براہ راست نشریات

دمیاط ڈرون حملہ: توانائی کی جنگ بحیرۂ روم تک کیسے پہنچ گئی؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
دمیاط حملہ

مصر کی بندرگاہ پر ڈرون حملے نے توانائی کے پورے متبادل نظام کی کمزوری آشکار کردی

دمیاط بندرگاہ پر نامعلوم ڈرون نے دو گیس بردار جہازوں کو نشانہ بنایا۔
حملے کی ذمہ داری کسی فریق نے قبول نہیں کی اور مصری تحقیقات جاری ہیں۔
واقعے نے نہر سویز اور سومید کے ذریعے خلیجی تیل کی ترسیل پر نئے سوالات اٹھا دیئے۔
راستہ متاثر ہوا تو پاکستان سمیت توانائی درآمد کرنے والے ممالک بھی قیمت ادا کریں گے۔

OVERSEAS POST  |  PREMIUM LEAD STORY

بدھ کی شام مصر کی دمیاط بندرگاہ پر گیس بردار دو جہازوں سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے، جبکہ فائر بریگیڈ اور ہنگامی امداد کے اہلکار آگ کو بندرگاہ کے دوسرے حصوں تک پھیلنے سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ 

کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی یہ واقعہ کسی بڑی تباہی میں تبدیل ہوا، مگر چند لمحوں تک دکھائی دینے والے شعلوں نے خطے میں جاری جنگ کے ایک خطرناک نئے رخ کو بے نقاب کر دیا۔

جس راستے کو خلیج کی توانائی برآمدات آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں اور باب المندب کو لاحق خطرات سے بچنے کے لیے استعمال کر رہی تھیں، اب وہ بھی ڈرون حملوں کی پہنچ سے باہر دکھائی نہیں دیتا۔

مصری حکومت نے تصدیق کی کہ نامعلوم ڈرون کے باعث دمیاط بندرگاہ پر دو بحری جہازوں میں آگ لگی، تاہم تحقیقات میں ابھی یہ طے نہیں ہوسکا کہ ڈرون کس نے اور کہاں سے بھیجا تھا۔ 

کسی ملک یا مسلح گروہ نے بھی حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

مزید پڑھیں

اسی لیے دمیاط کے واقعے کی اہمیت صرف نقصان کی شدت یا حملہ آور کی شناخت تک محدود نہیں۔ 

اصل سوال یہ ہے کہ توانائی کی گزرگاہوں پر جاری جنگ بحیرۂ روم کے کنارے واقع ایک مصری بندرگاہ تک پہنچنے کا کیا مطلب رکھتی ہے—خصوصاً اس وقت جب یہی راستہ خلیجی تیل کو غیر محفوظ آبی گزرگاہوں سے بچانے کے لیے اہم ترین متبادل بن چکا ہے۔

حساس مقام پر محدود حملہ

دستیاب معلومات کے مطابق ڈرون نے پہلے مائع گیس ذخیرہ کرنے اور اسے دوبارہ گیس میں تبدیل کرنے والے تیرتے یونٹ انرگوس ونٹر کو نشانہ بنایا۔ 

اس کے بعد آگ قریب موجود دوسرے جہاز گیس لاگ سالم تک پھیل گئی۔ 

ہنگامی ٹیموں نے آگ پر قابو پالیا اور کسی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

مگر ہدف کی نوعیت نے اس واقعے کو معمولی بندرگاہی حادثے سے کہیں زیادہ اہم بنا دیا۔

اہم ترین ہائی لائٹس
  • دمیاط حملے نے محفوظ توانائی راستے کا بھرم توڑ دیا
  • ہرمز اور باب المندب کے بعد سویز بھی خطرے میں
  • حملہ آور نامعلوم، مگر عالمی تجارت پریشان
  • اگلا وار تیل اور مہنگائی کی قیمت بڑھا سکتا ہے

 امریکی کمپنی کی ملکیت انرگوس ونٹر محض گیس بردار جہاز نہیں، بلکہ ایسا تیرتا ہوا یونٹ ہے جو مائع قدرتی گیس وصول کرکے اسے دوبارہ گیس میں تبدیل کرتا اور پھر مصری نیٹ ورک میں شامل کرتا ہے۔

اس یونٹ کی روزانہ صلاحیت تقریباً 45 کروڑ مکعب فٹ ہے، جو مصر میں گیس کے یومیہ استعمال کے لگ بھگ 7 فیصد اور مائع گیس کو دوبارہ گیس میں تبدیل کرنے کی مجموعی قومی صلاحیت کے قریب 16 فیصد کے برابر ہے۔ 

اطلاعات کے مطابق اس کے ایک ٹینک کو نقصان پہنچا، جس کے باعث جہاز کچھ عرصے تک استعمال کے قابل نہیں رہے گا۔

اس نقصان سے فوری طور پر گیس یا بجلی کا بڑا بحران پیدا ہونے کا امکان کم ہے، کیونکہ مصر کے پاس دوسرے متبادل موجود ہیں۔ 

تاہم حملہ ایسے وقت ہوا جب شدید گرمی کے باعث ملک میں بجلی کی طلب 37 سے 39 گیگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔ 

دوسری طرف مقامی گیس پیداوار میں کمی نے مصر کو دوبارہ عالمی منڈی سے مائع گیس خریدنے پر مجبور کر دیا ہے۔

🧭 ایک منٹ میں پوری کہانی

دمیاط بندرگاہ پر ایک نامعلوم ڈرون نے دو گیس بردار جہازوں کو متاثر کیا۔ نقصان محدود رہا، لیکن حملے نے واضح کردیا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والا نہر سویز اور سومید کا متبادل راستہ بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ اگر ایسے حملے دہرائے گئے تو تیل، انشورنس اور جہاز رانی مہنگی ہوسکتی ہے، جس کا اثر سعودی عرب، مصر اور پاکستان سمیت توانائی درآمد کرنے والے ممالک تک پہنچے گا۔

قاہرہ نے صورت حال سنبھالنے کے لیے بتایا کہ اس کے پاس گیس وصول کرنے اور اسے دوبارہ قابل استعمال بنانے والے چار تیرتے یونٹ موجود ہیں، جبکہ پانچواں یونٹ اردن کی عقبہ بندرگاہ پر دونوں ممالک کے باہمی انتظام کے تحت دستیاب ہے۔ 

بجلی گھروں میں 4 لاکھ 25 ہزار ٹن سے زیادہ متبادل ایندھن کے علاوہ مزید اسٹریٹجک ذخائر بھی موجود ہیں۔

یوں مصر نے فوری خطرے پر تو قابو پالیا، لیکن اس حملے کا اسٹریٹجک اثر آگ بجھنے کے بعد بھی باقی رہا۔

دمیاط حملے
نے محفوظ
توانائی راستے کا
بھرم توڑ دیا

جب راستے بند ہونے لگے

دمیاط پر حملے سے پیدا ہونے والی تشویش کو سمجھنے کے لیے پورے خطے کا نقشہ دیکھنا ضروری ہے۔
جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز خلیجی توانائی برآمدات کی سب سے اہم شہ رگ تھی۔
دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی مجموعی رسد کا تقریباً پانچواں حصہ اس تنگ بحری راستے سے گزرتا تھا۔
ایران کے ساتھ جنگ اور جہازوں کی نقل و حرکت پر عائد رکاوٹوں کے بعد ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک میں نمایاں کمی آئی اور ممالک اور توانائی کمپنیوں نے متبادل راستوں کی تلاش شروع کر دی۔
سعودی عرب نے اپنی برآمدات کا بڑا حصہ ملک کے مغربی ساحل پر واقع ینبع بندرگاہ کی طرف منتقل کیا۔
وہاں سے تیل بردار جہاز جنوب میں باب المندب کے ذریعے ایشیا جاسکتے تھے یا شمال کی طرف بحیرۂ احمر، نہر سویز اور بحیرۂ روم کا راستہ اختیار کرسکتے تھے۔

📊 فیکٹ باکس
45 کروڑ مکعب فٹ انرگوس ونٹر کی یومیہ ری گیسی فکیشن صلاحیت
تقریباً 7 فیصد مصر کے یومیہ گیس استعمال میں یونٹ کا ممکنہ حصہ
50 لاکھ بیرل یومیہ سویز اور سومید سے ہرمز کی رکاوٹ سے بچائی جانے والی ممکنہ مقدار
2.879 کروڑ بیرل جولائی میں سومید سے منتقل ہونے والا خام تیل

لیکن حوثیوں کی جانب سے سعودی جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان اور باب المندب اور سعودی ساحلی علاقوں کے قریب حملوں کے بعد جنوبی راستہ بھی زیادہ خطرناک ہوگیا۔ 

جہاز رانی کے اعداد و شمار کے مطابق ینبع سے جنوب کی طرف جانے والی تیل کھیپوں کا تناسب جون کے 81 فیصد سے کم ہوکر تقریباً 43 فیصد رہ گیا۔

مشرق میں ہرمز اور جنوب میں باب المندب کے خطرناک ہونے کے بعد شمالی راستے کی اہمیت غیر معمولی طور پر بڑھ گئی۔ 

اس راستے میں بحیرۂ احمر سے نہر سویز یا مصر کے آر پار گزرنے والی سومید پائپ لائن کے ذریعے تیل بحیرۂ روم کے ساحل پر سیدی کریر بندرگاہ تک پہنچایا جاتا ہے۔

یہ راستہ بعض اوقات طویل اور زیادہ مہنگا ضرور تھا، مگر اسے نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا تھا۔پھر ڈرون دمیاط پہنچ گیا۔

5 ملین بیرل کا راستہ

ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ نہر سویز حملے کا ہدف تھی، اور نہ ہی کسی فریق نے اسے نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ 

دمیاط بندرگاہ بھی نہر سویز کے مرکزی بحری راستے سے فاصلے پر واقع ہے۔ اس لیے اس واقعے کو نہر کی فوری بندش کا خطرہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

مگر توانائی کی منڈیاں تباہی کا انتظار کرکے اپنے فیصلے نہیں کرتیں۔ 

اصل سوال صرف یہ نہیں کہ اس بار کہاں حملہ ہوا، بلکہ یہ بھی ہے کہ حملہ آور نے کن علاقوں تک پہنچنے کی صلاحیت ثابت کر دی۔

✓? کیا ثابت، کیا ابھی نامعلوم؟

✓ تصدیق شدہ

مصری حکومت کے مطابق نامعلوم ڈرون کے باعث دو جہازوں میں آگ لگی۔ آگ پر قابو پالیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

؟ ابھی نامعلوم

ڈرون کس نے بھیجا، کہاں سے پرواز کی اور اصل ہدف مصر، امریکی ملکیتی جہاز یا توانائی کا راستہ تھا—یہ طے نہیں ہوسکا۔

ماہرین کے مطابق بحیرۂ احمر، نہر سویز اور سومید پائپ لائن روزانہ تقریباً 50 لاکھ بیرل تیل کو آبنائے ہرمز کی رکاوٹوں سے بچانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ 

سومید کے ذریعے منتقل ہونے والے خام تیل کی مقدار اپریل کے ایک کروڑ 95 لاکھ بیرل سے بڑھ کر جولائی میں دو کروڑ 87 لاکھ بیرل سے زیادہ ہوگئی۔ 

یہ اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ مصری راستہ کتنی تیزی سے خطے کی توانائی برآمدات کے لیے متبادل شہ رگ بن رہا ہے۔

اسی عرصے میں بورسعید کے قریب جمع ہونے والے جہازوں کی تعداد بڑھی، جبکہ بحیرۂ احمر کی بندرگاہوں سے تیل لینے والی مزید کھیپیں شمال کی طرف جانے لگیں۔

اس تبدیلی نے مصر کو محض جنگ کے قریب واقع ملک نہیں رہنے دیا۔ 

اب وہ اس نظام کا مرکزی حصہ بن چکا ہے جس پر سعودی عرب اور عالمی منڈیاں تیل کی مسلسل ترسیل کے لیے انحصار کر رہی ہیں۔ 

اس لیے مصری بندرگاہوں، سومید پائپ لائن یا نہر سویز کے گرد کسی خطرے کے اثرات مصر تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ خلیج، یورپ اور ایشیا تک پہنچیں گے۔

کم قیمت ڈرون، مہنگا نقصان

حملہ آور کو معاشی نقصان پہنچانے کے لیے نہر سویز بند کرنے یا کسی بڑے تیل بردار جہاز کو ڈبونے کی ضرورت نہیں۔ 

کبھی صرف یہ ثابت کردینا کافی ہوتا ہے کہ پہلے محفوظ سمجھی جانے والی تنصیب اب حملے کی زد میں آسکتی ہے۔

اس کے بعد جہاز رانی کمپنیاں اپنے راستوں کا دوبارہ جائزہ لیتی ہیں، جہاز مالکان اضافی معاوضہ مانگتے ہیں اور انشورنس کمپنیاں جنگی خطرات کے پریمیم بڑھا دیتی ہیں۔ بندرگاہوں اور جہازوں پر نئے حفاظتی انتظامات نافذ ہونے سے سامان کی ترسیل بھی سست اور مہنگی ہوسکتی ہے۔

🌍 یہ کیوں اہم ہے؟

ہرمز میں رکاوٹ اور باب المندب پر خطرات کے بعد سعودی تیل کی بڑی مقدار بحیرۂ احمر سے شمال کی طرف نہر سویز اور سومید کے ذریعے بھیجی جارہی ہے۔ دمیاط حملہ نہر سویز پر حملہ نہیں تھا، مگر اس نے ثابت کیا کہ مصر کے قریب توانائی کی تنصیبات اور بحری جہاز بھی ڈرون کی پہنچ میں آسکتے ہیں۔

بحیرۂ احمر میں حالیہ حملوں کے بعد لندن کی بحری انشورنس مارکیٹ پہلے ہی زیادہ خطرے والے علاقوں کی حدود بڑھا چکی ہے۔ 

ماہرین کے مطابق دمیاط کا واقعہ انشورنس کمپنیوں کو مصری بندرگاہوں اور نہر سویز کے قریب کام کرنے والے جہازوں سے مزید فیس وصول کرنے پر آمادہ کرسکتا ہے، خواہ کوئی دوسرا حملہ نہ بھی ہو۔

یوں نسبتاً کم قیمت ڈرون کسی بندرگاہ کو بند کیے بغیر عالمی تجارت اور توانائی کی لاگت میں کروڑوں ڈالر کا اضافہ کرسکتا ہے۔

نامعلوم حملہ آور زیادہ خطرناک کیوں؟

ایران نے دمیاط حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ 

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مصر کو اہم علاقائی شراکت دار قرار دیتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے ممکنہ طور پر کسی دوسرے فریق کے نام پر کارروائی کا خدشہ ظاہر کیا۔ 

تاہم تہران نے اپنے الزام کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ ہی اسرائیل یا کسی دوسری قوت کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

مصری وزارت خارجہ نے بھی غیر ملکی ذرائع ابلاغ کو غیر مصدقہ معلومات اور قبل از وقت نتائج سے گریز کی ہدایت کی۔ 

قاہرہ نے ڈرون حملے کی تردید نہیں کی؛ اس کا مؤقف صرف یہ ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ذمہ دار فریق کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔

🇵🇰 پاکستان کے لیے کیا مطلب ہے؟
  • عالمی تیل اور گیس مہنگی ہونے سے پاکستان کا درآمدی بل بڑھ سکتا ہے۔
  • مہنگی جہاز رانی اور انشورنس سے خوراک اور دوسری درآمدی اشیا متاثر ہوسکتی ہیں۔
  • توانائی کی قیمت بڑھنے سے بجلی، ٹرانسپورٹ، مہنگائی اور روپے پر دباؤ آسکتا ہے۔
  • خلیج میں توانائی، تعمیرات اور لاجسٹکس سے وابستہ پاکستانی کارکن بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

یہی غیر یقینی صورت حال خطرے کو مزید بڑھاتی ہے۔ 

حملہ آور معلوم ہو تو ممالک اس کے مقاصد اور ممکنہ اگلے قدم کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ لیکن جب ڈرون بھیجنے والے کی شناخت نہ ہو تو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ واقعہ ایک الگ تھلگ کارروائی تھا، دفاعی نظام کا امتحان تھا یا دوسری بندرگاہوں کے خلاف کسی نئی مہم کا آغاز۔

قیمت کون ادا کرے گا؟

اگر دمیاط کا واقعہ ایک محدود کارروائی ثابت ہوتا ہے تو اس کا اثر جہازوں کی مرمت، بندرگاہوں کی سخت نگرانی اور انشورنس اخراجات میں معمولی اضافے تک محدود رہ سکتا ہے۔ لیکن مصری راستے کے قریب حملے دہرائے گئے تو عالمی توانائی تجارت کا نقشہ بدل سکتا ہے۔

🔭 ممکنہ اگلا منظرنامہ
محدود واقعہ: جہازوں کی مرمت، سخت نگرانی اور انشورنس میں معمولی اضافہ۔
مسلسل خطرہ: مصری بندرگاہوں کے لیے جنگی پریمیم اور حفاظتی اخراجات میں اضافہ۔
حملوں کی تکرار: بعض جہاز افریقہ کا طویل راستہ اختیار کرسکتے ہیں، جس سے تیل اور تجارت مزید مہنگی ہوگی۔

سعودی عرب کے لیے اس کا مطلب ہوگا کہ ہرمز اور باب المندب سے بچنے کے لیے اختیار کیا گیا متبادل راستہ بھی خطرے میں ہے۔ 

مصر کو اپنی بندرگاہوں، توانائی تنصیبات اور سمندری حدود کے تحفظ پر مزید وسائل خرچ کرنا پڑیں گے۔

پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک بھی اس قیمت سے نہیں بچ سکیں گے۔

 تیل، جہاز رانی اور انشورنس کی بڑھتی قیمت درآمدی بل، زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے پر دباؤ ڈال سکتی ہے، جبکہ بجلی، ٹرانسپورٹ اور اشیائے خور و نوش مزید مہنگی ہوسکتی ہیں۔ خلیج میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانی بھی توانائی، تعمیرات اور جہاز رانی کے شعبوں میں کسی ممکنہ سست روی سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

دمیاط کا ڈرون محض دو جہازوں کو نشانہ بنانے والا ہتھیار نہیں تھا، اس نے جنگ سے بچنے کے لیے بنائے گئے پورے متبادل نظام کی کمزوری آشکار کردی۔ 

ہرمز خطرناک ہوا تو جہاز بحیرۂ احمر کی طرف گئے۔ 

باب المندب غیر محفوظ ہوا تو انہوں نے شمال میں سویز اور سومید کا راستہ اختیار کیا۔ 

لیکن دمیاط کے شعلوں نے ثابت کردیا کہ راستہ بدلنا ہمیشہ خطرے سے نجات کی ضمانت نہیں ہوتا۔

حملہ آور کی شناخت سامنے آنے سے پہلے ہی اس کا پیغام پہنچ چکا ہے: 

توانائی کی نئی جنگ میں ایک بحری جہاز جلتی ہوئی آبنائے سے بچ بھی جائے تو اگلی بندرگاہ پر جنگ اس کی منتظر ہوسکتی ہے۔

🚢

اصل اور بنیادی ذرائع

دمیاط کے ڈرون حملے، متاثرہ گیس بردار جہازوں، مصر کی توانائی ضروریات اور عالمی جہاز رانی سے متعلق بنیادی ذرائع

5 بنیادی ذرائع
دمیاط حملے اور متاثرہ جہاز
رائٹرز — دمیاط میں دو گیس بردار جہازوں پر ڈرون حملہ
Energos Winter اور GasLog Salem میں آگ، عملے کے محفوظ انخلا، جہازوں کو پہنچنے والے نقصان اور ابتدائی تحقیقاتی نتائج کی تفصیلات۔
بنیادی صحافتی ماخذ
اصل رپورٹ ↗
نہر سویز، سومید اور سعودی تیل
رائٹرز — دمیاط حملے سے سویز کے تیل راستوں کو نیا خطرہ
نہر سویز، سومید پائپ لائن، سعودی تیل کی متبادل ترسیل، جہازوں کے طویل راستوں، انشورنس اخراجات اور عالمی توانائی تجارت پر ممکنہ اثرات کا تجزیہ۔
بحری تجارت اور توانائی
تجزیہ پڑھیں ↗
مصر کے متبادل توانائی انتظامات
رائٹرز — مصر نے متبادل توانائی ذرائع محفوظ کرلیے
متاثرہ گیس یونٹ کے بعد چار مصری ری گیسی فکیشن یونٹس، عقبہ میں موجود اضافی جہاز اور بجلی گھروں کے لیے محفوظ ایندھن کے متبادل ذخائر کی تفصیلات۔
توانائی کا متبادل انتظام
اصل رپورٹ ↗
ہرمز، باب المندب اور تیل کی قیمتیں
رائٹرز — بحری خطرات کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ
آبنائے ہرمز میں جہازوں کو روکنے کے ایرانی دعوے، باب المندب کو لاحق خطرات، دمیاط حملے اور عالمی تیل کی قیمتوں پر بڑھتے دباؤ کی تازہ صورتِ حال۔
عالمی جہاز رانی
رپورٹ پڑھیں ↗
مصر کا سرکاری مؤقف
مصر کی اسٹیٹ انفارمیشن سروس — وزارتِ خارجہ کا بیان
مصری حکام نے غیر ملکی میڈیا سے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے دمیاط حملے کی ذمہ داری کسی ملک یا تنظیم پر عائد نہ کی جائے اور صرف مصدقہ سرکاری معلومات پر انحصار کیا جائے۔
اصل مصری سرکاری ماخذ
سرکاری پورٹل ↗