براہ راست نشریات

37 فیصد تیل کی کمی بحرین کو نہ گرا سکی.. نیا سہارا کیا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Bahrain Non-Oil Economy

2026 کی پہلی سہ ماہی میں بحرین کا تیل کا شعبہ 37.2 فیصد سکڑ گیا اور مجموعی معیشت 3.8 فیصد کم ہوئی، مگر نان آئل شعبوں نے 2.2 فیصد نمو برقرار رکھی۔
مالیاتی خدمات، انشورنس، صنعت اور سعودی عرب کے ساتھ مضبوط تجارت بحرین کے نئے معاشی ماڈل کا اہم سہارا بن رہی ہیں۔
تاہم بلند سرکاری قرض اور بجٹ کا تیل پر انحصار اب بھی بڑے چیلنج ہیں۔

2026 کی پہلی سہ ماہی بحرین کی معیشت کے لئے ایک اہم امتحان ثابت ہوئی۔ 

کئی برس سے جاری معاشی تنوع کی پالیسی ایسے وقت آزمائش سے گزری، جب تیل کے شعبے کو غیر معمولی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق بحرین کی حقیقی مجموعی قومی پیداوار سالانہ بنیاد پر 3.8 فیصد سکڑ گئی، جبکہ تیل سے متعلق اقتصادی سرگرمیوں میں 37.2 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTاہم نکات
  • 2026 کی پہلی سہ ماہی میں بحرین کی حقیقی معیشت 3.8 فیصد سکڑی۔
  • تیل کی سرگرمیوں میں 37.2 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ ہوئی۔
  • نان آئل معیشت نے دباؤ کے باوجود 2.2 فیصد نمو برقرار رکھی۔
  • نان آئل سرگرمیوں کا حصہ حقیقی GDP میں 90.1 فیصد تک پہنچ گیا۔
  • مالیاتی و انشورنس سرگرمیاں GDP کا 19.7 فیصد بن گئیں اور ان میں 8.6 فیصد نمو ہوئی۔
  • بحرین کی نان آئل مقامی برآمدات میں سعودی عرب کا حصہ 31 فیصد رہا۔
overseaspost.net

اس کمی کی بنیادی وجوہ میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری نقل و حرکت میں رکاوٹیں، برآمدی صلاحیت پر پڑنے والا اثر اور تیل کے شعبے میں طے شدہ مرمتی کام شامل تھے۔

بظاہر یہ اعداد بحرین کی معیشت کے لئے منفی تصویر پیش کرتے ہیں، مگر تفصیل میں جائیں تو ایک بالکل مختلف کہانی سامنے آتی ہے۔

تیل کا شعبہ ایک تہائی سے زیادہ سکڑ گیا، لیکن نان آئل معیشت نے اسی عرصے میں 2.2 فیصد ترقی کی۔

اور یہی بحرین کے نئے معاشی اعداد و شمار کا سب سے اہم پہلو ہے۔

مزید پڑھیں

معیشت کا 90 فیصد حصہ تیل سے باہر

2026 کی پہلی سہ ماہی کے اقتصادی اعداد کے مطابق نان آئل سرگرمیوں کا حصہ بحرین کی حقیقی مجموعی قومی پیداوار میں بڑھ کر 90.1 فیصد تک پہنچ گیا۔

نان آئل کی 13 بڑی سرگرمیوں میں سے 9 نے مثبت نمو ریکارڈ کی۔

یہ محض ایک سہ ماہی کا نتیجہ نہیں، بلکہ بحرین کی طویل مدتی معاشی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

وہ ملک جس کی معیشت کبھی تیل سے گہرا تعلق رکھتی تھی، اب بینکاری، مالیاتی خدمات، صنعت، تعمیرات، سیاحت، ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت اور دیگر سروسز پر زیادہ انحصار کرنے لگا ہے۔

iOVERSEAS POST | FACT BOXبحرین: فیکٹ باکس
مدتپہلی سہ ماہی 2026
حقیقی GDP−3.8%
تیل کی سرگرمیاں−37.2%
نان آئل نمو+2.2%
نان آئل حصہ90.1%
سب سے بڑا شعبہمالیاتی و انشورنس سرگرمیاں — 19.7%
بڑی نان آئل برآمدی منڈیسعودی عرب — 287 ملین دینار
overseaspost.net

تاہم ایک اہم حقیقت برقرار ہے: نان آئل شعبے کا حصہ 90 فیصد سے تجاوز کرجانے کے باوجود تیل کی اہمیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تیل کے شعبے میں 37 فیصد سے زیادہ کمی نے پوری معیشت کو منفی نمو میں دھکیل دیا، حالانکہ دیگر شعبے ترقی کررہے تھے۔

بینکاری اور انشورنس نیا انجن

بحرین کی نئی اقتصادی تصویر میں سب سے نمایاں شعبہ مالیاتی خدمات اور انشورنس ہے۔

اس شعبے نے سالانہ بنیاد پر 8.6 فیصد ترقی کی اور مجموعی قومی پیداوار میں 19.7 فیصد حصے کے ساتھ سب سے بڑا انفرادی اقتصادی شعبہ بن گیا۔

مینوفیکچرنگ کا حصہ 14.6 فیصد، سرکاری انتظامیہ کا 9 فیصد جبکہ تعمیراتی شعبے کا حصہ تقریباً 7 فیصد رہا۔

OVERSEAS POST | OIL SHOCKتیل کو 37 فیصد کا جھٹکا کیوں لگا؟
  • تیل کی سرگرمیوں میں 37.2 فیصد کمی نے مجموعی GDP کو منفی زون میں دھکیل دیا۔
  • رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے بحری نقل و حرکت پر پابندیوں نے برآمدی صلاحیت کو متاثر کیا۔
  • طے شدہ مرمتی کام بھی تیل کی پیداوار اور سرگرمی پر دباؤ کا سبب بنے۔
  • اس کے باوجود غیر تیل شعبوں نے مثبت نمو برقرار رکھ کر مجموعی صدمے کو محدود کیا۔
overseaspost.net

یہی تنوع اس بات کی ایک بڑی وجہ ہے کہ بحرین تیل کے اتنے بڑے جھٹکے کے باوجود مکمل معاشی بحران سے محفوظ رہا۔

منامہ کئی دہائیوں سے خلیج کا اہم مالیاتی مرکز رہا ہے۔ 

حالیہ برسوں میں بحرین نے فن ٹیک، اسلامی بینکاری، ڈیجیٹل خدمات اور بین الاقوامی سرمایہ کاری پر بھی توجہ بڑھائی ہے۔

نتیجتاً مالیاتی شعبہ اب اس کردار کا ایک حصہ سنبھال رہا ہے، جو ماضی میں بڑی حد تک تیل کے پاس تھا۔

غیر ملکی سرمایہ کار بھی موجود

غیر ملکی سرمایہ کاری کے اعداد بھی نسبتاً مثبت تصویر پیش کرتے ہیں۔

2026 کی پہلی سہ ماہی تک بحرین میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا مجموعی حجم سالانہ بنیاد پر 2.6 فیصد بڑھ کر تقریباً 17.6 ارب بحرینی دینار، یعنی قریب 47 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

90%OVERSEAS POST | NON-OIL ECONOMY90.1 فیصد.. بحرین کی نئی معاشی حقیقت
  • نان آئل سرگرمیاں بحرین کی حقیقی معیشت کا 90.1 فیصد بن چکی ہیں۔
  • 13 میں سے 9 نان آئل سرگرمیوں نے مثبت نمو ریکارڈ کی۔
  • یہ ساخت بتاتی ہے کہ بحرین کا معاشی ماڈل اب صرف تیل پر قائم نہیں رہا۔
  • لیکن تیل میں بہت بڑی کمی اب بھی مجموعی نمو کو متاثر کرسکتی ہے، اس لئے تنوع کا سفر مکمل نہیں ہوا۔
overseaspost.net

علاقائی کشیدگی کے ماحول میں سرمایہ کاری کا یہ حجم برقرار رہنا بحرین کے لئے اہم اشارہ ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک اب بھی عالمی اور علاقائی سرمایہ کاروں کے لئے کشش رکھتا ہے۔

سعودی عرب.. بحرین کی معاشی پشت

بحرین کی معیشت کو سعودی عرب سے الگ کرکے دیکھنا تقریباً ناممکن ہے۔

2026 کی پہلی سہ ماہی میں بحرین کی نان آئل مقامی برآمدات تقریباً 912 ملین دینار رہیں۔

ان میں سعودی عرب سب سے بڑی منڈی تھا، جہاں 287 ملین دینار کی مصنوعات برآمد کی گئیں، جو کل برآمدات کا تقریباً 31 فیصد بنتا ہے۔

متحدہ عرب امارات 121 ملین دینار کے ساتھ دوسرے اور امریکا 66 ملین دینار کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔

یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ سعودی عرب بحرین کے نان آئل اقتصادی ماڈل میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

OVERSEAS POST | FINANCEبینکاری اور انشورنس نیا انجن
  • مالیاتی اور انشورنس سرگرمیاں GDP میں 19.7 فیصد کے ساتھ سب سے بڑا انفرادی شعبہ رہیں۔
  • اس شعبے نے سالانہ بنیاد پر 8.6 فیصد نمو ریکارڈ کی۔
  • مینوفیکچرنگ کا حصہ 14.6 فیصد، سرکاری انتظامیہ 9 فیصد اور تعمیرات 7 فیصد رہی۔
  • یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ خدمات اور صنعت بحرین کے معاشی وزن میں تیزی سے مرکزی حیثیت اختیار کررہی ہیں۔
overseaspost.net

البتہ ایک منفی پہلو بھی موجود ہے۔ 

پہلی سہ ماہی میں بحرین کی نان آئل مقامی برآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں 10 فیصد کم رہیں، جبکہ ری ایکسپورٹس میں 19 فیصد کمی ہوئی۔

یعنی نان آئل معیشت کی مجموعی ترقی کے باوجود تمام شعبے علاقائی حالات کے اثر سے محفوظ نہیں رہے۔

اصل مسئلہ اب بھی مالیات کا ہے

بحرین کے سامنے سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ معیشت کو متنوع بنانا اور سرکاری آمدنی کو تیل سے آزاد کرنا ایک جیسی چیز نہیں۔

تیل مجموعی قومی پیداوار میں نسبتاً چھوٹا حصہ رکھتا ہے، مگر حکومتی بجٹ اور سرکاری آمدنی میں اب بھی اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

SAOVERSEAS POST | SAUDI LINKسعودی عرب.. بحرین کی سب سے بڑی منڈی
  • پہلی سہ ماہی میں بحرین کی نان آئل مقامی برآمدات کی مالیت 912 ملین دینار رہی۔
  • سعودی عرب 287 ملین دینار اور 31 فیصد حصے کے ساتھ سب سے بڑی برآمدی منڈی رہا۔
  • متحدہ عرب امارات 121 ملین دینار اور امریکا 66 ملین دینار کے ساتھ اگلے نمبروں پر رہے۔
  • یہ تجارت بحرین کے نان آئل ماڈل میں سعودی معیشت کی اسٹریٹجک اہمیت واضح کرتی ہے۔
overseaspost.net

آئی ایم ایف کے مطابق بحرین کا مالی خسارہ 2024 میں مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 11 فیصد تک پہنچ گیا تھا، جبکہ سرکاری قرض کا حجم تقریباً 134 فیصد تھا۔

یہی وجہ ہے کہ معاشی تنوع میں کامیابی کے باوجود قرض اور بجٹ کا مسئلہ بحرین کے لئے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

ہرمز کے امتحان نے کیا ثابت کیا؟

2026 کی پہلی سہ ماہی نے بحرین کے معاشی ماڈل کا حقیقی امتحان لیا۔

ایک حقیقت واضح ہے: بحرین ماضی کے مقابلے میں تیل کے جھٹکوں کو برداشت کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔

تیل کے شعبے میں 37.2 فیصد کمی کے باوجود نان آئل معیشت ترقی کرتی رہی۔

OVERSEAS POST | TRADEنان آئل تجارت میں دباؤ بھی موجود
  • نان آئل مقامی برآمدات سالانہ بنیاد پر 10 فیصد کم ہوکر 912 ملین دینار رہیں۔
  • ری ایکسپورٹس میں 19 فیصد کمی ہوئی اور ان کی مالیت 165 ملین دینار رہی۔
  • نان آئل درآمدات بھی 17 فیصد کم ہوکر 1.272 ارب دینار رہیں۔
  • نان آئل تجارتی خسارہ 195 ملین دینار رہا، جو ایک سال پہلے 307 ملین دینار تھا۔
overseaspost.net

لیکن دوسری حقیقت بھی اتنی ہی اہم ہے: بحرین ابھی اس مرحلے تک نہیں پہنچا جہاں تیل یا علاقائی جغرافیائی کشیدگی غیر اہم ہوجائے۔

اسی لئے ان تمام اعداد میں سب سے اہم نمبر شاید 3.8 فیصد کی معاشی کمی یا 37.2 فیصد کا تیل کا نقصان نہیں، بلکہ 90.1 فیصد ہے۔

یہ وہ حصہ ہے جو بحرین نے تیل سے باہر اپنی معیشت میں تعمیر کرلیا ہے۔

پہلی سہ ماہی کا پیغام واضح ہے: معاشی تنوع نے ہرمز کے جھٹکے کو کم ضرور کردیا، مگر تیل کا اثر ابھی ختم نہیں ہوا۔

OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع
overseaspost.net