براہ راست نشریات

آبنائے ہرمز: دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہ کا فیصلہ کون کرے گا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Strait of Hormuz

ایران آبنائے ہرمز کو مکمل بند کرنے کے بجائے وہاں جہاز رانی کے قواعد پر اثرانداز ہونے کی نئی حکمت عملی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
مجوزہ محدود بحری زون اور عمان کے ساتھ نئے راستے پر مذاکرات نے سوال کھڑا کردیا ہے کہ دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہ میں مستقبل میں جہازوں کے گزرنے کے قواعد کون طے کرے گا۔

OVERSEAS POST  |  PREMIUM STORY

آبنائے ہرمز کے نسبتاً تنگ سمندری راستے میں صرف ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشمکش کا مستقبل ہی نہیں بلکہ عالمی توانائی منڈی کی سمت بھی طے ہوسکتی ہے۔

ایران اب صرف آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی تک محدود نہیں رہا، جسے وہ ماضی کے مختلف بحرانوں میں بطور دباؤ استعمال کرتا آیا ہے۔ 

تہران اب ایک زیادہ پیچیدہ حکمت عملی کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے: ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کے قواعد پر اثرانداز ہونا۔

ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ خلیج میں ایک نیا ’محدود بحری زون‘ متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے۔ 

اس کے ساتھ آبنائے ہرمز میں نئے بحری راستے اور عمان کے ساتھ ممکنہ انتظامات کی بات بھی سامنے آئی ہے۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORT اہم نکات
  • ایران خلیج میں ایک نیا محدود بحری زون متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے۔
  • ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں عارضی مشترکہ بحری راستے پر مذاکرات کی تصدیق ہوچکی ہے۔
  • مجوزہ ایرانی زون کی حتمی حدود، نفاذ کا طریقہ اور بین الاقوامی قانونی حیثیت ابھی مکمل طور پر واضح نہیں۔
  • 2025 میں تقریباً 2 کروڑ بیرل یومیہ تیل اور پیٹرولیم مصنوعات ہرمز سے گزریں۔
  • سعودی عرب اور امارات کے پاس متبادل پائپ لائنیں ہیں، مگر وہ ہرمز کا مکمل متبادل نہیں بن سکتیں۔
  • اصل خطرہ مکمل بندش سے زیادہ امریکی اور ایرانی قواعد کے باہمی تصادم کا ہوسکتا ہے۔
overseaspost.net

یوں بنیادی سوال اب یہ نہیں رہا کہ کیا ایران ہرمز بند کرسکتا ہے؟ 

بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا تہران یہاں جہازوں کے گزرنے کے قواعد تبدیل کرسکتا ہے؟

مزید پڑھیں

ایران نے کیا اعلان کیا؟

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی کے مطابق تہران آئندہ دنوں خلیج میں نئے محدود بحری زون کا اعلان کرے گا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے نئے بین الاقوامی بحری راستے کے نقشے بھی جاری کئے جائیں گے۔

ایرانی مؤقف کے مطابق مجوزہ زون اس مقام سے شروع ہوگا جہاں امریکا 

کی جانب سے ایران پر عائد بحری ناکہ بندی کا دائرہ شروع ہوتا ہے اور خلیج کے بعض حصوں تک پھیلے گا۔ اس علاقے میں داخل ہونے والے بعض جہازوں کو ایرانی پابندیوں یا دیگر اقدامات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

OVERSEAS POST | FACT BOX آبنائے ہرمز — فیکٹ باکس
تیل و مصنوعات
تقریباً 20 ملین بیرل یومیہ
عالمی حصہ
سمندری تیل تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی
اہم منزل
تقریباً 80 فیصد ایشیا کی جانب
اہم ممالک
سعودی عرب، ایران، عراق، کویت، امارات اور قطر
اہم متبادل راستے
سعودی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن، امارات کی حبشان–فجیرہ پائپ لائن
بنیادی حقیقت
متبادل صلاحیت ہرمز سے گزرنے والی پوری مقدار کا متبادل نہیں بن سکتی۔
overseaspost.net

رضائی نے ہرمز کو کھلا رکھنے کے ایرانی عزم کو ان اقدامات کے خاتمے سے بھی جوڑا ہے جنہیں تہران اپنے خلاف امریکی حملے اور دھمکیاں قرار دیتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران ہرمز میں آزاد جہاز رانی کو امریکا کے ساتھ جاری سیاسی و عسکری کشمکش سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

عمان کیوں اہم ہوگیا؟

نئے بحری راستے کی بات محض ایرانی دعویٰ نہیں۔ عمان نے 25 اگست کو تصدیق کی تھی کہ مسقط اور تہران نے آبنائے ہرمز میں ایک مشترکہ عارضی بحری راستہ قائم کرنے پر بات چیت کی ہے، جبکہ بارودی سرنگیں صاف کرنے کے مشترکہ منصوبے پر بھی گفتگو ہوئی۔

عمانی بیان کے مطابق مستقل بحری راستے، مستقبل میں جہاز رانی کے انتظام، معلومات کے تبادلے اور بحری ٹریفک منظم کرنے پر تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے۔

تاہم مسقط نے بین الاقوامی قانون، ساحلی ممالک کے خودمختار حقوق اور خطے کے دیگر ممالک سے مشاورت کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔

اس لئے یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ ایران اور عمان نے تہران کو ہرمز میں کوئی نئی خصوصی اتھارٹی دینے پر اتفاق کرلیا ہے۔

OVERSEAS POST | IRAN MOVE ایران نے کیا اعلان کیا؟

ایرانی حکام کے مطابق تہران آئندہ دنوں خلیج میں ایک نیا محدود بحری زون متعارف کرانے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے نئے بین الاقوامی بحری راستے کے نقشے جاری کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

ایرانی مؤقف یہ ہے کہ مجوزہ زون امریکی بحری ناکہ بندی سے متعلق علاقے کے مقابل ایک ردعمل ہوگا، جبکہ بعض جہازوں کو ایرانی پابندیوں یا دیگر اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اہم: یہ اعلان اپنی مکمل عملی تفصیلات کے ساتھ ابھی نافذ شدہ نظام نہیں؛ حتمی نقشہ، حدود اور نفاذ کا طریقہ واضح ہونا باقی ہے۔

overseaspost.net

کیا ثابت ہے اور کیا ابھی غیر واضح؟

اس مرحلے پر حقائق اور سیاسی اعلانات میں فرق رکھنا ضروری ہے۔

یہ مصدقہ ہے کہ ایران اور عمان عارضی بحری راستے اور مستقبل کے نیوی گیشن انتظامات پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ 

یہ بھی حقیقت ہے کہ ایرانی حکام نے نئے محدود بحری زون کے اعلان کا عندیہ دیا ہے۔

لیکن اس زون کی حتمی سرحدیں، اسے نافذ کرنے کا طریقہ، خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف ممکنہ کارروائی، عمان اور دیگر خلیجی ممالک کی حتمی منظوری اور اس کی بین الاقوامی قانونی حیثیت ابھی پوری طرح واضح نہیں۔

ہرمز دنیا کے لئے اتنا اہم کیوں؟

وجہ اعداد و شمار میں پوشیدہ ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق 2025 میں تقریباً دو کروڑ بیرل یومیہ خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات آبنائے ہرمز سے گزریں، جو سمندر کے ذریعے ہونے والی عالمی تیل تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی بنتا ہے۔ اس کا قریب 80 فیصد ایشیا کی طرف جاتا تھا۔

OVERSEAS POST | VERIFIED کیا مصدقہ ہے، کیا ابھی غیر واضح؟

مصدقہ معلومات

  • ایران اور عمان نے ہرمز میں عارضی مشترکہ بحری راستے پر بات چیت کی ہے۔
  • مستقبل کے نیوی گیشن انتظامات، معلومات کے تبادلے اور بحری ٹریفک پر تکنیکی مذاکرات زیرِ بحث ہیں۔
  • ایرانی حکام نئے محدود بحری زون کے اعلان کا عندیہ دے چکے ہیں۔

ابھی غیر واضح

  • زون کی حتمی سرحدیں اور قانونی حیثیت۔
  • خلاف ورزی پر عملی کارروائی کا طریقہ۔
  • عمان اور دیگر خلیجی ممالک کی حتمی منظوری یا اعتراض۔
  • امریکا اور بین الاقوامی شپنگ اداروں کا عملی ردعمل۔
overseaspost.net

گیس کے معاملے میں بھی صورتحال انتہائی حساس ہے۔ قطر کی مائع قدرتی گیس کی تقریباً تمام برآمدات اور متحدہ عرب امارات کی ایل این جی کا بڑا حصہ اسی راستے پر منحصر ہے۔

لہٰذا ہرمز میں مستقل خلل کا اثر صرف خلیج تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایندھن، بجلی، شپنگ اور مہنگائی کی صورت میں ہزاروں کلومیٹر دور ممالک تک پہنچ سکتا ہے۔

کیا ایران اپنے قواعد نافذ کرسکتا ہے؟

جغرافیائی اعتبار سے ایران کو نمایاں برتری حاصل ہے۔ اس کا طویل ساحل آبنائے ہرمز کے شمالی حصے پر واقع ہے، جبکہ اس کے پاس بحری افواج، میزائل، ڈرون اور دوسری عسکری صلاحیتیں بھی موجود ہیں۔

OVERSEAS POST | OMAN ROLE عمان کا کردار کیوں اہم ہے؟

عمان آبنائے ہرمز کے دوسری جانب واقع ہونے کی وجہ سے کسی بھی نئے بحری انتظام میں مرکزی فریق ہے۔ مسقط نے عارضی مشترکہ بحری راستے، مستقل انتظامات اور معلومات کے تبادلے پر مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔

قانونعمان بین الاقوامی قانون اور ساحلی ریاستوں کے حقوق پر زور دے رہا ہے۔
مشاورتمسقط دیگر خلیجی ممالک سے مشاورت کو بھی ضروری قرار دیتا ہے۔
ثالثیعمان کشیدگی کم کرنے والا عملی ممر پیدا کرسکتا ہے۔
overseaspost.net

تاہم جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کو یکطرفہ طور پر منظم کرنے کے قانونی اختیار میں واضح فرق ہے۔

ہرمز ایک اہم بین الاقوامی گزرگاہ ہے اور اس کے دوسری جانب عمان واقع ہے۔ اسی لئے کسی بھی نئے انتظام میں مسقط کا کردار انتہائی اہم ہوجاتا ہے۔

امریکا اور ایران.. ایک ہی سمندر میں دو نظام؟

اصل خطرہ یہاں بڑھتا ہے۔

امریکا ایران پر دباؤ اور بحری ناکہ بندی سے متعلق اقدامات کر رہا ہے، جبکہ تہران امریکی نظام سے تعاون کرنے والے جہازوں کے خلاف اپنے اقدامات کی دھمکی دے رہا ہے۔

یوں ایک ہی سمندری علاقے میں دو متضاد نظام ابھر سکتے ہیں۔

OVERSEAS POST | WHY IT MATTERS ہرمز دنیا کے لیے کیوں اہم ہے؟

ہرمز صرف ایک علاقائی گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کا حساس ترین چوک پوائنٹ ہے۔ 2025 میں تقریباً دو کروڑ بیرل یومیہ تیل اور پیٹرولیم مصنوعات اس سے گزریں، جبکہ قطر اور امارات کی ایل این جی برآمدات کا بڑا حصہ بھی اسی راستے پر منحصر ہے۔

توانائیتیل و گیس کی عالمی سپلائی فوری متاثر ہوسکتی ہے۔
شپنگانشورنس اور فریٹ کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔
مہنگائیاثر ایندھن سے بڑھ کر عالمی قیمتوں تک پہنچ سکتا ہے۔
overseaspost.net

واشنگٹن جہازوں سے اپنی پابندیوں اور ہدایات کی پابندی چاہے گا، جبکہ تہران انہی امریکی پابندیوں کی تعمیل کرنے والوں کو اپنے اقدامات کا ہدف بنا سکتا ہے۔

یہ صورتحال مکمل بندش سے بھی زیادہ پیچیدہ ہوسکتی ہے کیونکہ تجارتی جہاز متضاد احکامات اور خطرات کے درمیان سفر کریں گے۔ 

ایک معمولی غلط اندازہ بھی براہ راست عسکری تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔

سعودی عرب کے پاس متبادل راستہ، مگر مسئلہ برقرار

سعودی عرب کے پاس ایک اہم اسٹریٹجک سہولت ایسٹ ویسٹ پائپ لائن ہے، جو مشرقی علاقوں سے تیل کو بحیرہ احمر پر واقع ینبع تک پہنچاتی ہے، جہاں سے اسے ہرمز سے گزرے بغیر برآمد کیا جاسکتا ہے۔

OVERSEAS POST | US–IRAN امریکا بمقابلہ ایران — دو متضاد نظام

اصل خطرہ اس وقت بڑھتا ہے جب ایک ہی سمندری علاقے میں امریکا اور ایران کی ہدایات ایک دوسرے سے ٹکرانے لگیں۔ واشنگٹن اپنی پابندیوں اور بحری اقدامات کی تعمیل چاہتا ہے، جبکہ تہران امریکی نظام سے تعاون کرنے والے جہازوں کے خلاف اپنے اقدامات کی دھمکی دے سکتا ہے۔

نتیجہ: تجارتی جہاز متضاد احکامات، پابندیوں اور حفاظتی خطرات کے درمیان پھنس سکتے ہیں — اور ایک غلط اندازہ براہ راست تصادم کو جنم دے سکتا ہے۔

overseaspost.net

متحدہ عرب امارات کے پاس بھی حبشان سے فجیرہ تک پائپ لائن موجود ہے۔

لیکن یہ راستے ہرمز کا مکمل متبادل نہیں۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اندازوں کے مطابق سعودی اور اماراتی متبادل راستوں کی اضافی گنجائش عام حالات میں ہرمز سے گزرنے والے تقریباً دو کروڑ بیرل یومیہ کی مکمل تلافی نہیں کرسکتی۔

یعنی ہرمز کو جزوی طور پر بائی پاس کیا جاسکتا ہے، مکمل طور پر تبدیل نہیں۔

تیل کی منڈی بندش کا انتظار نہیں کرتی

تیل مہنگا ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ ایران ہرمز مکمل طور پر بند کردے۔

صرف یہ خدشہ کافی ہے کہ جہازوں کو خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس صورت میں انشورنس مہنگی ہوتی ہے، بحری جہازوں کے کرائے بڑھتے ہیں اور بعض کمپنیاں علاقے میں داخل ہونے سے گریز کرسکتی ہیں۔

OVERSEAS POST | SAUDI IMPACT سعودی عرب کے لیے کیا معنی؟

سعودی عرب کے پاس ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی وجہ سے ہرمز کو جزوی طور پر بائی پاس کرنے کی اہم صلاحیت موجود ہے، جو مشرقی علاقوں سے خام تیل کو ینبع اور بحیرہ احمر تک پہنچاتی ہے۔

یہ اسٹریٹجک فائدہ ہے، لیکن خلیجی تیل تجارت کے مجموعی حجم کے باعث ہرمز میں طویل بحران سعودی عرب سمیت پورے خطے کی شپنگ، انشورنس اور توانائی مارکیٹ کو متاثر کرسکتا ہے۔

overseaspost.net

اسی لئے امریکا اور ایران سے منسلک جہازوں پر حملوں اور کشیدگی میں اضافے کے ساتھ تیل کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔

منڈی صرف تیل کی قیمت نہیں بلکہ جنگ کے امکان کی قیمت بھی طے کرتی ہے۔

ایران آخر چاہتا کیا ہے؟

ممکن ہے تہران کا اصل مقصد ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنا نہ ہو۔

مکمل بندش خود ایران اور اس کے تجارتی شراکت داروں کو بھی نقصان پہنچائے گی اور بڑی عالمی طاقتوں کو اس کے خلاف متحرک کرسکتی ہے۔

اس کے برعکس ہرمز میں خطرے کی سطح کو کنٹرول کرنا ایران کو زیادہ لچکدار سیاسی ہتھیار فراہم کرتا ہے۔ وہ کشیدگی بڑھا یا کم کرسکتا ہے، جہاز رانی پر دباؤ ڈال سکتا ہے اور اسے پابندیوں، ناکہ بندی اور عسکری کارروائیوں سے متعلق مذاکرات میں استعمال کرسکتا ہے۔

OVERSEAS POST | ALTERNATIVES متبادل تیل راستے کتنے کافی ہیں؟
سعودی عربایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے خام تیل کو بحیرہ احمر تک پہنچا سکتا ہے۔
متحدہ عرب اماراتحبشان–فجیرہ پائپ لائن کے ذریعے ہرمز سے باہر برآمدی راستہ رکھتا ہے۔
اہم نتیجہدونوں ممالک کی متبادل اضافی صلاحیت مل کر بھی ہرمز سے گزرنے والی پوری تقریباً 20 ملین بیرل یومیہ مقدار کا مکمل بدل نہیں۔
overseaspost.net

گویا تہران کی حکمت عملی ’ہم ہرمز بند کرسکتے ہیں‘ سے آگے بڑھ کر ’ہم طے کرنے پر اثرانداز ہوسکتے ہیں کہ ہرمز سے کون، کیسے اور کس قیمت پر گزرے گا‘ کی طرف جارہی ہے۔

آگے تین ممکنہ راستے

پہلا امکان مفاہمت کا ہے۔ 

عمان کی ثالثی سے ایسا بحری راستہ طے پاجائے جو آزاد تجارت برقرار رکھتے ہوئے عسکری تصادم کا خطرہ کم کردے۔

دوسرا اور شاید زیادہ ممکن منظرنامہ گرے زون ہے: ہرمز کھلا رہے لیکن جہاز امریکی اور ایرانی پابندیوں، انتباہات اور کارروائیوں کے درمیان سفر کرتے رہیں۔ یہ عالمی معیشت کے لئے طویل اور مہنگا بحران بن سکتا ہے۔

OVERSEAS POST | MARKET IMPACT تیل، انشورنس اور شپنگ پر اثر

تیل کی قیمت بڑھنے کے لیے ہرمز کا مکمل بند ہونا ضروری نہیں۔ صرف خطرہ بڑھنے کا تاثر ہی مارکیٹ کو حرکت دے سکتا ہے۔

  • 1ٹینکروں کی انشورنس لاگت میں اضافہ
  • 2بحری جہازوں کے کرایوں میں اضافہ
  • 3کچھ کمپنیوں کی جانب سے راستہ مؤخر یا تبدیل کرنے کا امکان
  • 4تیل و گیس کی قیمتوں میں رسک پریمیم کا اضافہ
overseaspost.net

تیسرا اور سب سے خطرناک امکان براہ راست تصادم ہے۔ 

کسی جہاز کو ایک فریق روکے اور دوسرا اسے تحفظ دینے کے لئے مداخلت کرے۔ 

ایسا ایک واقعہ وسیع عسکری تصادم کو جنم دے سکتا ہے۔

اصل سوال بدل چکا ہے

برسوں سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھنے پر دنیا پوچھتی رہی ہے:

کیا ایران آبنائے ہرمز بند کردے گا؟

لیکن اب شاید ایران کو ہرمز مکمل طور پر بند کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

OVERSEAS POST | SCENARIOS آگے تین ممکنہ منظرنامے
1 — مفاہمتعمان کی کوششوں سے قابلِ قبول مشترکہ بحری انتظام طے پاجائے اور عسکری خطرہ کم ہو۔
2 — گرے زونہرمز کھلا رہے مگر امریکی و ایرانی پابندیوں اور انتباہات کے درمیان جہاز رانی مہنگی اور خطرناک ہوجائے۔
3 — براہ راست تصادمکسی جہاز کو ایک فریق روکے اور دوسرا اسے تحفظ دینے کے لیے مداخلت کرے، جس سے وسیع عسکری کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔
overseaspost.net

اگر تہران جہازوں کے گزرنے کی لاگت بڑھانے، شپنگ کمپنیوں کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے اور نئے بحری نظام میں خود کو ناگزیر فریق بنانے میں کامیاب ہوتا ہے تو وہ اپنی جغرافیائی پوزیشن کو ایک عالمی مذاکراتی ہتھیار میں تبدیل کرسکتا ہے۔

اس لئے آنے والی اصل جنگ شاید ہرمز کو بند کرنے کی نہیں بلکہ اس کے قواعد طے کرنے کی ہو۔

اور جو فریق ان قواعد پر اثرانداز ہوگا، وہ صرف خلیج سے گزرنے والے جہازوں پر نہیں بلکہ عالمی تیل و گیس، شپنگ، مہنگائی اور بڑی طاقتوں کے سیاسی فیصلوں پر بھی اثر ڈال سکے گا۔