مشرق وسطیٰ کی جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے صرف عالمی توانائی منڈی کو متاثر نہیں کیا، بلکہ انسانی امداد بھی مہنگی کردی ہے۔
سیو دی چلڈرن کے مطابق چھ ماہ میں اضافی اخراجات تقریباً 13 ملین ڈالر تک پہنچ گئے، جو تقریباً 15 لاکھ بچوں تک امداد پہنچانے کے لیے کافی تھے۔
افغانستان کے کسی دور افتادہ گاؤں میں علاج کا منتظر بچہ شاید یہ نہ جانتا ہو کہ آبنائے ہرمز کہاں واقع ہے، نہ اسے یہ معلوم ہو کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کیوں اوپر نیچے ہوتی ہے، لیکن اس بحران کی قیمت سب سے پہلے وہی چکا سکتا ہے۔
اس کی وجہ سادہ ہے۔
دوا لے جانے والی گاڑی کو ایندھن چاہئے، امدادی سامان پہنچانے والے طیارے اور بحری جہاز بھی تیل پر چلتے ہیں، جبکہ خوراک، طبی آلات اور پانی کی ترسیل کی لاگت بھی توانائی مہنگی ہونے سے بڑھ جاتی ہے۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTاہم نکات ⌄
- ✓مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے بعد تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے انسانی امداد کی ترسیل مہنگی کردی۔
- ✓سیو دی چلڈرن کے مطابق اضافی لاگت تقریباً 13 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔
- ✓یہ رقم تقریباً 15 لاکھ بچوں تک امداد پہنچانے کے برابر ہے۔
- ✓اثر صرف ایندھن پر نہیں؛ خوراک، ادویات، شپنگ، پانی اور امدادی نقل و حمل سب مہنگے ہوتے ہیں۔
- ✓سب سے زیادہ خطرہ ان ممالک کو ہے جہاں انسانی امدادی بجٹ پہلے ہی محدود ہیں۔
یوں ہزاروں کلومیٹر دور شروع ہونے والی جنگ کسی دوسرے ملک کی چھوٹی سی کلینک، پناہ گزین کیمپ یا تباہ شدہ اسکول تک پہنچ سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن نے 28 فروری 2026 کے بعد مشرق وسطیٰ میں شروع ہونے والی جنگ اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کا جائزہ لیا تو ایک تشویش ناک تصویر سامنے آئی۔
تنظیم کے مطابق صرف 6 ماہ میں ایندھن، ٹرانسپورٹ، شپنگ اور توانائی سے جڑی اشیا کی اضافی لاگت نے اس کے امدادی بجٹ پر تقریباً
13 ملین ڈالر کا اضافی بوجھ ڈال دیا۔
یہ وہ رقم ہے جس سے، تنظیم کے اوسط اخراجات کے حساب سے، تقریباً 15 لاکھ بچوں تک امداد پہنچائی جا سکتی تھی۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس ⌄
اس کا مطلب یہ نہیں کہ واقعی 15 لاکھ بچوں کی امداد بند ہوگئی، بلکہ تنظیم یہ بتانا چاہتی ہے کہ مہنگائی میں ضائع ہونے والی رقم اتنی بڑی ہے کہ اس سے اتنے بچوں تک امداد پہنچ سکتی تھی۔
مسئلہ صرف پیٹرول کا نہیں
جنگ سے پہلے 2026 کے لیے سیو دی چلڈرن نے اپنی منصوبہ بندی تقریباً 60 ڈالر فی بیرل تیل کی قیمت کو سامنے رکھ کر کی تھی۔
لیکن آبنائے ہرمز کے راستے تیل و گیس کی ترسیل میں خلل اور خطے کی جنگی صورتحال کے بعد اپریل کے آخر میں قیمت تقریباً 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
بعد ازاں قیمت نیچے آئی، لیکن امدادی اداروں کے اخراجات پہلے ہی بری طرح متاثر ہو چکے تھے۔
→ OVERSEAS POST | EXPLAINERہرمز سے بچے کی دوا تک ⌄
یہ مسئلہ صرف گاڑیوں میں ڈیزل یا پیٹرول ڈالنے تک محدود نہیں۔
تیل امدادی نظام کی تقریباً ہر کڑی سے جڑا ہے۔
خوراک کی پیداوار اور نقل و حمل، ادویات اور طبی سامان کی ترسیل، بحری اور فضائی شپنگ، گوداموں کو چلانا، پانی پہنچانا، بجلی سے محروم علاقوں میں جنریٹر چلانا اور امدادی کارکنوں کو شہروں اور کیمپوں تک لے جانا، سب کی قیمت توانائی کے ساتھ بڑھتی ہے۔
اسی لیے 13 ملین ڈالر صرف ایک مالیاتی عدد نہیں۔
سیو دی چلڈرن کے مطابق یہ رقم صومالیہ میں 30 بستروں پر مشتمل 5 اسپتال پورا ایک سال چلانے کے لیے کافی ہو سکتی تھی، یا افغانستان میں 47 طبی کلینک چھ ماہ تک چلائے جا سکتے تھے۔
اسی رقم سے 5 ہیضہ مراکز 6 ماہ چل سکتے تھے، لبنان میں تقریباً 1500 بے گھر خاندانوں کو چھ ماہ تک محفوظ پینے کا پانی فراہم کیا جا سکتا تھا اور سوڈان میں 50 تباہ شدہ اسکولوں کی بحالی ممکن تھی۔
$ OVERSEAS POST | HUMAN IMPACT13 ملین ڈالر سے کیا ہوسکتا تھا؟ ⌄
- 5صومالیہ میں 30 بستروں والے پانچ اسپتال پورا ایک سال چل سکتے تھے۔
- 47افغانستان میں 47 طبی کلینک چھ ماہ تک فعال رہ سکتے تھے۔
- 50سوڈان میں 50 اسکولوں کی بحالی ممکن تھی۔
- 30پیچیدہ زچگی کے لیے 30 آپریشن تھیٹر تیار کئے جا سکتے تھے۔
- 5دنیا بھر میں پانچ ہیضہ علاج مراکز چھ ماہ تک چل سکتے تھے۔
یہی نہیں، 30 آپریشن تھیٹر پیچیدہ زچگی اور سیزیرین آپریشن کے لیے تیار کئے جا سکتے تھے، جبکہ شام میں بچوں کے لیے 5 محفوظ مراکز قائم ہو سکتے تھے جہاں تعلیم، کھیل اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جاتی۔
ہرمز سے غریب کی دسترخوان تک
اس بحران کا سب سے تلخ پہلو یہ ہے کہ اس کی قیمت وہ لوگ ادا کر رہے ہیں جن کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں۔
افریقہ میں غذائی قلت کا شکار بچہ، جنگ زدہ علاقے میں زچگی کی پیچیدگی سے دوچار عورت یا لبنان میں صاف پانی تلاش کرتا بے گھر خاندان، تیل کی عالمی سیاست اور فوجی فیصلوں پر کوئی اثر نہیں رکھتے۔
مگر ان فیصلوں کا بل بالآخر انہی کے دروازے پر پہنچتا ہے۔
◎ OVERSEAS POST | GLOBAL IMPACTکن ملکوں کی مثال سامنے آئی؟ ⌄
جب خوراک سے بھری ایک ٹرک کی منزل تک پہنچنے کی لاگت بڑھتی ہے تو امدادی تنظیم کے سامنے دو ہی راستے رہ جاتے ہیں: یا اسی تعداد تک امداد پہنچانے کے لیے زیادہ رقم خرچ کرے، یا محدود بجٹ کے باعث کم لوگوں کی مدد کرے۔
فضائی اور بحری کرایوں میں اضافہ بھی ادویات اور طبی سامان کو دور دراز علاقوں تک پہنچانا مہنگا بنا دیتا ہے۔
سیو دی چلڈرن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اسی صورتحال کو مختصر الفاظ میں یوں بیان کیا: اب تنظیم کو کم بچوں تک پہنچنے کے لیے زیادہ رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے۔
پہلے ہی تنگ بجٹ مزید سکڑ گیا
یہ بحران ایسے وقت آیا ہے جب عالمی انسانی امدادی نظام پہلے ہی شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔
امدادی ادارے لامحدود بجٹ کے ساتھ کام نہیں کرتے۔ وہ پورے سال کی منصوبہ بندی مہنگائی، خوراک، ٹرانسپورٹ اور توانائی کی متوقع قیمتوں کو سامنے رکھ کر کرتے ہیں۔
! OVERSEAS POST | ANALYSISیہ کیوں اہم ہے؟ ⌄
جنگ کی قیمت صرف میدانِ جنگ میں نہیں چکائی جاتی۔ توانائی مہنگی ہونے سے امدادی اداروں کا ہر ڈالر کم لوگوں تک پہنچتا ہے۔
اگر چند ہفتوں میں تیل کی قیمت دوگنی ہوجائے تو ان کے پاس فوری طور پر کروڑوں ڈالر کا نیا فنڈ پیدا کرنے کا کوئی آسان راستہ نہیں ہوتا۔
نتیجتاً مشکل فیصلے شروع ہوجاتے ہیں: کس علاقے کو پہلے امداد دی جائے؟
کون سا پروگرام جاری رکھا جائے؟
کس اسکول، کلینک یا پانی کے منصوبے کو مؤخر کیا جائے؟
ان سوالوں کے پیچھے اعداد نہیں بلکہ حقیقی انسان ہوتے ہیں۔
جنگ کی سرحدیں نقشے تک محدود نہیں
یہ بحران جدید جنگوں کا ایک ایسا پہلو سامنے لاتا ہے جو ٹی وی اسکرین پر دکھائی دینے والی تباہی سے کہیں وسیع ہے۔
جنگ صرف ان شہروں اور ملکوں تک محدود نہیں رہتی جہاں بم گرتے ہیں۔
↘ OVERSEAS POST | THE DILEMMAاصل خطرہ: زیادہ خرچ، کم امداد ⌄
جب سالانہ امدادی بجٹ پہلے ہی طے ہوچکا ہو اور اچانک ایندھن و شپنگ کی لاگت بڑھ جائے تو اداروں کے سامنے سخت انتخاب آتے ہیں:
- 1اسی تعداد تک پہنچنے کے لیے مزید فنڈ تلاش کریں۔
- 2یا محدود بجٹ میں کم لوگوں کی مدد کریں۔
- 3کچھ منصوبے مؤخر، مختصر یا کم دائرے میں چلانے پڑ سکتے ہیں۔
اگر دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں سے ایک متاثر ہو تو اس کی لہریں پہلے تیل کی منڈی، پھر جہازوں، طیاروں، ٹرکوں اور کارخانوں تک پہنچتی ہیں اور آخرکار ان لوگوں پر گرتی ہیں جو پہلے ہی غربت، جنگ اور بھوک سے لڑ رہے ہوتے ہیں۔
ہزاروں کلومیٹر دور کسی بچے کے لیے دوا، کھانے یا تعلیم کا موقع ختم ہونا بھی اسی جنگ کا ایک پوشیدہ نقصان ہو سکتا ہے۔
13 ملین ڈالر کا اضافی خرچ محض اکاؤنٹنگ کا مسئلہ نہیں۔
یہ ایک ایسا اسپتال ہے جو چل سکتا تھا، ایک کلینک ہے جو کھل سکتا تھا، ایک اسکول ہے جو دوبارہ آباد ہو سکتا تھا، پانی ہے جو بے گھر خاندانوں تک پہنچ سکتا تھا، اور ایک بچہ ہے جس کی مدد اس لیے مزید دور ہوگئی کیونکہ دنیا کے کسی دوسرے کونے میں تیل کا ایک بیرل مہنگا ہوگیا۔
↗ OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع ⌄
اہم: 15 لاکھ بچوں کا عدد براہِ راست محرومی کی گنتی نہیں بلکہ 13 ملین ڈالر کی اضافی لاگت کے مساوی ممکنہ امداد کا تخمینہ ہے۔