امریکی پابندیوں کے باوجود ایران برسوں تک چین کو تیل فروخت کرتا رہا، لیکن موجودہ بحری محاصرے نے صورتحال بدل دی ہے۔
ایرانی خام تیل کی ترسیل میں شدید کمی اور سمندر میں موجود ذخائر کے تیزی سے گھٹنے کے بعد چینی ریفائنریز روس، عراق، برازیل اور کینیڈا جیسے متبادل ذرائع کی طرف دیکھ رہی ہیں۔
اصل خطرہ یہ ہے کہ اگر بحران طویل ہوا تو چین اپنی سپلائی چین مستقل طور پر تبدیل کرسکتا ہے اور محاصرہ ختم ہونے کے بعد بھی ایران کے لیے اپنی سابقہ مارکیٹ واپس حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔
امریکا نے برسوں تک ایران کی آمدنی کے سب سے اہم ذریعے، یعنی تیل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
پابندیاں عائد ہوئیں، ایرانی تیل لے جانے والے جہازوں، کمپنیوں اور مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں ہوئیں اور ان اداروں پر بھی دباؤ بڑھایا گیا جو تہران کو اپنا خام تیل عالمی منڈی تک پہنچانے میں مدد دیتے تھے۔
اس سب کے باوجود ایران نے راستے نکال لئے۔
چین اس کے لئے سب سے اہم دروازہ ثابت ہوا اور پابندیوں کے باوجود لاکھوں بیرل ایرانی تیل چینی مارکیٹ تک پہنچتا رہا۔
لیکن اب صورتحال بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTایران–چین تیل بحران: اہم نکات ⌄
- ایرانی خام تیل کی لوڈنگ مارچ کے تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ سے اگست میں تقریباً 2.2 سے 2.55 لاکھ بیرل یومیہ تک گرنے کی اطلاعات ہیں۔
- چین کئی برسوں سے ایرانی تیل کی سب سے اہم منڈی رہا ہے۔
- بحری رکاوٹ نے مسئلہ صرف خریداری کا نہیں بلکہ تیل خریدار تک پہنچانے کا بنا دیا ہے۔
- چینی ریفائنریز روس، عراق، برازیل اور کینیڈا سمیت متبادل سپلائرز کی طرف دیکھ رہی ہیں۔
- طویل بحران ایران کے لیے چینی مارکیٹ میں مستقل حصہ کھونے کا خطرہ پیدا کرسکتا ہے۔
جو مقصد برسوں کی اقتصادی پابندیاں مکمل طور پر حاصل نہ کرسکیں، امریکی بحری محاصرہ چند ہفتوں میں اس کے قریب پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔
ایرانی تیل کی برآمدات میں غیر معمولی کمی آئی ہے، آبنائے ہرمز کے راستے نئی کھیپوں کی روانگی شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار چین متبادل ذرائع کی جانب بڑھ رہا ہے۔
اس لئے اب اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ایران کتنے بیرل تیل فروخت کرسکے گا، بلکہ اس سے کہیں زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اگر چین نے ایرانی تیل کے بغیر گزارا کرنا سیکھ لیا تو پھر کیا ہوگا؟
مزید پڑھیں
20 لاکھ بیرل سے چند لاکھ تک
اعدادوشمار صورتحال کی سنگینی واضح کرتے ہیں۔
جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اعدادوشمار کے مطابق مارچ میں ایران کی خام تیل کی لوڈنگ تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ تھی، جو اگست میں کم ہوکر صرف دو لاکھ 20 ہزار سے دو لاکھ 55 ہزار بیرل یومیہ کے قریب رہ گئی۔
اس دوران کئی ہفتے ایسے بھی گزرے جن میں آبنائے ہرمز کے راستے ایران کی بڑی تیل برآمدات تقریباً رک گئیں۔
یہی وہ نکتہ ہے جو موجودہ محاصرے کو روایتی اقتصادی پابندیوں سے مختلف بناتا ہے۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXایران اور چین: فیکٹ باکس ⌄
پابندیوں نے ایرانی تیل کی فروخت مشکل ضرور بنائی تھی، لیکن تہران نے ان سے بچنے کے متعدد طریقے تلاش کرلئے تھے۔
مختلف کمپنیوں اور درمیانی تاجروں کا استعمال، جہازوں کی شناخت میں تبدیلی اور سمندر میں ایک ٹینکر سے دوسرے ٹینکر تک تیل منتقل کرنے جیسے طریقوں نے تجارت کو مکمل طور پر رکنے نہیں دیا۔
لیکن اگر برآمدی راستہ ہی متاثر ہوجائے تو مسئلہ صرف خریدار تلاش کرنے کا نہیں رہتا، بلکہ تیل کو بندرگاہ سے نکال کر خریدار تک پہنچانا اصل چیلنج بن جاتا ہے۔
چین ایران کی معاشی شہ رگ کیسے بنا؟
گزشتہ چند برسوں کے دوران چین عملاً ایرانی تیل کی سب سے اہم منڈی بن گیا تھا۔
خصوصاً چین کی آزاد ریفائنریز نے ایرانی خام تیل سے فائدہ اٹھایا، کیونکہ امریکی پابندیوں اور تجارت سے وابستہ خطرات کے باعث تہران اپنا تیل نمایاں رعایت پر فروخت کرتا تھا۔
ایران کے لئے یہ تجارت محض تیل کی فروخت نہیں تھی۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISیہ کہانی کیوں اہم ہے؟ ⌄
یہ معاملہ صرف تیل کی چند کھیپوں کا نہیں، بلکہ ایران کی غیر ملکی زرمبادلہ آمدنی اور چین کی توانائی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔
چین پہنچنے والا ہر بیرل تہران کے لئے غیر ملکی زرمبادلہ کا ذریعہ تھا، جس کی ایرانی معیشت کو درآمدات، حکومتی اخراجات اور ملکی کرنسی پر دباؤ کم کرنے کے لئے شدید ضرورت ہے۔
لیکن اب مسئلہ یہ نہیں کہ چین ایرانی تیل خریدنے کے لئے تیار ہے یا نہیں۔
اصل مسئلہ یہ بنتا جارہا ہے کہ کیا ایران کے پاس چین تک پہنچانے کے لئے مطلوبہ مقدار میں تیل موجود بھی ہوگا؟
سمندر میں موجود ذخیرہ کب تک بچائے گا؟
نئی ایرانی کھیپوں کی روانگی متاثر ہونے کے باوجود چین کو ایرانی تیل کی فراہمی فوراً مکمل طور پر بند نہیں ہوئی۔
اس کی ایک بڑی وجہ سمندر میں موجود ایرانی تیل کے ذخائر تھے۔
بڑی مقدار میں خام تیل پہلے ہی ٹینکروں میں موجود تھا اور بعض جہاز تیرتے ہوئے گوداموں کے طور پر استعمال ہورہے تھے۔
✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا ثابت ہے، کیا احتیاط چاہتا ہے؟ ⌄
اس ذخیرے نے تہران کو وقتی مہلت دی۔
لیکن اب یہی حفاظتی ذخیرہ تیزی سے کم ہورہا ہے۔
تازہ تخمینوں کے مطابق سمندر میں ذخیرہ ایرانی تیل تقریباً 9 کروڑ بیرل سے کم ہوکر لگ بھگ 2 کروڑ 90 لاکھ بیرل رہ گیا ہے۔
اگر نئی برآمدات بحال نہ ہوئیں اور یہی ذخیرہ مسلسل استعمال ہوتا رہا تو چند ہفتوں بعد مسئلہ عارضی رکاوٹ کے بجائے حقیقی قلت کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
ایرانی تیل کا سب سے بڑا ہتھیار بھی کمزور
ایران کے پاس چینی خریداروں کو راغب کرنے کے لئے ایک انتہائی مؤثر ہتھیار تھا: کم قیمت۔
پابندیوں کے باعث ایران کو اپنے تیل پر بڑی رعایت دینا پڑتی تھی اور یہی رعایت چینی ریفائنریز کے لئے اسے پرکشش بناتی تھی۔
لیکن رسد میں کمی نے صورتحال الٹ دی ہے۔
◈ OVERSEAS POST | OIL STOCKسمندری ذخیرہ کیوں اہم ہے؟ ⌄
نئی کھیپیں متاثر ہونے کے بعد ایران نے سمندر میں موجود ذخیرہ شدہ تیل سے کچھ عرصہ سپلائی جاری رکھی۔
- تخمینوں کے مطابق سمندری ذخیرہ تقریباً 9 کروڑ بیرل سے کم ہوکر لگ بھگ 2 کروڑ 90 لاکھ بیرل رہ گیا۔
- یہ ذخیرہ وقتی سہارا ہے، مستقل حل نہیں۔
- اگر نئی برآمدات بحال نہ ہوئیں تو عارضی رکاوٹ حقیقی قلت میں بدل سکتی ہے۔
ایرانی لائٹ خام تیل، جو پہلے برینٹ کے مقابلے میں تقریباً تین ڈالر فی بیرل رعایت پر دستیاب تھا، اس کی بعض کھیپوں کی قیمت اب برینٹ سے تقریباً دو ڈالر فی بیرل زیادہ بتائی جارہی ہے۔
چینی ریفائنری کے سامنے اب ایک سادہ سا سوال ہے۔
اگر ایرانی تیل حاصل کرنا مشکل بھی ہے، خطرہ بھی زیادہ ہے اور قیمت بھی پہلے جیسی سستی نہیں رہی، تو پھر متبادل کیوں نہ تلاش کیا جائے؟
روس خلا پُر کرنے کے لئے تیار
یہ تبدیلی اب دکھائی بھی دینے لگی ہے۔
چینی کمپنی سینوپیک نے روسی تیل کی خریداری میں اضافہ کیا ہے، جبکہ ایرانی تیل پر زیادہ انحصار کرنے والی آزاد چینی ریفائنریز بھی دوسرے ممالک کی جانب دیکھ رہی ہیں۔
روس اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے والے اہم ممالک میں شامل ہوسکتا ہے، خصوصاً اس کا ESPO خام تیل چین کے لئے اہم متبادل بن سکتا ہے۔
$ OVERSEAS POST | PRICE SHIFTایرانی تیل کی قیمت کا فائدہ بھی کمزور ⌄
ایرانی خام تیل کی ایک بڑی کشش اس کی رعایتی قیمت تھی، مگر رسد میں کمی نے یہ فائدہ کم کردیا۔
- پہلے ایرانی لائٹ خام تیل برینٹ کے مقابلے میں تقریباً تین ڈالر رعایت پر دستیاب تھا۔
- بعد میں بعض کھیپوں کی قیمت برینٹ سے تقریباً دو ڈالر زیادہ بتائی گئی۔
- اگر تیل مہنگا بھی ہو اور رسد بھی غیر یقینی، تو خریدار کے لیے متبادل زیادہ منطقی بن جاتا ہے۔
تاہم روس واحد آپشن نہیں۔
عراق، برازیل اور کینیڈا سمیت دوسرے ممالک کا خام تیل بھی چینی ریفائنریز کے لئے متبادل بن سکتا ہے۔
ممکن ہے ان میں سے بعض خام اقسام ایرانی تیل کے مقابلے میں مہنگی ہوں، لیکن ریفائنری کے لئے صرف قیمت اہم نہیں ہوتی، سپلائی کی ضمانت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
اصل خطرہ آج نہیں، محاصرے کے بعد ہے
ایران کے لئے سب سے بڑا خطرہ موجودہ نقصان سے کہیں آگے کا ہے۔
اگر بحران مختصر عرصے میں ختم ہوجاتا ہے تو تہران اپنی سابقہ تجارت کا بڑا حصہ بحال کرسکتا ہے۔
لیکن اگر محاصرہ کئی ماہ جاری رہا تو چینی ریفائنریز اپنی سپلائی چین مستقل بنیادوں پر تبدیل کرسکتی ہیں۔
↗ OVERSEAS POST | SUPPLY SHIFTروس اور دوسرے سپلائرز کا موقع ⌄
نئے معاہدے ہوسکتے ہیں، نئے سپلائر اپنی جگہ بنا سکتے ہیں اور تیل کی ترسیل کے نئے راستے مستحکم ہوسکتے ہیں۔
ایسی صورتحال میں محاصرہ ختم ہونا بھی ایران کے لئے کافی نہیں ہوگا۔
ایران دوبارہ تیل سمندر میں بھیجنے کے قابل تو ہوسکتا ہے، لیکن اسے اپنے پرانے خریداروں کو واپس لانے کے لئے نئی رعایتیں اور بہتر شرائط دینا پڑسکتی ہیں۔
کیا چین نے ایران کا ساتھ چھوڑ دیا؟
موجودہ صورتحال کو چین اور ایران کے سیاسی تعلقات کے خاتمے سے تعبیر کرنا درست نہیں ہوگا۔
بیجنگ اب بھی یکطرفہ امریکی پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات صرف تیل تک محدود نہیں۔
اس لئے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ چین نے ایران سے سیاسی طور پر منہ موڑ لیا ہے۔
⇢ OVERSEAS POST | SCENARIOSآگے کیا ہوسکتا ہے؟ ⌄
اصل تبدیلی تجارتی سطح پر ہورہی ہے۔
چینی ریفائنریز ایک ایسی حقیقت کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہیں جس میں ایرانی تیل کی مسلسل فراہمی کی ضمانت نہیں رہی۔
اور یہی تبدیلی تہران کے لئے کسی سیاسی اختلاف سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
دھچکا ایرانی عوام تک کیسے پہنچے گا؟
تیل کی برآمدات میں بڑی کمی کا مطلب ایران آنے والے غیر ملکی زرمبادلہ میں کمی ہے۔
آمدنی گھٹنے سے حکومت کے لئے اخراجات پورے کرنا، درآمدات کی ادائیگی کرنا اور ریال کو سہارا دینا زیادہ مشکل ہوجاتا ہے۔
1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
امریکا نے برسوں پابندیوں کے ذریعے ایرانی تیل کی فروخت محدود کرنے کی کوشش کی، لیکن چین تہران کے لیے اہم خریدار بنا رہا۔
موجودہ بحری رکاوٹ نے صورتحال بدل دی: مسئلہ اب صرف خریدار تلاش کرنا نہیں بلکہ تیل کو خریدار تک پہنچانا بھی ہے۔
چینی ریفائنریز اگر مستقل طور پر روس اور دوسرے سپلائرز کی طرف منتقل ہوگئیں تو ایران کی سب سے بڑی شکست آج کی فروخت نہیں بلکہ مستقبل کی مارکیٹ ہوسکتی ہے۔
اگر مالی خسارہ پورا کرنے کے لئے مزید کرنسی جاری کی گئی تو مہنگائی اور ریال کی قدر میں کمی کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
یوں تیل کی یہ جنگ صرف بندرگاہوں اور ٹینکروں تک محدود نہیں رہے گی۔ ڈالر کی قیمت سے لے کر درآمدی اشیا اور روزمرہ ضروریات تک اس کے اثرات عام ایرانی شہری تک پہنچ سکتے ہیں۔
چین بھی مکمل فاتح نہیں
دوسری طرف چین کے لئے بھی ایرانی تیل کا غائب ہونا فائدے کا سودا نہیں۔
سستا ایرانی خام تیل چینی ریفائنریز کو کم قیمت پر سپلائی فراہم کرتا تھا۔
اس کی جگہ مہنگا تیل خریدنے سے پیداواری لاگت بڑھ سکتی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عالمی توانائی کی قیمتوں پر الگ دباؤ ڈال رہی ہے۔
چین اس لئے ایرانی تیل کو مارکیٹ سے غائب ہوتا نہیں دیکھنا چاہتا، لیکن اپنی توانائی کی سلامتی ایسے سپلائر کے حوالے بھی نہیں کرسکتا جس کی ترسیل غیر یقینی ہو۔
تہران کے سامنے سب سے مشکل سوال
ایران نے برسوں ثابت کیا کہ وہ اقتصادی پابندیوں کے ساتھ زندہ رہنے کے طریقے جانتا ہے۔ اس نے جہازوں کے نام اور شناخت بدلی، درمیانی تاجروں کا سہارا لیا، سمندر میں تیل منتقل کیا اور خریداروں کو بڑی رعایتیں دیں۔
لیکن موجودہ محاصرہ ایک مختلف مقام پر ضرب لگا رہا ہے۔
پابندیوں کے دور میں سوال خریدار سے تھا:
کیا آپ ایرانی تیل خریدنے کا خطرہ مول لینے کے لئے تیار ہیں؟
اب سوال ایران سے ہے:
اگر خریدار تیار بھی ہو تو کیا آپ تیل اس تک پہنچا سکتے ہیں؟
اگر محاصرہ طویل ہوا اور چین نے دوسرے ممالک سے اپنی ضروریات پوری کرنے کا مستقل نظام بنا لیا تو تہران کی سب سے بڑی شکست آج فروخت نہ ہونے والے لاکھوں بیرل نہیں ہوں گے۔
اصل نقصان وہ منڈی ہوسکتی ہے جو ایران کی واپسی تک اس کا انتظار کرنا ہی چھوڑ دے۔