براہ راست نشریات

اقامہ ختم، تجدید میں کمپنی کی تاخیر، جرمانہ کارکن کیوں ادا کرے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Saudi Iqama Renewal Fine

اگر کمپنی کے قانونی یا انتظامی مسائل کی وجہ سے کارکنوں کے اقاموں کی بروقت تجدید نہ ہوسکے تو تاخیر کا جرمانہ کارکنوں سے وصول کرنا درست نہیں۔
سعودی نظامِ عمل کی دفعہ 40 کے تحت اقامہ اور ورک پرمٹ کی تجدید کے اخراجات اور صاحبِ عمل کی وجہ سے ہونے والی تاخیر کے جرمانے کمپنی برداشت کرتی ہے۔

اوورسیز پوسٹ کے ایک قاری نے قانونی مشیر سے سوال کیا ہے:
کمپنی کے قانونی مسائل کی وجہ سے وقت پر اقامہ کی تجدید نہیں ہوسکی۔
ہم تمام کارکنوں کا اقامہ 3 ماہ سے ختم ہے۔ 
اب کمپنی کے مسائل حل ہوئے ہیں اور کمپنی اقامہ تجدید کرنے کے قابل ہوگئی ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ تاخیر کے جرمانے ادا کرنے کا مطالبہ ہم سے کیا جارہا ہے۔ 
ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہئے۔
ہم جرمانے کیوں ادا کریں جبکہ اقاموں کی تجدید میں تاخیر کی وجہ خود کمپنی ہے۔ 

قانونی جواب

آپ کی بیان کردہ صورتِ حال میں قانونی اصول کافی واضح ہے: 

اگر اقامہ اور ورک پرمٹ کی تجدید میں تاخیر کمپنی کی وجہ سے ہوئی ہے تو اس تاخیر سے پیدا ہونے والے جرمانے کارکنوں پر ڈالنا اصولاً درست نہیں۔

OVERSEAS POST | LABOUR LAWاقامہ تجدید میں تاخیر — اہم نکات
  • غیر سعودی کارکن کے اقامہ اور ورک پرمٹ کے اجرا اور تجدید کی فیس صاحبِ عمل کے ذمہ ہے۔
  • اگر تجدید میں تاخیر صاحبِ عمل کی وجہ سے ہوئی تو اس تاخیر سے پیدا ہونے والے جرمانے بھی صاحبِ عمل برداشت کرتا ہے۔
  • !کمپنی کے قانونی یا انتظامی مسائل کی وجہ سے تمام کارکنوں کے اقامے لیٹ ہوئے ہوں تو کارکنوں سے جرمانہ مانگنا قابلِ اعتراض ہے۔
  • کارکن کو اقامہ ختم ہونے کی تاریخ، کمپنی کے پیغامات اور جرمانے کے مطالبے کے ثبوت محفوظ رکھنے چاہئیں۔
  • تنازع حل نہ ہو تو وزارتِ انسانی وسائل کی التسوية الودية للخلافات العمالية سروس سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔
overseaspost.net

سعودی نظامِ محنت کی دفعہ 40 کے مطابق غیر سعودی کارکن کے اقامہ اور ورک پرمٹ کے اجرا اور تجدید کی فیس صاحبِ عمل برداشت کرتا ہے، اور اگر ان کی تجدید میں تاخیر ایسی وجہ سے ہوئی ہو جس کا سبب صاحبِ عمل ہو تو اس تاخیر کے نتیجے میں عائد ہونے والے جرمانے بھی صاحبِ عمل ہی کے ذمہ ہوتے ہیں۔ 

وزارتِ انسانی وسائل نے بھی اسی اصول کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔

آپ کے معاملے میں کیا ہوگا؟

آپ کے مطابق:

  • تمام کارکنوں کے اقامے تقریباً 3 ماہ سے ختم ہیں۔
  • تجدید نہ ہونے کی وجہ کارکن نہیں بلکہ کمپنی کے قانونی یا انتظامی مسائل تھے۔
  • اب کمپنی کے مسائل حل ہوگئے ہیں اور اقامے تجدید کئے جاسکتے ہیں۔
  • لیکن کمپنی تاخیر کے جرمانے کارکنوں سے وصول کرنا چاہتی ہے۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXاقامہ جرمانہ: قانون کیا کہتا ہے؟
متعلقہ قانون
سعودی نظامِ عمل
اہم دفعہ
المادة 40
اقامہ فیس
صاحبِ عمل کے ذمہ
ورک پرمٹ فیس
صاحبِ عمل کے ذمہ
تاخیر کا جرمانہ
اگر تاخیر صاحبِ عمل کی وجہ سے ہوئی تو جرمانہ بھی صاحبِ عمل برداشت کرے گا
اہم شرط
یہ واضح ہونا چاہئے کہ تاخیر واقعی کمپنی یا صاحبِ عمل کی وجہ سے ہوئی تھی
overseaspost.net

اگر ان حقائق کو دستاویزات یا کمپنی کے پیغامات وغیرہ سے ثابت کیا جاسکتا ہے تو بظاہر یہ وہی صورت ہے جس میں تاخیر کا سبب صاحبِ عمل ہے۔ 

ایسی صورت میں دفعہ 40 کے تحت جرمانہ کمپنی کو برداشت کرنا چاہئے، کارکن کو نہیں۔

کیا کمپنی تنخواہ سے جرمانہ کاٹ سکتی ہے؟

کمپنی اپنی مرضی سے ہر قسم کی رقم کارکن کی تنخواہ سے نہیں کاٹ سکتی۔ 

وزارتِ انسانی وسائل کے مطابق کسی نجی حق کے بدلے کارکن کی اجرت سے رقم کاٹنے کے لیے اصولاً کارکن کی تحریری رضامندی ضروری ہے، سوائے ان مخصوص حالات کے جن کی اجازت قانون دیتا ہے۔ 

OVERSEAS POST | PRACTICAL GUIDEکارکن کو اب کیا کرنا چاہئے؟

اگر کمپنی اقامہ کی تاخیر کا جرمانہ آپ سے مانگ رہی ہے تو معاملہ زبانی گفتگو تک محدود نہ رکھیں۔

1۔ ثبوت محفوظ کریںاقامہ کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، کمپنی کے پیغامات، ای میل اور جرمانے کے مطالبے کی تصویر یا تحریری ثبوت سنبھالیں۔
2۔ تحریری اعتراض دیںHR کو لکھیں کہ تاخیر کمپنی کی وجہ سے ہوئی اور نظامِ عمل کی دفعہ 40 کے تحت جرمانہ کمپنی کی ذمہ داری بنتا ہے۔
3۔ سرکاری راستہ اختیار کریںمسئلہ حل نہ ہونے پر وزارتِ انسانی وسائل کی التسوية الودية للخلافات العمالية سروس سے رجوع کریں۔
اہم: کسی رقم کی ادائیگی یا تنخواہ سے کٹوتی سے پہلے اس کی قانونی بنیاد اور تحریری تفصیل طلب کریں۔
overseaspost.net

اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ نظامِ عمل کی دفعہ 8 کے تحت ایسا کوئی معاہدہ یا دستبرداری جو کارکن کو قانون کے تحت ملنے والے حق سے محروم کرے، دورانِ ملازمت اصولاً باطل ہے، الا یہ کہ وہ کارکن کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو۔ 

اس لیے محض یہ کہ کمپنی کارکنوں سے کوئی کاغذ دستخط کرا لے، لازماً اس قانونی ذمہ داری کو کارکن پر منتقل نہیں کردیتا۔ 

آپ کو اب کیا کرنا چاہئے؟

سب سے پہلے کمپنی کے HR یا انتظامیہ کو تحریری طور پر اعتراض دیں۔ 

اس میں صاف لکھیں کہ اقامے کی تجدید میں تاخیر کارکن کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ کمپنی کے مسائل کے باعث ہوئی، لہٰذا نظامِ عمل کی دفعہ 40 کے مطابق تجدید کی فیس اور اس تاخیر کے نتیجے میں پیدا ہونے والا جرمانہ صاحبِ عمل کی ذمہ داری ہے۔

⚖️ کیا آپ کو کوئی قانونی مسئلہ درپیش ہے؟ قانونی مشیر سے رائے لیں رابطہ کریں

ساتھ ہی یہ ثبوت محفوظ رکھیں کہ:

  1.  اقامہ کس تاریخ کو ختم ہوا۔
  2. آپ نے وقت پر کمپنی کو تجدید کے لیے اطلاع دی تھی یا نہیں۔
  3. کمپنی نے کسی پیغام، ای میل یا واٹس ایپ میں اپنے قانونی یا انتظامی مسئلے کا ذکر کیا تھا۔
  4. کمپنی نے کب کہا کہ اب تجدید ممکن ہے۔
  5. کارکنوں سے جرمانہ ادا کرنے کا مطالبہ کس شکل میں کیا گیا۔

اگر کمپنی پھر بھی جرمانہ آپ سے وصول کرے، تنخواہ سے کاٹے یا اقامہ اسی شرط پر تجدید کرنے کی بات کرے، تو آپ وزارتِ انسانی وسائل کی ’التسوية الودية للخلافات العمالية‘ سروس کے ذریعے دعویٰ یا شکایت اٹھا سکتے ہیں۔ 

وزارت کی سرکاری سروس میں کارکن دعویٰ درج کرکے متعلقہ دستاویزات منسلک کرسکتا ہے۔ 

ایک اہم استثنی

✓! OVERSEAS POST | RIGHTS CHECKکمپنی کیا کرسکتی ہے، کیا نہیں؟

قانونی ذمہ داری

  • اقامہ اور ورک پرمٹ کی تجدید کی فیس ادا کرنا صاحبِ عمل کی ذمہ داری ہے۔
  • اپنی وجہ سے ہونے والی تاخیر کے جرمانے بھی صاحبِ عمل برداشت کرتا ہے۔
  • کارکن اپنی شکایت کے لیے دستاویزی ثبوت پیش کرسکتا ہے۔

قابلِ اعتراض اقدامات

  • کمپنی کی اپنی تاخیر کا جرمانہ بلاجواز کارکن پر ڈالنا۔
  • جرمانے کی قانونی بنیاد بتائے بغیر رقم طلب کرنا۔
  • تنخواہ سے ایسی کٹوتی کرنا جو نظامِ عمل میں مجاز نہ ہو۔

اگر کسی مخصوص کارکن کی اپنی کوتاہی — مثلاً ضروری دستاویز نہ دینا — تجدید میں رکاوٹ بنی ہو تو اس فرد کا معاملہ الگ ہوسکتا ہے۔

overseaspost.net

قانون میں الفاظ یہ ہیں کہ وہ جرمانے صاحبِ عمل برداشت کرے گا جو اس کی وجہ سے پیدا ہوئے ہوں۔ 

اس لیے اگر کسی مخصوص کارکن نے مثلاً ضروری دستاویزات فراہم نہ کیں یا اس کی اپنی وجہ سے تجدید رکی، تو اس فرد کا معاملہ الگ ہوسکتا ہے۔ 

لیکن آپ کے بیان کے مطابق تمام کارکنوں کے اقامے کمپنی کے قانونی مسائل کی وجہ سے 3 ماہ تک تجدید نہیں ہوئے، تو یہ صورت بظاہر کمپنی کی ذمہ داری کے زیادہ قریب ہے۔

 

مختصر جواب: 

اگر اقامے کی تجدید کمپنی کے اپنے مسائل کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئی تو کارکنوں سے تاخیر کا جرمانہ وصول کرنے کی مضبوط قانونی بنیاد نظر نہیں آتی۔ 

اقامہ، ورک پرمٹ، ان کی تجدید اور صاحبِ عمل کی وجہ سے ہونے والی تاخیر کے جرمانے کمپنی کی ذمہ داری ہیں۔

OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع

یہ معلومات عمومی قانونی رہنمائی کے لیے ہیں؛ ہر کیس کے حقائق اور دستاویزات نتیجے پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

overseaspost.net