعودی عرب کے لیے صورتحال یہ بنتی ہے:

مشرق میں ہرمز خطرے میں آئے ← تیل بحیرۂ احمر کی طرف موڑا جائے ← وہاں باب المندب یا پائپ لائن خطرے میں آئے ← دوسرا راستہ بھی دباؤ میں آجائے۔

یہی وجہ ہے کہ عمان میں ہونے والی سفارت کاری اب صرف ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع ختم کرنے کی کوشش نہیں بلکہ خلیجی توانائی نظام کے مستقبل کا معاملہ بن چکی ہے۔

ایران کیا چاہتا ہے؟

ایران طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ خلیج کی سلامتی کا نظام بنیادی طور پر علاقائی ممالک کو خود تشکیل دینا چاہئے اور غیر ملکی فوجی موجودگی عدم استحکام پیدا کرتی ہے۔

G OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTخلیجی ممالک کی مشکل
  • خلیجی ممالک ایران کو غیر معمولی اختیار نہیں دینا چاہتے۔
  • اسی وقت وہ ہرمز کو بند یا غیر محفوظ بھی نہیں چھوڑ سکتے۔
  • متبادل بندرگاہوں، پائپ لائنوں اور تجارتی راستوں پر سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔
  • فوری ضرورت محفوظ جہاز رانی کی بحالی ہے۔
overseaspost.net

موجودہ بحران نے تہران کو اپنے اس موقف کو عملی مذاکرات میں تبدیل کرنے کا موقع دیا ہے۔

ایران آبنائے ہرمز کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں ایک اہم سیاسی کارڈ کے طور پر بھی استعمال کرسکتا ہے۔ 

اگر جہاز رانی مکمل طور پر بحال کرنے کو سیاسی یا سکیورٹی شرائط سے جوڑا جاتا ہے تو ہرمز صرف بحری راستہ نہیں رہتا بلکہ بڑے سفارتی سودے کا حصہ بن جاتا ہے۔

خلیجی ممالک کی مشکل

خلیجی ممالک ایران کو ہرمز پر مکمل اختیار دینا نہیں چاہتے، لیکن وہ اس راستے کو نظر انداز بھی نہیں کرسکتے۔

متحدہ عرب امارات متبادل بندرگاہوں، پائپ لائنوں اور تجارتی راستوں پر کام کررہا ہے، جبکہ سعودی عرب بھی اپنی برآمدی صلاحیت کو مختلف راستوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔

SA OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTسعودی عرب کے لیے دو طرفہ دباؤ
  • سعودی عرب ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن استعمال کرتا ہے۔
  • حالیہ حملوں نے اس متبادل کی سلامتی پر بھی سوال کھڑے کئے ہیں۔
  • مشرق میں ہرمز خطرے میں آئے ← تیل بحیرۂ احمر کی طرف موڑا جائے ← وہاں باب المندب یا پائپ لائن خطرے میں آئے ← دوسرا راستہ بھی دباؤ میں آجائے۔
overseaspost.net

لیکن متبادل راستے تیار کرنا مہنگا اور طویل عمل ہے۔

فوری ضرورت یہی ہے کہ ہرمز میں محفوظ جہاز رانی بحال ہو اور ایسا انتظام سامنے آئے جو کسی ایک ملک کو غیر معمولی اختیار نہ دے۔

امریکہ کہاں کھڑا ہے؟

واشنگٹن کے لیے بھی یہ صورتحال آسان نہیں۔

امریکہ نہیں چاہتا کہ ایران کو ہرمز پر ایسا اختیار مل جائے جو مستقبل میں عالمی جہاز رانی پر سیاسی دباؤ کے لیے استعمال ہوسکے۔

دوسری طرف طویل جنگ، مہنگا تیل، مہنگی شپنگ اور متاثرہ سپلائی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

US OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTامریکہ کہاں کھڑا ہے؟
  • امریکہ ایسا نظام نہیں چاہتا جس میں ایران کو عالمی جہاز رانی پر غیر معمولی دباؤ کا ذریعہ مل جائے۔
  • لیکن طویل جنگ، مہنگا تیل اور مہنگی شپنگ امریکی اور عالمی معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔
  • واشنگٹن کے لیے محفوظ جہاز رانی اور محدود کشیدگی دونوں اہم ہیں۔
overseaspost.net

اسی لیے کسی ایسے فارمولے کی ضرورت بڑھ رہی ہے جس میں ایران کو سفارتی راستہ ملے، خلیجی ممالک کی سلامتی محفوظ رہے اور بین الاقوامی جہاز رانی کسی ایک ملک کی مرضی پر منحصر نہ ہو۔

یہی مشکل مساوات عمان حل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

پاکستان کے لیے کیوں اہم؟

پاکستان اس بحران سے براہِ راست معاشی طور پر متاثر ہوسکتا ہے۔

اگر ہرمز میں کشیدگی طویل ہوئی تو تیل اور ایل این جی کی قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں۔ پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ملک کے لیے اس کا مطلب درآمدی بل میں اضافہ، روپے پر دباؤ، مہنگا پٹرول، مہنگی بجلی اور مجموعی مہنگائی میں اضافے کا خطرہ ہے۔

دوسرا اہم پہلو خلیج میں مقیم پاکستانی ہیں۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTسمندر میں خطرہ کتنا بڑھ گیا؟
  • حالیہ حملوں نے بحری تجارت اور آئل سپلائی کے خدشات کو دوبارہ نمایاں کیا ہے۔
  • حملوں سے انشورنس اور آپریشنل اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
  • بحری کمپنیاں روٹس، رفتار اور خطرے کے پریمیم دوبارہ طے کرسکتی ہیں۔
  • مسلسل حملے عالمی قیمتوں پر نفسیاتی دباؤ بھی بڑھاتے ہیں۔
overseaspost.net

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان کی معاشی سرگرمی میں کسی بڑی رکاوٹ کے اثرات روزگار، کاروبار اور پاکستان آنے والی ترسیلات زر تک پہنچ سکتے ہیں۔

اسی لیے اسلام آباد کے لیے ہرمز میں استحکام محض ایک بین الاقوامی مسئلہ نہیں بلکہ قومی معاشی مفاد کا معاملہ بھی ہے۔

اصل سوال: نظام کون بنائے گا؟

عمان میں پیر کی ملاقات شاید کسی تاریخی معاہدے پر ختم نہ ہو۔

ممکن ہے صرف بات چیت جاری رکھنے، مزید اجلاس منعقد کرنے اور کچھ تکنیکی معاملات پر پیش رفت ہوسکے۔

لیکن اصل اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔

PK OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTپاکستان کے لیے کیا مطلب؟
  • ہرمز میں طویل بحران ← مہنگا تیل اور ایل این جی ← درآمدی بل میں اضافہ ← روپے پر دباؤ ← مہنگا پٹرول، بجلی اور مہنگائی
  • خلیجی معیشت میں بڑی رکاوٹ اوورسیز پاکستانیوں کے روزگار اور ترسیلات زر پر بالواسطہ اثر ڈال سکتی ہے۔
overseaspost.net

سوال یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں خلیج کا سکیورٹی نظام کیسا ہوگا۔

کیا امریکہ بدستور مرکزی ضامن رہے گا؟

کیا ایران کو آبنائے ہرمز کے انتظام میں زیادہ کردار ملے گا؟

کیا خلیجی ممالک مشترکہ علاقائی نظام تشکیل دیں گے؟

یا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل تیل اور تجارتی راستوں کو اتنا مضبوط کردیں گے کہ ہرمز پر انحصار کم ہوجائے؟

ان سوالات کے جواب ابھی سامنے نہیں آئے۔

لیکن ایک بات واضح ہے:

آبنائے ہرمز اب صرف نقشے پر ایک تنگ سمندری راستہ نہیں، بلکہ ایران، امریکہ اور خلیجی ممالک کے درمیان طاقت، سلامتی اور عالمی معیشت کی نئی ترتیب کا مرکز بن چکا ہے۔

اور عمان کی میز پر ہونے والی گفتگو کا اصل سودا بھی شاید یہی ہے۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTاصل اور معتبر ذرائع
  • Reuters — ایران۔عمان مفاہمت اور ہرمز کے مستقبل پر مذاکرات
  • Reuters — ہرمز میں تازہ بحری حملے اور آئل سپلائی کے خدشات
  • Reuters — سعودی متبادل پائپ لائن کی بندش اور عالمی سپلائی پر اثر
  • Reuters — امارات کے متبادل تجارتی اور توانائی راستے
overseaspost.net