براہ راست نشریات

ہم قریب بیٹھے ہیں، مگر دور ہوتے جارہے ہیں.. وجہ موبائل ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Smartphone Addiction

موبائل نے فاصلے ضرور کم کئے، مگر گھر اور محفل میں اس کا مسلسل استعمال قریب بیٹھے لوگوں کے درمیان نئی دوریاں پیدا کر رہا ہے۔
تحقیق بتاتی ہے کہ سامنے موجود شخص کو نظرانداز کرکے فون میں مصروف رہنا تعلقات، بچوں کی جذباتی کیفیت اور خاندانی گفتگو کو متاثر کرسکتا ہے۔

ایک ہی گھر کے افراد ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہیں، دوست ایک ہی میز کے گرد موجود ہیں، مگر ہر شخص اپنی الگ اسکرین میں گم ہے۔ 

کوئی پیغامات دیکھ رہا ہے، کوئی مختصر ویڈیوز، اور کوئی کام کی ای میلز۔ 

بظاہر سب ساتھ ہیں، مگر حقیقت میں ہر ایک دوسری دنیا میں موجود ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ ہم موبائل پر کتنے گھنٹے گزارتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کتنی بار موبائل نے ہماری توجہ اس شخص سے چھین لی جو ہمارے سامنے بیٹھا تھا؟

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTموبائل اور رشتے — اہم نکات
  • موبائل نے دور بیٹھے لوگوں کو قریب کیا، مگر بعض اوقات سامنے بیٹھے انسان سے توجہ چھین لیتا ہے۔
  • سامنے موجود شخص کو نظرانداز کرکے فون میں مصروف رہنے کے رویے کو Phubbing کہا جاتا ہے۔
  • تحقیقی مطالعات میں یہ رویہ کم رشتے کے اطمینان، کم قربت اور زیادہ تنازع سے منسلک پایا گیا ہے۔
  • بچے والدین کی نصیحت سے زیادہ ان کے اپنے موبائل استعمال کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔
  • حل مکمل پابندی نہیں؛ کھانے، اہم گفتگو اور خاندانی وقت کے لیے واضح موبائل فری اصول زیادہ عملی ہیں۔
overseaspost.net

ماہرین اس رویے کو Phubbing کہتے ہیں، یعنی سامنے موجود شخص کو نظرانداز کرکے موبائل میں مصروف ہوجانا۔ 

اسی طرح Technoference کی اصطلاح اس وقت استعمال ہوتی ہے جب ٹیکنالوجی براہ راست انسانی گفتگو اور تعلقات میں مداخلت کرنے لگے۔

تحقیقی جائزوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شریکِ حیات یا گھر کے دوسرے افراد کے ساتھ موجودگی کے دوران بار بار موبائل استعمال کرنا تعلقات میں اطمینان کم ہونے، باہمی کشیدگی بڑھنے اور ایک دوسرے کی طرف توجہ میں کمی سے منسلک ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیں

اصل نقصان وقت نہیں، توجہ ہے

انسانی تعلق صرف الفاظ سے نہیں بنتا، بلکہ توجہ سے بنتا ہے۔

جب ایک شخص بات کر رہا ہو اور دوسرا بار بار موبائل کی طرف دیکھے تو غیرارادی طور پر یہ پیغام جاتا ہے کہ اسکرین پر موجود چیز گفتگو سے زیادہ اہم ہے۔

بچے اس رویے کو خاص طور پر محسوس کرتے ہیں۔

Pew Research Center کے ایک سروے کے مطابق 46 فیصد نوجوانوں نے کہا کہ جب وہ اپنے والدین سے بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو والدین کبھی نہ کبھی موبائل میں مصروف ہوجاتے ہیں۔

iOVERSEAS POST | EXPLAINERPhubbing کیا ہے؟

Phubbing اس رویے کو کہا جاتا ہے جب ہم سامنے موجود شخص کے بجائے اپنے موبائل فون کو توجہ دینے لگیں۔ یہ لفظ Phone اور Snubbing کے امتزاج سے بنا ہے۔

سادہ مثالکوئی آپ سے بات کررہا ہو اور آپ بار بار پیغامات یا سوشل میڈیا دیکھتے رہیں۔
Technoferenceٹیکنالوجی جب روزمرہ انسانی گفتگو، ازدواجی تعلق یا خاندانی تعامل میں مداخلت کرے۔
اصل مسئلہ فون کا وجود نہیں، بلکہ وہ لمحہ ہے جب اسکرین سامنے موجود انسان سے زیادہ اہم ہوجائے۔
overseaspost.net

مسئلہ صرف یہ نہیں کہ بچے موبائل زیادہ استعمال کرتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ بڑوں کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔

اگر والد کھانے کے دوران فون دیکھ رہا ہے اور والدہ گفتگو کے دوران اسکرین میں مصروف ہیں تو بچے کو یہ سمجھانا مشکل ہوجاتا ہے کہ خاندان کے ساتھ بیٹھتے وقت فون الگ رکھنا چاہئے۔

تحقیقی مطالعات میں والدین کی جانب سے بچوں کو موبائل کی وجہ سے نظرانداز کرنے کو بچوں میں جذباتی اور رویے کے مسائل اور سماجی صلاحیتوں میں کمی سے بھی جوڑا گیا ہے۔

%OVERSEAS POST | NUMBERSاعداد کیا بتاتے ہیں؟
46%
امریکی نوجوانوں نے کہا کہ بات کے دوران ان کے والدین کبھی نہ کبھی فون سے توجہ ہٹا لیتے ہیں۔
31%
والدین نے خود تسلیم کیا کہ ایسا کبھی نہ کبھی ہوتا ہے؛ یعنی بچوں اور بڑوں کے ادراک میں واضح فرق ہے۔
72%
نوجوانوں نے کہا کہ فون سے دور ہونے پر انہیں کبھی نہ کبھی سکون محسوس ہوتا ہے۔
55
2026 کی ایک منظم تحقیق نے قریبی تعلقات میں Phubbing/Technoference سے متعلق 55 مطالعات کا جائزہ لیا۔
یہ اعداد امریکی سروے اور بین الاقوامی تحقیقی جائزوں سے ہیں؛ انہیں ہر معاشرے پر بعینہٖ لاگو نہیں کیا جاسکتا، مگر رجحان اہم ہے۔
overseaspost.net

محفلیں بھی بدل رہی ہیں

یہ مسئلہ صرف گھروں تک محدود نہیں۔

ہمارے معاشروں میں مجالس، ملاقاتیں اور خاندانی محفلیں ہمیشہ تجربات، کہانیوں اور تعلقات کے تبادلے کی جگہ رہی ہیں۔ 

نوجوان بزرگوں سے سنتے تھے، بچے بڑوں کو دیکھ کر گفتگو اور اختلاف کا سلیقہ سیکھتے تھے۔

اب اکثر صورت یہ ہے کہ چند لمحوں کی خاموشی بھی ہمیں موبائل نکالنے پر مجبور کردیتی ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ لوگ ایک ہی جگہ جمع ہوتے ہیں، مگر حقیقی گفتگو کم ہوتی جارہی ہے۔

OVERSEAS POST | RELATIONSHIPSرشتوں کو اصل نقصان کہاں ہوتا ہے؟
  • 1توجہ بٹتی ہے: گفتگو کرنے والا محسوس کرسکتا ہے کہ اس کی بات اہم نہیں۔
  • 2قربت کم ہوتی ہے: ایک ہی جگہ بیٹھنے کے باوجود ذہنی موجودگی مختلف دنیا میں ہوتی ہے۔
  • 3چھوٹی ناراضی جمع ہوتی ہے: بار بار فون دیکھنا وقت کے ساتھ بے توجہی یا عدم دلچسپی کے طور پر محسوس ہوسکتا ہے۔
  • 4گفتگو سطحی ہوجاتی ہے: آنکھوں کا رابطہ، چہرے کے تاثرات اور فوری ردعمل کم ہوجاتے ہیں۔
تحقیقی جائزے تعلقات میں فون کے استعمال اور کم اطمینان کے درمیان مسلسل تعلق دکھاتے ہیں، مگر زیادہ تر شواہد ارتباطی ہیں؛ اس لیے ہر مسئلے کا سبب صرف فون کو نہیں کہا جاسکتا۔
overseaspost.net

موبائل دشمن نہیں

موبائل فون بذاتِ خود مسئلہ نہیں۔

یہی فون بیرونِ ملک رہنے والے شخص کو اپنے خاندان سے جوڑتا ہے، تعلیم، کام اور روزمرہ خدمات آسان کرتا ہے، اور دور رہنے والوں کو قریب لاتا ہے۔

اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب موبائل ہر خالی لمحے پر قبضہ کرلے اور انسان دوسرے انسان کے سامنے موجود ہوتے ہوئے بھی ذہنی طور پر غیر حاضر ہوجائے۔

حل کیا ہے؟

حل موبائل چھین لینا نہیں، بلکہ اس کے استعمال کے واضح اصول بنانا ہے۔

گھر میں کھانے کا وقت موبائل سے پاک رکھا جاسکتا ہے۔ 

اہم گفتگو کے دوران فون ہاتھ سے دور رکھا جائے۔ 

غیر ضروری نوٹیفکیشن بند کئے جائیں اور سونے سے پہلے اسکرین سے کچھ وقفہ لیا جائے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ بڑے خود مثال بنیں۔

بچے نصیحت سے زیادہ رویہ دیکھ کر سیکھتے ہیں۔

👨‍👩‍👧OVERSEAS POST | FAMILYبچے کیا سیکھ رہے ہیں؟

بچہ صرف یہ نہیں دیکھتا کہ والدین اسے موبائل کے بارے میں کیا کہتے ہیں؛ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ بڑے خود فون کب اور کیسے استعمال کرتے ہیں۔

  • اگر کھانے کے دوران بڑے فون دیکھیں تو موبائل فری میز کا اصول کم مؤثر رہتا ہے۔
  • والدین کی فون مصروفیت بچوں میں جذباتی اور رویے کے مسائل سے منسلک پائی گئی ہے۔
  • 42 مطالعات اور 56,275 بچوں پر مبنی ایک میٹا تجزیے میں parental phubbing کا بچوں کی سماجی و جذباتی کیفیت سے تعلق سامنے آیا۔
overseaspost.net

گھر میں مشترکہ سرگرمیاں بھی ضروری ہیں، جیسے چہل قدمی، کھیل، کھانا تیار کرنا یا باقاعدہ خاندانی گفتگو۔

ہمیں کبھی کبھی فون کھولنے سے پہلے صرف ایک سوال کرنا چاہئے:

کیا مجھے واقعی ابھی فون کی ضرورت ہے، یا میں اسے عادتاً کھول رہا ہوں؟

شاید موبائل ہماری زندگی سے ختم نہیں ہوگا، اور ہونا بھی نہیں چاہئے۔

لیکن اسے بعض لمحوں سے ضرور غائب کیا جاسکتا ہے۔

کھانے کی میز سے۔

والدین سے ملاقات کے وقت۔

بچے کی اسکول سے واپسی کے پہلے چند منٹوں سے۔

OVERSEAS POST | SOCIETYمحفلیں بھری، گفتگو کم

خاندانی ملاقاتیں اور سماجی محفلیں صرف تفریح نہیں؛ یہی وہ جگہیں ہیں جہاں نسلیں ایک دوسرے سے کہانیاں، تجربات، آداب اور تعلق سیکھتی ہیں۔

پہلےخاموشی آتی تو نیا موضوع شروع ہوتا، کوئی قصہ سناتا یا سوال پوچھتا۔
ابچند سیکنڈ خاموشی بھی اکثر ہاتھ کو موبائل کی طرف لے جاتی ہے۔
خطرہ یہ ہے کہ ہم جسمانی طور پر ایک جگہ موجود ہوں، مگر ذہنی طور پر الگ الگ اسکرینوں میں بٹ جائیں۔
overseaspost.net

اور اس گفتگو سے جس میں کوئی اپنا دل ہمارے سامنے کھول رہا ہو۔

کیونکہ تعلقات ہمیشہ بڑے جھگڑوں سے نہیں ٹوٹتے، کبھی کبھی وہ ہزاروں چھوٹے چھوٹے نظرانداز کئے گئے لمحوں سے کمزور ہوتے ہیں۔

اور شاید آج کے دور میں سب سے اہم سوال یہ ہے:

کتنی بار کسی اپنے نے ہم سے بات کرنے کی کوشش کی، اور ہم اس وقت کسی اسکرین کو دیکھ رہے تھے؟

OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع
overseaspost.net