براہ راست نشریات

12 فیصد منافع.. T-bills پاکستانیوں کے لیے موقع یا کرنسی خطرہ؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Pakistan T-bills

پاکستانی T-bills بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے نسبتاً کم خطرے والی حکومتی سرمایہ کاری ہیں۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اور IPS سہولت کے ذریعے ان میں سرمایہ لگایا جاسکتا ہے۔
موجودہ شرحیں تقریباً 12 فیصد سالانہ تک ہیں، تاہم سعودی ریال، درہم یا ڈالر میں حقیقی منافع کا دارومدار روپے کی قدر اور ٹیکس پر بھی ہوگا۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کا ذکر ہو تو عموماً پراپرٹی، سونا، بینک ڈپازٹس، نیا پاکستان سرٹیفکیٹس یا اسٹاک مارکیٹ سامنے آتی ہے، لیکن ایک نسبتاً کم زیرِ بحث آپشن Market Treasury Bills یا T-bills بھی ہیں۔

یہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کی جانے والی قلیل مدتی سیکیورٹیز ہیں۔ 

اسٹیٹ بینک کے مطابق اس وقت T-bills کی مدت ایک ماہ، 3 ماہ، 6 ماہ اور 12 ماہ ہے اور کم از کم سرمایہ کاری کی denomination صرف 5 ہزار روپے ہے۔

اہم سوال یہ ہے کہ بیرون ملک، خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، خلیجی ممالک، یورپ یا امریکا میں رہنے والا پاکستانی ان میں سرمایہ کاری کیسے کرسکتا ہے؟ 

اسے کتنا منافع مل سکتا ہے اور کیا یہ سرمایہ واقعی محفوظ ہے؟

مزید پڑھیں

T-bills آخر ہیں کیا؟

سادہ الفاظ میں T-bill میں سرمایہ کار ایک مختصر مدت کے لیے حکومتِ پاکستان کو رقم فراہم کرتا ہے۔

T-bills پر عام بانڈز کی طرح ہر ماہ یا 6 ماہ بعد منافع ادا نہیں کیا جاتا بلکہ یہ Zero-Coupon Securities ہوتی ہیں۔

مثلاً حکومت 100 روپے کی مالیت کا T-bill تقریباً 89 یا 90 روپے میں 

فروخت کرسکتی ہے اور مقررہ مدت پوری ہونے پر سرمایہ کار کو 100 روپے مل جاتے ہیں۔ 

خریداری اور maturity value کے درمیان فرق سرمایہ کار کی آمدنی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے InvestPak پورٹل کے مطابق T-bills کی موجودہ مدتیں 28 دن، 84 دن، 182 دن اور 364 دن ہیں جبکہ ان پر شرح maturity تک فکس رہتی ہے۔

OVERSEAS POST | HIGHLIGHTST-bills — اہم نکات
  • T-bills حکومتِ پاکستان کی قلیل مدتی، زیرو کوپن debt securities ہیں۔
  • فعال مدتیں: 1 ماہ، 3 ماہ، 6 ماہ اور 12 ماہ۔
  • کم از کم denomination 5,000 روپے ہے۔
  • اگست 2026 کی تازہ شرحیں تقریباً 11.47% سے 11.99% سالانہ ہیں۔
  • اوورسیز پاکستانی Roshan Digital Account / NRVA کے ذریعے حکومتی روپیہ سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔
  • اصل خطرہ: روپے کی قدر میں کمی بیرون ملک کرنسی میں حقیقی منافع گھٹا سکتی ہے۔
overseaspost.net

اس وقت منافع کتنا مل رہا ہے؟

19 اگست 2026 کی تازہ ترین T-bill نیلامی میں cut-off yields یہ رہیں:

ایک ماہ: 11.4698 فیصد سالانہ
تین ماہ: 11.6450 فیصد سالانہ
چھ ماہ: 11.7980 فیصد سالانہ
12 ماہ: 11.9900 فیصد سالانہ

یعنی موجودہ مارکیٹ میں T-bills تقریباً 11.5 سے 12 فیصد سالانہ کے قریب return دے رہے ہیں۔

یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ شرحیں مستقل نہیں۔ 

حکومت ہر نئی نیلامی میں مارکیٹ کی صورتحال اور شرح سود کے مطابق نئی yields مقرر کرتی ہے۔

اس لیے آج 12 فیصد کے قریب ملنے والا return ضروری نہیں کہ تین یا چھ ماہ بعد بھی اتنا ہی ہو۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXT-bills کا فیکٹ باکس
1 ماہ11.4698%
3 ماہ11.6450%
6 ماہ11.7980%
12 ماہ11.9900%
کم از کم سرمایہ کاریPKR 5,000
نوعیتZero-Coupon | Conventional | Fixed till maturity

شرحیں تازہ ترین دستیاب SBP cut-off yields ہیں؛ نئی نیلامی میں بدل سکتی ہیں۔

overseaspost.net

10 لاکھ روپے لگانے پر کتنا منافع؟

اگر مثال کے طور پر کوئی شخص 12 ماہ کے T-bills میں 10 لاکھ روپے لگائے اور سالانہ yield تقریباً 11.99 فیصد برقرار ہو تو سادہ اندازے کے مطابق مجموعی سالانہ آمدنی تقریباً:

119,900 روپے بن سکتی ہے۔

اگر متعلقہ RDA/Government Securities ٹیکس نظام کے تحت profit on debt پر تقریباً 10 فیصد final tax لاگو ہو تو ٹیکس تقریباً 11,990 روپے اور اندازاً خالص آمدنی:

107,910 روپے سالانہ رہ سکتی ہے۔

اسی حساب سے پانچ لاکھ روپے پر تقریباً 53,955 روپے اور ایک لاکھ روپے پر تقریباً 10,791 روپے سالانہ خالص آمدنی کا تخمینہ بنتا ہے۔

1→ OVERSEAS POST | HOW TOاوورسیز پاکستانی کیسے سرمایہ لگائیں؟

1Roshan Digital Account کھولیں اور پاکستانی روپے والا NRVA استعمال کریں۔

2رقم بیرون ملک سے مجاز بینکنگ چینل کے ذریعے RDA میں بھیجیں۔

3حکومتی سیکیورٹیز کے لیے متعلقہ IPS/InvestPak سہولت اپنے بینک کے ذریعے فعال کریں۔

4مطلوبہ tenor — 1، 3، 6 یا 12 ماہ — منتخب کرکے bid/investment instruction دیں۔

5Maturity پر رقم اور investment proceeds RDA میں واپس آتے ہیں؛ RDA funds repatriable ہوتے ہیں۔

overseaspost.net

یہ illustrative calculation ہے، اصل رقم خریداری کی قیمت، auction yield، holding period، applicable tax اور بینک کے charges کے مطابق کچھ مختلف ہوسکتی ہے۔

وفاقی حکومت کی debt securities میں qualifying non-resident/RDA سرمایہ کاری کے لیے موجودہ ٹیکس فریم ورک میں 10 فیصد کی concessional/final tax treatment موجود ہے، تاہم سرمایہ کاری سے پہلے اپنے بینک سے تازہ ٹیکس شرح ضرور confirm کرنی چاہئے۔

بیرون ملک پاکستانی کیسے سرمایہ کاری کرسکتے ہیں؟

اس کے لیے سب سے اہم راستہ Roshan Digital Account — RDA ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق Non-Resident Pakistanis روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے پاکستان میں حکومتی debt securities خرید سکتے ہیں، جن میں T-bills، Pakistan Investment Bonds اور Sukuk بھی شامل ہیں۔

عملی طریقہ تقریباً یوں ہوگا:

سب سے پہلے اسٹیٹ بینک کے منظور شدہ کسی بینک میں Roshan Digital Account کھولا جائے۔

T-bills پاکستانی روپے میں جاری ہوتے ہیں، اس لیے سرمایہ کاری عموماً Non-Resident Rupee Value Account یعنی NRVA کے ذریعے ہوگی۔

بیرون ملک سے سعودی ریال، ڈالر، درہم یا دوسری کرنسی بینکنگ چینل سے بھیجی جائے گی جو روپے میں تبدیل ہوکر اکاؤنٹ میں آئے گی۔

% OVERSEAS POST | CALCULATOR10 لاکھ روپے پر کتنا منافع؟
مثالی سرمایہ10,00,000 روپے
12 ماہ کی تازہ annualized yield11.9900%
سادہ annualized gross اندازہتقریباً 1,19,900 روپے

یہ صرف سادہ illustrative estimate ہے۔ اصل خریداری قیمت، auction mechanics، holding period، ٹیکس اور بینک charges کے باعث نتیجہ مختلف ہوسکتا ہے۔

overseaspost.net

اس کے بعد Government Securities رکھنے کے لیے Investor Portfolio Securities — IPS Account درکار ہوتا ہے۔

اسٹیٹ بینک کا نیا InvestPak پلیٹ فارم افراد کو IPS account کھولنے، حکومتی سیکیورٹیز کی primary auction میں bid دینے اور secondary market میں خرید و فروخت کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

یعنی اب یہ سرمایہ کاری صرف بڑے بینکوں اور اداروں تک محدود نہیں رہی۔

کیا رقم واپس بیرون ملک بھیجی جاسکتی ہے؟

یہ بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے شاید سب سے اہم سہولت ہے۔

Roshan Digital Account میں بیرون ملک سے بھیجی گئی رقم کے ساتھ investment proceeds اور منافع کو بھی دوبارہ بیرون ملک منتقل کیا جاسکتا ہے۔ 

اسٹیٹ بینک RDA funds کو repatriable قرار دیتا ہے اور ان کی بیرون ملک منتقلی کے لیے الگ پیشگی SBP approval کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب میں رہنے والا پاکستانی سرمایہ کاری mature ہونے کے بعد رقم کو دوبارہ اپنے سعودی اکاؤنٹ میں بھیج سکتا ہے۔

لیکن یہاں ایک بہت اہم خطرہ سامنے آتا ہے۔

OVERSEAS POST | CURRENCY RISKاصل خطرہ — پاکستانی روپیہ

اوورسیز پاکستانی کے لیے T-bill کا سب سے بڑا سوال صرف yield نہیں، بلکہ واپسی کے وقت exchange rate ہے۔

اگر روپیہ مستحکم رہےزیادہ تر yield برقرار
اگر روپیہ 5% گرےforeign-currency return کم
اگر روپیہ 10–12% گرےمنافع کا بڑا حصہ ختم ہوسکتا ہے

اسی لیے سعودی ریال، درہم یا ڈالر میں واپس جانے والے سرمایہ کار کو PKR return کے ساتھ currency risk بھی دیکھنا چاہئے۔

overseaspost.net

کیا T-bills واقعی محفوظ ہیں؟

اگر صرف پاکستانی روپے میں دیکھا جائے تو T-bills پاکستان میں دستیاب نسبتاً محفوظ ترین investments میں شمار ہوتے ہیں، کیونکہ یہ کسی نجی کمپنی یا کاروبار کا قرض نہیں بلکہ براہ راست حکومتِ پاکستان کی debt security ہے۔

اسٹیٹ بینک بھی government securities کو equities کے مقابلے میں نسبتاً کم risk اور کم volatility والی سرمایہ کاری قرار دیتا ہے۔

اگر T-bill maturity تک رکھا جائے تو سرمایہ کار کو پہلے ہی معلوم ہوتا ہے کہ maturity پر اسے کتنی face value ملے گی۔

لیکن بیرون ملک پاکستانی کے لیے معاملہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔

سب سے بڑا خطرہ: پاکستانی روپیہ

فرض کریں سعودی عرب میں رہنے والا پاکستانی:

10,000 سعودی ریال پاکستان بھیجتا ہے۔

رقم پاکستانی روپے میں تبدیل کرکے T-bills میں لگاتا ہے اور ایک سال میں تقریباً 12 فیصد gross return حاصل کرتا ہے۔

✓? OVERSEAS POST | RISK CHECKکیا T-bills واقعی محفوظ ہیں؟

نسبتاً محفوظ کیوں؟

  • Issuer حکومتِ پاکستان ہے۔
  • مختصر مدت کی security ہے۔
  • Maturity تک return structure معلوم رہتا ہے۔
  • Equities کے مقابلے میں عموماً کم volatility۔

کون سے خطرات باقی ہیں؟

  • روپے کی قدر میں کمی۔
  • Maturity سے پہلے فروخت پر market-price risk۔
  • نئی نیلامیوں میں yield کم ہوسکتی ہے۔
  • ٹیکس/charges حقیقی return گھٹا سکتے ہیں۔
overseaspost.net

اگر اسی ایک سال میں پاکستانی روپیہ سعودی ریال کے مقابلے میں مثلاً 10 فیصد کمزور ہوجائے تو سرمایہ کار کا T-bill منافع بڑی حد تک exchange-rate loss میں ختم ہوسکتا ہے۔

اور اگر روپیہ 12 فیصد یا اس سے زیادہ کمزور ہوجائے تو ممکن ہے پاکستانی روپے میں منافع کمانے کے باوجود سعودی ریال یا ڈالر میں واپس تبدیل کرتے وقت حقیقی return انتہائی کم یا منفی نکلے۔

اسی لیے بیرون ملک پاکستانی کو صرف یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ:

ٹی بل 12 فیصد دے رہا ہے۔

اصل سوال ہونا چاہئے:

ٹیکس اور روپے کی قدر میں تبدیلی کے بعد مجھے سعودی ریال، درہم یا ڈالر میں کتنا return ملے گا؟

اگر maturity سے پہلے رقم چاہئے تو؟

T-bills کو maturity تک رکھنا ضروری نہیں۔

InvestPak کے ذریعے government securities secondary market میں فروخت کی جاسکتی ہیں۔

لیکن maturity سے پہلے بیچنے پر market interest rates تبدیل ہونے کی وجہ سے security کی قیمت اوپر یا نیچے جاسکتی ہے، اس لیے اصل متوقع return بدل سکتا ہے۔

اسی وجہ سے جس سرمایہ کار کو تین ماہ بعد رقم چاہئے، اس کے لیے 12 ماہ کا T-bill خرید کر درمیان میں فروخت کرنے کے بجائے 3 ماہ کا T-bill زیادہ مناسب ہوسکتا ہے۔

OVERSEAS POST | TENOR GUIDEکون سی مدت آپ کے لیے؟
1 ماہانتہائی مختصر پارکنگجلد نقدی چاہئے تو
3 ماہقلیل مدتی ضرورترقم جلد پاکستان میں استعمال ہونی ہو
6 ماہدرمیانی مدتyield اور liquidity میں توازن
12 ماہزیادہ موجودہ yieldرقم ایک سال تک درکار نہ ہو

اصول: جس وقت رقم درکار ہو، maturity کو حتی الامکان اسی ضرورت کے قریب رکھیں۔

overseaspost.net

اسلامی سرمایہ کاری چاہنے والوں کے لیے کیا؟

یہ فرق بھی اہم ہے۔

روایتی Market Treasury Bills conventional securities ہیں اور InvestPak بھی انہیں Conventional category میں شمار کرتا ہے۔

جو سرمایہ کار سودی یا conventional instrument میں سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہتے، ان کے لیے حکومتِ پاکستان کے Ijara Sukuk جیسے Shariah-compliant حکومتی securities الگ آپشن ہوسکتے ہیں۔

T-bills کس بیرون ملک پاکستانی کے لیے بہتر ہوسکتے ہیں؟

T-bills ان لوگوں کے لیے دلچسپ ہوسکتے ہیں جو پہلے ہی مستقبل میں پاکستان میں رقم استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مثلاً اگر کسی کو اگلے چھ یا 12 ماہ بعد پاکستان میں گھر خریدنا، بچوں کی فیس ادا کرنا یا کسی بڑے خرچ کے لیے روپے درکار ہوں تو اس دوران رقم بینک اکاؤنٹ میں خالی رکھنے کے مقابلے میں T-bills ایک نسبتاً محفوظ income-generating option بن سکتے ہیں۔

لیکن جو شخص سعودی ریال یا امریکی ڈالر میں اپنی دولت محفوظ رکھنا چاہتا ہے اور آخرکار تمام رقم دوبارہ بیرون ملک ہی لے جانا چاہتا ہے، اسے currency risk کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔

OVERSEAS POST | WHO SHOULD CONSIDERT-bills کس اوورسیز پاکستانی کے لیے بہتر؟

زیادہ موزوں

  • جو مستقبل قریب میں پاکستان میں روپے خرچ کریں گے۔
  • جو کم volatility چاہتے ہیں۔
  • جو 1 سے 12 ماہ کا واضح investment horizon رکھتے ہیں۔
  • جو idle PKR پر return چاہتے ہیں۔

کم موزوں

  • جن کا اصل ہدف wealth کو USD/SAR/AED میں محفوظ رکھنا ہے۔
  • جنہیں کسی بھی وقت پوری رقم فوراً درکار ہوسکتی ہے۔
  • جو currency fluctuation برداشت نہیں کرسکتے۔
  • جو صرف Shariah-compliant instruments چاہتے ہیں۔
overseaspost.net

نتیجہ

پاکستانی T-bills اس وقت تقریباً 12 فیصد سالانہ تک yield دے رہے ہیں، ان کا issuer حکومتِ پاکستان ہے، minimum denomination صرف 5 ہزار روپے ہے اور بیرون ملک پاکستانی روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اور متعلقہ investment/IPS سہولت کے ذریعے ان تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

پاکستانی روپے میں دیکھا جائے تو یہ نسبتاً محفوظ اور کم volatility والی سرمایہ کاری ہے۔

مگر بیرون ملک پاکستانی کے لیے سب سے بڑا سوال default نہیں بلکہ currency ہے۔

اگر ایک سال میں T-bill سے 12 فیصد کمایا اور اسی دوران روپیہ سعودی ریال یا ڈالر کے مقابلے میں 12 فیصد گرگیا تو کاغذ پر اچھا نظر آنے والا منافع بیرون ملک واپس لے جاتے وقت تقریباً ختم بھی ہوسکتا ہے۔

اس لیے T-bills کو صرف 12 فیصد منافع کے طور پر نہیں بلکہ 12 فیصد PKR return بمقابلہ currency risk کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہوگا۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے