براہ راست نشریات

غزہ جنگ اسرائیل پر بھاری، 142 ارب ڈالر خرچ، قیمت کون چکائے گا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
غزہ جنگ اسرائیلی معیشت

غزہ جنگ پر اسرائیل کے اخراجات 142 ارب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے، جبکہ مجموعی لاگت 169 ارب ڈالر کے قریب جاسکتی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل آئندہ 10 برسوں میں دفاع پر تقریباً 500 ارب ڈالر خرچ کرسکتا ہے۔
بڑھتے دفاعی اخراجات، قرض، ٹیکسوں اور شہری بجٹ میں کمی نے یہ سوال اہم بنا دیا ہے کہ جنگ کا اصل معاشی بوجھ بالآخر کون اٹھائے گا۔

غزہ جنگ شروع ہوئے تقریباً 3 سال ہونے کو ہیں اور اب اس کے طویل المدتی معاشی اثرات زیادہ واضح ہونے لگے ہیں۔ 

اسرائیل کے لیے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ فوجی کارروائیوں پر اب تک کتنی رقم خرچ ہوچکی ہے، بلکہ اصل چیلنج یہ ہے کہ جنگ نے سرکاری بجٹ اور اخراجات کے پورے ڈھانچے کو کس حد تک بدل دیا ہے۔

اخبار ہآرتس کے حوالے سے سامنے آنے والے اندازوں کے مطابق غزہ جنگ کی لاگت تقریباً 420 ارب شیکل، یعنی 142 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ مجموعی بل نصف ٹریلین شیکل، یعنی تقریباً 169 ارب ڈالر کے قریب پہنچ سکتا ہے۔

لیکن اسرائیلی معیشت کے لیے زیادہ تشویش ناک رقم شاید وہ نہیں جو اب تک خرچ ہوچکی ہے، بلکہ وہ ہے جو آنے والے برسوں میں خرچ کرنا پڑے گی۔

مزید پڑھیں

دفاع پر نصف ٹریلین ڈالر

اندازوں کے مطابق اسرائیل آئندہ 10 برسوں میں دفاع پر تقریباً 1.5 ٹریلین شیکل، یعنی لگ بھگ 500 ارب ڈالر خرچ کرسکتا ہے، کیونکہ اسرائیلی دفاعی ادارے خطے کی سکیورٹی صورتحال میں آنے والی تبدیلیوں کو عارضی نہیں بلکہ طویل المدتی تصور کر رہے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اخراجات پہلے غیر معمولی اور جنگی حالات

 سے وابستہ تھے، وہ مستقل بجٹ کا حصہ بن سکتے ہیں۔

اسرائیل کا دفاعی بجٹ 2020 میں 74.2 ارب شیکل تھا، جو 2025 میں بڑھ کر تقریباً 175.9 ارب شیکل ہوگیا، جبکہ 2026 کے دفاعی اخراجات کے اندازے 183 سے 188 ارب شیکل کے درمیان بتائے جا رہے ہیں۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTغزہ جنگ — اہم نکات
  • غزہ جنگ کی لاگت تقریباً 420 ارب شیکل، یعنی 142 ارب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔
  • مجموعی جنگی بل نصف ٹریلین شیکل، تقریباً 169 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
  • اسرائیل اگلے دس برس میں دفاع پر تقریباً 500 ارب ڈالر خرچ کرسکتا ہے۔
  • دفاعی بجٹ 2020 کے 74.2 ارب شیکل سے بڑھ کر 2025 میں 175.9 ارب شیکل ہوگیا۔
  • !سرکاری قرض مجموعی قومی پیداوار کے 70 فیصد کے قریب پہنچ گیا ہے۔
  • !جنگ کا بوجھ ٹیکس، قرض اور شہری اخراجات میں کمی کے ذریعے اسرائیلی شہریوں تک منتقل ہورہا ہے۔
overseaspost.net

اسی طرح فوجی اخراجات کا بوجھ بڑھ کر اسرائیل کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 7 سے 8 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو بیشتر مغربی معیشتوں کے مقابلے میں ایک بلند شرح ہے۔

دفاعی بجٹ میں ہر اضافی شیکل کا مطلب یہ بھی ہے کہ تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری جیسے شعبوں کے لیے دستیاب وسائل کم ہوتے جائیں گے۔ 

65464564564

ٹیکس بھی جنگی بل کا حصہ

جنگ کی لاگت شہریوں تک منتقل ہونے کا ایک نمایاں اشارہ حکومت کی جانب سے ٹیکسوں سے متعلق وہ اقدامات ہیں جن کی مالیت 2025 میں تقریباً 35 ارب شیکل بتائی گئی۔

بینک آف اسرائیل کے گورنر بھی خبردار کرچکے ہیں کہ اگر دفاعی اخراجات اسی بلند سطح پر برقرار رہے تو 2027 میں مزید ٹیکس بڑھانا قرض پر قابو پانے کے لیے ضروری ہوسکتا ہے۔

اگر حکومت نئے ٹیکسوں سے بچنے کی کوشش کرتی ہے تو اس کے پاس محدود متبادل رہ جائیں گے: مزید قرض، شہری اخراجات میں کمی، یا پھر اتنی مضبوط معاشی نمو جس سے بڑھتے ہوئے اخراجات پورے کیے جاسکیں۔

یوں مسئلہ صرف جنگ کے اخراجات پورے کرنے کا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ آنے والے برسوں میں اس بوجھ کو معاشرے کے مختلف طبقات میں کیسے تقسیم کیا جائے گا۔

قرض میں مسلسل اضافہ

جنگ سے پہلے 2023 میں اسرائیل کا سرکاری قرض مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 60 فیصد کے برابر تھا، لیکن بعد میں یہ شرح بڑھ کر 70 فیصد کے قریب پہنچ گئی۔

بینک آف اسرائیل کا اندازہ ہے کہ 2026 اور 2027 میں قرض تقریباً 69 فیصد کے آس پاس رہ سکتا ہے، جبکہ 2026 میں بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 4.9 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXاسرائیلی معیشت: فیکٹ باکس
غزہ جنگ کی موجودہ لاگت
تقریباً 142 ارب ڈالر
ممکنہ مجموعی جنگی بل
تقریباً 169 ارب ڈالر
10 سالہ ممکنہ دفاعی خرچ
تقریباً 500 ارب ڈالر
2025 دفاعی بجٹ
175.9 ارب شیکل
2026 دفاعی خرچ کا اندازہ
183 تا 188 ارب شیکل
2025 ٹیکس اقدامات
تقریباً 35 ارب شیکل
قرض کا بوجھ
GDP کے تقریباً 70 فیصد کے قریب
2026 بجٹ خسارے کا اندازہ
GDP کا تقریباً 4.9 فیصد
overseaspost.net

تاہم یہ اندازے اس مفروضے پر قائم ہیں کہ کوئی نئی وسیع جنگ یا بڑا فوجی تصادم شروع نہیں ہوگا۔

اسرائیلی مرکزی بینک پہلے ہی خبردار کرچکا ہے کہ دفاعی بجٹ میں مزید اضافہ ہوا تو بجٹ خسارہ، سرکاری قرض اور مہنگائی تینوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیلی معیشت کسی بھی نئی فوجی کشیدگی کے لیے انتہائی حساس ہوگئی ہے۔

شہری بھی قیمت ادا کر رہے ہیں

اس تبدیلی کا واضح اظہار اس وقت ہوا جب اسرائیلی حکومت نے دفاعی اخراجات میں تقریباً 32 ارب شیکل کا اضافہ منظور کیا، جبکہ اس کے ساتھ بعض شہری شعبوں کے اخراجات میں تقریباً 3 فیصد کمی بھی کی گئی۔

یہاں اس سوال کا براہِ راست جواب سامنے آتا ہے کہ جنگ کی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟

جنگی بل صرف وزارت دفاع نہیں اٹھاتی، بلکہ اس کا بوجھ پورے معاشرے پر منتقل ہوتا ہے: زیادہ ٹیکس، کم شہری اخراجات، بڑھتا ہوا قرض اور قرض کی ادائیگی پر آنے والے مسلسل اخراجات۔

اگر قرض اور فوجی اخراجات اسی سطح پر برقرار رہے تو اس کا بوجھ آنے والی نسلوں تک بھی منتقل ہوسکتا ہے۔

OVERSEAS POST | ANALYSISیہ رپورٹ کیوں اہم ہے؟

غزہ جنگ کا معاشی اثر تین بنیادی محاذوں پر اسرائیل کے مستقبل کو متاثر کرسکتا ہے:

دفاعی اخراجاتجنگی خرچ عارضی ضرورت سے نکل کر مستقل اور کہیں زیادہ بڑے دفاعی بجٹ میں تبدیل ہورہا ہے۔
قرض اور ٹیکسبڑھتا سرکاری قرض حکومت کو نئے ٹیکس، مزید قرض یا دونوں کے امتزاج کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
شہری معیشتتعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور دیگر شہری شعبوں کے لیے دستیاب بجٹ پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اصل سوال: جنگ کے اختتام کے بعد بھی اسرائیل کتنے برس تک اس کی قیمت ادا کرتا رہے گا، اور اس بوجھ کا کتنا حصہ براہِ راست شہریوں تک منتقل ہوگا؟
overseaspost.net

معیشت منہدم نہیں ہوئی، مگر خطرات برقرار ہیں

ان بھاری اخراجات کے باوجود یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اسرائیلی معیشت لازماً تباہی کی طرف جا رہی ہے۔

بینک آف اسرائیل کا اندازہ ہے کہ مجموعی قومی پیداوار 2026 میں تقریباً 4 فیصد اور 2027 میں 5.5 فیصد بڑھ سکتی ہے۔ اس کی ایک وجہ زیادہ ریزرو فوجیوں کی لیبر مارکیٹ میں واپسی، سرمایہ کاری میں بہتری اور کھپت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

لیکن یہ پیش گوئیاں بھی اسی صورت میں درست رہیں گی جب فوجی کشیدگی کم ہو اور کوئی نئی وسیع علاقائی جنگ شروع نہ ہو۔

قرض میں اضافہ اور کریڈٹ ریٹنگ پر موجود دباؤ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ کے معاشی اثرات اسرائیلی مالیات پر طویل عرصے تک موجود رہ سکتے ہیں۔ 

جنگ ختم ہوگی، بل نہیں

فوجی کارروائیاں رک بھی جائیں تو جنگ سے جڑے اخراجات فوراً ختم نہیں ہوں گے۔

اسرائیل کو اپنے فوجی ذخائر دوبارہ بھرنے، نئے دفاعی نظاموں پر سرمایہ خرچ کرنے، جنگ کے دوران جمع ہونے والے قرض کی ادائیگی کرنے اور ساتھ ہی شہری معیشت کو دوبارہ متحرک کرنے کے لیے بڑی رقوم درکار ہوں گی۔

اسی لیے موجودہ 142 ارب ڈالر کا تخمینہ ممکنہ طور پر صرف ابتدائی حساب ہے۔

✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا معلوم ہے، کیا ابھی اندازہ ہے؟

معلوم اور رپورٹ شدہ

  • جنگی اخراجات نے اسرائیل کے دفاعی بجٹ کو کئی سال کی بلند سطح پر پہنچا دیا ہے۔
  • قرض کا تناسب جنگ سے پہلے کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھا ہے۔
  • حکومت ٹیکس اور شہری اخراجات دونوں میں تبدیلیاں کرچکی ہے۔
  • دفاعی اخراجات کا بوجھ GDP میں پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوچکا ہے۔

اندازے اور غیر یقینی عوامل

  • 169 ارب ڈالر کی مجموعی جنگی لاگت حتمی رقم نہیں بلکہ تخمینہ ہے۔
  • 500 ارب ڈالر کا دس سالہ دفاعی خرچ مستقبل کی پالیسی اور سکیورٹی حالات پر منحصر ہے۔
  • 2027 میں نئے ٹیکسوں کا نفاذ ابھی یقینی نہیں۔
  • نئی علاقائی جنگ تمام معاشی اندازوں کو تبدیل کرسکتی ہے۔

اہم احتیاط: مستقبل کے دفاعی اخراجات اور مجموعی جنگی لاگت کو حتمی اعداد کے بجائے موجودہ تخمینوں کے طور پر پیش کرنا زیادہ درست ہے۔

overseaspost.net

اگر آئندہ دس برسوں میں دفاع پر 500 ارب ڈالر خرچ کرنے کا منظرنامہ حقیقت بن جاتا ہے تو سوال صرف یہ نہیں رہے گا کہ غزہ جنگ نے اسرائیل کو کتنے میں پڑا۔

اصل سوال یہ ہوگا:

جنگ ختم ہونے کے بعد بھی اسرائیل کو اس کی کتنی قیمت ادا کرنا پڑے گی؟

اس کا جواب اب سامنے آنا شروع ہوگیا ہے۔ 

حکومت قرض کے ذریعے قیمت ادا کرے گی، معیشت ترقیاتی وسائل کو دفاع کی طرف منتقل کرنے کی قیمت چکائے گی، اور اسرائیلی شہری زیادہ ٹیکس اور کم شہری اخراجات کی صورت میں اپنا حصہ ادا کریں گے۔

یوں ممکن ہے کہ جنگ فوجی طور پر ختم ہوجائے، لیکن اس کا معاشی بل برسوں تک ختم نہ ہو۔

OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع

مستقبل کے دفاعی اخراجات اور مجموعی جنگی لاگت سے متعلق اعداد تخمینے ہیں؛ انہیں حتمی سرکاری رقم کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔

overseaspost.net