آج امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی اور بحری طاقتوں میں شمار ہوتا ہے، لیکن اس کی تاریخ میں ایک ایسا دور بھی گزرا جب امریکی تجارتی جہازوں کو بحیرۂ روم میں محفوظ سفر کے لیے الجزائر اور طرابلس کو باقاعدہ خراج دینا پڑتا تھا۔
مزید پڑھیں
1786ء سے 1815ء تک پھیلی یہ داستان بتاتی ہے کہ عالمی طاقت کا توازن ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔
جب نوآزاد امریکہ سمندر میں کمزور تھا
1776ء میں برطانیہ سے آزادی کے بعد اپنے پرچم بردار امریکی جہاز پہلی مرتبہ سمندروں میں نکلے۔
حاصل تھا، مگر آزادی کے بعد بحیرۂ روم کی حقیقت بالکل مختلف تھی۔
تاریخی حقائق (1786-1815)
جب امریکا کو سمندر میں گزرنے کی قیمت دینی پڑی
جب امریکا کو سمندر میں گزرنے کی قیمت دینی پڑی
📜 29 سالہ خراج کا دور
1786ء سے 1815ء تک نوآزاد ریاستہائے متحدہ امریکہ کو بحیرۂ روم میں اپنے تجارتی بحری جہازوں کو قبضے اور ملاحوں کو قید سے بچانے کے لیے شمالی افریقہ کی عثمانی ریاستوں کو باقاعدہ خراج، سالانہ رقم، ہتھیار اور تحائف ادا کرنے پڑے۔
برطانوی بحری چھتری کا خاتمہ
1776ء میں برطانیہ سے آزادی کے بعد امریکی تجارتی جہاز برطانوی شاہی بحریہ کے تحفظ سے محروم ہو گئے اور کھلے سمندر میں بے یارومددگار رہ گئے۔
1795ء کا معاہدۂ الجزائر
صدر جارج واشنگٹن نے اپنے جہازوں کی بحالی اور محفوظ بحری سفر کے بدلے الجزائر کو بھاری مالی رقم اور جنگی سازوسامان دینے کی منظوری دی۔
بربر کی پہلی جنگ (1801)
طرابلس کے حاکم یوسف پاشا قرمانلی نے خراج میں اضافے کا مطالبہ کیا تو صدر تھامس جیفرسن نے خراج دینے کے بجائے بحری بیڑا بھیج کر جنگ کا راستہ چنا۔
1815ء کا فائنل معرکہ
کموڈور اسٹیفن ڈیکیٹر نے 10 امریکی جنگی جہازوں کے ساتھ الجزائر کو شکست دی، جس سے امریکہ کا خراج دینے کا تقریباً ایک چوتھائی صدی کا باب ختم ہوا۔
اس خطے میں سلطنت عثمانیہ اور شمالی افریقا کی اس سے وابستہ ریاستوں، خصوصاً الجزائر، طرابلس اور تیونس کی مضبوط بحری موجودگی تھی۔
تجارتی جہازوں سے محفوظ گزرگاہ اور تحفظ کے بدلے رقم وصول کی جاتی تھی اور یہ نظام صرف امریکہ تک محدود نہیں تھا، بلکہ کئی بڑی یورپی طاقتیں بھی ادائیگیاں کرتی تھیں۔
جب امریکہ کو بھی خراج دینا پڑا
بحیرۂ روم میں امریکی تجارت کی تحفظ کے لیے الجزائر اور طرابلس کے ساتھ تاریخی معاہدو ں کی داستان
آزادی کے بعد امریکی بحری جہازوں کی تحفظ کے لیے واشنگٹن نے تقریباً ایک چوتھائی صدی تک شمالی افریقہ کی ریاستوں کو خراج ادا کیا۔
الجزائر کی جانب سے امریکی جہازوں کی ضبطی کے بعد جارج واشنگٹن کی انتظامیہ نے مالی ادائیگیوں اور بحری سامان دینے کی منظوری دی۔
یوسف پاشا کے مطالبات مسترد کرنے پر صدر تھامس جیفرسن نے بحری بیڑا بھیجا، جہاں امریکی جہاز فلاڈیلفیا پر ملاح گرفتار ہوئے۔
لیبیا کے شہر درنہ پر قبضے کے بعد 1805ء میں امن معاہدہ طے پایا اور امریکہ نے قیدیوں کی رہائی کے لیے رقم ادا کر کے خراج کی شرط ختم کروائی۔
کموڈور اسٹیفن ڈیکیٹر کی قیادت میں 10 جنگی جہازوں نے الجزائری طاقت کا خاتمہ کیا اور سالانہ خراج ادا کرنے کا طویل باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
الجزائر نے امریکی جہاز روک لیے
1785ء میں الجزائر نے امریکی جہازوں ماریا اور ڈوفن کو قبضے میں لیا۔ بعد میں مزید امریکی جہاز بھی پکڑے گئے، جس سے واشنگٹن کو اندازہ ہوا کہ صرف طاقت دکھا کر مسئلہ حل کرنا آسان نہیں۔
بالآخر صدر جارج واشنگٹن کی انتظامیہ نے سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا۔
1795ء کے معاہدے کے تحت امریکہ نے الجزائر کو مالی ادائیگیوں کے ساتھ جہاز، بحری سازوسامان اور تحائف دینے پر رضامندی ظاہر کی تاکہ اس کی تجارت محفوظ رہ سکے۔
👑
بحیرۂ روم کا اصل طاقتور کون تھا؟
اٹھارویں اور انیسویں صدی میں بحیرۂ روم کی تجارتی شاہراہوں پر سلطنت عثمانیہ سے وابستہ خودمختار شمالی افریقی ریاستوں کی مکمل حکمرانی قائم تھی۔
طاقتاور بحری بیڑے کا حامل، جس نے امریکی اور یورپی بحری جہازوں کو کنٹرول میں رکھا۔
یوسف پاشا قرمانلی کی زیرِ قیادت آزادانہ فیصلے کرنے والی اہم اسٹریٹجک ریاست۔
تمام یورپی ممالک (فرانس، سویڈن، ڈنمارک) سے محفوظ راہداری فیس وصول کرنے کا فعال نظام۔
طرابلس نے بھی واشنگٹن کو للکار دیا
1796ء میں امریکہ نے طرابلس کے ساتھ بھی معاہدہ کیا، لیکن چند برس بعد یوسف پاشا قرمانلی نے ادائیگی بڑھا کر 2 لاکھ 25 ہزار ڈالر کرنے کا مطالبہ کردیا۔
صدر تھامس جیفرسن نے یہ مطالبہ قبول کرنے کے بجائے فوجی طاقت آزمانے کا فیصلہ کیا اور اس طرح دونوں ممالک جنگ کی طرف بڑھ گئے۔
امریکی بحری بیڑا بحیرۂ روم پہنچا، مگر یہ لڑائی اس کے لیے آسان ثابت نہیں ہوئی۔
1803ء میں طرابلس کی بحریہ نے امریکی جنگی جہاز فلاڈیلفیا اور اس پر موجود 308 ملاحوں کو گرفتار کرلیا اور امریکیوں نے بعد میں جہاز واپس نہ ملنے پر اسے تباہ کردیا۔
سپرپاور بننے سے پہلے امریکا کتنا بے بس تھا؟
+
سپرپاور بننے سے پہلے امریکا کتنا بے بس تھا؟
عسکری و اقتصادی بے بسی
- 1785ء میں الجزائر نے امریکی بحری جہاز ماریا اور ڈوفن کو فتح کر کے ملاحوں کو یرغمال بنایا۔
- امریکہ کے پاس مستقل بحریہ (US Navy) موجود نہیں تھی جس سے وہ اپنے جہازوں کا دفاع کر سکتا۔
- قومی بجٹ کا تقریباً 20 فیصد حصہ صرف خراج، تحائف اور قیدیوں کے تاوان کی ادائیگی پر خرچ ہوتا تھا۔
سفارتی سمجھوتے اور شروط
- امریکہ نے الجزائر کو سالانہ خراج کے ساتھ جدید جنگی جہاز اور بارود بنا کر دینے کی شرط مانی۔
- 1803ء میں امریکی جنگی جہاز 'فلاڈیلفیا' کو طرابلس نے پکڑ لیا اور 308 ملاحوں کو قید کر لیا۔
- یرغمالیوں کو چھڑانے کے لیے امریکی حکومت کو 60,000 ڈالر تاوان ادا کرنا پڑا۔
درنہ پر امریکی پرچم، مگر قیمت بھاری
امریکیوں نے مقامی اتحادیوں اور کرایے کے فوجیوں کے ساتھ مشرقی لیبیا کے شہر درنہ پر قبضہ کرلیا۔ اسے امریکی تاریخ میں پہلی غیرملکی زمین قرار دیا جاتا ہے جہاں امریکی فورس نے اپنا پرچم لہرایا۔
تاہم جنگ مہنگی ہوتی گئی اور 1805ء میں امن معاہدہ ہوگیا۔
امریکہ نے قیدیوں کی رہائی کے لیے 60 ہزار ڈالر ادا کیے اور درنہ سے نکل گیا۔ اس کے ساتھ ہی مستقبل میں طرابلس کو خراج دینے کی شرط ختم ہوگئی۔
⚔️
درنہ کی جنگ: امریکا کی پہلی بیرونِ ملک چڑھائی
1805 معرکہ
1. مصر کے صحرا سے 500 میل کا مارچ
امریکی میرین افسر ولیم ایٹن نے 8 امریکی میرینز، عرب اور یونانی کرائے کے فوجیوں کو جمع کر کے اسکندریہ سے لیبیا کی طرف مارچ کیا۔
2. درنہ کا محاصرہ اور پرچم کشائی (1805)
امریکی بحری جہازوں کی بمباری کی مدد سے مشرقی لیبیا کے شہر درنہ پر قبضہ کر کے پہلی بار غیر ملکی زمین پر امریکی پرچم لہرایا گیا۔
3. امن معاہدہ اور فورسز کا انخلا
جنگ کے بھاری اخراجات کے بعد 1805ء میں امن معاہدہ طے پایا، امریکہ نے تاوان دے کر طرابلس کی خراج کی شرط کا خاتمہ کرایا۔
الجزائر کے ساتھ آخری معرکہ
بعد ازاں الجزائر کو امریکی ادائیگیاں مزید کئی برس تک جاری رہیں۔
1815ء میں امریکہ نے کموڈور اسٹیفن ڈیکیٹر کی قیادت میں 10 جنگی جہاز بھیجے۔ الجزائر کے مشہور بحری کمانڈر رئیس حمیدو لڑائی میں مارے گئے اور امریکی بیڑے نے الجزائری فریگیٹ پر قبضہ کرلیا۔
30 جون 1815ء کے معاہدے نے امریکہ کی الجزائر کو سالانہ ادائیگیوں کا خاتمہ کردیا۔
اس طرح تقریباً ایک چوتھائی صدی پر پھیلا وہ باب بند ہوا جب آج کی عالمی سپرپاور کو بحیرۂ روم میں اپنی تجارت محفوظ رکھنے کے لیے شمالی افریقا کی طاقتوں سے معاہدے اور خراج ادا کرنا پڑتا تھا۔