سعودی عرب میں آجر کو کام کی ضرورت کے مطابق سالانہ چھٹی کی تاریخ مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم وہ کارکن کی چھٹی مستقل طور پر مسترد نہیں کرسکتا۔
سالِ استحقاق ختم ہونے کے بعد چھٹی زیادہ سے زیادہ 90 دن مؤخر کی جاسکتی ہے۔
اس سے زیادہ تاخیر کے لیے کارکن کی تحریری رضامندی ضروری ہوگی۔
سعودی قانونِ محنت ادارے کو کام کی ضرورت کے مطابق چھٹی کی تاریخ مقرر کرنے کا اختیار دیتا ہے، لیکن کارکن کو اس حق سے محروم کرنے یا چھٹی غیرمعینہ مدت تک مؤخر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
کام کے دباؤ، ملازمین کی کمی یا انتظامی ضرورت کے باعث چھٹی کی مطلوبہ تاریخ مسترد کرنا لازماً غیرقانونی نہیں۔
آجر تاریخ تبدیل کرسکتا ہے، مگر مسلسل انکار کے ذریعے سالانہ چھٹی کا حق ختم نہیں کرسکتا۔
1ایک منٹ میں کہانی⌄
آجر کارکن کی مطلوبہ تاریخ پر سالانہ چھٹی دینے کا پابند نہیں اور کام کی ضرورت کے مطابق اسے تبدیل کرسکتا ہے۔ تاہم وہ چھٹی کا بنیادی حق ختم نہیں کرسکتا۔ سالِ استحقاق کے بعد چھٹی 90 دن تک مؤخر کی جاسکتی ہے؛ اس سے زیادہ تاخیر کے لیے کارکن کی تحریری رضامندی ضروری ہوگی۔
سالانہ چھٹی قانونی حق
سعودی قانونِ محنت کی دفعہ 109 کے مطابق ہر کارکن کو سالانہ کم از کم 21 دن کی تنخواہ سمیت چھٹی ملے گی۔
ایک ہی آجر کے پاس مسلسل 5 سال مکمل ہونے پر یہ مدت کم از کم 30 دن ہوجاتی ہے۔
چھٹی کی تنخواہ پیشگی ادا کی جانی چاہیے۔
کارکن دورانِ ملازمت اپنی سالانہ چھٹی سے دستبردار نہیں ہوسکتا اور نہ آجر اسے چھٹی کے بدلے رقم قبول کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔
مزید پڑھیں
تاریخ کون مقرر کرے گا؟
آجر کو کام کی نوعیت اور ادارے کی ضروریات کے مطابق سالانہ چھٹیوں کی تاریخیں مقرر کرنے کا اختیار ہے۔
کام متاثر ہونے سے بچانے کے لیے ملازمین کو باری باری چھٹی دی جاسکتی ہے۔
کارکن کو لازماً اپنی پسند کی تاریخ پر چھٹی لینے کا حق حاصل نہیں۔
اگر اس نے مصروف سیزن یا ایسے وقت درخواست دی ہو جب اس کی موجودگی ضروری ہو تو آجر تاریخ مسترد کرکے متبادل وقت مقرر کرسکتا ہے۔
تاہم کارکن کو مقررہ چھٹی سے کم از کم 30 دن پہلے مطلع کرنا ہوگا۔
صرف درخواست مسترد کرنا کافی نہیں، ادارے کو متبادل تاریخ بھی دینی چاہیے۔
✓اہم قانونی نکات⌄
- سالانہ چھٹی کم از کم 21 دن ہے۔
- پانچ سال کی مسلسل خدمت کے بعد کم از کم 30 دن ہوجاتی ہے۔
- چھٹی کی تنخواہ پیشگی ادا کی جانی چاہیے۔
- آجر تاریخ طے کرسکتا ہے، مگر چھٹی کا حق ختم نہیں کرسکتا۔
- کارکن کو مقررہ تاریخ سے کم از کم 30 دن پہلے اطلاع دینا ہوگی۔
کیا درخواست کئی مرتبہ مسترد ہوسکتی ہے؟
قانون میں درخواست مسترد کرنے کی مخصوص تعداد مقرر نہیں۔
قانونی حیثیت انکار کی تعداد کے بجائے اس کے نتیجے سے طے ہوگی۔
اگر ادارہ ایک تاریخ مسترد کرکے اسی سال دوسری مناسب تاریخ پر چھٹی دے دیتا ہے تو یہ اقدام قانونی ہوسکتا ہے۔
لیکن اگر ہر درخواست متبادل تاریخ کے بغیر مسترد کی جائے، یہاں تک کہ قانونی مہلت گزر جائے، تو یہ کارکن کو حق سے محروم کرنے کے مترادف ہوسکتا ہے۔
دفعہ 109 کا اصول ہے کہ کارکن چھٹی اسی سال استعمال کرے جس میں وہ اس کا حق دار بنا۔ ادارے کے مسلسل انکار سے چھٹیاں کئی برس تک جمع نہیں ہونی چاہییں۔
چھٹی کب تک مؤخر ہوسکتی ہے؟
دفعہ 110 کے مطابق اگر سالِ استحقاق ختم ہونے تک کارکن چھٹی استعمال نہ کرسکے تو آجر کام کی ضرورت کے باعث اسے زیادہ سے زیادہ 90 دن مؤخر کرسکتا ہے۔
اس مدت کے لیے کارکن کی تحریری منظوری ضروری نہیں، لیکن تأخیر کی وجہ ہونی چاہیے۔
#قانونی مدتیں⌄
اگر ادارہ 90 دن کے بعد بھی چھٹی مؤخر کرنا چاہے تو کارکن کی تحریری رضامندی لازمی ہے۔ اس کے باوجود چھٹی اس سال کے اختتام سے آگے نہیں بڑھائی جاسکتی جو سالِ استحقاق کے فوراً بعد آتا ہے۔
کام کا دباؤ چھٹی کئی برس منجمد رکھنے کا جواز نہیں۔
تأخیر کب خلافِ قانون ہوگی؟
ادارے کا اقدام ان صورتوں میں قابل اعتراض ہوسکتا ہے:
متبادل تاریخ دیئے بغیر تمام درخواستیں مسترد کرنا، 90 دن کے بعد تحریری رضامندی کے بغیر چھٹی مؤخر کرنا، اگلے سال کے اختتام سے آگے چھٹی منتقل کرنا، کارکن سے چھٹی چھوڑنے کا مطالبہ کرنا، دورانِ ملازمت اسے نقد رقم سے بدلنا، یا نظام میں چھٹی درج کرکے کارکن سے کام لینا۔
کارکن کا تاخیر کی منظوری پر دستخط کرنا حق کا خاتمہ نہیں۔
یہ صرف مقررہ قانونی مدت کے اندر چھٹی منتقل کرنے کی اجازت ہے۔
کارکن خود چھٹی منتقل کرنا چاہے تو وہ پوری چھٹی یا کچھ دن اگلے سال منتقل کرنے کی درخواست کرسکتا ہے، لیکن آجر کی منظوری ضروری ہوگی۔
!تأخیر کب قابل اعتراض ہوگی؟⌄
- متبادل تاریخ دیے بغیر تمام درخواستیں مسترد کی جائیں۔
- 90 دن کے بعد تحریری رضامندی کے بغیر چھٹی مؤخر کی جائے۔
- چھٹی اگلے سال کے اختتام سے بھی آگے منتقل کردی جائے۔
- کارکن سے چھٹی چھوڑنے یا دورانِ ملازمت رقم لینے کا مطالبہ کیا جائے۔
- ریکارڈ میں چھٹی دکھا کر کارکن سے کام لیا جائے۔
ملازمت ختم ہونے پر حق
اگر ملازمت ختم ہوجائے تو کارکن کو استعمال نہ کی گئی واجب الادا چھٹیوں کی تنخواہ ملے گی۔
وہ آخری سال میں کام کی گئی مدت کے تناسب سے بننے والی چھٹی کا معاوضہ بھی حاصل کرسکتا ہے۔
کارکن کیا کرے؟
کارکن چھٹی کی درخواست ای میل یا ادارے کے داخلی نظام سے جمع کرائے اور درخواست، تاریخ اور جواب محفوظ رکھے۔
درخواست مسترد ہونے پر تحریری طور پر متبادل تاریخ اور چھٹیوں کے ریکارڈ کی وضاحت طلب کرے۔
→کارکن کیا کرے؟⌄
اگر ادارہ قانونی مدت سے زیادہ چھٹی روک لے تو وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی کے ذریعے شکایت درج کرائی جاسکتی ہے۔
مسئلہ حل نہ ہونے پر دوستانہ تصفیۂ تنازعاتِ محنت کی خدمت سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔
خلاصہ
آجر مطلوبہ تاریخ مسترد کرسکتا ہے، مگر چھٹی کا بنیادی حق ختم نہیں کرسکتا۔
اصل پیمانہ انکار کی تعداد نہیں بلکہ یہ ہے کہ کارکن کو قانونی مدت میں چھٹی ملی یا نہیں۔
آجر سالِ استحقاق کے بعد 90 دن تک چھٹی مؤخر کرسکتا ہے۔
اس کے بعد کارکن کی تحریری رضامندی ضروری ہے اور تأخیر اگلے سال کے اختتام سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔
متعدد آراء
السلام علیکم
قانونی مشوروں کا یہ سلسلہ بہت مفید ہے جس پر آپ کا بہت شکریہ
میں نے سالانہ چھٹی مسترد کرنے والا مضمون پڑھا ہے جس پر مجھے چند سوالات کرنے ہیں
ہماری کمپنی ’نام لکھنے کی ضرورت نہیں‘ کا معمول ہے کہ کارکنوں کو 31 دسمبر سے پہلے چھٹی جانے کا پابند کیا ہوا ہے، فرض کرلیں مجھے 2026 میں 30 دن کی چھٹیاں ملنی ہیں تو مجھے 31 دسمبر سے پہلے چھٹی پر جانا ہوگا، بصورت دیگر میری چھٹیاں مکمل طور پر منسوخ تصور کی جائیں گی
کیا کمپنی کو ایسا کرنے کا حق ہے
کبھی کبھار کارکن کو مالی مشکلات پیش آسکتی ہیں جن کی وجہ سے اس سال چھٹی نہیں جاسکتا مگر اگلے سال یعنی 2026 کی سالانہ چھٹیاں مثال کے طور پر اپریل 2027 میں گزارنا چاہتا ہے
دوسرا سوال یہ ہے کہ فرض کریں میں اس سال چھٹی نہیں جاسکتا اور چاہتا ہوں کہ کمپنی مجھے چھٹی کے بدلے مالی معاوضہ دے
ہماری کمپنی ایسا نہیں کرتی حالانکہ بہت سی کمپنیاں ایسا کرتی ہیں
کیا کمپنی کو ایسا کرنے کا قانونی حق ہے
یعنی چھٹی کے بدلے مالی معاوضہ
تیسرا سوال ٹکٹ کے متعلق ہے
کیا کمپنی کارکن کو چھٹی جانے پر ٹکٹ دینے کی پابندی ہے یا نہیں
وعلیکم السلام
آپ کا سوال بہت اہم ہے جس پر قانونی مشیر تفصیلی جواب دیں گے
ہم کوشش کریں گے کہ کل آپ کے تمام سوالات کے جوابات شائع کئے جائیں
ادارہ