موبائل نے فاصلے ضرور کم کئے، مگر گھر اور محفل میں اس کا مسلسل استعمال قریب بیٹھے لوگوں کے درمیان نئی دوریاں پیدا کر رہا ہے۔
تحقیق بتاتی ہے کہ سامنے موجود شخص کو نظرانداز کرکے فون میں مصروف رہنا تعلقات، بچوں کی جذباتی کیفیت اور خاندانی گفتگو کو متاثر کرسکتا ہے۔
ایک ہی گھر کے افراد ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہیں، دوست ایک ہی میز کے گرد موجود ہیں، مگر ہر شخص اپنی الگ اسکرین میں گم ہے۔
کوئی پیغامات دیکھ رہا ہے، کوئی مختصر ویڈیوز، اور کوئی کام کی ای میلز۔
بظاہر سب ساتھ ہیں، مگر حقیقت میں ہر ایک دوسری دنیا میں موجود ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ہم موبائل پر کتنے گھنٹے گزارتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کتنی بار موبائل نے ہماری توجہ اس شخص سے چھین لی جو ہمارے سامنے بیٹھا تھا؟
◆OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTموبائل اور رشتے — اہم نکات⌄
- ✓موبائل نے دور بیٹھے لوگوں کو قریب کیا، مگر بعض اوقات سامنے بیٹھے انسان سے توجہ چھین لیتا ہے۔
- ✓سامنے موجود شخص کو نظرانداز کرکے فون میں مصروف رہنے کے رویے کو Phubbing کہا جاتا ہے۔
- ✓تحقیقی مطالعات میں یہ رویہ کم رشتے کے اطمینان، کم قربت اور زیادہ تنازع سے منسلک پایا گیا ہے۔
- ✓بچے والدین کی نصیحت سے زیادہ ان کے اپنے موبائل استعمال کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔
- ✓حل مکمل پابندی نہیں؛ کھانے، اہم گفتگو اور خاندانی وقت کے لیے واضح موبائل فری اصول زیادہ عملی ہیں۔
ماہرین اس رویے کو Phubbing کہتے ہیں، یعنی سامنے موجود شخص کو نظرانداز کرکے موبائل میں مصروف ہوجانا۔
اسی طرح Technoference کی اصطلاح اس وقت استعمال ہوتی ہے جب ٹیکنالوجی براہ راست انسانی گفتگو اور تعلقات میں مداخلت کرنے لگے۔
تحقیقی جائزوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شریکِ حیات یا گھر کے دوسرے افراد کے ساتھ موجودگی کے دوران بار بار موبائل استعمال کرنا تعلقات میں اطمینان کم ہونے، باہمی کشیدگی بڑھنے اور ایک دوسرے کی طرف توجہ میں کمی سے منسلک ہوسکتا ہے۔
مزید پڑھیں
اصل نقصان وقت نہیں، توجہ ہے
انسانی تعلق صرف الفاظ سے نہیں بنتا، بلکہ توجہ سے بنتا ہے۔
جب ایک شخص بات کر رہا ہو اور دوسرا بار بار موبائل کی طرف دیکھے تو غیرارادی طور پر یہ پیغام جاتا ہے کہ اسکرین پر موجود چیز گفتگو سے زیادہ اہم ہے۔
بچے اس رویے کو خاص طور پر محسوس کرتے ہیں۔
Pew Research Center کے ایک سروے کے مطابق 46 فیصد نوجوانوں نے کہا کہ جب وہ اپنے والدین سے بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو والدین کبھی نہ کبھی موبائل میں مصروف ہوجاتے ہیں۔
iOVERSEAS POST | EXPLAINERPhubbing کیا ہے؟⌄
Phubbing اس رویے کو کہا جاتا ہے جب ہم سامنے موجود شخص کے بجائے اپنے موبائل فون کو توجہ دینے لگیں۔ یہ لفظ Phone اور Snubbing کے امتزاج سے بنا ہے۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ بچے موبائل زیادہ استعمال کرتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ بڑوں کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔
اگر والد کھانے کے دوران فون دیکھ رہا ہے اور والدہ گفتگو کے دوران اسکرین میں مصروف ہیں تو بچے کو یہ سمجھانا مشکل ہوجاتا ہے کہ خاندان کے ساتھ بیٹھتے وقت فون الگ رکھنا چاہئے۔
تحقیقی مطالعات میں والدین کی جانب سے بچوں کو موبائل کی وجہ سے نظرانداز کرنے کو بچوں میں جذباتی اور رویے کے مسائل اور سماجی صلاحیتوں میں کمی سے بھی جوڑا گیا ہے۔
%OVERSEAS POST | NUMBERSاعداد کیا بتاتے ہیں؟⌄
محفلیں بھی بدل رہی ہیں
یہ مسئلہ صرف گھروں تک محدود نہیں۔
ہمارے معاشروں میں مجالس، ملاقاتیں اور خاندانی محفلیں ہمیشہ تجربات، کہانیوں اور تعلقات کے تبادلے کی جگہ رہی ہیں۔
نوجوان بزرگوں سے سنتے تھے، بچے بڑوں کو دیکھ کر گفتگو اور اختلاف کا سلیقہ سیکھتے تھے۔
اب اکثر صورت یہ ہے کہ چند لمحوں کی خاموشی بھی ہمیں موبائل نکالنے پر مجبور کردیتی ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ لوگ ایک ہی جگہ جمع ہوتے ہیں، مگر حقیقی گفتگو کم ہوتی جارہی ہے۔
♥OVERSEAS POST | RELATIONSHIPSرشتوں کو اصل نقصان کہاں ہوتا ہے؟⌄
- 1توجہ بٹتی ہے: گفتگو کرنے والا محسوس کرسکتا ہے کہ اس کی بات اہم نہیں۔
- 2قربت کم ہوتی ہے: ایک ہی جگہ بیٹھنے کے باوجود ذہنی موجودگی مختلف دنیا میں ہوتی ہے۔
- 3چھوٹی ناراضی جمع ہوتی ہے: بار بار فون دیکھنا وقت کے ساتھ بے توجہی یا عدم دلچسپی کے طور پر محسوس ہوسکتا ہے۔
- 4گفتگو سطحی ہوجاتی ہے: آنکھوں کا رابطہ، چہرے کے تاثرات اور فوری ردعمل کم ہوجاتے ہیں۔
موبائل دشمن نہیں
موبائل فون بذاتِ خود مسئلہ نہیں۔
یہی فون بیرونِ ملک رہنے والے شخص کو اپنے خاندان سے جوڑتا ہے، تعلیم، کام اور روزمرہ خدمات آسان کرتا ہے، اور دور رہنے والوں کو قریب لاتا ہے۔
اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب موبائل ہر خالی لمحے پر قبضہ کرلے اور انسان دوسرے انسان کے سامنے موجود ہوتے ہوئے بھی ذہنی طور پر غیر حاضر ہوجائے۔
حل کیا ہے؟
حل موبائل چھین لینا نہیں، بلکہ اس کے استعمال کے واضح اصول بنانا ہے۔
گھر میں کھانے کا وقت موبائل سے پاک رکھا جاسکتا ہے۔
اہم گفتگو کے دوران فون ہاتھ سے دور رکھا جائے۔
غیر ضروری نوٹیفکیشن بند کئے جائیں اور سونے سے پہلے اسکرین سے کچھ وقفہ لیا جائے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ بڑے خود مثال بنیں۔
بچے نصیحت سے زیادہ رویہ دیکھ کر سیکھتے ہیں۔
👨👩👧OVERSEAS POST | FAMILYبچے کیا سیکھ رہے ہیں؟⌄
بچہ صرف یہ نہیں دیکھتا کہ والدین اسے موبائل کے بارے میں کیا کہتے ہیں؛ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ بڑے خود فون کب اور کیسے استعمال کرتے ہیں۔
- ✓اگر کھانے کے دوران بڑے فون دیکھیں تو موبائل فری میز کا اصول کم مؤثر رہتا ہے۔
- ✓والدین کی فون مصروفیت بچوں میں جذباتی اور رویے کے مسائل سے منسلک پائی گئی ہے۔
- ✓42 مطالعات اور 56,275 بچوں پر مبنی ایک میٹا تجزیے میں parental phubbing کا بچوں کی سماجی و جذباتی کیفیت سے تعلق سامنے آیا۔
گھر میں مشترکہ سرگرمیاں بھی ضروری ہیں، جیسے چہل قدمی، کھیل، کھانا تیار کرنا یا باقاعدہ خاندانی گفتگو۔
ہمیں کبھی کبھی فون کھولنے سے پہلے صرف ایک سوال کرنا چاہئے:
کیا مجھے واقعی ابھی فون کی ضرورت ہے، یا میں اسے عادتاً کھول رہا ہوں؟
شاید موبائل ہماری زندگی سے ختم نہیں ہوگا، اور ہونا بھی نہیں چاہئے۔
لیکن اسے بعض لمحوں سے ضرور غائب کیا جاسکتا ہے۔
کھانے کی میز سے۔
والدین سے ملاقات کے وقت۔
بچے کی اسکول سے واپسی کے پہلے چند منٹوں سے۔
◎OVERSEAS POST | SOCIETYمحفلیں بھری، گفتگو کم⌄
خاندانی ملاقاتیں اور سماجی محفلیں صرف تفریح نہیں؛ یہی وہ جگہیں ہیں جہاں نسلیں ایک دوسرے سے کہانیاں، تجربات، آداب اور تعلق سیکھتی ہیں۔
اور اس گفتگو سے جس میں کوئی اپنا دل ہمارے سامنے کھول رہا ہو۔
کیونکہ تعلقات ہمیشہ بڑے جھگڑوں سے نہیں ٹوٹتے، کبھی کبھی وہ ہزاروں چھوٹے چھوٹے نظرانداز کئے گئے لمحوں سے کمزور ہوتے ہیں۔
اور شاید آج کے دور میں سب سے اہم سوال یہ ہے:
کتنی بار کسی اپنے نے ہم سے بات کرنے کی کوشش کی، اور ہم اس وقت کسی اسکرین کو دیکھ رہے تھے؟